Showing posts with label Yaaram - ناول یارم. Show all posts
Showing posts with label Yaaram - ناول یارم. Show all posts
Monday, 25 September 2017
یارم از: سمیرا حمید قسط نمبر 24
یارم از: سمیرا حمیدقسط نمبر 24****************
۔ "روس کی طرح ٹھنڈ اور برف کو جانتی ہو کیا"? "ہاں امرحہ نے ساتھ زور زور سے سر بھی۔ہلایا ۔ "کیا"- ٹھنڈ ٹھنڈ ہوتی ہے برف برف ہوتی ہے ۔" کیا جواب دیا تھا اس نے ۔ " ٹھنڈ ٹھنڈ نہیں ہو تی برف برف نہیں ہوتی امرحہ ،موت ہوتی ہے سفید موت ،سردیوں میں پانی پھینکو تو تو وہ وہیں فضا میں ہی جم جائے ۔ تمہارے ملکوں کے لوگ وہیں جاتے ہی مر جاتے ہیں ویسے تمہاری دنیا کے بارے میں معلومات اتنی کم کیوں ہیں ۔"?"میں جانتی ہوں روس کہاں ہے "- "روس میں کیا کیا ہے "یہ جانتی ہو۔ پاکستان میں کیا کیا ہے تم۔یہ جانتی ہو ؟""پاکستان میں کیا کیا نہیں ہے ۔میں یہ بھی جانتی ہوں ۔تم کیا چاہتی ہو میں ضیاء سے بات شروع کروں یا عبداقدیر سے۔کہو تو میں کہوٹہ کے بارے میں بھی بہت کچھ بتا سکتی ہوں ۔میں تمہارے ان چند شہروں کے نام بھی بتا سکتی ہوں ،جو زیر زمین پٹرول کے دریا رکھتے ہیں لیکن جن کے بارے میں خود پاکستانی نہیں جانتے ۔کیونکہ انہوں نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہيں کی ۔وہ صرف ان۔رپورٹوں کو مانتے ہیں جو ا نہیں نام نہاد غیر ملکی بنا کر دیتے ہیں ۔وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان ان۔ذرخیز وں کو کام میں لا کر ترقی کر ے۔وہ ایسا تب کریں گے جب انہیں یقین ہو جائے گا کہ ان۔ذرخیز وں کے نکلتے ہی انہیں ان کے ٹھیکے مل جائیں گے ۔یا ان پر انکا قبضہ ہو سکے گا ۔ہمارے روس میں میں ایک بات کہی جاتی ہے پاکستانی اس وقت سیلوٹ کیے جانے کے قابل تھے جب وہ ہندوستانی سے پاکستانی بنے۔تھے ۔اور تب جب وہ ایٹمی طاقت بنے تھے اور بس پاکستانیوں نے یہ سیلوٹ دوبارہ نہیں لی۔" **********امرحہ جانتی تھی کہ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔خود وہ یہ تک نہ جانتی تھی کہ پاکستان کس سن میں ایٹمی طاقت بنا ۔ "تم نے اسکے ساتھ کچھ زیادہ ہی کر دیا ۔"امرحہ کو اسے پرانے موضوع پر واپس لانا ہی پڑا ۔وہ مزید ویرا کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتی تھی ۔اگر ویرا پاکستان کو لے کر اس سے کوئی عام سا سوال پوچھ لیتی اور اسے اسکا جواب بھی نہ آتا تو برا ہوتا ۔ کم سے کم ایک پاکستانی کو تو پاکستان کے بارے میں معلوم ہو نا چاہیے ۔ "زیادہ نہیں بلکہ بالکل ،ٹھیک کیا ٹھنڈے پانی نے اسے کے اندر کے گندے کیڑے کو بھگو بھگو کر کچل ڈالا ہو گا ۔"" تم بہت بہادر ہو ویرا""اگر مجھے ایسے برف میں دبایا نہ جاتا تو میں کبھی ایسی بہادر نہ ہوتی-" ایک لمحے کے لیے امرحہ بالکل خاموش ہو گئی -ایک ویرا تھی نسے بہادر بنایا گیا تھا- ایک امرحہ تھی جسے مسل مسل رلایا گیا تھا-وہ دونوں انسان تھیں ..دونوں لڑکیاں لیکن ان میں سے ایک کئی گنا مضبوط اور ایک قدم آگے تھی اور دوسری کئی گنا کمزور اور بہت پیچھے تھی-دونوں انسان ہی تھیں پھر بھی برابر نہیں تھی۔تو تمہارے فادر تمہاری طاقت ہے؟امرحہ کو اس پر رشک آ رہا تھا.وہ میرے استاد ہیں.انہوں نے اپنی طاقت مجھے نہیں دی بلکہ میرے اندر کی طاقت کو میرے اندر سے بیدار کیا ہے.