Showing posts with label *** Urdu Adab - اُردو ادب ***. Show all posts
Showing posts with label *** Urdu Adab - اُردو ادب ***. Show all posts
Sunday, 8 December 2019
Thursday, 14 December 2017
صابر چوہدری کی کتاب۔۔۔ماہرنفسیات کی ڈائری سے
سوال۔۔۔ایک لڑکے نے پوچھا ہے سر۔۔۔"وہ کہتی ہے کہ میں نے اُسے دھوکہ دیا ہے۔ہمارے خاندان میں خاندان سے باہرشادی نہیں کرتے۔اس میں میرا کیا قصور ہے۔میں چاہ کر بھی اُس سےشادی نہیں کر سکتا۔بے قصور ہونے کےباوجودمجھے ساری رات نیندکیوں نہیں آتی؟"
جواب۔۔۔حیرت ہےآپ کے خاندان میں خاندان سے باہر محبت کر سکتے ہیں شادی نہیں۔
ایسے نہ کہیں کہ آپ کا کوئی قصور نہیں۔ایسے حالات میں جہاں اندازہ ہو کہ خاندان سے باہر شادی ممکن نہیں ہے ۔تو وہاں جذبات اپنے پاس ہی رکھتے ہیں۔خاندان سے باہرکسی کو خواب نہیں دکھاتے۔
یاد رکھیں یہ دنیا"قدرت کےقانون"سے چلتی ہے ۔آپ کے کہنےاور چاہنے سے نہیں۔اسی لئے آپ ڈسٹرب ہیں۔
صابر چوہدری کی کتاب۔۔۔ماہرنفسیات کی ڈائری سے۔۔۔
Tuesday, 3 October 2017
ذات کا حسن
ذات کا حسن
ہم اپنی ذات کے بارے میں اچھی گفتگو سننا پسند کرتے ہیں جو دراصل ہماری خامیوں کو چھپا رہی ہوتی ہیں۔
اگر ہم اپنی ذات کو پہچان لیں تو کائنات کے آدھے بھید پا لیں۔
ذات کا حُسن اور اسرار فطرت کا عکس ہے۔
... ذات کا شعور نہ رکھنے والا حقیر اور کم مایہ شخص ھے۔
اگر تم کسی کی ذات کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو تو اپنی ذات کو سامنے رکھو تاکہ تم سے بد کلامی نہ ہو۔
خلیل جبران
ہم جب بھی کسی شخص سے ملتے ہیں ہم اس شخص کی اچھائیوں پر نظر نہیں کرتے صرف اس کی برائیاں ہی نظر آتی ہیں - شاید ہماری تربیت ہے کچھ اس طرح سے ہوتی ہے -
ہم جب بھی کسی شخص سے ملتے ہیں ہم اس شخص کی اچھائیوں پر نظر نہیں کرتے صرف اس کی برائیاں ہی نظر آتی ہیں - شاید ہماری تربیت ہے کچھ اس طرح سے ہوتی ہے -
مجھے ایک بہت پرانا لطیفہ یاد آ رہا ہے آپ کو بھی سناتا ہوں -ایک میراثی تھا جو بڑا بزرگ آدمی تھا لیکن اس کی بیوی بڑی تنگ تھی اور اسے طعنے دیتی رہتی تھی کہ تو اپنی شکل دیکھ تو کیسے بزرگ ہو سکتا ہے -وہ بیچارہ بھی بڑا پریشان تھا ایک دن مغرب کی نماز ...پڑھنے کے بعد وہ دعا مانگ رہا تھا تو اس کی بیوی نے آ کر اسے ٹھڈا (ٹھوکر) مارا اور کہا تو ادھر بیٹھ کر دعائیں مانگ رہا ہے اٹھ کر کوئی کام وام کرو -
بیوی کی اس حرکت سے اسے جلال آگیا ، وہ اپنی جگہ سے اٹھا ، ہوا میں ابھرا اور آسمانوں میں چھا گیا - اور اس نے آسمان کے تین چار بڑے بڑے چکر لگائے -
اس کی بیوی نیچے کھڑی دیکھتی رہی اور دل میں سوچتی رہی کہ یہ کوئی الله کا بڑا پیارا ہے -
وہ میراثی جب نیچے اتر آیا تو اپنی بیوی سے کہا دیکھا تو نے ہمارا کمال !
اس کی بیوی کہنے لگی کونسا کمال ؟ کہنے لگی وہ تو الله کا کوئی پاکیزہ بندہ تھا -
وہ کہنے لگا " اوہ میں سی "
تو پھر وہ کہنے لگی اچھا !
