اُردو ناول آن لائن

Showing posts with label Jannat kay pattay - ناول جنت کے پتے. Show all posts
Showing posts with label Jannat kay pattay - ناول جنت کے پتے. Show all posts

Sunday, 12 November 2017

Jannat kay patay By Nimra Ahmad Episode # 20




Jannat kay patay
By Nimra Ahmad
Episode # 20
ایک پروفیسر کو مافیا کے بارے میں کیا معلوم ہو گا حیا جی
وہ کھساہت سے مسکرائے۔
یعنی کہ وہ واقعی مافیا کا بندہ ہے
اور آ پ کو معلوم بھی ہے مگر آ پ اعتراف نہیں کر نا چاہ رہے۔شاید ایک اور داود ابراہیم؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا اور وہ عین نشا نے پہ بیٹھا۔
داود ابراہیم ۔شاید انہوں نے سادگی سے ہتھیار ڈال دیے۔
وفعتا کیچن سے انجم باجی کی چیخ بلند ہوئی۔وہ جو کرسی کے کنارے پہ ٹکی تھی گبھرا اٹھی اور کیچن کی طرف لپکی۔
کیا ہوا
انجم باجی سرخ بھبھو کا چہرہ اور آنکھوں میں پانی لیے کھڑی تھی ۔ان کے ہاتھ میں خالی چمچہ تھا۔
مرچیں اتنی مرچیں حیا۔
نن نہیں یہ ترکی کی مرچیں پھیکی ہوتی ہیں ۔تو میں نے صرف چار چمیچے۔۔۔۔۔۔۔۔
چار چمیچے ان کی آنکھوں پھل گئی۔یہ ترکی کی نہیں خالص مبی کی مرچیں ہیں میں سارے مسالے وہیں سے لاتی ہوں ۔اوہ نہیں! اس نے بے اختیا دل پہ ہا تھ رکھا۔جبکہ ڈ ی جے ہنس ہنس کر دوہری ھو رہی تھی ۔سردی کا زور پہلے سے ذرا ٹوٹا تھا ۔اس صبح بھی سنہری سی دھوپ ٹا قسم اسکوائر پہ بکھری تھی ۔مجسمہ آزادی کے گردہر سو سونے کے ذرات چمک رہے تھے۔وہ دونوں سست روی سے سڑک کہ کنارےچل رہی تھی جب ڈی جے نے پوچھا ۔حیا '،،،یہ ٹاقسم نام کتنے مزے کا ہے اس کا مطلب کیا ہوابھلا؟ میں شہر کی مئیر ہوں جو مجھے پتا ھو گا؟ نہیں وہ میری گائیڈ بک میں لکھا تھا کہ ٹاقسم عربی کا لفظ ہےاور اس کا معنی شاید بانٹنے کے ہیں کیونکہ یہاں سےنہرین نکل کر سارے شہر میں بٹ جاتی تھیں ۔تمہیں عربی آ تی ہے اس لئیے پو چھ رہی ہوں ۔ عربی میں تو ٹاقسم نام کا کوئی لفظ نہیں، اور عربی میں بانٹنے کو تقسیم کہتے ہیں ۔وہ ایک دم رکی اور بےاختیارسر پہ ہاتھ مارا۔اوہ ٹاقسم یعنی تقسیم ۔اگر گوروں کی طرح منہ ٹیڑھا کر کے پڑھو تو تقسیم ٹاقسم بن جاتا ہے ۔ٹاقسم •••••!واو؛۔وہ دونوں اس بات پر خوب ہنستی ہوئی آ گے بڑھنے لگیں ۔وہ شاپنگ کے ارادے سے استقلال اسٹریٹ کی طرف آ ئ تھیں ۔استقلال جدیسی( اسٹریٹ )ٹاقسم کے قریب سے نکلنے والی ایک لمبی سی گلی تھی۔وہ گلی دونوں اطراف سے قدیم آ آرکیسٹیکچر والی اونچی عمارتوں سے گھری تھی۔گلی بے حد لمبی تھی وہاں انسانوں کا ایک رش ہمیشہ چلتا دکھائی دے رہا ہوتا۔بہت سے سامنے جا رہے ہوتے اور بہت سے آ پکی طرف آ رہے ہوتے۔ہر شخص اپنی دھن میں تیز تیز قدم اٹھا رہا ہوتا ۔گلی کے درمیان ایک پٹری بنی تھی جس پہ ایک تاریخی سرخ رنگ کو چھوٹا سا ٹرام چلتا تھا۔وہ پیدل انسان کی رفتار سے دگنیرفتار سے چلتا اور گلی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا دیتا ۔اس گلی کو ختم کرنے کے لیے بھی گھنٹہ تو چاہیے تھا ۔وہاں دونوں اطراف دکانوں کے چمکتے شیشے اور اوپر قمقمے لگے تھے ۔بازار نائٹ کلبز ریسٹورینٹس کافی شاپس ڈ یزائنر وئیر غرض ہر برانڈ کی دکان وہاں موجود تھی۔چند روز پہلے وہ ادھر آ ئیں تو صرف ونڈو شاپنگ میں ہی ڈ ھا ئی گھنٹے گزر گئے اور تب بھی وہ استقلال جدیسی کے درمیان پہنچی تھیں سو تھک کے واپس ہو لیں ۔حیا! تم نے دیکھا استقلال اسٹریٹ جیسے ماڈرن علاقے میں بھی ہر تھوڑی دور بعد پئیرہال ضرور ہے ۔بڑے نیک ہیں بھئ ترک! وہ قدرے طنزیہ ہنسی اور پھر متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی استقلال اسٹریٹ آ نے کا اصل مقصد جہان سے ملنا تھا اور وہ صرف اس لیے یہاں آ ئی تھی کہ بر گر کنگ جاے اور ؛میں یہاں سے گزر رہی تھی تو سو چا؛کہہ کر اس سے مل لے وہ دونوں ساتھ ساتھ تیز رفتاری سے چل رہی تھیں ۔وہاں ہوا تیز تھی اور حیا کہ کھو لے بال ا ڑ ا ڑ کہ اس کے چہرے پہ آ رہے تھے ۔
ﺣﯿﺎ ﺟﯽ؟ " ﻭﮦ ﮐﮭﺴﯿﺎﮨﭧ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ۔
" ﯾﻌﻨﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﺎﻓﯿﺎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﮯ۔ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﭼﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ۔
" ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ۔ " ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮯ۔
ﺩﻓﻌﺘًﺎ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺍﻧﺠﻢ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﺮﺳﯽ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮧ ﭨﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﯽ۔
" ﮐﯿﺎﮨﻮﺍ؟ "
ﺍﻧﺠﻢ ﺑﺎﺟﯽ ﺳﺮﺥ ﺑﮭﺒﺠﻮﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﺗﮭﺎ۔
" ﻣﺮﭼﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﺣﯿﺎ "!
" ﻧﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﭘﮭﯿﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﭼﺎﺭ ﭼﻤﭽﮯ۔۔۔۔ "
" ﭼﺎﺭ ﭼﻤﭽﮯ؟ " ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔ " ﯾﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺎﻟﺺ ﻣﻤﺒﺊ ﮐﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﺎﻟﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻻﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ "
" ﺍﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ۔ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﻝ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﮈﯼ ﺟﮯ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺩﻭﮨﺮﯼ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
••••••••••••••••••••••••••••••
ﺳﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﭨﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺻﺒﺢ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﺳﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﺍﺳﮑﻮﺍﺋﺮ ﭘﮧ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮨﺮ ﺳﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺕ ﭼﻤﮏ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺴﺖ ﺭﻭﯼ ﺳﮯ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﺐ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
" ﺣﯿﺎ ........ ﯾﮧ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻧﺎﻡ، ﮐﺘﻨﮯ ﻣﺰﮮ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﻼ؟ "
" ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﻣﯿﺌﺮ ﮨﻮﮞ، ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ "
" ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺎﺋﯿﮉ ﺑﮏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ۔ ﻋﺮﺑﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔
" ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ " ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺮ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭﺍ۔ " ﺍﻭﮦ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ۔ ﺍﮔﺮ ﮔﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ، ﺗﺎﻗﺴﻢ ﯾﺎ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ "
" ﭨﺎﻗﺴﻢ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! ﻭﺍﺅ۔ " ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺧﻮﺏ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺍﺳﭩﺮﯾﭧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺟﺪﯾﺴﯽ istiklal caddies ‏( ﺳﭩﺮﯾﭧ ‏) ﭨﺎﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﯽ ﮔﻠﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺍﮔﻠﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﺳﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭽﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﻋﻤﺎﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﺮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﻠﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺵ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰ ﺗﯿﺰ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﭘﭩﺮﯼ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﭨﺮﺍﻡ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﭘﯿﺪﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻗﻤﻘﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺎﺯﺍﺭ، ﻧﺎﺋﭧ ﮐﻠﺒﺰ، ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭩﺲ، ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺎﭘﺲ، ﮈﯾﺰﺍﺋﻨﺮﻭﺋﯿﺮ، ﻏﺮﺽ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻭﻧﮉﻭ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﺍﻭﺭ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺟﺪﯾﺴﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺳﻮ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﻟﯿﮟ۔
" ﺣﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺳﭩﺮﯾﭧ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﭘﺮﯾﺌﺮ ﮨﺎﻝ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﮯ۔ "
" ﺑﮍﮮ ﻧﯿﮏ ﮨﯿﮟ ﺑﮭﺌﯽ ﺗﺮﮎ "! ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﻨﺰﯾﮧ ﮨﻨﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺍﺳﭩﺮﯾﭧ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﺪ ﺟﮩﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﻨﮓ ﺟﺎﮰ ﺍﻭﺭ " ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺎ۔ " ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﮯ۔
ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﯿﺰ ﺭﻓﺘﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻮﺍ ﺗﯿﺰ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﮌ ﺍﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺟﯿﮑﭧ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺍﮌﺳﺘﯽ۔ ﺗﺐ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﻮﺭﮈ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮈﯼ ﺟﮯ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﮰ ﺑﻨﺎ ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭧ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮏ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺘﯽ، ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ۔ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﮐﯿﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﮐﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﭼﻠﺘﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﯾﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺑﮩﮧ ﮔﺌﯽ۔
ﺣﯿﺎ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﺁﺗﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﻮﭦ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺭﺥ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯﺑﺎﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺪ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﻮﭦ ﺍﺳﮑﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮﺥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ، ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻼ ﮨﻼ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﮌ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﺸﯿﺎﺋﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻤﺸﮑﻞ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻋﻘﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﭘﺎﺋﯽ۔
ﻟﮍﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﺗﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﺻﺎ ﺟﮭﻨﺠﻼﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﻮﺍﺑًﺎ ﺑﺤٽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﺮﮎ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ، ﻭﮦ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻟﻤﺒﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﻓﻘﺮﮮ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺗﺮﮎ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﺮﮎ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﺮﮮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﻓﻌﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﺎﺑﻘﮯ ﻻﺣﻘﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻟﻔﻆ ﺑﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻓﻘﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
" ﺟﮩﺎﮞ۔۔۔۔۔۔۔ ﺟﮩﺎﻥ۔۔۔۔۔ " ﻭﮦ ﺷﻮﺭ ﻭ ﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻦ ﺳﮑﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﮧ ﻭﮦ ﺭﮐﺎ۔ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻠﭩﮯ۔
" ﺟﮩﺎﻥ۔۔۔۔ " ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔
" ﮐﯿﺎ ﻣﺴﯿﻠﮧ ﮨﮯ؟ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ، ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﺮﻭ ﺍﭨﮭﺎﮰ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﺨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﻟﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﭘﮭﯿﮑﺎ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔
" ﻣﯿﮟ۔۔۔۔ﺣﯿﺎ۔۔۔۔۔۔ " ﻭﮦ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﮯ ﺷﮏ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ۔
" ﮨﺎﮞ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ؟ " ﻭﮦ ﺑﮭﻨﻮﯾﮟ ﺳﯿﮑﮍﮮ ﺑﻮﻻ۔
ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮﭦ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺣﯿﺎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﮭﺮ؟ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺷﺸﺪﺭ ﺳﯽ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ۔۔۔۔۔
جاری ہے