جب ایک باپ اپنی بیٹی کے اندر اس طاقت کو بیدار کرتا ہے تو زندگی کی ہر بڑے میدان میں فاتح بننے کے لیے اپنی بیٹی کو تیار کر لیتا ہے.اور یہ پاور ایک باپ اپنی بیٹی کو دے سکتا ہے. انہوں نے مجھے سکھایا کہ بزدلی اور بہادری دونوں کا تعلق دماغ سے ہے جسم سے نہیں.اگر وہ دماغ کو نڈر بنا لیا جائے تو جسم ہر گز ڈرپوک نہیں بنتا وہ کہتے ہیں نا کوئی آپ کو انگلی لہرا کر دھمکائے آپ اسے مکا مار کر خاموش کروا دیں.تمہیں کوئی بھی ردعمل میں تقصان پہنچا سکتا ہے.ہاں ایسا تو ہو سکتا ہے تو کیا نقصان کے خوف سے میں بزدل بنی رہوں خاموش رہوں. ایسا میں نہیں کر سکتی ویسے تمہیں تمہارے پاپا نے کیا سکھایا ہے امرحہ؟ ایک گہرا سایہ امرحہ پر سے ہو کر گزرا. بابا رات گئے گھر آتے تھے.انہیں دنیا میں ایک ہی چیز کی فکر رہتی تھی اپنی کارپٹ شاپ کی.وہاں رکھے ہر چھوٹے پڑے کارپٹ کی. بیگمات کے گھر وقت پر ڈلیوری کی.حتی کہ شاپ پر لیوز ہو جانے والے انرجی سیور تک کی بھی.***********یونیفارم میں ایک دن ان کے سامنے اپنی وین کے لیے نکلنے لگی تو انہوں نے پوچھا. کتنے بجے چھٹی ہوتی ہے تمہاری اسکول سے؟ میں اسکول نہیں کالج جاتی ہوں اب کہہ کر وہ وین میں آکر بیٹھ گئی اور بمشکل اپنے رونے پر قابو پا سکی.جس باپ کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اس کی بیٹی اسکول نہیں کالج جارہی ہے. وہ باپ اس کی تکلیفوں کے بارے میں کیا جان سکتا تھا.جس باپ کی بابت ویرا پوچھ رہی وہ اس کے کے لیے دادا بنے تھے.میں بارہ سال کی تھی تو بری طرح سے رو رہی تھی. میرے دادا مجھے بہت بڑے پارک میں لے گئے.وہ سال کے گرم ترین دنوں میں سے ایک تھا.کیا تم گرم ترین دنوں کا مطلب جانتی ہو؟ امرحہ نے رک کر ویرا سے پوچھا.ہاں!اتنا گرم کہ انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے. ویرا سب جانتی تھی.ہاں یہ وہی دن تھے.پارک میں لے جا کر میرے دادا نے مجھے وہ مردہ پرندے دکھائے جو گرمی سے مر چکے تھے.وہ مجھے ایک درخت کے نیچے لے کر بیٹھ گئے اور انہوں نے مجھے پرندوں کو دیکھتے رہنے کے لیے امرحہ کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک چڑیا گرمی کی تاب نہ لا کر مر گئی. میرے دادا مجھے اس کے قریب لے گئے اور مجھ سے پوچھا.امرحہ!مرنے سے پہلے کیا تم نے ان چڑیا کو روتے آہ بکا شکوے کرتے دیکھا.گرمی نے اسے اتنی تکلیف دی کہ اس کی میٹھی چوں چوں بھدی آواز میں بدلی بلکہ بیچاری تو خاموش ہو گئی پھر تو یہ معصوم سی چڑیا انسانوں سے بڑھ کر ہوگئی.دادا نے چند چھوٹے کنکر اٹھا کر پرندوں کو مار دیے وہ خاموشی سے پھر سے اڑنے لگے.انہوں نے اپنی جگہ بدل لی لیکن واویلا نہیں کیا.نہ روئے نہ چلائے.پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ کائنات کی ادنی مخلوق حشرات اور دوسرے جانور کبھی انسان کی طرح آہ بکا نہیں کرتے.انسان کی طرح روتے چلاتے نہیں واویلا نہیں مچاتے.لیکن کائنات کی ارفع و اعلی مخلوق انسان یہ کام بہت شوق سے کہتا ہے ایسے گلا پھاڑتا ہے جیسے کائنات کے رب نے قلم کے دکھوں کے سب ہی پہاڑ اس پر توڑ دیے ہوں.ایک اکیلا وہی اٹھا دیا ہے.وہ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ دکھ تکلیف اسے کتنا فائدہ دے رہی ہے.اس کی استاد بنی اسے کیا کیا سکھا رہی ہے.