" ایس لئے ٹیڈھا ٹیڈھا اڈ رہیا سی " ( اس لیے ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے )
یہ بڑی پرانی بات ہے لیکن اب جب بھی ہم کسی بندے سے ملتے ہیں ہمیں اس میں ٹیڑھ نطر آتی ھے تو پھر ہماری زندگی میں ، ہماری ذات اور ہمارے وجود میں بھی ، ایک ٹیڑھ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ٹیڑھ نکلتی نہیں -اس لیے الله نے خاص مہربانی فرما کر ہمیں غیبت سے منع فرمایا ہے -
از اشفاق احمد زاویہ ٢ تھری پیس میں ملبوس بابے اور چغلی میٹنگ صفحہ ٢٢٠
صاحب جو شخص پرندوں کو دانا ڈالتا ہے وہ بے ایمان نہیں ہو سکتا
میں ایسے لوگوں کے آٹو گراف لینے کا خواھشمند ہوں جن پر دنیا کے جھمیلوں کا تشنج یا بوجھ نہیں ہے - میرے پاس جتنے بھی کاغذ ہیں ان پر دستخط توکم لوگوں کے ہیں مگر انگوٹھے زیادہ لوگوں نے لگائے ہیں -
کسی لکڑہارے کا انگوٹھا ہے - کسی ترکھان کا ہے - کسی قصائی کا ہے اور دیگر سخت سخت پیشے والوں کے انگوٹھے بھی ہیں -
ابھی تازہ تازہ میں نے جو انگوٹھا لگوایا ہے وہ میں نے لاہور سے قصور کے راستے کے درمیان میں ...آنے والے چھوٹے سے شہر مصطفیٰ آباد للیانی سے لگوایا -
میرے منجھلے بیٹے کو پرندوں کا بڑا شوق ہے - اس نے گھر میں پرندوں کے دانے کھانے کے ایسے ڈبے لگا رکھے ہیں جن میں سے خود بخود دانے ایک ایک کر کے گرتے رہتے ہیں اور پرندے شوق سے آ کر کھاتے رہتے ہیں -
جب ہم قصور سے لاہور آ رہے تھے تو اس نے للیانی میں ایک دکان دیکھی جس میں پانچ پانچ کلو کے تھیلے پڑے ہوئے تھے - جن میں باجرہ اور ٹوٹا چاول بھرے ہوئے تھے اس نے مجھ سے کہا ابو یہ پرندوں کے لئے بہت اچھا دانا ہے -
میرا بیٹا اس دکان سے چاول اور باجرہ لینے گیا تو اس نے پوچھا کے آپ کو یہ باجرہ کس مقصد کے لئے چاہئے تو میرے بیٹے نے اسے بتایا کہ پرندوں کو ڈالنے کے لئے -
اس پر دکاندار نے کہا کہ آپ کنگنی بھی ضرور لیجئے کیونکہ کچھ خوش الحان پرندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو باجری نہیں کھا سکتے بلکہ کنگنی کھاتے ہیں -
وہ بھی پھر کنگنی کھانے آپ کے پاس ضرور آیا کریں گے -
اس نے کہا بسم اللہ آپ کنگنی ضرور دیں اور اس رہنمائی کا میں آپ کا عمر بھر شکر گزار رہونگا -
وہ چیزیں لے کر جب اس نے پرس نکالنے کی کوشش کی تو نہ ملا -
جیبوں، گاڑی ، آس پاس ہر جگہ دیکھا لیکن وہ نہ ملا - تب وہ تینوں تھیلے گاڑی سے نکال کر دکاندار کے پاس لے گیا اور کہا کہ میں معافی چاہتا ہوں میں تو اپنا بٹوا ہی بھول گیا ہوں -
اس دکاندار نے کہا کہ " صاحب آپ کمال کرتے ہیں یہ لے جائیں پیسے آجائیں گے "
میرے بیٹے نے کہا آپ تو مجھے جانتے نہیں ہیں !