ناول جنت کے پتے تحریر نمره احمد قسط نمبر 19


ناول جنت کے پتے تحریر نمره احمد قسط نمبر 19اگے بڑںھی اور ناب گھما کر دروازہ کھولا۔باہر ںالکونی میں روشنی تھی۔جیسے ھی اس نے دروازہ کھولابالکونی تا ریک ھو گئی۔غالبا,,سیڑیوں کے اوپر لگا بلب بجھ گیا تھا۔کیا کوی واپس اکر پلٹ گیا تھا ۔اس نے گردن اگے کر کے راہداری کی دونوں سمت دیکھا ۔ہر سو خاموشی تھی۔بالکونی ویران تھی۔وھا سردی تھی اور اندر کمرہ گرم تھا۔وی چند ثا نیے وھا کھڑی رہی۔۔پھر دیھرے سے شانے اچکا کر پلٹنے ہی لگی تھی کے۔۔۔۔ ۔۔۔اوہ نہیں اس کے لبہوں سے ایک اوکتای ہوی کراہ نکلی۔چوکھٹ پر اس کے قد موں کے ساتھ سفید گلا بوں کا بئکے اور ایک بند لفا فں رکھا تھا۔وہ جھو کھی اور دونوں چیز یں اٹھایں اور جارھا نہ انداز میں لفا فے کا منہ پھا ڑا ۔اندر رکھا چوکور سفید کا غز نکا لا ور منہ کے سامنے کیا۔ ہیپی وہلنٹا ئہین ڈے۔۔۔۔۔فرام یور ویلنٹا ئن۔۔۔۔اس نے لب بینچ کرتنفر سےوی تحر یر پڑ ھی اور پھر بے حد غصے سے کا غز مروڑ کر گلد ستے سمیت پو ری قوت سے راہداری میں دے مارا۔. اوچ ۔وہ واپس مڑ نے ہی لگی تھی کے ۔ جب کسی کی بو کھلا ئی ہوی اواز سنی۔اس نے چو نک کر پیچھے دیکھا۔گلد ستہ اور کا غز سیدے ہاتھ والے کمرے سے نکلتے معتصم کو جا لگے۔اور اس سے ٹکرا کر اب اس کے قدموں میں پڑے تھے۔. یہ کیا ہے؟ وہ ہکا بکا کھڑا تھا۔. "ائی ایک سوری معتصن؛"وہ شد ید بے زاری سے بمشکل ضبط کر کے بولی۔معتصم کو و ضاحت دینے کا سوچ کر ہی اسے کو فت ہونے لگی تھی 'یہ میں نے تمیں نہیں دیے بلکہ کسی فضول انسان نے مجھے بیجھیے ہیں۔تم برا مت ما ننا اور ان کو ڈسٹ بن میں ڈال دینا۔"وہ ایک ھاتھ دروازے پر رکھے۔'دوسرے میں کا جل پکڑے زرا ر کھائی سے بو لی۔معتصم نے جھک کر وہ کا غز ا ٹھایا اور سیدھے ہوتےہھوےان کی شکنیں درست کرکے چہرے کے سامنے کیا۔حیا کوفت ہونے لگی۔"میں کہھ رہی ہونا سوری".اس نے قدرے اکتائے ہوئے انداز میں پھر معتصم کو پکارا۔وہ جو بھنویں سیکڑے کا غز کو دیکھ رہا تھا۔چونک کر اسے دیکھنے لگا۔"نہیں اٹس اوکے۔مگر یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں کوی سبا نجی میں تنگ کر رہا ہے۔؟.و ہ تحریرپہ نگا ہیں دوڑاتےتشو یش سےپوچھ رہا تھا۔یہ بات نہیں ہے۔یہ بہت پہلے سے میرے پیچھے پڑا ہے ۔لمبی کھانی ہے جانے دو".س کو کوڑے میں پھینک دینا۔گڈ نائیٹ"وہ مزید مروت کا مظاہرہ کیے بغیردروازے کا کواڑبند کر نے لگی تھی۔جب وہ ہولےسے بولا۔ یہ گیلاکیوں ہے؟تم روئ ہو؟کچھ تھا اس کی اواز میں کہ وہ دروازہ بند کرتی حیا ٹھٹھک کے دیکھا۔پھر پٹ نیم وہ کیااور باہر بالکونی میں قدم رکھا۔"میں کیوں رووں گی۔"وہ کا غز دیکھ کر بولی۔معتصم کا غز کے نچلےدائیں طرف کے کنارے پر انگلی پھیر رہا.تھا۔"پھر یہ گںیلا کیوں ہے۔؟"شائید پھولوں پر پانی تھا۔حیا نے میکا نیکی اندازمیں نفی میں گردن ہلائ۔"نہیں یہ تو موٹے لفا فے میں مہر بند تھا".معتصم نے وہ نم حصہ ناک کے قریب جا کر انکھیں موندےسانس ا ندر کو کھینچی۔سٹرس؟لیموں؟لائم؟وہ متز بذب سا حیاکو دیکھنے لگا۔کیا کھ رہے ہیں،مجھے کچھ سمج نہیں ا رہا".کسی نے اس کے نچلے کنارے پہ لیموں لگایا ہے۔"پھر اس نے چونک کر حیا کو دیکھا۔"تمھارے پاس ماچس ہے"وہ جواب دیے بنا الٹے قدموں پیچھے ائ۔اوردروازہ پورا کھول کر ایک طرف ہوگئ۔معتصم قدرے جھجکا'پھر کاغز پکڑے اندر داخل ہوا۔حیانے اپنی اور ڈ ی جے کی میز کی کرسیاں کھینچ کر آ منے سامنے رکھیں اور پھر ٹالی کی میز پر چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی ۔کیا تم بھی بچپن میں لیموں کا رس اور آگ والا کھیل کھیلتے تھے ۔؟وہ اب میز کی دراز کھول کر کچھ ڈ ڈھونڈرہی تھی ۔معتصم دھیرے سے ہنسا۔بہت کھیل کھیلے ہیں اور ان میں سے اکثر آ گ والے ہوتے تھے ۔فلسطین میں بہت آگ ہے شاید تم نہ سمجھو۔چلو آج ان ترکوں کے کھیل اسرائیلی آگ سے کھیلتے ہیں۔ وہ دراز میں سے ایک سگریٹ لائٹر نکال کے اس کہ سامنے کرسی پہ آ بیٹھی اور لائٹر اس کی طرف بڑھایا ۔معتصم نے لائٹر کا پہیہ اپنے انگوٹھے سے گھمایا تو آگ کا نیلا زردساشعلہ جل اٹھا ۔احتیاط سے وہ بے اختیار کہہ اٹھی ۔معتصم نے جواب نہیں دیا ۔وہ خط کہ نم حصے کو جواب تک سوکھ چکا تھا ۔شعلے کے قریب لایا ۔ذرا سی تپش ملی اور الفاظ ابھرنے لگے۔بڑے بڑے کر کے انگریزی کے تین حروف "اے آر پی"۔وہ حروف عین " فرام یورویلنٹائن "کے نیچے لکھے تھے ۔وہ دونوں چند لمحے کاغذ کے تکرے پہ ابھرے بھورے حروف کو تکتے رہے پھر ایک ساتھ گردن اٹھا کہ ایک دوسرے کو دیکھا۔آرپ،،،،،، ایرپ؟ کیسا لفظ ہے یہ ؟حنا نے ممکنہ ادائیگی کےدونوں طریقوں سے حروف کو ملا کہ پڑھا ۔شاید کوئی نام !کیا آ رپ کوئی ترک نام ہے؟معلوم نہیں ۔معتصم نے شانے اچکا دیے۔حیا سوچتی نگاہوں سے کاغذ کو تکتی رہی۔کیا میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا ہوں ۔اس نے ایک نظر معتصم کو دیکھا پھر نرم سا مسکرائی تم کر چکے ہو ۔وہ ہولے سے مسکرا کر کھڑا ہوا اور کاغذ میز پر رکھا۔وہ جو بھی ہے شاید تمہیں اپنا نام بتانے کی کو شش کر رہا ہے ۔وہ کون ہو سکتا ہے یہ تم بہتر سمجھ سکتی ہوگی ۔مجھے اب چلنا چاہیے ۔؛ہوں؛ تھینک یو معتصم ۔معتصم نے ذرا سی سر کو جنبش دی اور باہر نکل گیا ۔دروازے کا کیچر سست روی سےواپس چو کھٹ تک جانے لگا۔حیا چند لمحے میز پر رکھے کنارے سے بھورے ہوئے کاغذ کو دیکھے گئ پھر بے اختیار کسی میکانکی عمل کہ تحت اس نے ہاتھ میں پکڑی کاجل کی سلائی کو سیدھا کیا اور بائیں ہتھیلی کی پشت پہ وہ تین حروف اتارتے ۔؛اے آر پی؛دروازہ چوکھٹ کے ساتھ لگنے ہی والا تھا۔ذرا سی دور سے باہر راہداری میں گرا گلدستہ دکھائی دے رہا تھا ۔ایک دو پل مزید گزرے اور دروازہ "ٹھاہ" کی آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا ۔وہ اپنی ہتھیلی کی پشت پہ سیاہ رنگ میں تین الفاظ دیکھ رہی تھی ۔"اے آر پی"*** اس نے اوپر بنے کیبنٹ کا دروازہ کھولا ۔چند ڈ بے الٹ پلٹ کیے۔نیچے خانے میں سرخ مرچوں کا ڈبا نہیں تھا ۔وہ ایڑیاں اٹھا کر ذرا سی اونچی ہوئی اور اوپر والے خانے میں جھانکا ۔وہاں سامنےایک پلاسٹک کے بے رنگ ڈبے میں سرخ پاؤڈر رکھا نظر آیا ۔اس نے ڈبہ نکا لا اور کاونٹر کی طرف آئی ۔وہاں ڈی جے کھڑی سلیپ پہ کٹنگ بورڈ کے اوپر پیاز رکھے کھٹا کھٹ کاٹ رہی تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے.بریانی کی مقدار زیادہ ہے چار چمچ سرخ مرچ کہ ڈال دیتی ہوں شاید ذرا سا ذائقہ آ جائے ۔ٹھیک ؟وہ خود کلامی کے انداز میں کہتی ٹوکری سےچھوٹا چمچ ڈھنڈنے لگی۔ہاں ٹھیک !ڈی جے نے بھیگی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے رندھی آواز میں کہا اور آستین سے آنکھیں رگڑیں۔حیا اب ڈبے سے چمچ بھر بھر کردھوئیں اڑاتے پتیلے میں ڈال رہی تھی ۔بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا اس کے پیچھے گردن پہ جھول رہا تھا۔سادہ شلوار قمیض پہ وہ ڈھیلا ڈھالا سا سبز سوئٹر پہنے ہوئے تھی ۔جس کی آستینیں اس نے کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں۔دوپٹہ ایک طرف دروازے پہ لٹکا تھا ۔اور چند لٹیں جوڑے سے نکل کر چہرے کے اطراف لٹک رہی تھیں ۔گوشت میں چمچہ ہلاتی وہ بہت مصروف لگ رہی تھی ۔وہ دونوں اس وقت انجم باجی کے کچن میں موجود تھیں ۔صبح انجم باجی ڈی جے کو ڈائننگ ہال میں ملیں تو شام اپنے گھر کھانے کی دعوت دے ڈالی ،جو کہ ڈی جے نے یہ کہہ کر قبول کر لی کہ وہ اور حیا مل کر بریانی بنائیں گی۔اب سر شام ہی وہ دونوں ہالے کو لیے انجم باجی کے اپارٹمنٹ آ گئی تھیں ۔ایک بیڈروم لاؤنچ اور کچن پر مشتمل وہ چھوٹا مگر بے حد نفیس اور سلیقے سے سجا اپارٹمنٹ تھا ۔ہالے کو انہوں نے لاؤنچ میں انجم باجی کہ پاس بیٹھا رہنے دیا اور خود کچن میں آ کر مصروف ہو گئیں ۔یہ پنٹینگ جوید جی لائے تھے انڈیا سے۔اندر لاؤنچ میں انجم باجی کی ہا لے کو مطلع کرتی آواز آ رہی تھی ۔ڈی جے یہ جوید جی کیا ہے؟اس نے قدرے الجھ کر پوچھا ۔ان کا مطلب ہے جوید جی۔ان کے ہزبینڈ! ڈی جے نے سرگوشی کی تو وہ مسکراہٹ دباتی پلٹ کر ابلتے چاولوں کو دیکھنے لگی ۔جس وقت انجم باجی اور ہالے کچن میں داخل ہوئیں حیا پتیلے کا ڈھکن اخبار لگا کر احتیاط سے بند کر رہی تھی ۔آ ہٹ پہ پلٹی اور مسکرائی۔بس دم دے رہی ہوں ۔بہت خراب ہو تم دونوں مجھے اٹھنے ہی نہیں دیا ۔بس اب آ پ کو کھانے کے وقت ہی اٹھنا تھا ۔وہ جوید،،،،،، جاوید بھائی آگئے ۔؟وہ ہاتھ دھو کر تولیے سے صاف کرتی ڈی جے کے پاس آئی۔ڈی جے کا سلاد ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا ۔اب کہیں جا کہ وہ ٹماٹروں پہ پہنچی تھی۔بس آنے والے ہیں لاو یہ سلاد تو مجھے بنانے دو۔نہیں!میں کر لوں گی۔تھوڑا سا رہ گیا ہے۔ڈی جے نے بڑی بے فکری سے کہا تو حیا نے اسے جتا تی نظروں سے گھورا ۔آپ نے اس تھوڑے میں بھی صبح کر دینی ہے۔لاو مجھے دو اور پلیٹیں لگاو۔اس نے ٹماٹر اور چھری ڈی جے کے ہاتھ سے لے لی۔ہالے از خود نہایت پھر تی سے سارا پھیلاؤ سمیٹنے میں لگی تھی۔وہ میلے برتن اب سنک میں جمع کر رہی تھی ۔ڈی جے کیبنٹ سے پلیٹیں نکالنے لگی اور انجم باجی رائتہ بنانے لگیں۔حیا نے ٹماٹر کو کٹنگ بورڈ پہ بائیں ہاتھ سے پکڑکہ رکھا اور چھری رکھ کہ دبائی۔دو سرخ ٹکڑے الگ ہو گئے اور ذرا سا سرخ رنگ اس کی بائیں ہتھیلی کی پشت پہ بہہ گیا جہاں کاجل سے لکھے تین مٹے مٹے سے حروف تھے ۔اے،،،،،آر،،،،،پی۔وہ دو تین روز سے اسی ؛اے آر پی؛ کے متعلق سوچے جا رہی تھی اب بھی کچھ سوچ کر اس نے گردن اٹھائی ۔؛ انجم باجی؛دہی کو کانٹے سے پھینٹتیں انجم باجی نے ہاتھ روک ےلئیےآپنے کسی ایرپ کے متعلق سنا ہے۔ایرپ انجم باجی نے حیرت بھری الجھن سے دوہرایا۔جی ایرپ اے آرپی۔اس نےوضاحت کے لیے ہلجے کر کے بتایا۔اونائٹ اگین حیا۔ہالے جو سنک کے آگے کھڑی تھی ۔قدرے اکتا کر پلٹی۔اس کے ہاتھ میں جھاگ بھرا اسفخج تھاجسے وہ پلیٹ پہ مل رہی تھی ۔تم پھر وہی موضوع لے کر بٹھ گئئ ہو۔اس کے انداز میں خفگی بھرا احتجاج تھا۔مگر ہالے اب وہ الجھی تھی۔یہ ۔موضوع تو اس نے ابھی تک ہالے کے ساتھ ڈسیکس نہیں کیا تھا۔پھرمیں نے کہا تھا نا یہ سب بے کار باتیں ہیں ۔مگر میں نے پوچھا ہی کیا ہے۔اے آڑپی۔عبدالرحمان پاشا اور کون اس نے بتایا تھاکہ یہ گھریلو عورتوں کے فسانے سے ذیادہ کچھ نہیں ہے۔یہ استنبول ہے۔یہاں قانون کا راج ہے۔مافیا کا نہیں ۔اب اس کے بعد اس موضوع پہ کچھ نہیں سنوں گی۔ہالے اب پلٹ کر جھاگ سے بھری پلیٹ کو پانی سے کھنگال رہی تھی ۔اور وہ جو حیرتوں کے سمندر میں گھڑی کھڑی تھی ۔اے آرپی۔عبدالرحمان پاشا اور یہ خیال اسے پہلے کیوں نہیں آیا۔اوکے اوکے وہ سر جھکائے ٹماٹر کاٹنے لگی مگر اس کے ذہین میں جھٹ سے خیال گڈمڈ ہو رہے تھے۔ہالے اور جہان دونوں ایک جیسے تھے۔اور اپنے استنبول کے دفاع کے علاوہ وہ کبھی کچھ نہیں کہیں گے۔اسے یقین تھا۔مگر کسی کے پاس تو کچھ کہنے کے لئے ہو گا اور اسے اس کسی کو ڈھونڈنا تھا۔وہ میز لگا رہی تھی جب جاوید بھائی آگے۔وہ بھی پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔اور سبانجی میں پڑھاتے بھی تھے۔بے حد ملنسار سادہ اور خوش اخلاق سے دیسی مرد تھے۔اپنے پاکستانی ڈرموں کے شوقین اور پرستار۔ٹی وی کے ساتھ ریک میں ان کہی آرئیگاں دھوپ کنارے آنگن ٹیڑھا الف نون سمیت بہت سے کلاسک ڈراموں کی دی وی ڈیز قطار میں سجی تھیں ۔ان دونوں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے لیے طرز تخاطب بہت دلچسپ تھا۔جوید جی اور انجو جی اسے بہت اہنسی آئی۔باقی تینوں کیچن میں تھے۔جب حیا پانی کا جگرکھنے میز پہ آئی جاوید بھائی کو تنہا بیٹھے پایا۔وہ کسی کتاب کی ورق کروانئ کر رہے تھے۔جوید۔۔۔۔۔جاوید بھائی گڑبڑ کر تصیع کرتی ان کے ساتھ کرسی کھنچ کر بیٹھی اور محتاط نگاہوں سے کیچن کے دروازے کو دیکھا۔ایک بات پوچھنی تھی آپ سے۔جی جی پوچیھے۔وہ فورا کتاب رکھ کر سیدھے ہو بیٹھے ۔استنبول میں ایک انڈین مسلم رہیتا ہے عبدالرحمان پاشا نام کا۔آپ اسے جانتے ہیں ۔وہ محتاط کرسی کے کنارے ٹکی بولتے ہوئے بار بار کیچن کے دروازے کو بھی دیکھ لیتی۔کون پاشا وہ بیوک اواولا۔اور حیا کو لگا اسے اس کے جواب ملنے والے ہیں ۔جی جی وہی وہ خاصا مشہور ہے۔ہاں سنا تو میں نے بھی ہے۔بیوک ادا میں اس کا کافی ہولڈ ہے۔وہ مال امپورٹ ایکسپورٹ کرتا ہے۔کیا وہ مافیا کا بندہ ہے اسلحہ اسمگل کرتا ہے۔ایک پروفیسر کو مافیا کے بارے میں کیا معلوم ہو گا حیا جیوہ کھساہت سے مسکرائے۔یعنی کہ وہ واقعی مافیا کا بندہ ہے اور آ پ کو معلوم بھی ہے مگر آ پ اعتراف نہیں کر نا چاہ رہے۔شاید ایک اور داود ابراہیم؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا اور وہ عین نشا نے پہ بیٹھا۔داود ابراہیم ۔شاید انہوں نے سادگی سے ہتھیار ڈال دیے۔جاری هے



Jannat Kay pattay By Nimra Ahmad Episode #18


Jannat Kay pattay
By Nimra Ahmad
Episode #18
صرف ہمیں ہی بلایا ھے یا یہ عرب اسرائیل دوستی کی زندہ مثال بھی موجود ھو گی ڈی جے کا اشارہ ٹالی کی طرف تھا ۔
پتا نہیں ۔ حیا نے شانے اچکا دیے ۔وہ الماری سے کپڑے نکالنے لگی
ہر موقع کی مناسبت سے ڈریسنگ کرنا اس کا جنون تھا ۔کپڑوں پہ ایک سلوٹ تک نہ ھو اور میک اپ کی ایک لکیر بھی اوپر نیچے نہ ھو ، وہ ہر بات کا خیال رکھتی تھی ۔ البتہ لڑکوں کی دعوت پہ جانے کی اجاذت پاکستان میں ابا یا تایا کبھی نہ دیتے ۔مگر وہ ادھر کون سا دیکھ رھے تھے ۔ یہ ترکی تھا اور یہاں سب چلتا تھا ۔
وہ تین لڑکے تھے ۔معتصم المرتضیٰ ، حسین اور مومن ، ان کے دو فلسطینی دوست محمد قادر اور نجیب اللہ دعوت کے شروع میں موجود رہے ۔ پھر اٹھ کر چلے گئے ، مگر ان تین میزبانوں نے احسن طریقے سے میزبانی نبھائی ۔وہ تینوں اسمارٹ اور گڈ لکنگ سے لڑکے ایک جیسے لگتے تھے ۔ معتصم ان میں ذرا لمبا تھا ۔ اس کا نام معتصم المرتضیٰ تھا ، مگر یہ ڈی جے نے بعد میں نوٹ کیا کہ وہ فیسبک پہ اپنا نام معتصم اینڈ مرتضیٰ لکھتا تھا ۔ وجہ انھیں کبھی سمجھ نہ آئی ۔ حسین اور معتصم ان دونوں کو بالکل اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح ٹریٹ کر رھے تھے ۔ البتہ اس بھائی چارے سے مومن متفق نہ تھا ۔ وی فلرٹیب، نظر باز سا لڑکا کچھ بھی تھا مگر مومن نہ تھا ۔
البتہ وہ دونوں اس کو اپنی موجودگی میں سیدھا کیے ھوئے تھے وہ دونوں اتنے ملنسار اور مہذب لڑکے تھے کہ حیا کو اپنے سارے کزن ان کے سامنے بےکار لگے ۔ البتہ جہان کی بات اور تھی ۔ اس نے فورًا اپنی رائے میں ترمیم کی ۔
اگلے ہفتے حسین کا برتھڈے ھے ،، حسین فون سننے باہر گیا تو مومن نے بتایا پھر تو ہمیں اسےٹریٹ دینی چاہیے ۔ڈی جے سوچ کر بولی ۔
اور گفٹ بھی ، حیا کو خیال آیا ۔
ہم دونوں اس کے لیے ایک گھڑی خریدنے کا سوچ رھے رہیں جو ہم نے جواہر میں دیکھی ھے ۔
130لیزار کی ھے معتصم نے چائے کا آخری گھونٹ پی کر کپ میز پر رکھا ۔
یعنی کہ پاکستانی روپوں میں ۔۔۔۔،، حیا نء سوچتے ھوئے پرس میں ہاتھ ڈالا تاکہ موبائل کےکے کیلکولیٹر سے حساب کر سکے ۔
سات ہزار ایک سو پانچ پاکستانی روپے ۔۔
معتصم جھک کر پیسٹریز کی پلیٹ سے ایک ٹکڑا اٹھاتے ھوئے بولا ۔ حیا کا پرس کھنگالتا ہاتھ رک گیا ۔اس نے حیرت و بے یقینی سے معتصم کو دیکھا ۔
تم نے اتنی جلدی حساب کیسے کیا ؟؟
میں میتھس کا سٹوڈنٹ ھوں ،،، وہ جھینپ کر مسکرا دیا ۔
اور معتصم کا ایک ہی خواب ھے کہ وہ میتھس میں نوبل پرائز لے ،، مومن حیا کے ہاتھوں کو دیکھتے ھوئے کہنے لگا ۔وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد معتصم سے آنکھ بچا کر حیا کے سراپے کا جائزہ لے لیتا تھا ۔ حیا قدرے رخ موڑ کر معتصم کی طرف متوجہ ھوئی ۔
تو میتھس کے سٹوڈنٹ جلدی بتاؤ اس مہنگی گھڑی کو خریدنے کے لیے اگر ہم چاروں پیسے تقسیم کریں تو ہر ایک کے حصے میں کتنے ۔۔
32 لیرا اور پچاس کرش ۔۔،،
اوکے ،،، حیا نے گہری سانس لی اور پرس کھولا انکو پیسے انھوں نے زبردستی تھمائے ۔ مومن کو تو کوئی اعتراض نہ تھا مگر معتصم ان سے رقم لینے میں متذبزب تھا مگر یہ ایک ان کہی بات تھی کہ بغیر کسی اسکالر شپ کے استنبول جیسے مہنگے شہر میں وہ سب اتنا ہی افورڈ کر سکتے تھے ۔
وہ تینوں جواہر کے لیے نکل رھے تھے معتصم نے کہا تھا کہ وہ حسین سے نظر بچا کر گھڑی خرید لائیں گے ان کو بھی ساتھ چلنے کی پیشکش کی اور ڈی جے ہاں کرنے ہی والی تھی کہ حیا نے اس کا پاؤں اپنے جوتے اے زور سے کچلتے ھوئے بظاہر مسکراتے ھوئے انکار کیا ۔
نہیں ۔۔ آپ لوگ جائیں ہم آج ہی ھو کر آئے ہیں وہ تینوں چلے گئے تو ڈی جے نے برا سا منہ بنا کر اسے دیکھا ۔
تم نے انکار کیوں کیا ؟؟؟
پاگل عورت ۔۔،، تم پاکستان سے آئی ھو یا نیو یارک سے ؟؟ ان کی دعوت قبول کر لی یہ ہی بہت ھے اب ان کے ساتھ سیر سپاٹوں پہ بھی نکل جائیں دماغ ٹھیک ھے ؟؟؟
مگر وہ تو ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں ۔۔ پیچھے ہمارے اصلی والے بھائیوں کو پتا چلا تو کل ہی واپس پاکستان بلوا لیں گے ۔ اس لیے اپنی اوقات میں واپس آؤ اور رات کے کھانے کی تیاری کرو موبائل کے ساتھ ننھی ہینڈز فری کانوں میں لگاتے ھوئے بولی ۔
زہر ملا کر دوں گی تمہیں ۔۔, ڈی جے بھناتی ھوئی پیر پٹخ کر اٹھی ۔ اور اگر تم چاولوں پہ آملیٹ ڈال کے لائی تو ساری ڈش تمہارے اوپر الٹ دوں گی ۔۔
وہ وہیں صوفے پر لمبی بیٹھی ۔ اب موبائل کے بٹن دبا رہی تھی ۔ دھیما میوزک اس کے کانوں میں بجنے لگا ۔ڈی جے غصے میں بہت کچھ کہتی گئ مگر اسے سنائی نہیں دے رہا تھا ۔ وہ آنکھیں موندے ھولے ھولے پاؤں جھلانے لگی ۔ ڈی جے پیر پٹخ کر باہر نکل گئی ۔۔
وہ رات ویلنٹائن کی رات تھی ۔ ڈی جے کامن روم میں منعقدہ اس آل گرلز پارٹی میں جا چکی تھی ۔ جو لڑکیوں نے مل کر دی تھی جبکہ حیا آئینے کے سامنے کھڑی اپنا کاجل درست کر رہی تھی اس کی تیاری مکمل تھی لیکن جب تک وہ اپنی آنکھوں کے کٹورے کاجل سے بھر نہ لیتی اسے تسلی نہیں ھوتی تھی ۔ ابھی وہ کاجل کی سلائی کی نوک آنکھ کے کنارے سے رگڑ رہی تھی کہ دروازہ بجا ۔
دھیمی سی دستک اور پھر خاموشی ۔
اس نے کاجل کی سلائی نیچے کی اور پلٹ کر دیکھا ۔ یہ انداز ڈی جے کا تو نہیں تھا ۔ وہ یوں ہی کاجل پکڑے........جاری هے