بس رونے چلا جاتا ہے. تو تمہارے دادا کے پاس ساری مشرقی حکمت ہے؟ نہیں ان کے پاس صبراور علم ہے تھوڑا سا ....وہ ایک اچھے استاد رہے ہیں اور میں ان کی بری شاگرد.ہم اپنے استاد کو وہاں ناکام کر دیتے ہیں جب ہم ان کی سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں.ہر دن ہر رات وہ مجھے ایسی ہی باتیں سناتے لیکن میں نے تو اپنے وجود کو جیسے پتھر بنا لیا تھا.قطرہ قطرہ سوجھ بوجھ کی کوئی بھی بوند اس پر اثر نہیں کر رہی تھی.اب تم سب کو دیکھتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ اپنی زندگی کن اندھیروں میں گذارتی رہی ہوں ذرا سی ہمت کرتی تو ان ان اندھیروں سے نکل سکتی تھی.کیا ہوا تمہارے ساتھ ماضی میں؟کچھ بہت برا؟ تم سنو گی تو ہنسو گی.میں ہنسنا چاہتی ہوں. اس نے سنجیدگی سے کہا.لیکن بتاتے بتاتے میں رو پڑوں گی. اس نے بھی سنجیدگی سے ہی جھیل میں بطخیں ایسے سکون سے تیر رہی تھیں جس سکون سے انسان کا واسطہ کم ہی پڑتا ہے۔**********“SKYPE IS GOD SEND” اور کی قائل بھی تھی. دادا ہر دن اس سے بات کر کے اسے دیکھ کر ہی سوتے تھے.اس نے موبائل لے لیا تھا اور چلتے پھرتے ہر اوقات میں دادا سے سے اسکائپ پر بات کر لیا کرتی موبائیل کے ذریعے ہی اس نے دادا کو اپنی کلاس اپنی کلاس فیلوز اور یونیورسٹی دکھائی تھی. کلاس میں سر کے آنے سے پہلے اس کی کلاس فیلوز نے ہاتھ لہرا کر یک زبان ہو کر کہا تھا.ہیلو گرینڈ پا اور گرینڈ پا اتنے خوش ہوئے کہ پھولے نہیں سمائے تھے."بڑے اچھے لوگ ہیں امرحہ!یہ سب تو" وہ بہت خوش ہوئے.ہاں جی! بہت ہی زیادہ اچھے وہ قہقہ لگاتی. اس نے دادا کو آئس لینڈ کی وہ خاتون بھی دکھائی جو دو کم ستر سال کی عمر میں ماسٹرز کر رہی تھی.اور یونیورسٹی کے کافی اسٹوڈنٹ اور اپنی کلاس کے پروفیسر سے یہ درخواست کرتی پائی جاتی کہ ان کو ان کی عمر بلائے طاق رکھ کر انہیں بھی دوسرے اسٹوڈنٹس کی طرح عام اسٹوڈنٹ سمجھا جائے.انہیں کوئی رعایت نہ دی جائے وہ اس وقت بھی برا مان جاتی بھی جب لائبریری میں کوئی ان سے یہ کہتا تھا کہ وہ چھ یا آٹھ کتابیں پر مشتمل سیٹ کو ان کے ہاسٹل روم تک چھوڑ آتا ہے.یونیورسٹی کو ان سے بہت توقعات تھی اور سب کا ماننا تھا کہ وہ ضرور دنیا بھر میں مانچسٹر یونیورسٹی کا نام روشن کریں گی.اور کانووکیشن ڈے پر یقینا دنیا بھر کا میڈیا مسز رودھال کی شاندار کامیابی کو کوریج دینا فرض سمجھے گا.دادا آپ بھی یونیورسٹی آ جائیں یہاں چھوٹا موٹا کورس ہی کر لیں. ***************URDU CORNER OFFICIAL***************اس عمر میں میں کیا کروں گا کورس کر کے.یہی سوال میں نے بھی مسز ریچل سے پوچھا تھا کہ اس عمر میں تاریخ کو کھنگال کر اس میں گھس کر اور پھر اس میں ڈگری لے کر کیا کریں گی تو انہوں نے کہا.عمر کوئی چیز نہیں ہوتی اصل چیز زندگی ہوتی ہے اور میرے وجود میں زندگی ایسے دوڑتی ہے جیسے کسی نومولود بچے کے جسم میں تو جب زندگی کا معنی ایک ہے زندہ رہنا تو میں کسی شاندار مقصد کو لے کر زندہ کیوں نہ رہوں اس سے پہلے میرا مقصد میرے بچوں میرے خاندان کی پرورش اور دیکھ بھال تھا اب میں ان سے فارغ ہوگئی تو میں نے ایک نیا مقصد بنا لیا.اس میں عمر اور نفع نقصان کی تو بات ہی نہیں ہے.