وہ دکاندار بولا میں تو آپ کو جانتا ہوں
وہ کیسے میرے بیٹے نے کہا
دکاندار گویا ہوا " صاحب جو شخص پرندوں کو دانا ڈالتا ہے وہ بے ایمان نہیں ہو سکتا - "
میں نے جھٹ سے اپنی آٹو گراف بک نکالی اور انگوٹھا لگوا لیا -
از اشفاق احمد زاویہ ٢ آٹو گراف صفحہ ٢٥١
محرم کے بغیر کہیں نہیں آنا جانا
ابا جی ابھی بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ عفت بولی :
" بابا جی سارے لوگ مجھے اس علاج سے مایوس کراتے ہیں ، میں کیا کروں ؟ "
" ناں ناں پت - مسلمان کو مایوس ہونے کا حکم نہیں - شیطان کا اور کیا کام ہے پت - وہ انسان کو الله کی طرف سے مایوس کراتا ہے - آدمی کا معجزے پر اعتماد ختم کراتا ہے ناں ناں پت مایوسی گناہ ہے گناہ - "
" پر بابا جی "
" پر ور کوئی نہیں پت ........... اوپر والے پر کلی ایمان رکھو - جن کا ایمان مضبوط ہوتا ہے ان کے لئے ستے خیراں - ان کے لئے معجزے ہوتے ہیں - "
یکدم انھوں نے تہ خانے میں نظر دوڑائی اور پھر حیران ہو کر بولے - اشفاق صاحب ھمارے جانی جان کہاں ہیں ؟
" خان صاحب تو آج نہیں آسکے بابا جی "
بابا جی اٹھ کھڑے ہوئے ! " ناں بیٹا ناں ، محرم کے بغیر کہیں نہیں آنا جانا - حج اور عمرے پر بھی نہیں - جہاں محرم ساتھ نہ ہو وہاں شیطان تیسرا فریق بن کر ساتھ بیٹھ جاتا ہے -
پھر خطرہ تو ہر وقت موجود ہوتا ہے - شاباش پت - واپس جاؤ - محرم کو پکڑ کر ساتھ لاؤ - نہ آسکے تو پھر سہی - شاباش پت - "
ہم آزادی پسند پر اعتماد اپنے راستے اور فیصلےخود کرنے والی عورتیں تھیں اس بات سے ہم دونوں کو ٹھیس لگی -
از بانو قدسیہ راہ رواں
Tuesday, 26 September 2017
پسند اور محبت میں بہت فرق ہوتا ہے ،
پسند اور محبت میں بہت فرق ہوتا ہے ،
جب تم نے مجھ سے I LOVE YOU کہا تھا یاد ہے جب میں نے تمھیں کتنی باتیں سنا ڈالی تھی کیونکہ میں جانتی تھی تمھیں میں اچھی لگتی ہوں مگر اسکا مطلب یہ نہیں کے تمہیں واقعی مجھ سے محبت ہے میں جانتی تھی تم کبھی مجھ سے شادی نہیں کرو گے کیوں کہ میں نے کبھی تمہارے لفظوں میں محبت محسوس ہی نہیں کی تھی اور مردوں کا ایمان کتنا کمزور ہوتا ہے کون نہیں جانتا بھلا ؟
ہم جسے محبت کہتے ہیں نا دراصل یہ محبت نہیں ہوتی
پتا ہے بچپن میں میری ایک گڑیا تھی جسے میں اپنے ساتھ سلاتی تھی اس کے ساتھ ہی کھیلا کرتی تھی
جب کچھ کھاتی تھی تم اسے بھی ساتھ کھلاتی تھی کیونکہ مجھے وہ بہت پسند تھی، پھر کیا ہوا
ایک دن ابو نے میں مجھے اس سے بڑی اس سے زیادہ پیاری گڑیا دلائی مجھے وہ بہت پیاری لگی میں نے پہلی والی کو پھینک دیا اور اسکو بھول گئی حالانکہ مجھے اس کو ساتھ سلائے بنا نیند نہیں آتی تھی سب سے کہتی تھی یہ
میری پیاری گڑیا ہے میں اسے بہت پیار کرتی ہوں میں ہمیشہ اسے ساتھ رکھوں گی ۔ مگر میں بڑی ہوتی گئی
میری پسند بدلتی گئی ہر گڑیا سے میری محبت کا دعویٰ جھوٹ ثابت ہوا کیونکہ مجھے اس سے محبت تھی ہی نہیں
وہ میری پسند تھی اور پسند بدلتی رہتی ہے۔
اس ہی طرح جب تم نے اچانک اپنا راستہ بدلا مجھے وہ گڑیا یاد آئ جسے میں نے دوسری گڑیا کے مل جانے پر پھینک دیا تھ
مجھے بھی اللّه نے ایک گڑیا جیسا ہی بنایا ہے
مگر میری گڑیا اور تمہاری گڑیا میں فرق ہے
میری گڑیا سانس نہیں لیتی تھی مگر میرے سینے میں دل دھڑکتا ہے
اور آج.....