Sunday, 1 October 2017

Jannat Kay pattay By Nimra Ahmad Episodey#17

Jannat Kay pattayBy Nimra AhmadEpisodey#17چوکهٹ میں کهڑا شخص چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتا، اس کی طرف بڑهنے لگا۔حیا نے نیم اندهیرے میں آنکهیں پهاڑ پهاڑ کر وہ تختی پڑهی۔"سکندر شاه" اس نے بے اختیار رینک دیکها۔ وه کرنل کی نشاندہی کر رہا تها۔وہ شرٹ ہاتھ میں پکڑے کسی الجهن میں گرفتار پلٹی اور ایک دم جهٹکے سے پیچهے ہٹی۔اس کے عقب میں جہاں نہیں تها۔ وه کوئی اور تها۔دراز قد، کنپٹیوں اور پیشانی سے جهلکتے سفید بال، سخت نقوش، نائٹ گاؤن میں ملبوس، وه کڑی نگاہوں سے اسے دیکهتے قریب آ رہے تهے۔وه سانس روکے انہیں دیکهے گئی۔وه عین اس کے سر پر آۓ، اور ایک جهٹکے سے اسکی گردن دبوچی۔"میری جاسوسی کرنے آئی ہو؟" اسکے گلے کو دبوچتے وه غراۓ تھء۔بے اختیار اس کے لبوں سے چیخ نکلی۔ شرٹ اس کے ہاتھ سے پهسل گئی۔ اس نے اپنی انگلیوں سے گردن کے گرد جکڑے ان کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی، مگر بے سود۔"پاکستانیوں نے بهیجا ہے تمہیں؟ اپنے مالکوں کو بولو، انہیں بلیو پڑنٹس کبهی نہیں ملیں گے۔"چهوڑیں مجهے۔" وه زور سے کهانسی۔ اس کا دم گهٹنے لگا تها۔ وه اس کا گلا دبا رہے تهے۔"کوئی مجھ تک نہیں پہنچ سکے گا، کبهی نہیں، ہر چیز آگے دے دی گئی ہے، ہر چیز۔" انهوں نے اسے گردن سے دبوچے اس کا سر کهلے صندوق پہ جهکایا۔ وه تڑپنے، چلانے لگی۔"چهوڑیں مجهے۔" وه اپنے ناخن ان کے ہاتھ میں چبهو کر ان کو ہٹانے کی ناکام سعی کر رہی تهی۔"تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا۔ وه بلیو پڑنٹس تمہیں کبهی نہیں ملیں گے"حیا کا سانس رکنےلگا۔ وه اس کا سر صندوق میں دے کر اوپر سے ڈھکنا بند کر رہے تھے، اسے لگا وه مرنے والی ہے۔"امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔۔!" وه وحشت سے چلانے لگی۔ وه اس کو گردن سے دبوچے، اس کا سر منہ کے بل اندر دے رہے تهے۔ گرد سے اٹے صندوق میں اسکا سانس اکهڑنے لگا۔*•••••*•••••*••••••*••••••*#باب_3چھوڑیں۔"دھاڑ سے دروازہ کھلا اور کوئی غصے چلاتا اندر آیا۔ اس کی گردن کے گرد جکڑےہاتھ کو کھینچ کر الگ کیا اور ادھ کھلا ڈھکن پورا کھول کر دوہری ہو کر اوندھی جھکی حیا کو بازو سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا۔"کیا کر رہے تھے آپ؟ وہ آپ کی بیٹی کی طرح ہے، ایک بات میری دھیان سے سنیں۔ آئندہ اگر آپ نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا۔"انگشت اٹھا کر سختی سے وہ انہیں تنبیہہ کر رہا تھا۔جہان کو دیکھ کر وہ دو قدم پیچھے ہٹ کر خاموشی سے اسے سنتے گۓ۔"اور تم!" وہ حیا کی طرف پلٹا۔ ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی، اور کہنی سے پکڑ کر کھینچتا باہر لایا۔ "اوپر کیوں آئی تھیں؟ کس نے کہا تھا ادھر آؤ؟"سیڑھیوں کے دہانے پہ لا کر اس نے حیا کا چہرہ دیکھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ دہشت سے چہرے کا رنگ لباس کی مانند زرد پڑ چکا تھا۔گردن پہ انگلیوں کے سرخ نشان پڑے تھے۔ وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔"وہ پھپھو نے۔۔۔۔۔۔۔""پھپھو کا بیٹا مر گیا تھا جو انہوں نے تمہیں بھیجا؟منع بھی کیا تھا، مگر یہاں کوئی سنے تو۔" وہ غصے میں بولتا، اسے کہنی سے پکڑے نیچے سیڑھیاں تیزی سے اترنے لگا۔ وہ اس کے ساتھ کھنچی چلی آ رہی تھی۔ پھپھو پریشان سی آخری سیڑھی کے پاس کھڑی تھیں۔"میں بکواس کر کے گیا تھا نا، مگر میری سنتا کون ہے اس گھر میں؟ دو دن کے لیے نہ ہوں تو سارا نظام الٹ جاتا ہے۔ پورے گھر کو پاگل کر دیا ہے انھوں نے۔"وہ آگے بڑھا اور سنٹر ٹیبل پہ رکھی میز سے پانی کی بوتل اٹھا کر لبوں سے لگائی۔ (پانی کی ضرورت تو حیا کو نہیں تھی؟)وہ سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ جہان کو اتنے شدید غصے میں اس نے پہلی دفعہ دیکھا اور اتنی شستہ اردو بولتے ہوۓ بھی۔"میں۔۔۔۔۔میں انھیں دیکھتی ہوں۔" پھپھو پریشانی سے کہتے ہوۓ اوپر سیڑھیاں چڑھ گئیں۔وہ گھونٹ پہ گھونٹ چڑھاتا گیا۔ بوتل خالی کر کے میز پہ رکھی اور اسکی طرف دیکھا۔"باہر آؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔" وہ کہہ کر روازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ وہ ڈری، سہمی ہوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے آئی۔وہ بیرونی دروازے کے آگے بنے اسٹیپس پہ بیٹھا تھا۔ حیا نے دروازہ بند کیا اور اس کے ساتھ آ بیٹھی۔ زرد فراک پھسل کر اس کے ننگے پاؤں کو ڈھانپ گیا۔ باہر سردی تھی، مگر اسے نہیں لگ رہی تھی۔"جو بھی ہوا، میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔" وہ سامنے دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔نیلی جینز کے اوپر پہنے بھورے سویئٹر کو عادتاً کہنیوں سے ذرا آگے موڑے، وہ ہمیشہ کی طرح وجیہہ اور اسمارٹ لگ رہا تھا۔ غصہ اب کہیں نہیں تھا۔ وہ پہلے والا دھیما سا اور سنجیدہ جہان بن گیا تھا۔"ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہوتے۔ کئی دفعہ انہوں نے ممی کو بھی مارنے کی کوشش کی ہے، مگر مجھے کچھ نہیں کہتے۔ ڈرتے نہیں ہیں، شاید نفرت کرتے ہیں۔"سامنے سبزہ تھا۔ اس سے آگے سفید لکڑی کی باڑ اور باڑ سے ہی بنا گیٹ، باڑ کے تختوں کی درزوں سے باہر گیلی سڑک دکھائی دیتی تھی۔ نم ہوا گھاس پر سے سرسراتی ہوئی گزر رہی تهی۔ وه گهٹنوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ بناۓ چہره جہان کی جانب موڑے بیٹھی تهی۔ فراک کا فرش کو چهوتا دامن ہوا کی لہروں سے پهڑپهڑاتا ہوا اوپر اٹھ جاتا تو پاجامے کی تنگ چوڑیوں میں مقید ٹخنے اور پاؤں چهلکتے۔"میرا بهی دل کرتا ہے کہ میں پاکستان جاؤں۔ اپنے رشتہ داروں کے درمیان رہوں۔ اپنا آبائی گھر دیکهوں۔ مگر ہم پاکستان نہیں جاتے اور تم اس دن ممی کو طعنہ دے رہی تهی ہم پاکستان نہیں آتے۔" (افف۔۔۔۔۔ اتنا جھوٹ)"نن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔" وه گڑبڑا گئی، مگر وه سن نہیں رہا تها۔"حیا! ہم کبھی پاکستان واپس نہیں جا سکتے۔"مگر کیوں؟ وه سناٹے میں ره گئی۔ وه چند لمحے چپ رہا، پهر آہستہ سے کہنے لگا۔میرے دادا اپنے کاروبار کے سلسلے میں استنبول آیا کرتے تهے۔ اس گھر کی انہوں نے ہی خریدی تھی بعد میں ابا نے ادھر گھر بنوایا۔ تب وه پاکستان آرمی کی طرف سے یہاں پوسٹڈ تهے۔ میں استنبول میں ہی پیدا ہوا تھا اور ابا کی دوباره اسلام آباد پوسٹنگ ہونے کے بعد بھی میں اور ممی ادھر دادا کے ساتھ رہتے تهے۔ میرے دادا بہت اچهے، بہت عظیم انسان تهے۔ انهوں نے مجهے بہت کچھ سکهایا تها۔ دین، دنیا، عزت، بہادری اور وقار سے جینے اور شان سے مرنے کا سبق انهوں نے ہی مجهے دیا تها۔ میں آٹھ سال کا تھا، جب وہ فوت ہوئے تو میں اور ممی کچھ عرصہ کے لیے پاکستان آگئے۔ اور تب ہی وه واقعہ ہوا، جس نے ہماری زندگی بدل دی۔"حیا کا سانس رک گیا۔ تب ہی تو ان کا نکاح ہوا تھا، تو کیا وہ باخبر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ (حیا کی خوش فہمیاں۔۔۔۔۔)"جن دنوں میں اور ممی پاکستان میں تهے، بلکہ تمهارے گھر میں تهے، ابا آناً فاناً ترکی فرار ہو گۓ۔ فرار اس لیے کہ انھوں نے ایک حساس مقام کے بلیو پرنٹس ان کو بیچ دیۓ تهے جو ہمیشہ خریدنے کے لیۓ تیار رہتے ہیں۔ ثبوت انہوں نے کوئی نہیں چهوڑا، مگر تفتیش شروع ہوئی تو بہت کچھ کهلنے لگا۔ ابا نے ترکی سے هہی اپنا استعفی بھجوا دیا۔ پیچھے عدالت میں مقدمہ چلا اور وه غدار ٹهہراۓ گۓ۔ ان کے جرائم کی فہرست خاصی طویل تھی۔ ان کو سزاۓ موت سنا دی گئی اور انهوں نے ترکی میں سیاسی پناه حاصل کر لی۔ کچھ تعلقات کام آۓ اور کچھ رشوتیں، ابا کو ترک حکومت کبھی ڈی پورٹ نا کر سکی، نا ہی انٹر پول نے کوئی قدم اٹهایا۔ قصہ مختصر، ابا جس دن پاکستان کی سرزمین پہ قدم رکهیں گے، وہ گرفتار ہو جائیں گے اور ان کو پهانسی دے دی جاۓ گی۔ یہ بات تمهارے والدین کو پتہ ہے، مگر بدنامی کے ڈر سے کسی کو بتائی نہیں جاتی۔" وه کسی بهی جزبے سے عاری نگاہوں سے سامنے باڑکو دیکھتا رہا تها۔ حیا یک ٹک اسے دیکهے گئی۔ اس کے گهر میں پهپهو کے شوهر کا ذکر کوئی نہیں کرتا تها۔ شاید دانستہ طور پہ ایسا کیا جاتا تها۔"میں ایک غدار کا بیٹا ہوں۔ میرا باپ ایک ملک دشمن ہے۔ اس ذلت کے باوجود ہم ابا کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ احساس جرم ہے یا قدرت کی طرف سے سزا، وه وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنا ذہن کهوتے جا رہے ہیں۔ سزاۓ موت کا خوف ان کے لیۓ ناسور بنتا جا رہا ہے۔ جو انهوں نے تمهارے ساتھ کیا، اس پہ ان کو معاف کر دینا۔ وه میرے باپ ہیں اور باوجود اس کے کہ یہ حقیقت بہت جگہ میرا سر جهکا دیتی ہے میں ان سے محبت کرنے پہ مجبور ہوں۔" حیا نے گہری سانس لی۔ اس کے کسی قصے میں اس کا قصہ نہیں تها، کسی داستان میں اس کی داستان نہ تهی۔"میں کام سے باہر جا رہا ہوں، آج کهانا کها کر جانا۔" وه اٹها اور دروازہ کهول کر اندر چلا گیا. شاید وه ابهی صرف تنہائی چاہتا تھا۔ حیا گردن موڑ کر اسے جاتے ہوئے دیکهنے لگی۔ وه ننگے پاؤں لکڑی کے فرش پہ چلتا سیڑهیوں کی طرف بڑھ رہا تها۔••••••••••••••••••••حیا۔۔۔۔۔۔۔ خدیجہ! ٹالی نے انہیں اس وقت پکارا، جب وہ دونوں ڈی جے کے بینک پہ بیٹھی، اس کی شاپنگ پہ تبصرہ کر رہی تھیں۔ وہ چودہ فروری کی دوپہر تھی۔ اور ترکی آئے آٹھواں روز تھا اور ڈی جے جو ویلنٹائن ڈے کی رونق دیکھنے آج ٹاقسم گئی تھی مایوس لوٹ آئی تھی۔ پاکستان کے برعکس ترک ہر کام چھوڑ کر سرخ رنگ میں نہیں نہا جاتے، بلکہ سوائے سرخ پھولوں کی فروخت کے استنبول میں ویلنٹائن ڈے کے کوئی آثار نہ تھے۔ جب ڈی جے خوب مایوس ہو چکی تو اس نے یہ کہہ کر اپنے خیالات میں ترمیم کر لی کہ ”بھاڑ میں گیا سینٹ ویلنٹائن، ہمیں اس تہوار سے کیالینا دینا“۔ان کی اس گفتگو میں مخل ہونے والی اسرائیلی ایکسچینج اسٹوڈنٹ تھی۔ہاں؟ وہ دونوں جھک کر نیچے دیکھنے لگی، جہاں ٹالی ان کے بنک سے نیچے لٹکتی سیڑھی کے ساتھ کھڑی تھی۔وہ لڑکے تمہارا پوچھ رہے تھے۔حیا اور ڈی جے نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ٹالی کو۔کون سے لڑکے؟ وہ فلسطینی ایکسچینج اسٹوڈنٹس جو ساتھ والے ڈروم میں رہتے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ وہ پاکستانی لڑکیاں کیسی ہیں اور یہ کہ ان کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے، اور یہ بھی کہ تم دونوں آج کی شام کی چائے کامن روم میں ان کے ساتھ پیو۔ وہ تمہارا انتظار کریں گے، اوکے بائے۔ ایک اسرائیلی مسکراہٹ ان کی طرف اچھالتی، وہ ہاتھ ہلا کر باہر نکل گئی۔یہ فلسطینیوں کو ہمارا خیال کیسے آ گیا؟اس ٹالیکے درخت سے دل بھر گیاہو گا شاید۔ ڈی جے نے قیاس آرائی کی۔بکو مت! وہ ہمیں صرف مسلمان بہنیں سمجھ کر بلا رہے ہوں گے۔اتنے ہینڈسم لڑکوں کی بہن بننے پر کم از کم میں تیار نہیں ہوں۔ یہ بھائی چارہ تمہیں مبارک ہو۔ ڈیجے بدک اٹھی تھی۔چلو پھر تیار ہو جائیں تاکہ وقت پہ پہنچ سکیں۔حیا لکڑی کی سیڑھی سے نیچے اترنے لگی۔صرف ہمیں بلایا ہے


Jannat Kay patay By Nimra Ahmad Episode # 16

Jannat Kay patay
By Nimra Ahmad
Episode # 16
اچھا میں ڈرائیو کر رہا ہوں، پھر بات ہوتی ہے۔ مزید کچھ سنے بغیر اس نے فون بند کر دیا۔
وہ دل مسوس کر رہ گئی۔ عجیب اجنبی سا اپنا تھا۔
پھپھو اسے کیب پر لینے آئی تھیں۔ وہ جو چند لیراز کی بچت کے چکر میں کیب کر کے نہیں گئی تھی، خوب شرمندہ ہوئی۔
گاڑی نہیں تھی تو بتاتیں، میں تو ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں، گاڑی تو جہان کے پاس ہی ہوتی ہے۔ اور وہ مزید شرمندہ ہوئی۔ پھر گردن موڑ کر کھڑکی کےباہر دوڑتے درخت دیکھنےلگی۔
اسے پھپھو کچن میں ہی لے آئیں۔ حسب عادت وہ کام میں مصروف ہو گئیں۔
یہ میرے لیے اتنا بکھیڑا پالنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ اردگرد پھیلی اشیا دیکھ کر خفا ہوئی۔
کوئی بات نہیں، تم میری بیٹی ہو، میرا ہاتھ بٹا دو گی، اس لیے میں نے یہ سب شروع کر لیا۔ دونوں کے درمیان پچھلی ملاقات کے ناخوشگوار اختتام کا کوئی تزکرہ نہ ہوا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
چلیں! آج پلاؤ تو میں ہی بناتی ہوں، مجھے ریسیپی سمجھاتی جائیں، ویسے بھی ترکوں کی میز اس پلاؤ کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔ وہ کوٹ اسٹینڈ پر لٹکا کر آستین کلائی سے ذرا پیچھے کرتی واپس آئی۔ ڈوپٹہ اس نے اتار کر کرسی پہ رکھ دیا تھا۔
پہلے تو تم چکن کی بوٹیاں کاٹ دو۔ انھوں نے ٹوکری میں رکھے مرغ مسلم کی طرف اشارہ کیا اور خود چولھے پر چڑھی دیگچی میں چمچہ ہلانے لگیں۔
چھری تو یہ پڑی ہے، کٹنگ بورڈ کدھر ہے؟ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
کٹنگ بورڈ۔۔۔۔۔۔ اوہو۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو صبح نہیں مل رہا۔ جہان بھی پتا نہیں چیزیں اٹھا کر کدھر رکھ دیتا ہے۔ ٹھہرو! میں ایک پرانا بورڈ لے آؤں۔ اوپر ایٹک attic سے۔
آپ رہنے دیں، میں لے آتی ہوں، ایٹک اوپر کس طرف ہے؟
سیڑھیوں سے اوپر راہداری کے آخری سرے پہ، مگر تمہیں تکلیف ہو گی، میں خود۔۔۔۔۔۔
آپ گوشت بھونیں، جل نہ جائے، میں بس ابھی آئی۔ وہ ننگے پاؤں چلتی باہر لوبگ روم تک آئی۔
سیڑھیوں کے ساتھ لگے قد آور آئینے میں اسے اپنا عکس دکھائی دیا تو ذرا سی مسکرا دی۔ فرش کو چھوتے زرد فراک میں وہ کھلتے پھول کی طرح لگ رہی تھی۔ گلے کا کاٹ کھلا تھا اور اس کے دہانے پہ چھوٹے چھوٹے سورج مکھی کے پھولوں کی لیس نیم دائرے میں لگی تھی۔ یوں لگتا تھا اس کی خوبصورت لمبی گردن میں سورج مکھی کے پھولوں کا ڈھیلا سا ہار لٹک رہا ہو۔ اس نے انگلیوں فراک پہلوؤں سے ذرا سا اٹھایا اور ننگے پاؤں لکڑی کے زینوں پر چڑھنے لگی۔
اور راہداری کے آغاز میں ایک کمرے کا دروازہ بند تھا، شاید وہ جہان کا ایک کمرہ تھا۔ ابھی گھر میں داخل ہوتے ہوئے پھپھو نے ایسا کچھ بتایا تھا۔
وہ ایک نظر بند دروازے پہ ڈال کر آگے بڑھ گئی۔ فراک اب اس نے پہلوؤں سے چھوڑ دیا تھا۔
ایٹک میں آگے پیچھے بہت سے صندوق اور کاٹھ کباڑ رکھا تھا۔ متذبذب سی اندر آئی۔ بتی نہ جانے کدھر تھی۔ اس نے دروازہ کھلا رہنے دیا، باہر سے آتی روشنی کافی تھی۔
وہاں ہر سو سامان رکھا تھا، کٹنگ بورڈ نہ جانے کدھر تھا۔ وہ اندازا آگے بڑھی اور ایک کونے والے صندوق کا کنڈا کھول کر ڈھکن اوپر اٹھایا۔
نیچے لونگ روم سے بیرونی دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آوز آئی۔ ساتھ میں جہان اور پھپھو کی ملی جلی آوازیں۔ یقینا وہ آ گیا تھا۔ وہ مسکرا کر صندوق پر جھکی۔
اس میں الیکٹرک کا کوئی ٹوٹا پھوٹا سامان رکھا تھا۔ کٹنگ بورڈ کہیں نہیں تھا۔ حیا نے ڈھکن بند کیا اور نسبتا کونے میں رکھے صندوق کی طرف آئی۔
اپنے عقب میں اسے راہداری سے کسی دروازے کے ہولے سے کھلنے کی چرر سنائی دی تھی۔ جہان اتنی جلدی اوپر پہنچ گیا؟ مگر وہ پلٹی نہیں اور صندوق کو کھولنےلگی، جس کےڈھکن کے اوپر گرد اور مکڑی کے جالوں کی تہہ تھی۔
اس نے چند چیزیں الٹ پلٹ کی تو بےاختیار گرد نتھنوں میں گھسنے لگی۔ اسے ذرا سی کھانسی آئی۔ پورا ایٹک بےحد صاف تھا۔ ماسوائے اس کونےمیں رکھے دو تین صندوقوں کے، جیسےانہیں زمانوں سے نہ کھولا گیا ہو۔
اس کی پشت پہ ایٹک کا ادھ کھلا دروازہ ہولے سے کھلا۔ کوئی چوکھٹ میں آن کھڑا ہوا تھا، یوں کہ راہداری کی آتی روشنی کا راستہ رک گیا۔ پل بھر میں ایٹک۔۔۔۔۔۔ نیم تاریک ہو گیا۔
وہ پلٹنے ہی لگی تھی کہ صندوق میں کسی خاکی شے کی جھلک دکھائی دی۔ اس نے دونوں میں پکڑ کر اسے اوپر نکالا۔ وہ لکڑی کا تختہ نہیںتھا، بلکہ اکڑا ہوا کپڑا تھا۔
حیا نےکپڑا کھول کر سیدھاکیا۔ ایک پرانی گرد آلود خاکی شرٹ۔۔۔۔۔ے ستارے، تمغے اور ایک نام کی تختی۔
چوکھٹ میں کھڑا شخص چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا، اس طرف بڑھنےلگا