یہ تو مقصد پا لینے کی بات ہے جو میں پا رہی ہوں. واوا اسے سالگرہ وش کر رہے تھے ۔جب وہ کچن میں سادھنا کے ساتھ ناشتہ بنا رہی تھی ۔اس نے موبائل سٹینڈ میں موبائیل لگا دیا تھا ۔اور کام۔کرتے ساتھ ان سے باتیں کرتی رہی تھی ۔سادھنا نے سنا تو اسے گلے لگایا اور کیک بنانے کا وعدہ کیا ۔ویرا نے فی الحال ایک سرخ ربن اسکی کلائی پر باندھ دیا ۔اور ایک اپنی کلائی میں کہ یاد رہے کے ایک نے گفٹ لینا ہے اور ایک نے دینا ہے ۔این۔اون۔نے بھی جیسے اپنا علامتی چپ کا روز ہ۔توڑا اور اسے جاپانی گیت گا کر وش کیا ۔نشست گاہ میں کسی چھوٹی بچی کی طرح ہل ہل۔کر گاتی ،وہ ان تین خواتین کو حیران کر رہی۔تھی ۔لیڈی مہر اسے تھوڑی تلے ہاتھ رکھے دیکھتی رہی۔جب وہ گا چکی۔تو لیڈی مہر نے پر زور سر ہلا کر کہا ،"مجھے امید تھی۔کے۔تمہارے اندر ضرور کوئی نہ کوئی کلا موجود ہے ۔رات کو تم مجھے چند ایسے ہی گیت سنانا۔"امرحہ کے ہاتھ پر کس کر کے این نون پھر سے پرانی این اون بن گئی جو سال میں ایک بار مشکل سے کوئی غیر ضروری بات کیا کرتی تھی ۔لیڈی مہر نے رات کے ڈنر کے۔اہتمام کا امرحہ سے وعدہ کیا ۔اور یونیورسٹی میں کوئی رنگ برنگے پھول لئے اسکا انتظار کر رہا تھا ۔وہ اپنی کلاسز لے چکی تھی اور اپنے اپارٹمنٹ لی حدود سے نکلی ہی تھی کہ عالیان ایک دم۔سے اسکے آگے آگیا ۔شاید وہ بھاگتا ھوا آیا تھا ۔"یہ لو وقت تمہیں زندہ رکھے "۔"وقت مجھے زندہ رکھے "وہ ذرا نہ سمجھی۔"تمہاری سالگرہ ہے نہ آج تو تمہیں دعا دے رہا ہوں جسے وقت زندہ رکھتا ہے اسکی عمر ہزاروں سال کئی صدیاں ہوتی ہے ۔**********"وہ مسکرانے لگی "تمہیں کس نے بتایا "?"میں نے خود کو خود ہی بتایا ۔"اسے لگا اسکی تعریف کی گئی ہے ۔"میری سالگرہ کا کس نے بتایا پا گل"-اوہ سادھنا نے اسکا فون۔آیا تھا کیک بنانے کی ترکیب پوچھ رہی تھی ۔"آخر یہ برطانوی لوگوں کو گھر میں بیکنگ کر نے۔ کا کیوں شوق ہے '"? "سادھنا ہندوستانی ہے "اس نے اطاعت گزار بچوں کی طرح اسے کہا کہ۔اسے برا نہ لگے ۔امرحہ نے اسکے لائے گلدستے میں سے جو کسی باغ سے توڑے لگتے تھے سفید ،نیلے ،سرخ پھول چن لیے اور پیلے پھول اسے واپس کر دے ۔وہ سوالیہ اسے دیکھنے لگا۔وہ دونوں اب یونیورسٹی کی محراب کے پیچھے کھڑے تھے ۔سامنے آکسفورڈ روڈ رواں دواں تھی ۔"یہ واپس کیوں کیے ؟"عالیان۔کو برا لگا۔پیلے پھول کسی کو نہیں دیتے یہ نفر ت اور ناپسندیدگی کی علامت ہو تے۔ہیں ۔ہم بہت اچھے دوست نہ سہی ایسے دشمن بھی نہیں کہ میری سالگرہ کے دن۔مجھے ایسے پھول دے جائیں اور۰۰۰۰۰۰۰"۔ "نفرت ناپسندیدگی کی علامت یہ پھول ?وہ بھرپور سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔"ہاں بالکل "وہ بھی مکمّل سنجیدگی سے جواب دے رہی ہیں تھی ۔"تم۔سے کس نے کہا یہ امرحہ"? "کیا مطلب ہے تمہارا کہ کس نے کہا "? یونیورسٹی کی تاریخی محراب کے نیچے ایک نئی کلاس لگی تھی ۔"تم سے کس نے کہا کہ یہ نفرت اور ناپسندیدگی کی علامت ہیں ؟۔" "سب کو معلوم ہے یہ " اس نے کندھے اچکائے جیسے یہ جتا رہی ہو چچ چچ تمہیں اتنی سی بات نہیں معلوم ۔۔۔۔افسوس ۔۔۔ویسے تم بڑے ماسٹر مائنڈ بنے پھرتے ہو ۔"سب کون ?" "اف یہ ساری دنیا سب اور کون " ایک دم سے امرحہ۔کے تاثرات میں غصے اور کوفت کا گراف بڑھنے لگا۔پھر بھر پور دل سے قہقہہ لگایا ۔******************جاری ہے.