مجھے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ محبت اور پسند دونوں الگ الگ چیز ہیں ثابت ہوا
جب تم نے مجھ سے I LOVE YOU کہا تھا یاد ہے جب میں نے تمھیں کتنی باتیں سنا ڈالی تھی کیونکہ میں جانتی تھی تمھیں میں اچھی لگتی ہوں مگر اسکا مطلب یہ نہیں کے تمہیں واقعی مجھ سے محبت ہے میں جانتی تھی تم کبھی مجھ سے شادی نہیں کرو گے کیوں کہ میں نے کبھی تمہارے لفظوں میں محبت محسوس ہی نہیں کی تھی اور مردوں کا ایمان کتنا کمزور ہوتا ہے کون نہیں جانتا بھلا ؟
ہم جسے محبت کہتے ہیں نا دراصل یہ محبت نہیں ہوتی
پتا ہے بچپن میں میری ایک گڑیا تھی جسے میں اپنے ساتھ سلاتی تھی اس کے ساتھ ہی کھیلا کرتی تھی
جب کچھ کھاتی تھی تم اسے بھی ساتھ کھلاتی تھی کیونکہ مجھے وہ بہت پسند تھی، پھر کیا ہوا
ایک دن ابو نے میں مجھے اس سے بڑی اس سے زیادہ پیاری گڑیا دلائی مجھے وہ بہت پیاری لگی میں نے پہلی والی کو پھینک دیا اور اسکو بھول گئی حالانکہ مجھے اس کو ساتھ سلائے بنا نیند نہیں آتی تھی سب سے کہتی تھی یہ
میری پیاری گڑیا ہے میں اسے بہت پیار کرتی ہوں میں ہمیشہ اسے ساتھ رکھوں گی ۔ مگر میں بڑی ہوتی گئی
میری پسند بدلتی گئی ہر گڑیا سے میری محبت کا دعویٰ جھوٹ ثابت ہوا کیونکہ مجھے اس سے محبت تھی ہی نہیں
وہ میری پسند تھی اور پسند بدلتی رہتی ہے۔
اس ہی طرح جب تم نے اچانک اپنا راستہ بدلا مجھے وہ گڑیا یاد آئ جسے میں نے دوسری گڑیا کے مل جانے پر پھینک دیا تھ
مجھے بھی اللّه نے ایک گڑیا جیسا ہی بنایا ہے
مگر میری گڑیا اور تمہاری گڑیا میں فرق ہے
میری گڑیا سانس نہیں لیتی تھی مگر میرے سینے میں دل دھڑکتا ہے
اور آج.....
مجھے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ محبت اور پسند دونوں الگ الگ چیز ہیں ثابت ہوا
کے مجھے گڑیا سے اور تمھیں مجھسے محبت تھی ہی نہیں !..
تحریر نامعلوم
Monday, 25 September 2017
ایک عورت تھی جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔
ایک عورت تھی جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔اس عورت سے اُس کی خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ..آیا وہ بہت لذیز کھانا پکاتی ہے؟ یا اس کا خاوند اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہے؟ یا وہ بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون رہی ہے؟ یا پھر اس کی محبت کا کوئی اور راز ہے؟عورت نے یوں جواب دیا:خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور اگر چاہے تو جہنم بنا دے۔مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا سبب ہے۔ تاریخ میں کتنی ہی مالدار عورتیں ایسی ہیں جن کے خاوند اُن سے کنارہ کش ہو گئے۔نہ ہی بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی بہت بڑی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے جنے مگر وہ اپنے شوہروں سے کوئی خصوصی التفات و محبت نہ پا سکیں بلکہ نوبت طلاق تک جا پہنچی.اچھا کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں کھانے پکانے کے باوجود بھی عورتیں خاوند کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں.تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور مسرت بھری زندگی کا راز؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان درپیش مسائل و مشکلات سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟اُس نے جواب دیا:جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں (نہایت ہی احترام کیساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ احترام کےساتھ خاموشی یعنی آنکھوں سے حقارت اور طنزیہ پن نہ جھلکے۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال کو بھانپ لیتا ہے۔تو آپ ایسے میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا، تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی. خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے ناصرف سُننا بلکہ اُس سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جاتی تھی، کیونکہ اس سارے شور، شرابے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہے۔میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں لگ جاتی، اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی.تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اور بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟اُس نے کہا:ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا اور خاوند سے تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دورُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع میں اُس کیلئے یہ تکلیف دہ ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنے کی کوشش بھی کریگا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نہ بولنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے ہوا کی مانند ہو. گویا تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہو۔ باد صبا بنو باد صرصر نہیں..اُس کے بعد آپ کیا کرتی تھیں؟اُس عورت نے کہا:میں دو یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس یا پھر گرم چائے لے کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہو گا. میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھ رہا ہوتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔ میرا ہر بار اُسے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویے کی معذرت کرتا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟ہاں، بالکل. میں جاہل نہیں ہوں۔ کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھے غصے میں کہہ ڈالتا ہے اور اُن باتوں کا یقین نہ کروں جو وہ مجھے محبت اور پرسکون حالت میں کہتا ہے؟تو پھر آپکی عزت نفس کہاں گئی؟کیا عزت اسی کا نام ہے کہ تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نہ دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پرسکون ماحول میں کہہ رہا ہو!میں فوراً ہی اس غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل میں موجود ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے.