ناول:جنت کے پتے تحریر: نمره احمد قسط نمبر 15



ناول:جنت کے پتے
تحریر: نمره احمد
قسط نمبر 15



Novel Jannat kay patay
Episode number 15
written by Nimra Ahmad
میں سسلی جانا چاھتی ھوں شاپنگ وغیرہ کے لیئے اور تم تو اپنی پھپھو کے گھر جاو گی نہ؟ڈی جی کوفتے کے سالن سے تیل نکال کر دوسرے پیالے میں ڈال رہی تھی۔وہ یونہی ھر سالن سے تیل نکالا کرتی تھی۔تلی ھوئ چیزوں کو اخبار میں لپٹتی اور پھر کھاتی۔ھاں اور تم ہڈیوں کا ڈھانچہ اسی لئے ھو۔حیا نے روک کر ناگواری سے اس کے عمل کو دیکھا وہ بنا اثر لئے اوپر آیا تیل دوسرے پیالے میں انڈیلتی رہی۔ڈائننگ ھال بےحد وسیع و عریض تھا ہر سو ذرد روشنیاں جگمگا رہی تھی۔وہاں دو لمبی سی قطاروں میں مستطیل میزیں لگی تھیں اور دونوں قطاروں کے چاروں طرف کرسیوں کی سرحد بنی تھی ھر طرف گھما گہمی رش اور شور سا تھا۔رفعتا پلیٹ کے ساتھ رکھا حیا کا موبائل بج اٹھا۔اس نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور نپکین سے ہاتھ صاف کرتےہوئے چمکتی اسکرین کو دیکھا۔تایا فرقان ہوم کالنگ ہیلو اس نے فون اٹھایا حیا ارم بول رہی ہوں ہوں،،،،کیسی ھو ارم نوالہ منہ میں تھا اس لیے اس کی پھنسی پھنسی سی آواز نکلی ٹھیک،،،تم سناو،،،ارم کی آواز میں ذرا بےچینی تھی۔سب خیریت ہے تم بتاؤ کوئی بات ہوئی ہے کیا؟ نہیں،،،ہاں،،،سنو ایک بات تھی آواز دھیمی سرگوشی میں بدل گئی کہو میں سن رہی ہوں حیا نے آہستہ سے چمچہ رکھا اور نپکین سے لبوں کو دبایا اس کے ذہن کے پردے پہ وہ وڈیو ابھری وہ،،،یار عجیب سی بات ہے مگر تم ابا وغیرہ کو نہ بتانا اصل میں کل شام جب میں یونیورسٹی سے واپس آئ تو گیٹ کے قریب ایک خواجہ سرا تھا اس نے مجھے روکا حیا بلکل دم سادھے سنے گئی پل بھر کو اسے ڈائننگ ہال کی آوازیں آنا بند ہو گئی تھی اس کی سماعت میں صرف ارم کے الفاظ گونج رہے تھے۔ پہلے تو میں ڈر گئ مگر اس نے کوئی غلط حرکت نہیں کی تو مجھے تسلی ہوئی وہ مجھ سے تمہارا پوچھ رہا تھا کہ حیا باجی کہاں ہیں اور کیسی ہیں؟ امریکہ پہنچ گئیں ہیں خیریت سے؟میں نے بتایا وہ امریکہ نہیں ترکی ہے پھر وہ کہنے لگا کہ میں تمہیں اس کا سلام اور وہ جھجکی اور دعا دے دوں۔اور کچھ؟ نہیں مگر تم ابا وغیرہ کو نہ بتانا کہ میں نے ایک خواجہ سرا سے بات کی ہے یہ بات تمہیں اس سے مخاطب ہونے سے پہلے سوچنی چاہیے تھی بھر حال میں نہیں جانتی کون ہے وہ کیا نام بتایا اس نے اپنا؟ ڈولی،،، پتا نہیں کون ہے آیندہ ملے تو بات نہ کرنا بلکہ نظر انداز کر کے گذر جانا مزید چند باتیں کر کے اس نے فون رکھ دیا اور دوبارہ پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئی ویسے تمھاری پھپھو کا کوئی ہینڈسم سا بیٹا ویٹا ہے؟ ڈے جی نپکین سے ہاتھ صاف کر کے مگن سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔اس کا ہاتھ روک گیا وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔کیوں؟ تمھاری چمک دمک دیکھ کر یہ خیال آیا ڈی جے نے مسکراہٹ دباتے اپنی عینک انگلی سے پچھے کی۔حیا نے یونہی چمچہ پکڑے گردن جھکا کر خود کو دیکھا۔وہ پاوں کو چھوتے ذرد فراک اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی فراک کی ذرد شیفون کی تنگ چوڑی دار آستینں کلائ تک آتی تھی شیفون کا دوبٹا اس نے گردن کے گرد لپیٹ رکھا تھا بال حسب عادت سمیٹ کر دائیں کندھے پے آگے کو ڈال رکھے تھے ۔ ہاں ہے ایک بیٹا مگر شادی شدہ ہے وہ لاپرواہی سے شانے اچکا کر پلیٹ میں پڑھا کوفتہ کانٹے سے توڑنے لگی اونہوں،،سارا مزہ ہی کرکرا کر دیا اوے ڈی جے یہ کیا ہے؟ وہ ڈی جے کے پچھے کچھ دیکھ کر روکی تھی۔۔کوفتہ ہے اور کیا ہے ڈی جے نے کانٹے میں پھنسے ہوئے کوفتے کو دیکھ کر کہا افواہ'' اپنے پچھے دیکھو اس نے جھنجھلا کر کہا تو ڈی جے نے گردن موڑی وہاں ایک قدرے فربہی مائل لڑکی چلی آرہی تھی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ شلوار قمیص اور دوپٹے میں ملبوس تھی سبانجی میں ہم وطن ؟ ڈی جے نے بے یقینی میں پلکیں جھپکیں۔اگلے ہی پل وہ دونوں اپنے اپنے کوٹ اٹھا کر کھانا چھوڑ کر اس کی طرف لپکی تھی وہ لڑکی اپنی کتابیں سنبھالتی چلی آرہی تھی ان دونوں کو دیکھ کر ٹھٹکی وہ ڈی جے کی شلوار قمیص اور حیا کا فراک پاجامہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔اور وہ دونوں اس کی شلوار قمیص۔آپ پاکستانی ہیں؟ حیا پرجوش سی اس کے پاس گئی ڈی جے اس سے ذرا پچھے تھی نہیں میں انڈین ہوں۔ ڈی جے ڈھیلی پڑ گئی،،رہنے دو حیا مجھے ابھی ورلڈ کپ کا غم نہیں بھولا اس نے سرگوشی کی حیا نے زور سے اپنا پاوں ڈی جے کے جوتے پہ رکھ کر دبایا۔ہم پاکستانی ایکسچینج سٹوڈنٹ ہیں حیا سلیمان اور یہ خدیجہ رانا۔اور آپ؟میں انجم ہوں۔میں اور میرے ہزبینڑ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ہم دونوں یہاں پڑھاتے بھی ہیں ۔ادھر فیکلٹی میں ہمارا اپارٹمنٹ ہے وہیں رہتے ہیں ہم۔کھبی آو نہ ادھر انجم ان دونوں سے ذیادہ پرجوش ہو گئی تھیں۔شیور،،انجم باجی ڈی جے ان کا مسلمان ہونا سن کر پھر سے پرجوش ہو گئی تھی وہ تینوں کافی دیر وہاں کھڑی باتیں کرتی رہی اور جب ڈی جے کو یاد آیا گورسل نکلنے میں پانچ منٹ ہیں تو انجم باجی کو جلدی سے خدا حافظ بول کر وہ اپنا کوٹ ہاتھوں میں پکڑے باہر بھاگی۔وہ ٹاقسم پارک میں سنگی بینچ پہ بیٹھی تھی اس نے اپنا لمبا سفید اونی کوٹ اب ذرد فراک پہ پہن لیا تھا اور سر جھکائے ہاتھ میں پکڑی شکن زدہ چٹ پر سے سبین پھپھو کا نمبر موبائل پہ ملا رہی تھی کال کا بٹن دبا کر اس نے وہ بھدا ترک فون کان سے لگایا۔وہاں دور تک سبزہ پھیلا تھا خوشنما پھول اور رنگوں،تتلیوں کی بہتات ہوا اسکے لمبے بال اڑا رہی تھی وہ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے فون پہ جاتی گھنٹی سننے لگی۔ہیلو بہت دیر بعد جہان نے فون اٹھایا۔جہان،،،،میں حیا ،،اس کے انداز میں خفت در آئی اس سے کہہ رہا تھا اسلئے آج جا رہی تھی ورنہ اس سرخ کوٹ نے تو اسے خوب بے وقعت کیا تھا ہاں حیا بولو؟وہ مصروف سا لگ رہا تھا وہ میں ٹاقسم پہ ہوں تم مجھے یہاں سے پک کر کے گھر لے جا سکتے ہو؟ آج ویک اینڈ تھا تو سوری حیا میں شہر سے باہر ہوں تم گھر ممی کو فون کر لونہ۔یہ تمھارے گھر کا نمبر ہو ہے؟اس نے حیرت سے چٹ کو دیکھا نہیں یہ تو میرا موبائل نمبر ہے۔تو کیا اس نے دوار بھائی کی مہندی والے روز جہان کے موبائل پہ فون ملا دیا تھا؟اوہ مجھے پھپھو کا نمبر لکھوا دو جہان نے فورا نمبر لکھوا دیا
جاری هے


ناول:جنت کے پتے تحریر: نمره احمد قسط نمبر 14


ناول:جنت کے پتے
تحریر: نمره احمد
قسط نمبر 14
مگراندرسےوه بھت خیال رکھنےوالابھی ھےاورباریک بین بھی ھے.جومعمولی باتیں وه نظرانداز کردیتی تھی.وه جھان کی زیرک نگاھوں سے چھپی نھیں رھتی تھی.
جب وه ھاسٹل واپس آئی تو ڈی جےاورھالےایک رساله کھولےکسی طویل بحث میں مگن تھیں.ڈی جےکی نگاه سب سےپھلے اس کے سرخ ھاتھ پر پڑی تھی. تمھیں کیاھواھے?ایک جگه گدلی برف کیساتھ کیچڑ تھی'وھیں پهسل گئی.پهربات بدلنےکی غرض سے بولی.ھالےیه بالکونی میں بتی کون جلاتا ھے.جیسےھی اسکےنیچےجاؤتووه جل اٹھتی ھے.
ھالےغورسےاسکےکوٹ کودیکھ رھی تھی.اسکےسوال پرنگاھیں اٹھاکراسےدیکھا. ان میں آٹومیٹک سینسرزلگےھیں'وه اپنی رو میں کسی انسان کی موجودگی پریاپهرتیزھوا'آندھی وغیره میں خودبخودجل اٹھتی ھیں.
اوردروازه بھت دیرسےبندھواخودبخود.
ان دروازوں کےکیچرزسلوھیں.یه چوکھٹ په آکردیرسےلگتےھیں.آھاں.....ڈی جےنےبھی سمجھکرسرھلایا. ھمارےھاں بھی ھاسٹلزمیں ایسےدروازےاورلائٹس.....
نھیں ھوتے...حیانےتیزی سے ڈی جے کی بات کاٹی. اور پاک ٹاورایشیاکادوسرابڑامال نھیں. ھمیں غلط فھمی ھوئی تھی. حیا ڈی جےنےاحتجاجا گھورا.ھالےابھی تک حیاکاکوٹ دیکھ رھی تھی.حیاالماری کی طرف چلی گئی تو ھالےنےگھری سانس لی.
پهر حیاتمھیں کسی ھینڈ سم لڑکےنےکافی پلائی. وه جو ٹوٹی جوتی والا شاپرالماری میں رکھ رھی تھی چونک کر پلٹی.
نھیں..کیوں?وه تیزی سےبولی. کافی'چائے'لنچ کچھ بھی نھیں?
نھیں...مگرکیوں?
تم عقلمندجوسرخ کوٹ پهن کرگئی تھی شھرکی سیرپه استنبول میں اتنازیاده سرخ رنگ پهن کراورھیوی میک اپ کرکےنکالاجاۓتواسکاایک ھی مطلب ھوتپا ھےکه......ھالےنےمسکراھٹ دبائی.پارکنگ فار اےڈیٹ.یا پهرون نائٹ اسٹینڈ.یهاں تولوگویلنٹائن پربھی سرخ پھن کر نھیں نکلتے.
اچھاپته نھیں..وه دانسته انکیطرف سے رخ موڑکرالماری میں سےچیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی.
یه دعوت کس خوشی میں ھے. تمھارےاس خوبصورت کوٹ کی خوشی میں.
مارے تضحیک کے اسکےکانوں سےدھواں نکلنےلگا. وه جھان کی مسکراھٹیں'وه شائستگی'وهریسٹورنٹ لے جانا.سب کسی اپنائیت کےجذبےکے تحت نھیں تھا'بلکه...بلکه وه اسےبکاؤمال سمجھ رھا تھا.خود کوپلیٹ میں رکھ کرپیش کرنے والی لڑکی.کوئی پیشه ور....
اسکےدل پےبھت سےآنسو گررھےتھے.جھان سکندر ھمیشه اسے اسی طرح بےعزت کردیاکرتاتھا.
آھسته آھسته وه جھان سکندر کےاستنبول میں ایڈجسٹ ھوتی جارھی تھی. ڈی جے کی نینداور نسیان البته اسے عاجز کردیتے تھے.ڈی جے کو کھیں ذرا ٹیک مل جاتی وه آنکھیں بند کرکے سونے کیلۓ تیارھوجاتی اور پهر اسکا بھلکڑ پن..حیا جب بھی کچھ فوٹو کروانے جاتی اسے وھاں لاوارث پڑے کسی رجسٹرکسی نوٹس کے جتھے کسی کتاب پےھمیشه شناسائی کاگمان گزرتا.وه اسےاٹھاکردیکھتی توبڑابڑا ڈی جےلکھاھوتاتھا.وه هر چیزواپس لاکرڈی جےکےسرپرماراکرتی تھی.اور ڈی جے یه ادھر کیسے پهنچ گیا ? کهه کرھنسنےلگ جاتی.
سبانجی میں انکاایک مخصوص آئی ڈی کارڈ بنا تھا. اس پےتصویرکھنچوانےکی شرط سراورگردن کھلی رکھنا تھی.وه موبائل کےپریپیڈکارڈکی طرح تھا.گورسل کاٹکٹ'فوٹوکاپئیرکی رقم اور دوپھر کے کھانےکابل اسی کارڈپےاداھوتاتھا. اسمیں موبائل کے ایزی لوڈکی طرح بیلنس ڈلوایا جاتا تھا.
انھیں ان پانچ ماه میں ھر مھینےایک ھزاریوروزکا اسکالرشپ ملناتھا.مگرچندتکنیکی مسائل کےباعث کسی بھی اسکالرشپ ایکسیچینج اسٹوڈنٹ کےفروری کےایک ھزاریوروزنھیں آۓتھے.امیدتھی کےمارچ میں اکٹھےدوھزارمل جائیں گے اورپهرآگے ھرمھینے باقاعدگی سے ملا کریں گے. تب تک پاکستان سے آئی رقم سےگزارا کرناتھا.سوآج کل سب ایکسیچینج اسٹوڈنٹ کاھاتھ تنگ تھا.دوپهرکاکھاناوه سبانجی کےڈائننگ ھال میں کھاتی تھیں. رات کاکھانااپنےکمرےمیں خودبناناھوتا. ھربلاک میں ایک کچن تھا.جھاں پراسٹوڈنٹ اپناناشته اور رات کاکھاناتیارکرتاتھا.مئسله یه تھاکه وھاں طلبه کےلئےخصوصی ڈیزائن کرده چولھے تھے.اس خطرےکےپیش نظر که کھیں کوئی پڑھائی میں مگن چولھے په کچھ رکھ کے بھول جائے یاگیس کھلی چھوڑ دےاورنقصان نه ھو' وه چولھےآٹومیٹک تھے. ھرپندره منٹ بعدجب چولھا خوب گرم ھوجاتاتو خودبخود بند ھوجاتا. پهر پانچ منٹ بعد دوباره جل اٹھتا. انکوبندھونےسےروکنےکاکوئی طریقه نه تھا.اورایسےبیکار چولھوں په دیسی کھاناپکاناناممکن تھا.ھاسٹل کےبلاکس کےقریب ھی ایک بھت بڑا لگژری سپراسٹور"دیاسا"تھا.
"دیا"اسکانام تھااور"سا"ترک میں اسٹورکوکھتے تھے.وه دونوں دیا اسٹور سےراشن لاتیں اور بل آدھا آدھاتقسیم کر لیتیں.ایک رات حیاکھانا بناتی اوروه بھت اچھاسا دیسی کھاناھوتا.دوسری رات ڈی جے کی باری ھوتی اور جو وه بناتی" وه کچھ بھی ھوتا تھا مگر کھانا نه ھوتا.
ڈی جے میں یه تمھارے سر پر الٹ دوں گی.وی جب بغیر بھنی ابلی ھوئی سبزی کا سالن دیکھتی یا پهر ابلے چاولوں په آملیٹ کے ٹکڑےتوڈی جے په خوب چلایا کرتی تھی..اورپهرترکی کےمصالحے.....وه اتنے پھیکےھوتےکه حیا چارچار چمچے بھر کے سرخ مرچ ڈالتے توبھی ذراساذائقه آتا.کھانے اسکے بھی پهیکے ھوتے مگر ڈی جے سے بھتر تھے. البته اپنے کمرے میں روز جب صبح ھوتی تو ڈی جے بینک کی سیڑھیاں پهلانگ کراترتی اور اسی طرح نھار منه کھڑکی میں کھڑی ھوجاتی.پھرپٹ کھول کر باھرچھره نکال کرزورسےآوازلگاتی..
گڈما آآ آ رننگ ڈی جے..اور جواب میں دور کسی بلاک سے ایک لڑکازور سے پکارتا. ٹی بے.. غالبا وه ڈی جےکےالفاظ ٹھیک سمجھ نھیں پاتا تھا. ڈی جے روز صبح صبح یھی عمل دوھراتی تھی. اسکے ٹی بے کھنے کے بعد وه پکارتی"ذا.......لیل"اور وه لڑکا جوابا چلاتا دا...دی. اسکے بعد حیاکمبل سے منه نکال کر کشن اٹھاتی اور ڈی جے کوزور سے دے مارتی. یوں اسکی اور اس ان دیکھے لڑکےکی گفتگواختتام پذیر ھوتی. گھر روز ھی بات ھوجاتی تھی. البته موبائل کی رجسٹریشن میں مئسله ھوا تھا. ڈی جے کاتو رجسٹر ھوگیا'مگر حیاکےساتھ ھوایون که اسکےپاسپورٹ پےجھاں انٹری کی تاریخ پانچ فروری لکھی تھی. وھاں اوپر آفیسر کے دستخط کے باعث پانچ کاھندسه بظاھر چھ لگ رھاتھا.تاریخ کاذرا سا فرق مشکل پیدا کرنے لگا اور اسکا فون رجسٹرنه هوسکا. وه ترک سم اس پےاستعمال نھیں کرسکتی تھی. کیونکه هفتے کے بعد غیر رجسٹر فون پے ترک سم بلاک ھوجاتی تھیتو ھالے نے اسے اپنا ایک پرانا موبائل سیٹ لا دیا. اور وه اس بدصورت موٹے بھدے فون کو برداشت کرنے پر مجبور ھوگئی. اپنے موبائل په اس نے اپنی پاکستانی سم لگا دی تھی.اور وه رومنگ پر ٹھیک چل رھاتھا..
*****
تمھارا کھاں کا پلان ھے. ? حیا نے چاولوں کی پلیٹ میں سے چمچه بھرتے ڈی جے سے پوچھا. یه پلاؤ اب اسکا اور ڈی جے کا مرغوب ترین کھانا بن چکا تھا. اور ساتھ ترک کوفتے اور پھلوں کا سلاد . وه دونوں آمنے سامنے ڈائننگ ھال میں بیٹھی جلدی جلدی کھانا کھا رھی تھی...
جاری هے