۔ "روس کی طرح ٹھنڈ اور برف کو جانتی ہو کیا"? "ہاں امرحہ نے ساتھ زور زور سے سر بھی۔ہلایا ۔ "کیا"- ٹھنڈ ٹھنڈ ہوتی ہے برف برف ہوتی ہے ۔" کیا جواب دیا تھا اس نے ۔ " ٹھنڈ ٹھنڈ نہیں ہو تی برف برف نہیں ہوتی امرحہ ،موت ہوتی ہے سفید موت ،سردیوں میں پانی پھینکو تو تو وہ وہیں فضا میں ہی جم جائے ۔ تمہارے ملکوں کے لوگ وہیں جاتے ہی مر جاتے ہیں ویسے تمہاری دنیا کے بارے میں معلومات اتنی کم کیوں ہیں ۔"?"میں جانتی ہوں روس کہاں ہے "- "روس میں کیا کیا ہے "یہ جانتی ہو۔ پاکستان میں کیا کیا ہے تم۔یہ جانتی ہو ؟""پاکستان میں کیا کیا نہیں ہے ۔میں یہ بھی جانتی ہوں ۔تم کیا چاہتی ہو میں ضیاء سے بات شروع کروں یا عبداقدیر سے۔کہو تو میں کہوٹہ کے بارے میں بھی بہت کچھ بتا سکتی ہوں ۔میں تمہارے ان چند شہروں کے نام بھی بتا سکتی ہوں ،جو زیر زمین پٹرول کے دریا رکھتے ہیں لیکن جن کے بارے میں خود پاکستانی نہیں جانتے ۔کیونکہ انہوں نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہيں کی ۔وہ صرف ان۔رپورٹوں کو مانتے ہیں جو ا نہیں نام نہاد غیر ملکی بنا کر دیتے ہیں ۔وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان ان۔ذرخیز وں کو کام میں لا کر ترقی کر ے۔وہ ایسا تب کریں گے جب انہیں یقین ہو جائے گا کہ ان۔ذرخیز وں کے نکلتے ہی انہیں ان کے ٹھیکے مل جائیں گے ۔یا ان پر انکا قبضہ ہو سکے گا ۔ہمارے روس میں میں ایک بات کہی جاتی ہے پاکستانی اس وقت سیلوٹ کیے جانے کے قابل تھے جب وہ ہندوستانی سے پاکستانی بنے۔تھے ۔اور تب جب وہ ایٹمی طاقت بنے تھے اور بس پاکستانیوں نے یہ سیلوٹ دوبارہ نہیں لی۔" **********امرحہ جانتی تھی کہ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔خود وہ یہ تک نہ جانتی تھی کہ پاکستان کس سن میں ایٹمی طاقت بنا ۔ "تم نے اسکے ساتھ کچھ زیادہ ہی کر دیا ۔"امرحہ کو اسے پرانے موضوع پر واپس لانا ہی پڑا ۔وہ مزید ویرا کے سامنے شرمندہ نہیں ہو سکتی تھی ۔اگر ویرا پاکستان کو لے کر اس سے کوئی عام سا سوال پوچھ لیتی اور اسے اسکا جواب بھی نہ آتا تو برا ہوتا ۔ کم سے کم ایک پاکستانی کو تو پاکستان کے بارے میں معلوم ہو نا چاہیے ۔ "زیادہ نہیں بلکہ بالکل ،ٹھیک کیا ٹھنڈے پانی نے اسے کے اندر کے گندے کیڑے کو بھگو بھگو کر کچل ڈالا ہو گا ۔"" تم بہت بہادر ہو ویرا""اگر مجھے ایسے برف میں دبایا نہ جاتا تو میں کبھی ایسی بہادر نہ ہوتی-" ایک لمحے کے لیے امرحہ بالکل خاموش ہو گئی -ایک ویرا تھی نسے بہادر بنایا گیا تھا- ایک امرحہ تھی جسے مسل مسل رلایا گیا تھا-وہ دونوں انسان تھیں ..دونوں لڑکیاں لیکن ان میں سے ایک کئی گنا مضبوط اور ایک قدم آگے تھی اور دوسری کئی گنا کمزور اور بہت پیچھے تھی-دونوں انسان ہی تھیں پھر بھی برابر نہیں تھی۔تو تمہارے فادر تمہاری طاقت ہے؟امرحہ کو اس پر رشک آ رہا تھا.وہ میرے استاد ہیں.انہوں نے اپنی طاقت مجھے نہیں دی بلکہ میرے اندر کی طاقت کو میرے اندر سے بیدار کیا ہے.جب ایک باپ اپنی بیٹی کے اندر اس طاقت کو بیدار کرتا ہے تو زندگی کی ہر بڑے میدان میں فاتح بننے کے لیے اپنی بیٹی کو تیار کر لیتا ہے.اور یہ پاور ایک باپ اپنی بیٹی کو دے سکتا ہے. انہوں نے مجھے سکھایا کہ بزدلی اور بہادری دونوں کا تعلق دماغ سے ہے جسم سے نہیں.اگر وہ دماغ کو نڈر بنا لیا جائے تو جسم ہر گز ڈرپوک نہیں بنتا وہ کہتے ہیں نا کوئی آپ کو انگلی لہرا کر دھمکائے آپ اسے مکا مار کر خاموش کروا دیں.تمہیں کوئی بھی ردعمل میں تقصان پہنچا سکتا ہے.ہاں ایسا تو ہو سکتا ہے تو کیا نقصان کے خوف سے میں بزدل بنی رہوں خاموش رہوں. ایسا میں نہیں کر سکتی ویسے تمہیں تمہارے پاپا نے کیا سکھایا ہے امرحہ؟ ایک گہرا سایہ امرحہ پر سے ہو کر گزرا. بابا رات گئے گھر آتے تھے.انہیں دنیا میں ایک ہی چیز کی فکر رہتی تھی اپنی کارپٹ شاپ کی.وہاں رکھے ہر چھوٹے پڑے کارپٹ کی. بیگمات کے گھر وقت پر ڈلیوری کی.حتی کہ شاپ پر لیوز ہو جانے والے انرجی سیور تک کی بھی.***********یونیفارم میں ایک دن ان کے سامنے اپنی وین کے لیے نکلنے لگی تو انہوں نے پوچھا. کتنے بجے چھٹی ہوتی ہے تمہاری اسکول سے؟ میں اسکول نہیں کالج جاتی ہوں اب کہہ کر وہ وین میں آکر بیٹھ گئی اور بمشکل اپنے رونے پر قابو پا سکی.جس باپ کو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اس کی بیٹی اسکول نہیں کالج جارہی ہے. وہ باپ اس کی تکلیفوں کے بارے میں کیا جان سکتا تھا.جس باپ کی بابت ویرا پوچھ رہی وہ اس کے کے لیے دادا بنے تھے.میں بارہ سال کی تھی تو بری طرح سے رو رہی تھی. میرے دادا مجھے بہت بڑے پارک میں لے گئے.وہ سال کے گرم ترین دنوں میں سے ایک تھا.کیا تم گرم ترین دنوں کا مطلب جانتی ہو؟ امرحہ نے رک کر ویرا سے پوچھا.ہاں!اتنا گرم کہ انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے. ویرا سب جانتی تھی.ہاں یہ وہی دن تھے.پارک میں لے جا کر میرے دادا نے مجھے وہ مردہ پرندے دکھائے جو گرمی سے مر چکے تھے.وہ مجھے ایک درخت کے نیچے لے کر بیٹھ گئے اور انہوں نے مجھے پرندوں کو دیکھتے رہنے کے لیے امرحہ کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک چڑیا گرمی کی تاب نہ لا کر مر گئی. میرے دادا مجھے اس کے قریب لے گئے اور مجھ سے پوچھا.امرحہ!مرنے سے پہلے کیا تم نے ان چڑیا کو روتے آہ بکا شکوے کرتے دیکھا.گرمی نے اسے اتنی تکلیف دی کہ اس کی میٹھی چوں چوں بھدی آواز میں بدلی بلکہ بیچاری تو خاموش ہو گئی پھر تو یہ معصوم سی چڑیا انسانوں سے بڑھ کر ہوگئی.دادا نے چند چھوٹے کنکر اٹھا کر پرندوں کو مار دیے وہ خاموشی سے پھر سے اڑنے لگے.انہوں نے اپنی جگہ بدل لی لیکن واویلا نہیں کیا.نہ روئے نہ چلائے.پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ کائنات کی ادنی مخلوق حشرات اور دوسرے جانور کبھی انسان کی طرح آہ بکا نہیں کرتے.انسان کی طرح روتے چلاتے نہیں واویلا نہیں مچاتے.لیکن کائنات کی ارفع و اعلی مخلوق انسان یہ کام بہت شوق سے کہتا ہے ایسے گلا پھاڑتا ہے جیسے کائنات کے رب نے قلم کے دکھوں کے سب ہی پہاڑ اس پر توڑ دیے ہوں.ایک اکیلا وہی اٹھا دیا ہے.وہ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ دکھ تکلیف اسے کتنا فائدہ دے رہی ہے.اس کی استاد بنی اسے کیا کیا سکھا رہی ہے.بس رونے چلا جاتا ہے. تو تمہارے دادا کے پاس ساری مشرقی حکمت ہے؟ نہیں ان کے پاس صبراور علم ہے تھوڑا سا ....وہ ایک اچھے استاد رہے ہیں اور میں ان کی بری شاگرد.ہم اپنے استاد کو وہاں ناکام کر دیتے ہیں جب ہم ان کی سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں.ہر دن ہر رات وہ مجھے ایسی ہی باتیں سناتے لیکن میں نے تو اپنے وجود کو جیسے پتھر بنا لیا تھا.قطرہ قطرہ سوجھ بوجھ کی کوئی بھی بوند اس پر اثر نہیں کر رہی تھی.اب تم سب کو دیکھتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ اپنی زندگی کن اندھیروں میں گذارتی رہی ہوں ذرا سی ہمت کرتی تو ان ان اندھیروں سے نکل سکتی تھی.کیا ہوا تمہارے ساتھ ماضی میں؟کچھ بہت برا؟ تم سنو گی تو ہنسو گی.میں ہنسنا چاہتی ہوں. اس نے سنجیدگی سے کہا.لیکن بتاتے بتاتے میں رو پڑوں گی. اس نے بھی سنجیدگی سے ہی جھیل میں بطخیں ایسے سکون سے تیر رہی تھیں جس سکون سے انسان کا واسطہ کم ہی پڑتا ہے۔**********“SKYPE IS GOD SEND” اور کی قائل بھی تھی. دادا ہر دن اس سے بات کر کے اسے دیکھ کر ہی سوتے تھے.