Sunday, 24 September 2017
مرد جس سے محبت کرتا ہے....
مرد جس سے محبت کرتا ہے....واقعی محبت کرتا ہے اس سے شادی کر لیتا ہے. ""90 فیصد کیسسز میں مرد ایسا نہیں کرتا کیونکہ 90 فیصد کیسسز میں مرد محبت نہیں کرتا , صرف فلرٹ کرتا ہے. ""مگر بعض دفعہ محبت کرنے کے باوجود مرد کچھ مجبوریوں کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتا. ""مرد اور مجبور؟؟؟..........جو مرد خود کو مجبور کہتا ہے وہ جھوٹا ہے."تم انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو......مرد کو جب بھی کسی عورت سے محبت ہوئی ہے .....حقیقی محبت ......تو اس نے ہر قیمت پر اس کو پانے کی کوشش کی ہے. ....اسے دولت سےہاتھ دھونے پڑے ہیں تواس نے اس کی بھی پرواہ نہیں کی .... جان داؤ پہ لگانی پڑی ہے تو وہ اس حد تک بھی گیاہے. ...... تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہانسانی تاریخ کے اس حصے میں اب مرد عورت سے شادی کے بارے میں مجبور ہو گیا ہے...... مجبوری کا تعلق کمزوری سے ہوتا ہےاور اگر ہم آج کے مرد کو مجبور مانتے ہیںتو پھر کیا اسے کمزوربھی مان لیں .""تم سمجھتی ہو اگر شادی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت سچی نہیں تھی؟؟؟"" دیکھو مرد اگر کسی عورت سے محبت کرتا ہے اور پھر اس سے شادی نہیں کرتا تو اس کا مطلب کیا ہے؟.....اس کا مطلب ہے کہوہ عورت کو کسی دوسرے مرد کی بیوی بننے کے لئے چھوڑ رہا ہے اور جس عورت سے مرد محبت کرتا ہے وہ یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس عورت کو کوئی دوسرا مرد دیکھے , چھوئے , اور وہ کسی دوسرے مرد کے گھر میں ہو .....امپاسبل .....عورت کسی مرد سے محبت کرتی ہو تو اسے کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی ......مرد تو پھر مرد ہے . ""مگر ہماری سوسائٹی میں مرد پر اتنے پریشر ہوتے ہیں کہ وہ بعض دفعہ چاہتے ہوئے بھی اپنی پسند کی عورت سے شادی نہیں کر سکتا ."" پہلے تو یہ طے کر لو کہ پسند کی عورت اور وہ عورت جس سے محبت ہو ... ان میں فرق کیا ہے." پسند کی عورت کا مطلب ہے کہکچھ کوالیٹیز آپ کو عورتوں میں اچھی لگتی ہیں تو ان کوالیٹیز کی عورتوں میں سے اگر کسی عورت سے شادی ہو جائے تو ٹھیک ہےاور اگر پریشر ہو اور شادی نہ ہو تب بھی ٹھیک ہے ...... یہ ہوتی ہے پسند..... محبت کا مطلب ہے کہ کوئی "ایک" عورت ہے جس سے آپ کسی خاص وجہ سے محبت کرتے ہیں ....یا بغیر کسی وجہ کے محبت کر رہے ہیں اوروہ ایک ہی ہوتی ہے .مرد جانتا ہے کہ وہ مل جائے تو ساری زندگی کے لئے .....اور نہ ملے تو ساری زندگی کے لئے......تو پھر وہ اس ایک عورت کو پانے کےلئے کیا نہیں کرتا ....... یہ دل کا معاملہ ہوتا ہے اور دل کے معاملے میں مرد کسی پریشر کو نہیں دیکھتا کیونکہ مرد بنیادی طور پر خودغرض ہوتا ہے.اس کےلئے اپنی ذات سب سے اہم ہوتی ہے.اور وہ جانتا ہے کہ اس کی خوشی کا تعلق اس عورت کے حصول سے ہے....!!!


December 08, 2019
message