Saturday, 30 September 2017

ناول:جنت کے پتے تحریر: نمره احمد قسط نمبر 13


ناول:جنت کے پتے
تحریر: نمره احمد
قسط نمبر 13
یورپ کا سب سے بڑا اوردنیاکاچھٹابڑاشاپنگ مال.وه فخرسےبولاتھا.
جواھراندرسےبھی اتناھی عالیشان تھا.سفید ٹائلوں سےچمکتےفرشاوپرتک نظرآتی پانچوں منزلوں ک ےبرآمدے. اورھرمال کی طرح وه اندر سے کھوکھلا تھا. عین وسط میں ایکاونچا کھجورکےدرخت کی طرح ٹاورلگاتھا.اوریه روشنیوں وقمقموں سے مزین ٹاورپانچویں منزل کی چھت تک جاتاتھا.
وه مسحورسی گردن اٹھاۓاوپرپانچوں منزلوں کی بالکونیاں دیکھ رھی تھی. جھاں انسانوں کاایک بےفکرھنستامسکراتاھجوم ھرسو بکھرا تھا.
رنگ خوشبو امارت چمک...آه...یه یورپ تھا.
جوتے خریدکروه دونوں باھر چلےآۓ. حیا نے جوتوں کا بل بنواتے ھی جلدی سے ادائیگی کردی تھی تاکه جھان کو موقع ھی نه مل سکے. وه اس پر خاصا خفا ھوا.مگر حیا پرسکون تھی. ھالے نور سمیت وه کسی بھی ترک سے کچھ بھی لینے میں عار نھیں سمجھتی تھی مگر جھان سکندر کا احسان...کبھی نھیں.!
چوتھی منزل کی دکانوں کے آگےبنی چمکتی بالکونی میں وه دونوں ساتھ ساتھ چل رھے تھے.لوگوں کے رش میں راسته بناتی حیاکو جھان کی رفتارسےملنے کیلۓتقریبابھاگنا پڑرھا تھا. پهر بھی وه پیچھے ره جاتی اور وه آگے نکل جاتا. وه اسکا ساتھ دینے کی کوشش میں اب تھکنے لگی تھی.
شاید یھی انکی زندگی کی کھانی تھی..
جھان نے ایک شیشے کادروازه کھولااورایک طرف ھٹ کرراسته دیا "تھینک یو" وه سرخ کوٹ کی جیبوں میں ھاتھ ڈالے مسکراتی ھوئی اندر داخل ھوئی. وه اسکےپیچھے آیا.
وه ریسٹورنٹ تھا نرم گرم ماحول ' ھیٹر اور باھر کے سرما کی ملی جلی خنکی' مدھم روشنیاں پیچھے بجتادھیما میوزک..
آرڈرکرو.وه ایک کونے والی میزکےگردآمنےسامنے بیٹھ گۓتو جھان نے کھا. اپناکوٹ اتار کراس نے کرسی کی پشت په رکھ دیا. اور اب وه کف کھول کر آستین موڑ رھا تھا.
مگر یه دعوت کس خوشی میں ھے? حیا دونوں کھنیاں میز په ٹکاۓدائیں ھتھیلی ٹھوڑی تلے ٹکاۓدلچسپی سے اسے دیکھ رھی تھی. چھرے کے دونوں اطراف میں گرتے بال اب خاصے سوکھ گۓ تھے. تمھارے اس خوبصورت کوٹ کی خوشی میں اور یه دعوت میری طرف سے ھے اب آڈرکرو.
حیا نےگردن جھکاکر ایک سرسری نگاه اپنے کوٹ پے ڈالیمگر دعوت تمھاری طرف سے ھے تو آرڈر بھی تمھیں کرنا چاھئے.. اس نے جھان کی بات نظراندازکردی که شاید وه مذاق کررھا ھے.
ٹھیک ھے. جھان نے مینوکارڈاٹھایااورصفحےپلٹنےلگا. وه محوسی اس کے وجیھه چھرے کو دیکھے گئی. کیا وه جانتا تھا که وه اسکی بیوی ھے. اتنی بڑی بات وه نا جانتا ھوکیایه ممکن تھا?
اس روزتم نے بھت غلط بات کی تھی جھان.! مجھے تم پے بھت غصه آیا تھا.جب وه آرڈر کرچکا تو وه یونھی بندمٹھی ٹھوڑی تلے ٹکاۓاسے تکتے ھوۓبولی.
میں نے کیاکیاتھا? وه حیران ھوا.
پته نھیں کس نے میرے نام وه پھول بھیجےاور تم نے کھا میراویلنٹائن... میں ایسی لڑکی نھیں ھوں جھان نه ھی میں جانتی ھوں که وه پھول کس نے بھیجے تھے.
اوکے جھان نے سمجھنے والے انداز میں اثبات میں سر کو جنبش دی.مگر وه جانتی تھی اسے یقین نھیں آیا.
ریسٹورنٹ میں گھما گھمی تھی. اردگردویٹرزمیزوں کے درمیان راسته بناتےٹرے اٹھاۓ تیزی سے پھر رھے تھے.
پس منظر میں بجتی موسیقی کے سر بدل رھے تھے اب ایک ترک گلوکار
دھیمی لے والا گیت گنگنارھاتھا.
ویسےتم صبح صبح کھاں جارھی تھیں?
میں یھیں سسلی آرھی تھی شاپنگ وغیره کرنے. ویٹر کافی لے آیا تھااوراب ان دونوں کے درمیا ن جھکاٹرےسےدوسرا کپ اٹھاکرمیز په رکھ رھاتھا. بھادرلڑکی ھواکیلےگھوم پهر لیتی هو. جھان نےمسکراکرکھتے هوۓاپنی کافی میں شکرڈالی.
استنبول میں یه بھادری مھنگی تو نھیں پڑے گی. مطلب ? کافی کا بھاپ اڑاتا کپ لبوں سےلگاتے ھوۓجھان کی آنکھوں میں الجھن ابھری.اس نےایک گھونٹ بھر کر کپ نیچے رکھا.
مطلب ڈرگ مافیا'آ رگنائزڈکرائم اسٹیٹ سیکرٹ آرگنائزیشن جیسی ترکیبات سے واسطه تو نھیں پڑےگا?وه کهنیاں میز په رکھےآگےھوئی اورچھرے په سادگی سجاۓ آهسته سےبولی. کیونکه سناھےیھاں ان سب سے پالا پڑسکتا ھے.کس سے سن لیں تم نے ایسی خوفناک باتیں. جھان نےمسکراکرسرجھٹکا. تم بتاؤیه پاشا کون ھے?
پاشاکو نھیں جانتی تو ترکی کیوں آئی ھو. مصطفی کمال پاشا...یاکمال اتاترک...وه ترکوں کا باپ تھا.
وه نھیں میں استنبول کےپاشاکی بات کر رھی عبدالرحمن پاشا کی.
کافی کاکپ لبوں تک لیجاتے ھوۓجھان نے رک کرناسمجھی سے اسے دیکھا.
کون ? کافی سے اڑتی بھاپ لمحےبھرکےلئےاس کےچھرےکو ڈھانپ گئ. ایک بھارتی اسمگلرجویورپ سے ایشیا میں اسلحه سمگل کرتا ھے. کم آن! اس نے کپ رکھ کر سنجیدگی سے حیا کو دیکھا.استنبول میں ایساکوئی مافیاراج نھیں ھے. یه کس نے تمھیں کھانیاں سنادی ھیں? یونھی مشھور ھونے کیلئےکسی نےاپنے بارے میں کوئی افواه اڑائی ھو گی.تم استنبول کو کیا سمجھ رھی ھو.ھالےکی طرح وه ایک خالص ترک تھا.اپنے استنبول کےلئےجی جان سے تیار تیار.
ویٹر جھان کے اشارے پربل لےآیاتھااوراب جھان اپنے بٹوےسےکارڈنکال کراسکی فائل میں رکھ رھا تھا.
رائی ھوتی ھے توپھاڑبنتاھےنا..
حیایه پاکستان نھیں ھے.جھان نےذراتفاخرسےجتاکرکھاتواسکےلب بھینچ گۓ. کارڈرکھ کر جھان نے فائل بند کرکےایک طرف رکھی.پاکستان میں بھی یه سب نھیں ھوتااوربل میں دوں گی.حیا نے تیزی سے فائل اٹھائ اور کھولی.
جیسےمیں جانتا ھی نھیں. جھان کی اگلی بات لبوں میں ھی ره گئی.
انکےدائیں طرف سے ایک ویٹرٹرےاٹھاۓچلاآرھاتھا.اچانک ایک دوسراویٹرتیزی سےاسکےپیچھے سے آیااورپهلےویٹرسےآگےنکلنےکیکوشش کی.پهلےویٹرکوٹھوکرلگی وه توازن برقرارنه رکھ پایااورنتیجتا اسکی دائیں ھتھیلی پے سیدھی رکھی لکڑی کی ٹرےشڑشڑکرکےبھاپ اڑاتےبیف چلی سمیت الٹ گئی.میزپه رکھےحیاکےھاتھ پےٹرےاورگرم بیف اکٹھےآکر لگے.وه بلبلاکرکھڑی ھوئی.فائل اور بل نیچے جاگرے.
آئی ایم سوری.آئئ ایم سوری وه دونوں ویٹر بیک وقت چیزیں ٹھیک کرنے لگے.ٹرےسےکافی کاکپ بھی الٹ گیا تھا.اور ساری کافی فرش پرگری پڑی تھی.
جھان ناگواری سےترک میں انھیں ڈانٹنے لگا.چندمنٹ معذرتوں اور میزصاف کرنے میں لگ گۓ. وه واپس بیٹھا تو حیااپنی کلائی سھلا رھی تھی.
تمھیں چوٹ آئی ھے.دکھاؤزیاده جل تو نھیں گیا. اس نے ھاتھ بڑھایامگرحیانےکلائ پیچھے کر لی..ذراسی چوٹ سے میں زخمی تو نھیں ھوگئ. بھت ٹف زندگی گزاری ھے میں نے.بظاھر مسکرا کر وه درد کو دبا گئ.ھتھیلی سرخ پڑ چکی تھیاور شدید جل رھی تھی.
میری بات اورھےھاتھ دکھاؤ.مگراسنےھاتھ گود میں رکھ لیا.
ٹھیک ھے اٹس اوکے'کافی کاشکریه.اب ھمیں چلناچاھئے.وهاٹھ کھڑی ھوئی.بل والی بات اسےبھول گئی تھی.مگر کافی توختم کرلووه قدرےپریشانی سےکھڑا ھوا.رھنےدوانتھائی بدتھذیب ویٹرزھیں یھاں کے.چلو.واپسی پےوه اسےمیٹرواسٹیشن تک چھوڑنے آیاتھا.زیرزمین جاتی سیڑھیوں کےدھانےپےوه دونوں آمنےسامنےکھڑےتھے.تم واپس ٹاقسم نھیں آؤگے.نھیں وه دفتر یھاں قریب ھی ھے.جس سے کام کے سلسلےمیں ملنےآیا تھااسطرف.جھان بازواٹھاکردورایک طرف اشاره کیا.اسنےسفیدشرٹ کی آستین یونھی کھنیوں تک موڑرکھی تھی.اور کوٹ بازوپےڈال رکھا تھا.ٹائی کی ناٹ اب تک ڈھیلی ھوچکی تھی.وه یقینااسکاایک ورکنگ ڈےخراب کر چکی تھی.ویسےتم کیاکرتےھو?وه کوٹ کی جیبوں میں ھاتھ ڈالے کھڑی گردن اٹھاۓاسےدیکھ رھی تھی.میں ایک غریب ساریسٹورنٹ اونر ھوں.استقلال اسٹریٹ په جو پھلا برگرکنگ ھےوه میرا ھے.استقلال اسٹریٹ ٹاقسم کے بالکل ساتھ ھے.دیکھی ھےتم نے?اونھوں. اسنےگردن دائیں سےبائیں اوربائیں سےدائیں ھلائی.تم اس ویک اینڈ پے گھر کیوں نھیں آجاتی ممی خوش ھونگی.اور تم ? بےساخته لبوں سےپهسلا.میں توویک اینڈ پے بھی ریسٹورنٹ ھوتا ھوں.پهر فائده اس نے سوچا.
کوشش کرونگی.وه مسکرا دی اس نےدایاں ھاتھ جیب سے نکال کربال پیچھے ھٹاۓ.تمھاراھاتھ ابھی تک سرخ ھے.اگر کسی دوست نےپوچھ لیا تو کیاکھوگی.
کھ دونگی که گدلی برف کیساتھ کیچڑ تھی گھاس په وهیں پھسل گئی. اسنےلاپروائی سےشانےاچکاۓ.اب کزن کیساتھ کافی پینےکاقصه تو سنانےسےرھی.پھسل گئ توھتھیلی رگڑی گئ?
ھاں!اورگھٹنے? جھان نےمسکراکراسکی جینزکیطرف دیکھا.مطلب? حیانےابرواٹھاۓ.
لڑکی کوراسٹوری پوری بنایاکرو.اگرتم ھتھیلیوں کےبل کیچڑ میں گروتواصولاتمھارےگھٹنوں پےبھی رگڑ آنی چاھۓ.پھر وه چند قدم چل کرگھاس کےقطعےکی طرف گیا.جھک کرتین انگلیوں سےمٹی اٹھائی اور واپس آکر اسکےسامنےرکا.اسےاپنی جینزپرلگادوورنه تمھاری فرینڈزیقین نھیں کریں گی.
اتنابھی کوئی شکی مزاج نھیں ھوتاجھان سکندر..!
اسنےھنس کراپنےپوروں پےزراسی گیلی مٹی لی اور جھک کر گھٹنوں کے اوپر جینز په مل دی.پهرھاتھ جھاڑتےھوۓسیدھی ھوئی.میں کوشش کرونگاکه ھفتے کی صبح ساراکام ختم کرکےگھرآجاؤں.تم ھفتےکی شام ضرور آنا.پهلی بار اسے احساس ھوا تھا که وه کمگوسنجیده طبیعت کالئےدۓرھنے والاشخص ضرور ھے مغرور بھی ھے.اور جلدی گھلتاملتابھی نھیں.
جاری هے