اس نے موبائل لے لیا تھا اور چلتے پھرتے ہر اوقات میں دادا سے سے اسکائپ پر بات کر لیا کرتی موبائیل کے ذریعے ہی اس نے دادا کو اپنی کلاس اپنی کلاس فیلوز اور یونیورسٹی دکھائی تھی. کلاس میں سر کے آنے سے پہلے اس کی کلاس فیلوز نے ہاتھ لہرا کر یک زبان ہو کر کہا تھا.ہیلو گرینڈ پا اور گرینڈ پا اتنے خوش ہوئے کہ پھولے نہیں سمائے تھے."بڑے اچھے لوگ ہیں امرحہ!یہ سب تو" وہ بہت خوش ہوئے.ہاں جی! بہت ہی زیادہ اچھے وہ قہقہ لگاتی. اس نے دادا کو آئس لینڈ کی وہ خاتون بھی دکھائی جو دو کم ستر سال کی عمر میں ماسٹرز کر رہی تھی.اور یونیورسٹی کے کافی اسٹوڈنٹ اور اپنی کلاس کے پروفیسر سے یہ درخواست کرتی پائی جاتی کہ ان کو ان کی عمر بلائے طاق رکھ کر انہیں بھی دوسرے اسٹوڈنٹس کی طرح عام اسٹوڈنٹ سمجھا جائے.انہیں کوئی رعایت نہ دی جائے وہ اس وقت بھی برا مان جاتی بھی جب لائبریری میں کوئی ان سے یہ کہتا تھا کہ وہ چھ یا آٹھ کتابیں پر مشتمل سیٹ کو ان کے ہاسٹل روم تک چھوڑ آتا ہے.یونیورسٹی کو ان سے بہت توقعات تھی اور سب کا ماننا تھا کہ وہ ضرور دنیا بھر میں مانچسٹر یونیورسٹی کا نام روشن کریں گی.اور کانووکیشن ڈے پر یقینا دنیا بھر کا میڈیا مسز رودھال کی شاندار کامیابی کو کوریج دینا فرض سمجھے گا.دادا آپ بھی یونیورسٹی آ جائیں یہاں چھوٹا موٹا کورس ہی کر لیں. ***************URDU CORNER OFFICIAL***************اس عمر میں میں کیا کروں گا کورس کر کے.یہی سوال میں نے بھی مسز ریچل سے پوچھا تھا کہ اس عمر میں تاریخ کو کھنگال کر اس میں گھس کر اور پھر اس میں ڈگری لے کر کیا کریں گی تو انہوں نے کہا.عمر کوئی چیز نہیں ہوتی اصل چیز زندگی ہوتی ہے اور میرے وجود میں زندگی ایسے دوڑتی ہے جیسے کسی نومولود بچے کے جسم میں تو جب زندگی کا معنی ایک ہے زندہ رہنا تو میں کسی شاندار مقصد کو لے کر زندہ کیوں نہ رہوں اس سے پہلے میرا مقصد میرے بچوں میرے خاندان کی پرورش اور دیکھ بھال تھا اب میں ان سے فارغ ہوگئی تو میں نے ایک نیا مقصد بنا لیا.اس میں عمر اور نفع نقصان کی تو بات ہی نہیں ہے.یہ تو مقصد پا لینے کی بات ہے جو میں پا رہی ہوں. واوا اسے سالگرہ وش کر رہے تھے ۔جب وہ کچن میں سادھنا کے ساتھ ناشتہ بنا رہی تھی ۔اس نے موبائل سٹینڈ میں موبائیل لگا دیا تھا ۔اور کام۔کرتے ساتھ ان سے باتیں کرتی رہی تھی ۔سادھنا نے سنا تو اسے گلے لگایا اور کیک بنانے کا وعدہ کیا ۔ویرا نے فی الحال ایک سرخ ربن اسکی کلائی پر باندھ دیا ۔اور ایک اپنی کلائی میں کہ یاد رہے کے ایک نے گفٹ لینا ہے اور ایک نے دینا ہے ۔این۔اون۔نے بھی جیسے اپنا علامتی چپ کا روز ہ۔توڑا اور اسے جاپانی گیت گا کر وش کیا ۔نشست گاہ میں کسی چھوٹی بچی کی طرح ہل ہل۔کر گاتی ،وہ ان تین خواتین کو حیران کر رہی۔تھی ۔لیڈی مہر اسے تھوڑی تلے ہاتھ رکھے دیکھتی رہی۔جب وہ گا چکی۔تو لیڈی مہر نے پر زور سر ہلا کر کہا ،"مجھے امید تھی۔کے۔تمہارے اندر ضرور کوئی نہ کوئی کلا موجود ہے ۔رات کو تم مجھے چند ایسے ہی گیت سنانا۔"امرحہ کے ہاتھ پر کس کر کے این نون پھر سے پرانی این اون بن گئی جو سال میں ایک بار مشکل سے کوئی غیر ضروری بات کیا کرتی تھی ۔لیڈی مہر نے رات کے ڈنر کے۔اہتمام کا امرحہ سے وعدہ کیا ۔اور یونیورسٹی میں کوئی رنگ برنگے پھول لئے اسکا انتظار کر رہا تھا ۔وہ اپنی کلاسز لے چکی تھی اور اپنے اپارٹمنٹ لی حدود سے نکلی ہی تھی کہ عالیان ایک دم۔سے اسکے آگے آگیا ۔شاید وہ بھاگتا ھوا آیا تھا ۔"یہ لو وقت تمہیں زندہ رکھے "۔"وقت مجھے زندہ رکھے "وہ ذرا نہ سمجھی۔"تمہاری سالگرہ ہے نہ آج تو تمہیں دعا دے رہا ہوں جسے وقت زندہ رکھتا ہے اسکی عمر ہزاروں سال کئی صدیاں ہوتی ہے ۔