اُردو ناول آن لائن

Showing posts with label *** Urdu Aqwaal - اُردو اقوال ***. Show all posts
Showing posts with label *** Urdu Aqwaal - اُردو اقوال ***. Show all posts

Tuesday, 3 October 2017

محبّت دینا بڑا مشکل کام ہے -



بیٹا وہاں جا کر لوگوں کو اپنا علم عطا کرنے نے بیٹھ جانا ، ان کو محبّت دینا - میں نے کہا سر ، محبّت تو ہمارے پاس گھر میں دینے جوگی بھی نہیں ، وہ کہاں سے دوں - میرے پاس تو علم ہی علم ہے -
کہنے لگے نہ انھیں علم نہ دینا - انھوں نے محبت سے بلایا ہے ، محبّت سے جانا اگر ہے تو لے کر جانا -

لیکن ہم تو ظاہر علم سکھاتے ہیں کہ اتنا اونچا روشندان رکھو ، مویشی کو اندر مت باندھو ، ناک سے سانس لو منہ سے نکالو - وغیرہ وغیرہ -
اور یہ محبّت ! میں نے کہا ، جی یہ بڑا مشکل کام ہے - میں یہ کیسے کر سکونگا - میں گیا کوششیں بھی کیں لیکن بلکل ناکام لوٹا -
کیونکہ علم عطا کرنا ، اور نصیحتیں کرنا بہت آسان ہے - اور محبّت دینا بڑا مشکل کام ہے -
از اشفاق احمد زاویہ ١ بابا کی تعریف صفحہ ٥٨

Wednesday, 27 September 2017

احساس اپنا ثبوت آپ ہے ۔



بات دعویٰ کی نہیں بات احساس کی ہے، اور احساس کسی مزید مشاہدے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ احساس اپنا ثبوت آپ ہے ۔ جب ہم وادئ احساس میں قدم رکھتے ہیں ، تو بس ، اس سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں رہتا ۔ ہم احساس کو قابو کرتے ہیں اور احساس ہمیں قابو کر لیتا ہے ۔
احساس شائد اپنی ہی آواز میں اپنا نوحہ بھی ہے اور اپنا قصیدہ بھی ۔ اس آواز کو جتنا بند کرو، یہ اتنی ہی سربلند ہوتی ہے ۔ یہ آواز ہی طلسمِ ہوشربا ہے ۔ یہ آواز آہ و فغانِ نیم شب کا پیغام بھی لاتی ہے اور حرفِ رائیگاں بھی نوشت کرتی ہے۔ خاموشی میں ، رات کے سناٹوں میں ، یہ آواز شور مچاتی ہے ۔ سینے کے اندر سے چلّاتی ہے ۔ مجھے آزاد کرو ، مجھے بولنے دو ، میں مرگئی تو تم بھی مرجاوٴ گے ۔ آوازیں بند ہوجائیں تو سمجھ لیجئیے ، کوئی سانحہ گزر رہا ہے ۔

حضرت واصف علی واصف رح



روح کا تلفظ اور ہے اور آپ کے قلب کا تلفظ اور ہے



ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ ایک درویش کی ہمیں اطلاع ملی ، اسکی زیارت کیلئے گئے، صبح کی نماز کا وقت تھا وہ بزرگ جو میزبان تھے انہوں نے جماعت کرائی۔ یہ جو مہمان درویش تھا ، اس نے بھی نماز پڑھی، اس نے دیکھا کہ نماز پڑھانے والے کا تلفظ صحیح نہیں ہے۔ اس درویش نے نماز توڑ کر اپنی الگ پڑھ لی کیونکہ وہ عربی ٹھیک نہیں پڑھ رہا تھا، الفاظ کی زیر زبر کا فرق آگیا تھا، تو یہ درویش انہیں ملے بغیر چلے آئے۔ وہ غصے میں جو مہمان درویش تھا وہ کہتا ہے کہ میں جنگل سے گزر رہا تھا آگے دیکھتا ہوں تو ایک شیر میری طرف آرہا ہے پوری طاقت کے ساتھ۔ اس لئے میں بہت ڈرا۔ پھر وہ جو میزبان بابا تھا چھڑی ہاتھ میں لے کر آگیا اور کہا تم ہمارے مہمان کو ڈراتے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی، یہ ہمارا مہمان ہے، وہ شیر غرایا اور چلا گیا، مہمان ڈر گیا، میزبان سے کہتا ہے سرکار یہ طاقت آپ نے کہاں سے حاصل کی؟ انہوں نے فرمایا تجھے طاقت سے کیا تو اپنا تلفظ درست کر اور اپنی نماز الگ پڑھا کر۔ مہمان کا نام تھا داتا گنج بخش رح آپ لکھتے ہیں کہ واقعہ میرے ساتھ ہوا۔تو صورت اتنی سی ہے کہ روح کا تلفظ اور ہے اور آپ کے قلب کا تلفظ اور ہے۔ کیا مقفٰی ہونے سے اللہ زیادہ خوش ہوجاتا ہے اور کیا مرصع ہونے سے اللہ زیادہ خوش ہو جاتا ہے؟ سیدھا سادا "رب" ہے، پنجابی زبان والا "رب"کہو یا ہندی والا "رب" کہو تب بھی بات آسان ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ جس طرح بھی پکارو گے میں تمہاری بات سمجھتا ہوں۔ صرف وہی تو ہے جو سمجھتا ہے۔اتنی عربی کافی ہے جتنی تم پڑھتے رہتے ہو۔۔واصف علی واصف

Monday, 25 September 2017

جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے

"جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے علم اس کے قلب میں جگہ نہیں پاتا۔"(امام ابو حنیفہ (رحمتہ اللہ علیہ


Sunday, 24 September 2017

رنگین خواب دیکھنے سے کہیں بہتر ھے کہ



رنگین خواب دیکھنے سے کہیں بہتر ھے کہ انسان زندگی کی بلیک اینڈ وائٹ حقییقتوں کا سامنا کرے۔
”مستنصر حسین تارڑ“

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India