Friday, 29 September 2017

ناول:جنت کے پتے تحریر: نمره احمد قسط نمبر 12


ناول:جنت کے پتےتحریر: نمره احمدقسط نمبر 12"جی"؟ وہ بمشکل بول پائی۔وہ کچن کے کھلے دروازے سے اندر آیااور حیا نے دیکھا'اس کے ہا تھوں میں ادھ کھلے گلابوں کا بوکے اور ایک سفید کارڈ تھا۔"کیا تم یہاں رہنے آئی ہو؟"وہ اس کے سامنے کھڑا سختی سے پوچھنے لگا۔"نن۔۔۔نہیں" وہ سانس روکےان سفیر گلاب کے پھولوں کو دیکھ رہی تھی۔"تو پھر اپنے ویلنٹائن کو میرے گھر کا پتا دینے کی کیا ضرورت تھی"؟اس نے زیرِلب ترکی میں کسی غیر مہزب لفظ سےاس نا معلوم شخص کو نوازااور گلدستہ و کارڈ اس کے سامنے میز پہ تقریباًپھینکنے کے انداز میں رکھا۔"نہیں۔۔۔۔میں نے نہیں"وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سےپھولوں کے اوپر گرے سفید کارڈ کو دیکھے گئی'جس پہ لکھے حروف نمایاں تھے۔"فار مائی لو۔۔حیا سلیمان فرام یور ویلنٹائن"۔اور ویلنٹائن ڈے میں ہفتہ سے زیادہ دن باقی تھے۔"یہ یہاں بھی پہنچ گیا؟"وہ اب تک بے یقین تھی۔جہان اپنا ٹول بکس کھولے چیزیں الٹ پلٹ کر رہا تھا۔کچن میں ایک شرمندہ سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔دفعتاًمیز پہ رکھا حیا کا موبائل بج اٹھا۔اس نے چونک کر دیکھا۔گھر سے کال آ رہی تھی۔اس نے کال کاٹی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔"حیا۔۔بیٹھو بچے۔۔۔""میری۔۔۔میری فرینڈ کال کر رہی ہے"۔وہ باہر آ گئی ہے شاید'چلتی ہوں" اللہ حافظ۔حالانکہ پھپھو کی شکل سے ظاہر تھا کہ فون اس کی دوست کا نہیں تھا'مگر انہوں نے سر ہلا دیا۔کہنے کو جیسے کچھ باقی نہیں رہا تھا۔وہ کرسی دھکیل کر تیزی سے باہر نکل گئی۔میز پہ سفید گلاب پڑے رہ گئے۔ڈورمیٹ پہ اس کے جوتے یونہی پڑے تھے۔اس نے ان میں پاوں ڈالے تو دیکھا' ایک کاغذ ان پہ گراہوا تھا۔حیا جھکی اور وہ کاغذ اٹھایا۔وہ کسی کورئیر کمپنی کی رسید تھی غالباًجو شاید جہان نے دستخط کر کے وہاں پھینک دی تھی۔وہ رسید الٹ پلٹ کر دیکھتی تیز قدموں سے گیٹ عبور کر گئی۔وہ پھول آج ہی کی تاریخ میں کسی"اے آر"نے بُک کروائے تھے۔اے سے احمد اور آر سے۔۔۔۔؟وہ دھیرے دھیرے سڑک کے کنارے چلنے لگی۔رسید ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھی۔وہ گھنٹہ بھر پہلے تک اس بات سے ناواقف تھی کہ وہ جہانگیر آ رہی ہے'پھر اس"اے آر"کو کیسے علم ہوا؟کیا وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا؟کیا اس کا تعاقب کیا جا رہا تھا؟لیکن ایک پاکستانی آفیسر کے ایک غیر ملک میں اتنے زرائع کیسے ہو سکتے تھے؟صرف اسے تنگ کرنے کے لئے اتنی لمبی چوڑی منصوبہ بندی کون کرے گا؟وہ کالونی کے سرے پہ نصب بینچ پہ بیٹھ گئی۔اس کی نگاہیں برف سے ڈھکی گھاس پہ جمی تھیں۔اسے ہالے کے آنے تک یہیں بیٹھنا تھا۔اس نے اگلے روز ہی ڈورم آفیسرحقان سے بات کر کے اپنا گھر بدلوا لیا۔اب وہ ڈی جے کے کمرے میں منتقل ہو چکی تھی۔کمرے میں تیسری لڑکی ایک چینی نژاد "لنگ لنگ" تھی۔اس کاپورا نام اتنا لمبا اور پیچیدہ تھا کہاس نے یورپ کے لئے اپنا بنام "چیری" رکھ لیا تھا۔وہ ایکسچینج سٹوڈ نٹ تھی اور پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔چوتھی لڑکی ایک اسرائیلی یہودی"ٹالی" تھی۔واقعتاًٹاہلی کے درخت کی طرح لمبی چوڑی اور گھنگھر یالے بالوں والی۔وہ بھی ایکسچینج سٹوڈنٹ تھی۔اور اس کے ساتھ والے کمرے کےفلسطینی ایکسچینج سٹوڈنٹس(وہ ہینڈسم لڑکے جن کا زکر ڈی جے نے پہلے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صفحہ نمبر 192روز کیا تھا)سے گاڑی چھنتی تھی۔وہ فلسطینی لڑکے اور وہ اسرائیلی لڑکی ہر جگہ ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔کیمپس کی سیڑھیاں ہوں یا ہاسٹل کا کامن روم۔وہ چاروں ساتھ ہی ہوتے۔"ان کے پاسپورٹ چیک کراّو یا تو یہ اسرائیلی نہیں ہے' یا وہ فلسطینی نہیں ہیں۔اتنا اتحاد اور دوستی؟توبہ ہے بھئ!"ڈی جے جب بھی ان کو ساتھ دیکھ کر آتی ' یونہی کڑھتی رہتی۔حیا نے اپھی ان لڑکوں کو نہیں دیکھا تھا'نہ ہی اسے شوق تھا۔تمام ممالک کے ایکسچینج سٹوڈنٹس پیر تک پہنچ گئےتھے۔وہاں کسی کو کسی ایکسچینج سٹوڈنٹ کا نام نہیں پتہ ہوتا تھا۔بس یہ فلسطینی ہیؓ 'یہ چائنیز ہیں'یہ نارویجن ہے'یہ ڈچ ہے اور یہ دونوں پاکستانی ہیں۔ان کو ایک سے چار مضامین لینے کا اختیار تھا۔ڈی جے نے دو لئے جب کہ حیا نے چار لئے۔پانچ ماہ کے احتتام پہ امتحان دینے کی پابندی تھی' اور یہ پانچ ماہ لازماً ترکی میں گزارنے کی پابندی تھی' باقی چاہے کلاس اٹینڈ کرو' چاہے نہ کرو' چاہے ساری رات باہر گزارو'کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔خوب مزے تھے۔سبانجی میں کلاس کے اندر لڑکیاں کے سکارف پر پابندی تھی۔"تو ےہ ہالے نور کیا کرتی ہو گی؟"حیا نے ڈی جے سے تب پوچھا'جب وہ دونوں کلاس سے نماز کے بہانےکلاس میں دکھائی جانے والی ترکی کی تعادفی پریزنٹیشن سے کسک آئی تھیں اور اب پرئیر ہالمیں بیٹھی چپس کھا رہی تھیں۔"وہ کیپ لے لیتی ہے'اور گلے میں مفلر یا کبھی کبھی وگ بھی لگاتی ہے ' مگر سر ڈھک کر جاتی ہے"۔ڈی جے چپس کترتے ہوئے بتا رہی تھی۔وہ دونوں چاکڑی مارکر کارپٹ پہ بیٹھی تھیں۔ ایک طرف الماری میں قرآن و اسلامی کتب کے نسخے سجے ہوئے تھے۔دوسری طرف بہت سے سکارف اور سکرٹس ٹنگے ہوئے تھے'جینز والی ترک لڑکیاں سکرٹ پہن کر نماز پڑھ لیتی اور پھربعد میں وہ سکرٹ وہاں لٹکا کر چلی جا تیں۔استنبول کے ہر زنانہ پرئیر ہال میں ایسے سکارف اور سکرٹس لٹکے ہوتےتھے۔"مزے کی ہے یہ ہالے نور بھی"۔وہ انگلی سے بال پیچھے کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔اس نے بلیو جینز کے اوپر گلابی سوئیٹر پہن رکھا تھا۔پاکستان میں تایا فرقان کی ڈانٹکے ڈر سے وہ جینز نہیں پہنتی سکتی تھی'لیکن شکر کہ یہاں وہ لوگ نہیں تھے اور وہ زندگی کو اپنیمر ضی سے لطف اندوز ہو کر گزار رہی تھی۔۔"پرسوں تم پھپھو کے گھر گئی تھیں۔کیسا ٹرپ رہا؟""اچھا رہا'پھپھو نے پلاوٙبنایاتھا' وہ واقعی ہی اتنا بد مزہ پکوان نہیں ہے 'جتنا ہم سمجھتے تھے۔""میں تو پہلے ہی کہہ رہی تھی"۔جن پرئیر ہال میں بھی خوب بور ہو گئیں تعو باہر نکل آئیں۔سرد نم ہوا دھیمی لے میں بہہ رہی تھی۔ہری بھری گھاس پہ سبانجی کی گول سی عمارت پورے وقار کے ساتھ کھڑی تھی'جیسے ایک گولائی کی شکل کے بنےگھر کو ہیٹ پہنا دی جائے۔شیشے کے اونچے داخلی دروازوں کے سامنے سیڑھیاں بنی تھیں۔سیڑھیوں کےدونوں اطراف سبزہ پھیلا تھا۔وہ دونوں فائلیں تھامے زینے اتر رہی تھیں'جب ڈی جے نے اس کا شانہ ہلایا۔"یہ جو آخری زینے پہ تین لڑکے کھڑے ہیں'یہ وہی فلسطینی لڑکے ہیں۔دیکھو!ٹالی بھی ان کے ساتھ ہے۔"اس نے ہوا سے چہرے پہ آتے بال پیچھے ہٹائےاور دیکھا۔ وہ ہینڈسم اور خوش شکل سے لڑکے سیڑھیوں کے کنارےکھڑے باتوں میں مصروف تھے۔"آوٙان سے ملتے ہیں"۔"مجھے دلچسپی نہیں ہے۔تم جاوٙ'مجھے زرا کام ہے"۔وہ کھٹ کھٹ زینہ اترتی آگے بڑھ گئی۔ڈی جے نے اسے نہیں پکارا' وہ فلسطینیوں کی جانب چلی گئی تھی۔اوروہ یہی چاہتی تھی'ڈی جے دوستی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جگہ'مگر وہ فی الحال وہ خوب آزادی سے استنبول کو کھوجنا چاہتی تھی۔اکیلی اور تنہا۔قریباً گھنٹے بھر بعدوہ اپنے کمرے سے خوب تیار ہو کر نکلی اور پتھریلی سڑک پر چلنے لگی۔اس نے بلیو جینز کے اوپر ایک تنگ'اسٹائلش سا کوٹ پہن رکھا تھا۔شدید سردی کے باوجود ننگے پاوں میں پانچ انچ اونچی سرخ پنسل ہیل پہنی تھی۔ریشمی بال ہواسے شانوں پہ اڑ رہے تھےاور گہرے کاجل کے ساتھ رس بھری کی طرح لپ اسٹک۔اسےسرخ لپ اسٹک ہمیشہ بہت پر کشش لگتی تھی اور آج اسے معلوم تھا کہ وہ بہت حسین لگ رہی ہے۔بس سٹاپ آ چکا تھا'جب بادل زور سے گرجے۔یہ بس سٹاپ یونیورسٹی کے اندر ہی تھا۔سبانجی کی ہیرئین "گورسل"تھی 'گورسل بس سروس۔وہ سبانجی کے طلبا کے لئے ہی چلتی تھی اور انہیں استنبعل شہر تک لے جاتی تھی۔ہالے نے اسے گورسل کا شیڈول رٹوا دیا تھا۔چس دن تمہاری گورسل چھوٹی'تمہیں ہالے نور بہت یاد آئے گی۔اس نے سختی سے تاکید کرتے ہوئے کہا تھا۔گورسل اپنےوقت سے ایک لمحہ تاخیر نہیں کرتی تھی'اور اگر آپ چند سیکنڈ بھی دیر سے آئے تو گورسل گئی۔اب دو گھنٹے بیٹھ کر اگلی گورسل کا انتظار کرو۔جب وہ گورسل میں بیٹھی توآسمان پر سیاہ بادل اکٹھے ہو رہے تھے۔جب گارسل نے باسفورس کا عظیم الشان پل پار کیا تو موٹی موٹی بوندیں پانی میں گر رہی تھیں اور جب وہ ٹاقسم اسکوائر پہ اتری تو استنبول بھیگ رہا تھا۔ٹاقسم اسکوائر استنبول کاایک مرکزی چوک تھا۔وہاں عین وسط میں اتاترک سمیت تاریخی شخصیات کے مجسمے نصب تھے۔"مجسمہ آزقدی" ایک طرف ہرا بھرا سا پارک تھا'اور دوسری طرف میٹرو ٹرین کا زیرِزمین اسٹیشن۔وہ بس سے اتری توبارش تڑاٹر برس رہی تھی۔موٹے موٹے قطرے اس پہ گِر رہے تھے۔وہ سینے پہ بازو لپیٹے تیز تیز سڑک پار کرنے لگی۔گیلی سڑک پہ اونچی ہیل سےچلنادشوارہو گیا تھا۔چند ہی لمحوں میں وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی۔زیرِزمین میٹرو اسٹیشن تک جاتی وہ چوڑی سیڑھیاں سامنے ہی تھیں۔وہ تقریباًدوڑ کر سیڑھیوں کےدہانے تک پہنچی ہی تھی کہچیخ کی آواز آئی۔وہ لڑکھڑائی اور گرتے گرتے بچی۔اس کی دائیں سینڈل کی ہیل درمیان سے آدھی ٹوٹ گئی تھی۔ٹوٹا ہوا دو انچ کا ٹکڑا بس اٹکا ہوا ساتھ لٹک رہا تھا۔اس نے خفت سے اِدھر اُدھر دیکھ#ا۔لوگ مصروف سے انداز میں چھتریاں تانے گزر رہے تھے۔شکر کہ کسی نے نہیں دیکھاتھا۔بارش اسی طرح برس رہی تھی۔اس کے بال موٹی گیلی لٹوں کی صورت چہرے کے اطراف میں چپک گئے تھے۔اسنے کوفت سے ٹوٹے جوتے کے ساتھ زینہ اترنا چاہا'مگر یہ نا ممکن تھا۔جھنجلا کر وہ جھکی'دونوں جوتوں کے اسٹریپس کھولے'پاوں ان میں سے نکالے اور جوتے اسٹریپس سے پکڑ کر سیدھی ہوئی۔نیچے ٹرین کے پہنچنے کا شور مچ گیا تھا۔وہ بھاگتے ہوئے زینہ اترنے لگی۔اس کے پہلو میں گرے ہاتھ سے لٹکےدونوں جوتے ادھر ادھر نھول رہے تھے۔میٹرو کا ٹکٹ ڈیڑھ لیرا کا تھا'چاہے جس اسٹیشن پربھی اترو۔وہ ٹکٹ لے کر جلدی سےٹرین میں داخل ہوئیتا کہ کسی کے محسوس کرنے سے قبل ہی معتبر بن کر جوتا پہن کر بیٹھ جا ئے۔میٹرع میں نشستیں دونوں دیواروں کے ساتھ قطار میں تھیں۔کھڑے ہونے والے کے لئے اوپر راڈ سے ہینڈل لٹک رہے تھے۔وہ ایک ہینڈل کو پکڑے بھیڑ میں سے راستہ بنانے لگی۔اس کی نظر کونے کی ایک خالی نشست پر تھی مگر آگے چلتے شخص نے راستہ روک رکھا تھا۔جب تک وہ کانے والی نشست پر بیٹھا نہیں'وہ آگے نہیں بڑھ سکی'پھر اس کے بیٹھتے ہی دھم سے اس کے برابر کی جگہ پہ آ بیٹھی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس شخص شناسا سا لگا۔۔لمحے بھر کو اس کا سانس رُک س گیا تھا۔وہ جہان سکندر تھا۔بہت قیمتی اور نفیس سیاہ سوٹ میں ملبوس'جیل سے بال پیچھے کیےوہ چہرے پہ ڈھیروں سنجیدگی لئے اخبار کھول رہا تھا۔وہ متخیر سی بیٹھی'سامنے دیکھے گئی۔کن اکھیوں سے اسے وہ چہرے کے آگے اخبار پھیلا ئے نظر آ رہا تھا۔سامنے والی قطار اوران کی قطار کے درمیان جگہ اوپرلگے ہینڈل پکڑ کر کھڑے لوگوں سے بھرنے لگی تھی۔وہ اس عجیب اتفاق پر اتنی ششدر بیٹھی تھی کہہاتھ سے لٹکتے جوتےبھول ہی گئے۔یاد رہا تو بس یہی کہ وہ کتنا قریب۔۔۔۔۔مگر کتنا دور تھا۔وہ اسے کیسے مخاطب کرے؟اور اگر وہ اسے دےکھے بنا ٹرین سے اتر گیا تو۔؟اس کا دل ڈوبنے لگا۔مگر وہ تو اسے شائدپہچانے بھی نہ۔اس ے سرد مہر'کم گو شخص سے یہی توقع تھی۔چند پل سر کے تھےکہ جہان نے صفحہ پلٹنے کی غرض سے اخبار نیچھے کیااور انگوٹھے سےاگلے صفحے کا کنارہ موڑتے ہوئےایک سرسری نگاہ پہلو میں بیٹھی لڑکی پہ ڈالی'پھر صفحہ پلٹ کر اخبار کی طرف متوجہ ہو گیا۔لیکن اگلے ہی پل وہ جیسے رکااور گردن موڑ کردوبارہ اسے دیکھا۔اس کی بھیگی موٹی لٹیں رخساروں سے چپک گئی تھیں۔پانی کے قطرے ٹھوڑی سے نیچے گردن پہ گر رہے تھے'وہ اس کے متوجہ ہونے پہ بھی سانس روکے سامنے دیکھے گئی۔"اوہ۔۔۔حیا!"وہ حیرت بھری آوازکہیں دور سے آئی تھی۔حیا نے دھیرے سے پلکیں اس کی جانب اٹھائیں۔کاجل کی لکیر مٹ کر نیچھے بہہ گئی تھی'تب بھی ان اداس آنکھوں میں عجب سحر دکھتا تھا۔"جہان سکندر!"وہ بدقت رسماًمسکرائی۔"حیا!کیسی ہو؟اکیلی ہو؟"کہنے کے ساتھ جہان نے ارد گرد نگاہ دوڑائی۔وہاں کوئی مسافر حیا کا ہم سفر نہیں لگ رہا تھا۔"جی اکیلی ہوں۔""میں نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیسی ہو؟" مسکراتے ہوئے اپنا ئیت سے کہتے ہوئے وہ اخبار تہہ کرنے لگا۔ وہ جو اس کے لئے ہتھوڑی اور میخیں نہیں تکھ سکتاتھا اب اخبار رکھ رہا تھا؟یا خدا! یہ وہی جہان سکندر تھا؟"ممی تمہیں یاد کر رہی تھیں۔تم پھر کب آو گی گھر؟"اخبار ایک طرف رکھ کراب وہ پوری طرح حیا کی جانب متوجہ تھا۔وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔"بس۔۔شائد کچھ دن۔۔۔۔"کچھ کہنے کی سعی میں اسے محسوس ہوا 'جیان کی نظریں اس کے ہاتھ پہ پھسلی تھیں'اور پیشتر اس کے کہ وہ چھپاپاتی' وہ دیکھ چکا تھا۔"جوتے کو کیا ہوا ہے؟اتنی سردی میں ننگے پاوں بیٹھی ہو۔لاو دکھاو جوتا"۔وہ خفا ہوا تھا یا فکر مند'اسے سوچنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔جہان جوتا لینے کے لئے حھکا تو اس نے بے بسی سے ٹوٹی ہیل والی سینڈل سامنے کی۔"یہ تو الگ ہونے والا ہے"۔اس کے ہاتھ سے جوتا لے کراب وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔حیا نے بے چینی سے پہلو بدلا۔"جہان!رہنے دو۔""ٹھرو 'شاید یہ جڑ جا ئے"۔وہ جھک کر دوسرے ہاتھ سےبریف کیس میں سے کچھ نکالنے لگا۔"جہان!لوگ دیکھ رہے ہیں"۔"یہ پکڑوزرا"۔وہ سیدھا ہوا اور جوتا حیا کو تھمایا'پھر ہاتھ میں پکڑا ٹیپ کھولا۔کافی لمبا سا اسٹریپ کھول کر دانت سے کاٹا۔حیا نے جوتا سامنے کیا۔اس نے احتیاط سےہیل کے نچھلے لٹکتے حصے کو اوپر کے ساتھ جوڑا اوراس کے گرد چکروں میں ٹیپ لگاتا گیا۔"اب پہنو"۔مرہم شدہ سینڈل کو اس نے جھک کر حیا کے قدموں میں رکھا۔حیا نے اس میں پاوں ڈالا اور اسٹریپ بند کرنے جھکی ہی تھی کہ زورپڑنے سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔پٹخ ہوا اورہیل کا ٹوٹا حصہ سرے سے ہی الگ ہو گیا۔"اوہ!"وہ متاسف ہوا۔"کوئی بات نہیں"۔حیا کو شرمندگی نے آن گھیراتھا۔یہ وہ سرد مہر اور تلخ جہان نہیں 'بلکہ کوئی اپنا اپنا سا شخص تھا۔وہ جواب دینے کی بجائے جھک گیا تھا۔حیا نے گردن ترچھی کر کے دیکھا۔وہ اپنے بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا۔اس سے پہلے کہ حیا اسے روک پاتی'جہان اپنے بوٹ اتار چکا تھا۔پہن لو۔باہر ٹھنڑ ہے'سردی لگ جائے گی"۔ اب وہ جرابیں اتارکر اپنے بریف کیس میں رکھ رہا تھا۔اس کا انداز عام سا تھا'جیسے وہ روز ہی میٹرو میں کسی نہ کسی کو اپنے جوتے دے دیتا ہو۔"نہیں 'رہنے دو۔میں ابھی مارکیٹ سے نیا لے لوں گی"۔"پہن لع حیا!""مگر تم کیا کرو گے؟تم تو آفس جا رہے ہو نا؟"جہان نے زرا سا مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا"آفس کے کام سے سسلی جا رہا ہوں"۔"پھر میں تمہیں جوتے کیسے واپس کروں گی؟پتا نہیں کب تمہارے گھر آوں اور۔۔۔""تم ابھی اکیلی کہیں نہیں جا رہیں۔اگلا سٹیشن سسلی ہے۔ادھر ہم ساتھ مال سے جوتا خریدیں گے'پھر میں اپنے بوٹ واپس لے لوں گا"۔"مگر تمہارے آفس کا کام۔۔۔""میں ننگے پاو ۔ جا کر کیا کروں گا؟"وہ دھیرے سے مسکرایا۔وہ پہلی بار حیا کے لئے مسکرایا تھا۔وہ یک ٹک کاجل کی مٹتی سیاہی والی آنکھوں سے اسے دیکھی گئی۔اس کے چہرے سے چپکی موٹی گیلی لٹیں اب سوکھنے لگی تھیںاور ٹھوڑی سے گرتے پانی کے قطرے اب خشک ہو چکے تھے۔"جوتے پہن لو۔لوگ اب بھی دیکھ رہے ہیں"۔وہ چونکی پھر خفیف سا سر جھٹکااور دوہری ہو کر بوٹ پہننے لگی۔وہ جب بھی سمجھتی کہ جہان لا تعلقی سے بیٹھا'اس کی بات نہیں سن رہا'وہ اس کو وہی فقرہ لوٹا دیا کرتا تھا۔وہ سیدھی ہوئی تو جہان اخبار کھول چکا تھا۔عجیب دھوپ چھاوں جیسا شخص تھا۔سسلی کے سٹاپ پہ میٹرو سے اترتے وقت حیا نے دیکھا'جہان بہت آرام سے اس کے آگے ننگے پاوں چل رہا تھا۔اس کے انداز میں کوئی خفت'کوئی جھجک نہ تھی۔وہ دونوں خاموشی سے سیڑھیاں چڑھنےلگے۔چندزینے بعد ہی سیڑھیوں کے احتتام پہ سڑک اور کھلا آسمان دکھائی دینے لگا۔وہ جہان کے دائیں طرف تھی۔آخری سیڑھی چڑھتے ہوئےاس نے دیکھا زمین پہ ایک کیل نکلی پڑی تھی۔اس سے پیشتر کہ وہ مطلع کر پاتی'جہان کا پاوں اس کیل کے نوکدار حصے پہ آیا۔جب اس نے دوبورہ پاوں ااٹھایا تواس کی ایڑھی سے خون کی ننھی سی بوند نکل گئی تھی۔اس نے بے اختیار جہان کے چہرےبکو دیکھا۔وہ سکون سے سیدھ میں دیکھتا تیز تیز چل رہا تھا۔"جہان۔۔۔۔تمہارا پاوں۔۔۔تمہیں زخم آیا ہے۔"وہ اس کے ساتھ چلنے کی کوشش میں تیزی سے چلنے لگی تھی۔"خیر ہے"۔وہ رکا نہیں۔"مگر تمہارا خون نکلا ہے"۔وہ واقعتاًپریشان تھی۔"بچوں والی بات کرتی ہو تم بھی۔اتنے شرا سے خون سے میں زخمی تو نہیں ہو گیا۔بہت ٹف زندگی گزاری ہے میں نے۔وہ دیکھو'جواہر مال۔"اس سے کچھ کہنا بے کار تھا۔وہ چپ ہو کر اس کے ساتھ مال کے قریب آ رکی۔وہ بلند و بالا خوبصورت'نیلے سرمئی شیشوں سے ڈھکی عمارت تھی۔اس کے اوپر بڑا سا ستارہ اور اطرف میں چھوٹے ستارے بنے تھے۔بڑے ستارے کے اوپر Cavahir mallلکھا تھا' اور جہان ترکوں کی طرح "سی"کو "جے"پڑھ رہا تھا۔"یہ جواہر مال ہے۔یورپ کا سب سے بڑا اور دنیا کا چھٹا بڑا شاپنگ مال"۔وہ فخر سے بولا تھا۔جاری هے


Thursday, 28 September 2017

جنت کے پتے نمره احمد قسط نمبر 10


جنت کے پتےنمره احمدقسط نمبر 10دروازے پہ مدهم سی دستک ہوئ تو وہ سرعت سے کرسی سے اٹهی.ایک نظر سوئ ہوئ ڈی جے پہ ڈالی، دوسری اپنے زیر استعمال بینک پہ جو دوبارہ سے بنا سلوٹ اور شکن کے بنایا جا چکا تها اور جس پہ ترک لڑکیوں کے اعتماد کے خون کیے جانے کی کوئ نشانی باقی نہ تهی.....اور دروازہ کهول دیا." السلام علیکم ایکسچینج اسٹوڈنٹس ! " ہالے نور ہشاش بشاش سی مسکراتی کهڑی تهی.وہ یوں تهی گویا دهلی ہوئ چاندنی.سیاہ اسکارف چہرے کے گرد لپیٹے ، ہلکی سبزلمبی جیکٹ تلے سفید جینز پہنےشانے پہ بیگ اور ہاتھ میں چابیوں کا گچھا پکڑے وہ پوری تیاری کے ساتھ آئی تھی ۔وعلیکم السلام ، آؤ ہالے " وہ مسکراتی ھوئی ایک طرف کو ھوئی ۔تمہارے کمرے میں گئی تھی ۔ مگر تم ادھر نہیں تھیں میں نے اندازہ کیا کہ تم یہیں ھو گی ۔ ہالے نے اپنا بیگ میز پہ رکھا اور کرسی کھینچ کر نفاست سے بیٹھی ۔ہاں میں علی الصبح ہی ادھر آ گئی تھی ۔ ڈی جے کی یاد آ رہی تھی ۔خدیجہ سو رہی ھے ؟ ہالے نے گردن اونچی کر کے اوپر دیکھا جہاں ڈی جے دو موٹے کمبل گٹھڑی کی صورت خود پہ ڈالے سو رہی تھی ۔ ہاں اور شاید دیر تک سوتی رہے ۔اوہ ... میں نے سوچا تھا کہ تمہارے فون رجسٹرڈ کروانے چلیں آج ۔ ترکی میں غیر ملکی فون پہ ترک سم کارڈ ایک ہفتے کے بعد بلاک ھو جاتا ہے ۔ہاں بالکل ۔ تم لوگ جاؤ اور میرا فون بھی لے جاؤ میں ابھی دو گھنٹے مزید سوؤں گی ،،کمبلوں کے اندر سے آواز آئی تو ہالے مسکرا دی ، مسکراتے ھوئے اس کی چمکتی ھوئی سرمئی آنکھیں چھوٹی ھو جاتی تھیں ۔ چلو حیا ! ہم دونوں چلتے ہیں ۔۔، وہ دونوں ساتھ ساتھ کھڑی ھو گئی تھیں ۔ حیا صبح اپنے کمرے میں جا کر فریش ھو آئی تھی ۔ ابھی وہ سیاہ چوڑی دار پاجامے اور ٹخنوں تک آتی سیاہ لمبی قمیص میں ملبوس تھی ۔ شیفون کا دوپٹہ گردن کے گرد مفلر کی ظرح لپیٹے اور اوپر لمبا سیاہ سوئیٹر پہنے ھوئے تھی ۔کچھ دن میرے خوش قسمت دن ھوتے ہیں ، جب میرے پاس کار ھوتی ھے اور کچھ دن بدقسمت دن جب میرے پاس کار نہیں ھوتی اور آج میرا خوش قسمت دن ھے ۔ ہالے نے اٹھتے ھوئے بتایا ۔ ابھی ہم قریبی دکانوں میں جائیں گے ۔ اگر وہاں سے فون رجسٹرڈ نہ ھوئے تو جواہر چلیں گے ، اس کے بعد وہاں سے جہانگیر ۔۔،،جواہر ؟ حیا نے ابرو اٹھائی ، جہانگیر کو اس نے کسی ترک کا نام سمجھ کر نظرانداز کر دیا ۔جواہر شاپنگ مال ھے ۔ یورپ کا سب سے بڑا اور دنیا کا چھٹا بڑا شاپنگ مال !..اوہ اچھا جیسے پاک ٹاورز ۔۔۔،، اوپر کمبلوں سے آواز آئی ۔پاک ٹاور ؟؟؟ ہالے نے گردن اٹھا کر خدیجہ کے کمبلوں کو دیکھا ۔ہمارا پاک ٹاورز ایشیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال میں شمار ھوتا ھے ،، وہ غنودہ آواز میں بولی ۔ نائس ہالے ستائش سے مسکرا کر باہر نکل گئی ۔ حیا نے اس کے جانے کی تسلی کر لیپھر لپک کر پیچھے آئی ۔ اور سیڑھی پر چڑھ کہ ڈی جے کا کمبل کھینچا ۔یہ پاک ٹاورز ایشیا کا سب سے بڑا مال کب سے ھو گیا ؟؟؟ اس نے کون سا جا کر چیک کر لینا ھے ۔ تھوڑا شو مارنے میں کیا حرج ھے ؟؟ ڈی جے غڑاپ سے پھر کمبل میں گھس گئی ہالے ڈرائیو کرتے ھوئے متاسف سی بار بار معذرت کر رہی تھی ۔ فون رجسٹر نہیں ھو سکے تھے ۔" وی آ " پورٹ کی دکان پہلے تو ملی نہیں ، دوسری موبائل کمپنیوں کی دکانیں ہی ہر جگہ تھیں ۔ یوں جیسے آپ کو زونگ کی دکان کی تلاش ھو اور ہر طرف یو فون کی دکانیں ھوں ۔ بمشکل ایک دکان ملی تو اس کا مینیجر شاپ بند کر کے جا رہا تھا ۔ لاکھ منتوں پر بھی اس نے دکان نہیں کھولی اور چلا گیا ۔ اب ہالے مسلسل شرمندگی کا اظہار کر رہی تھی ۔بس کرو ہالے بعد میں ھو جائے گا یہ کام اب مجھے شرمندہ مت کرو ،خیر تمہارا دوسرا کام تو کروں ، جہانگیر چلتے ہیں ۔ ہالے نے گہری سانس اندر کھینچی ۔ گاڑی سڑک پہ رواں دواں تھی ۔ اور کھڑکی کے باہر ہر سو برف دکھائی دے رہی تھی ۔تم ایڈریس دکھاؤ ہم پہنچنے والے ہیں ۔۔کدھر ؟؟؟ حیا نے ناسمجھی سے ڈرائیو کرتی ہالے کو دیکھا ۔ جہانگیر اور کدھر ؟؟ وہاں کیا ھے ؟ تمہاری آنٹی کا گھر ، کل کہا جو تھا کہ تمہیں لے جاؤں گی صبح بتایا بھی تھا ، بھول گئیں ؟ تم۔۔۔۔ تم مجھے ادھر لے کر جا رہی ھو ؟؟ وہ ہکا بکا رہ گئی ۔ہاں نا ۔۔ اب ایڈریس بتاؤ ، اسٹریٹ نمبر تو مجھے یاد رہ گیا تھا ، آگے بتاؤ ۔۔ اوہ ہالے ! اس نے ہڑبڑا کر پرس سے وہ مڑا تڑا سا کاغذ نکالا ۔۔۔ اس نے دیکھا ، اس علاقے کا نام Chihangir لکھا تھا وہ اسے سہانگیر پڑھتی رہی تھی ، اب یاد آیا کہ ترکوں کا سی ، جیم کی آواز سے پڑھا جاتا تھا ۔ اگر اسے زرا سا بھی اندازہ ھوتا کہ ادھر جانا ھے تو وہ تحائف ہی اٹھا لیتی جو اماں نے بھیجے تھے ۔ زرا اچھے کپڑے ہی پہن لیتی ۔لو یہ تو سامنے ہی تھا ۔ اب تم جاؤ مجھے ادھر تھوڑا کام ھے ۔ میرا نمبر تم نے فون میں فیڈ کر لیا ھے نا ؟ جب فارغ ھونا تو مجھے کال کر لینا ۔۔ میں آ جاؤں گی ، گھنٹہ تو مجھے بھی لگ ہی جائے گا، پھر کھانا ساتھ ہی کھائیں گے ۔ گاڑی رک چکی تھی ۔ حیا نے بےتوجہی سے اس کی ہدایات سنیں اور دروازہ کھول کر نیچے اتری ۔اس کے دروازہ بند کرتے ہی ہالے گاڑی زن سے بھگا لے گئی ۔وہ ایک خوبصورت چھوٹا سا بنگلہ تھا ۔ بیرونی چار دیواری کی جگہ سفید رنگ کی لکڑی کی باڑ لگی تھی ۔ گیٹ بھی لکڑی کی باڑ کا بنا تھا ۔ گیٹ کے پیچھے چھوٹا سا باغیچہ تھا اور اس کے آگے وہ بنگلہ ۔ بنگلے کی گلابی چھت مخروطی تھی ۔ داخلی سفید دروازہ زرا اونچا تھا ۔ اس تک چڑھنے کے لیے دو اسٹیپس بنے تھے ۔ اسٹیپس کے دونوں اطراف خوش رنگ پھولوں والے گملے رکھے تھے ۔ تو یہ تھی وہ چھوٹی سی جنت ، جس میں وہ رہتا تھا ۔ اور جس سے باہر نکلنے کا اس نےکبھی نہیں سوچا تھا ۔ وہ گیٹ کو دھکیل کر ، پتھروں کی روش پر چلتی ان اسٹیپس تک آئی ، اونچے سنہری دروازے پہ سنہری رنگ کی تختی لگی تھی ۔" سکندر شاہ " وہ ترک ہجوں میں لکھا نام اس کے پھوپھا کا ہی تھا ۔گھنٹی کی تلاش میں اس نے ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی ۔ اس گھر میں بہت سی لکڑی کی کھڑکیاں بنی تھیں ۔ اور شاید کوئی کھڑکی کھلی تھی ۔جس سے مسلسل ایک ٹھک ، ٹھک کی آواز آ رہی تھی جیسے کوئی ہتھوڑے یا کلہاڑے کو لکڑی پہ زور سے مار رہا ھو ۔اس نے اپنی کپکپاتی انگلی گھنٹی پہ رکھی اور سنہری ڈور ناب کے چمکتے دھات میں اپنا عکس دیکھا ۔کاجل سے لبریز بڑی بڑی سیاہ آنکھیں ، دونوں شانوں پر سے پھسل کر نیچے گرتے لمبے بال اور سردی سے سرخ پڑتی ناک ۔وہ سیاہ لباس میں چینی کی مورت لگ رہی تھی ، گھبرائی ھوئی پریشان سی مورت ۔اس نے گھنٹی سے انگلی اٹھائی تو ٹھک ٹھک کی آواز بند ھو گئی ۔ چند لمحے بعد لکڑی کے فرش پہ قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ کوئی انجانی زبان میں بڑبڑاتا دروازہ کھولنے آ رہا تھا ۔وہ لب کاٹتے ھوئے کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی ، جب دروازہ کھلا ۔ چوکھٹ پہ بچھے ڈور میٹ پہ اسے دروازہ کھولنے والے کے ننگے پاؤں دکھائی دیے ۔ اس کی نگاہیں دھیرے سے اوپر اٹھتی گئیں ۔بلیو جینز اور اوپر گرے سوئیٹر میں ملبوس ، وہ ایک ہاتھ میں ہتھوڑی پکڑے کھڑا تھا ۔ سوئٹر کی آستینیں اس نے کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں اور اس کے کسرتی بازو جھلک رہے تھے حیا نے دھیرے سے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ اس کا سانس لمحے بھر کو ساکت ھوا ۔وہ ویسا ہی تھا جیسے اپنے بچپن کی تصاویر میں لگا کرتا تھا ۔ وہی بھورے مائل بال جو بہت اسٹائلش انداز میں ماتھے پہ گرتے تھے ۔ پر کشش آنکھیں ، اٹھی ھوئی مغرور ناک ، سنہری رنگت کے تیکھے نقوش ، وہ ماتھے پہ تیوری لیے آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہا تھا بلاشبہ وہ بہت ہینڈسم تھا ۔" سن کمسن ؟؟؟اس نے ترک میں کچھ پوچھا تو وہ چونکی ۔ سس ۔۔۔۔ سبین سکندر ۔۔۔۔ سبین سکندر کا گھر یہ ہی ھے ؟ جی یہی ھے "وہ انگریزی میں بتا کر سوالیہ جانچتی نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا ۔ اسے لگا وہ بوسفورس کے پل پر ہتھیلیاں پھیلائے کھڑی ھے ۔اور نیلے پانیوں کو چھو کر آتی ھوا اس کے بال پیچھے کو اڑا رہی ھے ۔ وہ کسی گہرے خواب کے زیر اثر تھی ۔ حسین خواب کے ۔۔۔ میں ان کی مہمان ھوں پاکستان سے آئی ھوں ۔ وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی ۔کیسی مہمان ؟؟ اس کا انداز اکھڑا اکھڑا سا تھا جیسے وہ کسی ضروری کام میں مصروف تھا جس میں حیا مخل ھوئی تھی ۔ میں حیا ھوں ۔۔۔ حیا سلیمان ۔۔۔ اس نے پرامید نگاہوں سے جہان سکندر کا چہرہ دیکھا ۔ کہ ابھی اس کا نام سن کر اس کی پرکشش آنکھوں میں شناسائی کی کوئی رمق ۔۔۔ کون حیا سلیمان ؟؟؟ اس کے قدموں تلے بوسفورس کا پل شق ھوا تھا ۔ وہ بے دم سی نیچے گہرے پانیوں میں جا گری تھی ۔"کون حیا سلیمان ؟؟؟ بے آواز دہراتے ھوئے وہ سن سی ھوتی اسے تک رہی تھی ۔ اس کی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں ۔ اس شخص کے چہرے پر زمانے بھر کی بیزاری اور اجنبیت تھی ۔ پہچاننے یا نا پہچاننے کا تو سوال ہی نہ تھا ۔ جہان سکندر تو اس سے واقف ہی نہ تھا ۔کون ، مادام ؟؟ اس نے قدرے اکتا کر دہرایا ۔ حیا نے خفیف سا سر جھٹکا پھر لب بھینچ لیے ۔میں سبین پھپھو سے ملنے آئی ھوں ۔ان کے بھائی سلیمان کی بیٹی ھوں ۔ وہ جانتی ہیں مجھے " اوکے , اندر آ جاؤ " وہ شانے اچکا کر واپس پلٹ گیا ۔وہ جھجھک کر اوپر زینے پہ چڑھی پائیدان کو دیکھ کر کچھ یاد آیا تو فورًا پیر جوتوں سے نکالے اور لکڑی کہ فرش پہ قدم رکھا ۔فرش بیحد سرد تھا ۔ دور راہداری کے اس پار جہاں اس نے جہان کو جاتے دیکھا تھا وہاں سے ہتھوڑے کی ٹھک ٹھک پھر سے شروع ھو چکی تھی ۔ وہ راہداری عبور کر کے کچن جے دروازے میں آ کھڑی ھوئی ۔ امریکی طرز کا کچن نفاست سے آراستہ تھا ۔ عین وسط گول میز کے گرد چار کرسیوں کا پھول بنا تھا ۔ ایک جانب کاؤنٹر کے ساتھ وہ حیا کی جانب پشت کیے کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں ہتھوڑی تھی ۔ جس سے وہ اوپر کیبنٹ کے کھلے دروازے کے جوڑ پر زور زور سے ضربیں لگا رہا تھا ۔ وہ چند لمحوں کے شش و پنج کے بعد ڈھیٹ بن کر آگے آئی ۔ اور قدرے آواز کے ساتھ کرسی کھینچی ۔ وہ بے اختیار چونک کر پلٹا ۔ ڈرائنگ روم ۔۔۔ خیر !،، وہ ناگواری سے لب بھینچ کر واپس کیبنٹ کی طرف مڑ گیا ۔ اس نے ایک ہاتھ سے کیبنٹ کے دروازے کے جوڑ پہ کسی شے کو پکڑ رکھا تھا ۔ اور دوسرے ہاتھ سے ہتھوڑی مار رہا تھا ۔ حیا سلیمان نے زندگی میں کبھی اتنی تذلیل محسوس نہیں کی تھی ۔ مام ۔۔۔۔۔۔ مام ۔۔۔۔۔ چند لمحے گزرے تو وہ اسی طرح اپنے کام کی طرف متوجہ ، چہرے پہ ڈھیروں سنجیدگی لیے پکارنے لگا ۔وہ انگلیاں مروڑتی ٹانگ پہ ٹانگ رکھے سر جھکائے بیٹھی تھی ۔دفعتًا چوکھٹ پہ آہٹ ھوئی تو سر اٹھایا ۔ راہداری سے برتن ہاتھ میں لیے سبین پھپھو اسی پل کچن میں داخل ھوئی تھیں ۔جاری هے


ناول: جنت کے پتے تحریر:نمره احمد قسط نمبر 9


ناول: جنت کے پتےتحریر:نمره احمدقسط نمبر 9رکهنے اور ساته شاہر ہ وقت اٹهائے رکهنے کا رواج تها." یعنی اگر کسی کا نام جہان ہو تو وہ ترک ہجوں میں اسے کیسے لکهے گا ؟" بلا ارادہ اس کے لبوں سے نکلا.پهر فورا" گڑبڑا کر ڈی جے کو دیکها.وہ ذرا فاصلے پر کبوتروں کی تصاویر کهینچ رہی تهی.اس نے نہیں سنا تها.ہالے شاپر ڈسٹ بن میں پهینک کر سیدهی ہوئ اور مسکرا کر ہجے کر کے بتایا. (CIHAN )" اوہ !" اس نے خفیف سا سر جهٹکا.تب ہی وہ اسے فیس بک پر نہیں ملا تها.وہ اس کو Jihan لکه کر ڈهونڈتی رہی مگر وہ تو اپنے نام کو Cihanلکهتا ہوگا.گلی صاف ستهری اور کشادہ تهی.دونوں اطراف میں دکانوں کے دروازے کهلے تهے.آگے کرسیاں میزیں بچهی تهیں.اردگرد بہت سے اسٹال لگے تهے.سڑک کے کناروں پہ کهلے عام کتے ٹہل رہے تهے مگر وہ بهونکتے نہیں تهے.حیا کو بهوک لگ رہی تهی اور وہ اب اس سفر نامے سے بور ہونے لگی تهی.بمشکل وہ تینوں اس رش بهرے محلے سے نکلیں." ایکسچنج اسٹوڈنس کو ان کا پہلا کهانا ایک ترک میزبان خاندان دیا کرتا ہے اور ابهی ہم اسی میزبان خاندان کے گهر جا رہے ہیں." جب وہ کار میں بوسفورس کے پل پر سے گزر رہی تهیں تو ہالے نے بتایا.کهانے کا سن کر اس پہ چهائ بیزاریت ذرا کم ہوئ.میزبان خاندان کا گهر استنبول کے ایک پوش علاقے میں واقع تها.کشادہ سڑک،خوبصورت بنگلوں کی قطار اور بنگلوں کے سامنے سبزے پہ جمی برف ان کے اسکالر شپ کو آرڈئ نیٹر نے چند باتیں انهیں ذہن نشین کروا دی تهیں کہ ترکی میں جوتے گهر سے باہر اتارنے ہیں، گهاس پہ نہیں چلنا اور ملاقات کے وقت ترک خاندان کے بڑے کا ہاته چومنا ہے." اس کی ضرورت نہیں تهی.اس تکلف کو رہنے دو " ان دونوں نے گهر کے داخلی دروازے کے باہر بچهے میٹ پہ جوتے اتارے تو اندر سے آتی وہ مشفق اور معمر خاتون پیاری بهری خفگی سے بولی تهیں.پہلے دن کوئ اصول نہیں ہوتے، السلام علیکم اور ترکی میں خوش آمدید " " آپ کے اصولوں کی پاسداری میں ہمارے لیے فخر ہے " حیا نے مسکراتے ہوئے ان کا ہاته تهاما اور سر جهکا کر ان کے ہاته کی پشت کو لبوں سے لگایا.معمر خاتون ، مسز عبدالله کا چہرہ خوشی سے دمک اٹها."اندر آجاؤ".وہ راستہ دینے کے لیے ایک طرف ہٹیں.ان کی سرخ بالوں والی بیٹی آگے بڑهی اور کارپٹ شوز حیا اور ڈی جے کے قدموں میں رکهے.وہ ریشمی کپڑے سے بنے کوٹ شوز کی شکل کے جوتے تهے.دونوں نے جهک کر وہ جوتے پہنے اور اندر داخل ہوئیں.اس ترک گهر کا فرش لکڑی کا بنا تها.لونگ روم کے فرش پہ بہت خوبصورت قالین بچهے تهے.وہ باته روم ہاته دهونے آئ تو دیکها ،وہاں بیسن اور ٹونٹی وغیرہ نہیں تهے بلکہ ایک طرف قطار میں نل لگے تهے، البتہ باته روم کے فرش پر بهی رگز ( پائیدان ) اور کاؤچ بچهے تهے، حیرت انگیز ! وہ واپس آئ تو ڈائننگ روم میں کهانا لگایا جا رہا تها.ڈی جے جهک کر پیار سے مسز عبدالله کی چه سالہ نواسی عروہ سے کچه کہہ رہی تهی.وہ تین خواتین پہ مشتمل چهوٹا سا کنبہ تها اور چونکہ وہ دونوں لڑکیاں تهیں سو ہالے نے ایسے ترک خاندان کا چناؤ کیا تها ، جس میں کوئ مرد نہ ہو.اسی پل مسز عبدالله سوپ کا بڑا سا پیالا اٹهائے آئیں.ہالے ان کی مستعدی سے مدد کروا رہی تهی." تم کیا کہہ رہی تهیں ، تمهارا یہاں کوئ رشتے دار بهی ہے ؟ " انهوں نے سوپ کا ڈونگا میز پہ رکها.حیا نے ایک نظر اس ملغوبے کو دیکها." جی میری پهپهو ہیں ادهر. " وہ سوپ کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکهتے ہوئے بولی." کدهر رہتی ہیں ؟ " "ادهر " اس نے پرس سے وہ مڑا تڑا کاغذ نکال کر ہالے کو تهمایا.ہالے نے ایک نظر اس کاغذ کو دیکها اور پهر اثبات میں سر ہلا دیا."کل میں ملوا دوں گی تمهیں ان سے ، کهانا شروع کرو." اس نے کاغذ واپس حیا کی جانب بڑها دیا." ڈی جے ! ہم واقعی ترکی میں بهوکوں مریں گے.اس ملغوبے کی شکل تو دیکهو ، مجهے تو پهر سے متلی ہو رہی ہے." حیا جبرا" مسکراتے ہوئے ہولے سے اردو میں بولی.مسز عبدالله نے ناسمجهی سے اسے دیکها." یہ کہہ رہی ہے کہ ان خواتین کا خلوص اسے شرمندہ کر رہا ہے."ڈی جے نے جلدی سے ترجمانی کرتے ہوئے میز کے نیچے سے اس کا پیر زور سے کچلا."اوہ شکریہ " مسز عبدالله مسکرا کر کهانا پیش کرنے لگیں.سوپ دراصل سرخ مسور کی دال کس شوربہ تها اور اردو جیسی ترک میں اسے چوربہ کہتے تهے.وہ ذائقے میں شکل سے بڑه کر بدمزا تها.چند لمحوں بعد ہی دونوں پاکستانی ایکسچنج اسٹوڈنٹس کی برداشت جواب دینے لگی.' حیا مجهے الٹی آنے والی ہے " " اور میں مرنے کے قریب ہوں"وہ بدقت مسکراہٹ چہروں پہ سجائے چمچہ بهر رہی تهیں.ترک خواتین بہت مرغوبیت سے سوپ پی رہی تهیں.چوربہ ختم ہوا تو کهانا آ گیا.وہ اس سے بهی بڑه کر بدمزا.ایک چاولوں کا پلاؤتها.پاکستان میں پلاؤکو " پ" کے اوپر پیش کے ساته بولا جاتا ہے.مگر یہاں اسے "پ" تلے زیر کے ساته بولا جاتا تها.پلاؤ شکل میں ابلے چاولوں سے مختلف نہ تها.ساته چنے کا سالن اور مرغی کی گریوی ، منچورین کی طرح تهی.وڈیڑه دن کی بهوکی تهیں اور اوپر سے یہ بدمزا کهانے مزید حالت خراب کر رہے تهے." خدیجہ ! تمهاری دوست مجهے کچه پریشان لگ رہی ہے،خیریت ؟" مسز عبدالله نے پوچه ہی لیا.پلاؤ کا پیالا بهی ختم ہو چکا تها اور ہم پاکستانی میزبانوں کے برعکس وہ اسے دوبارہ بهرنے کے لیے دوڑی نہیں تهیں.وجہ ان کی خلوص کی کمی نہیں تهی ، بلکہ شاید یہی ان کا طریقہ تها.ڈی جے نے گڑبڑا کر اسے دیکها.سب کهانے سے ہاته روک کر اسے دیکهنے لگے تهے.حیا نے میز تلے آہستہ سے اپنا پاؤں ڈی جے کے پاؤں پہ رکها." فیملی فرنٹ کی ہما، کوئ معقول وجہ بتاؤ ان کو ." " نہیں.....وہ.....دراصل.....حیا... حیا بہت ڈرپوک ہے.اسے سٹریٹ کرائم سے بہت ڈر لگتا ہے.اور یہ پہلی دفعہ اکیلی یورپ آئ ہے، تو یہ پوچه رہی ہے کہ کہیں استنبول میں ہمارا آرگنائزڈ کرمنلز سے تو واسطہ نہیں پڑے گا ؟" حیا خفت سے سر جهکائے لب کاٹتی رہی.وہ خالی ہاته ان کے گهر آئ تهیں اور انہوں نے میز بهر دی تهی، پهر بهی اس کے نخرے ختم ہونے میں نہیں آ رہے تهے.اسے بے حد پچهتاوا ہوا.وہ بات سنبهالنے پہ ڈی جے کی بے حد ممنون تهی." قطعا" نہیں ،استنبول بہت محفوظ شہر ہے." سرخ بالوں والی لڑکی رسان سے بولی." یہاں کی پولیس ایسے لوگوں کو کهلے عام نہیں پهرنے دیتی."بالکل .....استنبول میں قانون کی بہت پاسداری کی جاتی ہے." ہالے نے تائید کی.مسز عبدالله خاموشی سے سنتی رہیں.ان کے چہرے پہ کچه ایسا تها کہ حیا انہیں دیکهے گئ.جب ہالے نور استنبول کی شان میں قصیدہ پڑه کر فارغ ہوئ تو مسز عندالله نے گہری سانس لی." خدا کرے ' تمہارا واسطہ کبهی عبفالرحمان پاشا سے نہ پڑے." حیا نے دهیرے سے کانٹا واپس پلیٹ میں رکها.ایک دم پورے ہال میں اتنا سناٹا چها گیا تها کہ کانٹے کی کانچ سے ٹکرانے کی آواز سب نے سنی." کون پاشا؟" ڈی جے نے الجه کر مسز عبدالله کو دیکها." وہ ممبئ کا ایک اسمگلر ہے' یورپ سے ایشیا اسلحہ اسمگل کرتا ہے.استنبول میں اگر چڑیا کا بچہ بهی لاپتا ہو جائے تو اس میں پاشا کا ہاته ہوتا ہے.بو سفورس کے سمندر میں ایک جزیرہ ہے، بیوک ادا.اس جزیرے پہ اس مافیا کا راج ہے." " اور میری مام کو خواب بہت آتے ہیں." ان کی بیٹی نے خفگی سے ان کو دیکها." یہ لڑکیاں سمجهتی ہیں ، میری عقل میرا ساته چهوڑنے لگی ہے."" بالکل ٹهیک سمجهتی ہیں اور ایکسچینج اسٹوڈنٹس ! کان کهول کر سن لو." ہالے نے قدرے تلملا کر مداخلت کی." استنبول میں ایسا کوئ کرائم سین نہیں ہے، یہ سب گهریلو عورتوں کے افسانے ہیں.یہاں کوئ بهارتی اسمگلر نہیں ہے." دونوں ترک لڑکیاں اپنے تئیں بات ختم کرکےاب سوئٹ ڈش کی طرف متوجہ ہوچکی تهیں.خدیجہ بهی ان کی باتوں پہ مطمئن ہوکر شکر پارے کهانے لگی تهی، مگر حیا کے حلق میں وہ شکر پارے کہیں اٹک سے گئے تهے.ابوظہبی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہ اس نے اس حبشی کے منہ سے پاشا کا نام سنا تها.وہ نہایت مضمحل سا اپنی بیوی سے عربی میں بات کر رہاتها.اپنے بیٹے کے علاج کا ذکر،پاشا کے کسی کام کا ذکر،پیسے کم ملنے کا ذکر،مگر شاید وہ کسی اور کا ذکر کر رہا ہو اور واقعی ترک گهریلو عورتوں کے افسانوں کے مرکز پاشا کا کوئ وجود نہ ہو.الوداعی لمحات میں جب باقی سب آگے نکل چکے تو مسز عبدالله نے دهیرے سے حیا کے قریب سرگوشی کی." یہ لڑکیاں اپنے استنبول کی برائ نہیں سن سکتیں.تمہیں اس لیے بتایا کہ تم کرائم سے ڈرتی ہو اور خوبصورت بهی ہو، خوبصورت لڑکیوں پہ عموما" ایسے لوگ نظر رکهتے ہیں." حیا نے چونک کر انہیں دیکها ان کے جهریوں زدہ چہرے پہ سچائ بکهری تهی." وہ واقعی اپنا وجود رکهتا ہے." وہ بالکل سن سی ہوئ انہیں دیکهے گئ.کیا افواہوں کا خوف مجسم صورت میں ان کے سامنے آگیا تها،یا ان کی عقل واقعی ان کا ساته چهوڑ رہی تهی؟ ❄ شام کے سائے گہرے پڑ رہے تهے.،جب وہ سبانجی یونیورسٹی پہنچیں.سبانجی امرا کی جامعہ تهی.وہاں چار ماہ کے ایک سمسٹر کی فیس بهی دس ہزار ڈالرز سے کم نہ تهی.شہر سے دور ، مضافات میں واقع وہ قدرے گولائ میں تعمیر کردہ عمارت بہت پرسکون سی دکهتی تهی.چونکہ وہ جگہ استنبول شہر سے قریبا" پینتالیس منٹ کے فاصلے پہ تهی، اس لیے سبانجی میں ڈے اسکالرز نہیں ہوتے تهے.ان کے تمام طلبہ و طالبات بشمول ہالے نور جیسے لوگوں کے، جن کے گهر استنبول میں ہی تهے،ہاسٹل میں رہائش پذیر تهے.یونیورسٹی کی عمارت سے دور برف سے ڈهکے میدانوں میں ایک جگہ تهوڑے تهوڑے فاصلے پہ اونچی عمارتیں کهڑی تهیں.وہ ان کے رہائشی بلاکس تهے.انگریزی حرف ایل کی صورت کهڑی تین تین منزلہ عمارتیں ،جن کے کمروں کے آگے بالکونی بنی تهیں.چه کمرے ایک کی ایک لکیر پہ تهے اور چه دوسری لکیر پہ تهے." تمہارا کمرا دوسری منزل پہ ہے." ہالے نے اس کا سامان گاڑی سے نکالتے ہوئے بتایا.حیا اور ڈی جے دوسرا بیگ گهسیٹ کر لا رہی تهیں.ایل کی شکل کا بلاک جس کو ہالے بی ون کہہ رہی تهی،کے باہر گولائ میں چکر کهاتی سیڑهیاں کهلے آسمان تلے بنی تهیں ، جو اوپر تک لے جاتی تهیں.لوہے کی ان سیڑهیوں کے ہر دو زینوں کے درمیان خلا تها اور زینوں پہ برف کی موٹی تہ تهی.ذرا سا پاؤں پهسلے اور آپ کی ٹانگ اس گیپ میں سے نیچے پهسل جائے.وہ تینوں گرتی پڑتی بمشکل حیا کا سامان اوپر لائیں." کمرا تو اچها ہے،ہم یہاں رہیں گے ؟" حیا نے ہالے کی تهمائ چابی سے دروازہ کهول کر دهکیلا تو بے اختیار لبوں سے نکلا." ہم نہیں ،صرف تم ، کیونکہ خدیجہ کا بلاک بی ٹو ہے.وہ جو سامنے ہے." اس نے انگلی سے دور برفیلے میدان میں بنی عمارت کی جانب اشارہ کیا." کیا مطلب ، میں ادهر اکیلی ؟" وہ دنگ رہ گئ." بعد میں تم بدلوا سکتی ہو آفیسر سے کہہ کر.ابهی تم آرام کرو،ہر کمرے میں چار اسٹوڈنٹس ہوتے ہیں.ہر سٹوڈنٹ کی ٹیلی فون ایکسٹینشن اس کی میز پہ ہوتی ہے.آج کل چهٹیاں ہیں، اکثر طالب علم اپنے گهر گئے ہوئے ہیں.تمہارا کمرا خالی ہے، مگر تم جا کر اپنے بیڈ پر ہی سونا ، ترک لڑکیوں کے بستر پہ کوئ سو جائے تو وہ بہت برا مانتی ہیں.کوئ مسئلہ ہوتو میرا بی فور میں ہے،اوکے؟" مسکرا کر وہ بولی تو حیا نے سرہلا دیا.ڈی جے نے بے چارگی سے اسے دیکها اور ہالے کے ہمراہ سیڑهیاں اترنے لگی " ہالے ! سنو ،اس عمارت کے پیچهے کیا ہے ؟" کسی خیال کے تحت اس نے پکارا.ہالے مسکرا کر پلٹی اور بولی " جنگل ! " پهر وہ دونوں زینے اتر گئیں.حیا نے اندر کمرے میں قدم رکها.کمرا خوبصورتی سے آراستہ تها.ہر دیوار کے ساته ایک ایک ڈبل اسٹوری بینک رکها تها.عموما" ایسے بینکس میں نیچے ایک بیڈ اور اوپر بهی ایک بیڈ ہوتا ہے ،مگر اس میں نیچے بڑی سی رائٹینگ ٹیبل بنی تهی.اس کے ساته ہی لکڑی کی سیڑهی اوپر جاتی ،جہاں ایک آرام دہ بیڈ تها.میز پہ ایک ٹیلی فون رکها تها.وہ چاروں بینکس کو دیکهتی اپنے نام کی میز کی کرسی کهینچ کر نڈهال سی بیٹه گئ.وہ ایک تهکا دینے والا دن ثابت ہوا تها ، مگر ابهی وہ تهکن کے بجائے عجیب سی اداسی میں گهری تهی.غیر ملک ،غیر خطہ ،غیر جگہ اور تنہا کمرا.جس کے پیچهے جنگل تها.اسے جانے کیوں بے چینی ہونے لگی.وہ فریش ہونے کے لیے اٹهی اور دروازے کی طرف بڑهی ،تاکہ باہر کہیں باته روم ڈهونڈے ،ابهی اس نے دروازہ کهولا ہی تها کہ دو کمرے چهوڑ کر ایک کمرے کا دروازہ کهلا،اس میں سے ایک لڑکا بیگ اٹهائے نکل رہا تها.اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پهر مقفل کر دیا.گرلز ہاسٹل میں لڑکا ؟ اگر پاکستان میں ہوتی تو یقینا" یہی سوچتی ،مگر یہ بات تو سبانجی کے پراسپکٹس میں پڑه چکی تهی کہ وہ مخلوط ہاسٹل تها.البتہ ایک کمرے کے اندر صرف ایک صنف والے افراد ہی رہ سکتے تهے.وہ بددل سی ہو کر واپس کرسی پہ آبیٹهی.سامنے والی دیوار پہ ایک سفید اور سیاہ تصویر آویزاں تهی، پنسل سے بنایا گیا وہ خاکہ ایک کلہاڑے کا تها، جس کے پهل سے خون کی بوندیں گر رہی تهیں.خاکہ نے رنگ تها، مگر خون کے قطروں کو بےحد شوخ سرخ رنگ سے بنایا گیا تها.اس نے جهرجهری لے کر دوسری دیوار کو دیکها.وہاں ایک لڑکی کے چہرے کا بےرنگ پنسل سے بنا خاکہ ٹنگا ہوا تها.وہ تکلیف کی شدت سے آنکهیں میچے ہوئے تهی ، اس کی گردن پہ چهری چل رہی تهی.اور ادهر سے بهڑکیلے سرخ خون کے قطرے ٹپک رہے تهے.وہ مضطرب سی اٹه کهڑی ہوئ.ان تصاویر والی دیوار کے ساته لگے بینک کی میز پہ بہت سے چاقو اور چهریاں قطار میں رکهے تهے.ہر سائز ،ہر قسم اور ہر دهار کا چاقو ،جن کے لوہے کے پهل مدهم روشنی میں بهی چمک رہے تهے.وہ ایک دم بہت خوف زدہ ہو کر باہر لپکی.کوریڈور میں اندهیرا تها.دور نیچے برف سے ڈهکے میدان دیکهائ دے رہے تهے.وہ تیزی سے سیڑهیوں کی جانب بڑهی، جیسے ہی اس نے پہلے زینے پہ قدم رکها اوپر چهت پہ لگا بلب ایک دم جل اٹها.وہ ٹهٹک کر رکی اور گردن گهمائ.کوریڈور خالی تها،
وہاں کوئ نہیں تها.پهر بلب کس نے جلایا؟اس کی گردن کی پشت کے بال کهڑے ہونے لگے.دهڑکتے دل کے ساته وہ پلٹی اور زینے اترنے لگی.تب ہی ایک دم ٹهاہ کی آواز کے ساته اوپر کوئ دروازہ بند ہوا.اس نے پتهر بن جانے کے خوف سے پیچهے مڑ کر نہیں دیکها اور تیزی سے سیڑهیاں پهلانگتی چلی گئ.آخری زینے سے اتر کر اس نے جیسے ہی برف زار پہ قدم رکها ، اوپر بالکونی میں جلتا بلب بجه گیا.باہر زور و شور سے برف گر رہی تهی.تازہ پڑی برف سے اس کے قدم پهسلنے لگے تهے.سفید سفید گالے اس کے بالوں اور جیکٹ پہ آ ٹهہرے تهے.وہ گرتے پڑتے ڈی جے کے بلاک بی ٹو کی طرف بڑه رہی تهی.اسے پہلی دفعہ اپنی مانگی گئ کسی دعا پہ پچهتاوا ہوا تها ، "کاش! آج یہ برف نہ پڑتی." بی ٹو کی دوسری منزل کی بالکونی میں وہ دم لینے کو رکی.اسے منزل یاد تهی، مگر کمرے کا نمبر بهول چکا تها.اس نے ہونٹوں کے گرد ہاتهوں کا پیالا بنا کر زور سے آواز دی." ڈی جے ....تم کہاں ہو ؟" "ڈی جے ......" ایک دروازہ جهٹ سے کهلا اور کسی نے ہاته سے پکڑ کر اسے اندر کهینچا." اگر تم دو منٹ مزید تاخیر کرتیں تو میں مر چکی ہوتی حیا !" ڈی جے بهی اس کی طرح تنہا اور خوفزدہ لگ رہی تهی.مگر اب اس کمرے میں آکر حیا کا سارا خوف اڑن چهو ہوچکا تها." ڈرو مت ، تمہارے لیے ہی تو آئ ہوں.مجهے پتہ تها ، تم اکیلی ڈر رہی ہوگی ،ورنہ میرا کیا ہے، میں تو کہیں بهی رہ لیتی ہوں." وہ لاپرواہی سے شانے اچکا کر بولی ، پهر بے اختیار جمائ روکی." مگر ڈی جے ! میں سوؤں گئ کدهر ؟" " ان تین خالی بیڈز پہ کانٹے بچهے ہوئے ہیں کیا ؟" " مگر ہالے نے کہا تها کہ ترک لڑکیاں....." " فی الحال یہاں نہ ہالے ہے اور نہ ہی ترک لڑکیاں...." " مگر الله تو دیکه رہا ہے ! " غیر ملک میں اس کا سویا ہوا خوف_ خدا جاگ اٹها تها." اور مجهے امید ہے کہ الله تعالی' ہالے کو پتہ نہیں لگنے دے گا.اب بستر میں گهسو اور سو جاؤ.خدا جانے مجهے کس پاگل کتے نے کاٹا تها ، ترکی آگئ.آگے جهیل ،پیچهے جنگل ،اتنی وحشت ...." ڈی جے کمبل میں لیٹے بڑبڑائے جارہی تهی.نیند سے تو وہ بهی بے حال ہونے لگی تهی، سو ڈی جے کے قریبی بینک کی سیڑهیاں پهلانگ کر اوپر کمبل میں لیٹ گئ."حیا ...." وہ کچی نیند میں تهی، جب ڈی جے نے اسے پکارا." ہوں ؟" اس کی پلکیں اتنی بوجهل تهیں کہ وہ انہیں کهول نہیں پا رہی تهی." سامنے والے کمرے میں بڑے ہینڈسم سے لڑکے رہتے ہیں، میں نے انہیں کمرے میں جاتے دیکها ہے." " اچها...." اس کا ذہن غنودگی میں ڈوب رہا تها."اور سنو ،وہ پلاؤ اتنا برا بهی نہیں تها، ہمیں صرف سفر کی تهکاوٹ کے باعث برا لگا ،اور سنو ....." مگر ڈی جے کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی وہ سو چکی تهی.جاری هے.....


 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India