**********"وہ مسکرانے لگی "تمہیں کس نے بتایا "?"میں نے خود کو خود ہی بتایا ۔"اسے لگا اسکی تعریف کی گئی ہے ۔"میری سالگرہ کا کس نے بتایا پا گل"-اوہ سادھنا نے اسکا فون۔آیا تھا کیک بنانے کی ترکیب پوچھ رہی تھی ۔"آخر یہ برطانوی لوگوں کو گھر میں بیکنگ کر نے۔ کا کیوں شوق ہے '"? "سادھنا ہندوستانی ہے "اس نے اطاعت گزار بچوں کی طرح اسے کہا کہ۔اسے برا نہ لگے ۔امرحہ نے اسکے لائے گلدستے میں سے جو کسی باغ سے توڑے لگتے تھے سفید ،نیلے ،سرخ پھول چن لیے اور پیلے پھول اسے واپس کر دے ۔وہ سوالیہ اسے دیکھنے لگا۔وہ دونوں اب یونیورسٹی کی محراب کے پیچھے کھڑے تھے ۔سامنے آکسفورڈ روڈ رواں دواں تھی ۔"یہ واپس کیوں کیے ؟"عالیان۔کو برا لگا۔پیلے پھول کسی کو نہیں دیتے یہ نفر ت اور ناپسندیدگی کی علامت ہو تے۔ہیں ۔ہم بہت اچھے دوست نہ سہی ایسے دشمن بھی نہیں کہ میری سالگرہ کے دن۔مجھے ایسے پھول دے جائیں اور۰۰۰۰۰۰۰"۔ "نفرت ناپسندیدگی کی علامت یہ پھول ?وہ بھرپور سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔"ہاں بالکل "وہ بھی مکمّل سنجیدگی سے جواب دے رہی ہیں تھی ۔"تم۔سے کس نے کہا یہ امرحہ"? "کیا مطلب ہے تمہارا کہ کس نے کہا "? یونیورسٹی کی تاریخی محراب کے نیچے ایک نئی کلاس لگی تھی ۔"تم سے کس نے کہا کہ یہ نفرت اور ناپسندیدگی کی علامت ہیں ؟۔" "سب کو معلوم ہے یہ " اس نے کندھے اچکائے جیسے یہ جتا رہی ہو چچ چچ تمہیں اتنی سی بات نہیں معلوم ۔۔۔۔افسوس ۔۔۔ویسے تم بڑے ماسٹر مائنڈ بنے پھرتے ہو ۔"سب کون ?" "اف یہ ساری دنیا سب اور کون " ایک دم سے امرحہ۔کے تاثرات میں غصے اور کوفت کا گراف بڑھنے لگا۔پھر بھر پور دل سے قہقہہ لگایا ۔******************جاری ہے.
یارم از: سمیرا حمید قسط نمبر 21
یارم از: سمیرا حمیدقسط نمبر 21**************"تم یہاں....!" امرحہ دو قدم پیچھے ہٹی."تم یہاں ...!" کھڑکی کی چوکھٹ پکڑے وہ گرنے کے قریب ہوا! پھر اس نے جلدی سے مضبوطی سے کھڑکی کو تھام لیا.جنگل یا بیابانوں میں اندھیرے کے بستر پر مٹھی نیند سوۓ سب جگنو اس کی آنکھوں میں ایک ایک کر کے جاگنے لگے."یہ میرا کمرہ ہے.""یہ میرا گھر ہے امرحہ!" مسکراہٹ دباتا وہ نیچے کو ہو گیا. کسی جلگلی لنگور کی طرح جسے وو اپنا گرو مانتا ہوگا.امرحہ نے بے طرح حیران ہو کر جیسے جیسے خود کو ہوش میں لانا چاہا... اسی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ابھی ابھی جو اس نے دیکھا وو سچ تھا.حقیقت تھا خواب نہیں تھا. اسکا یونی فیلو ایسے اس کے کمرے کی کھڑکی میں آ کر اسے بتا گیا کہ یہ اس کا گھر ہے. اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر کھڑکی سے سر باہر نکالا. وہ ذرا دور دوسری کھڑکی کی طرف لپک رہا تھا اور بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا ... آخر وہ کر کیا رہا تھا. ایسے آدھی رات کے وقت اس کی رہائش گاہ کے گرد پاگلوں کی طرح کود پھاند رہا تھا. امرحہ نے سر کو ذرا اور آگے کر کے کہا."تم کیا کر رہے ہو!..جاؤ یہاں سے." **اس کی آواز پر وہ روک کر اسے دیکھنے لگا. جیسے پریوں کے دیس کی کہانی سنتے بچے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ کیا کوئی پری ان کے سروں اوپر اڑاتی جادو کی چھڑی گھما رہی ہو.اگر نہیں تو کیوں نہیں اگر ہاں تو وہ نظر کیوں نہیں آتی.اچھانو.. وہ نظر آ گی.وہ نیچے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا.. وہ کھڑکی سے سر نکلے اس پر خفا ہو رہی تھی."پاگل ہو کیا؟ آواز کو دھما رکھ کر ووہ چلائی."پاگل ہوں میں" ملین پاؤنڈ لو اسی ابرو کو اچکا کر مسکراہٹ دبا کر اس نے سر ہلایا."اچھا تو یہ تمہارا گھر ہے"؟اپنی دانست میں وہ اسے چڑا رہی تھی. "تو پھر سیدھے راستے سے اندر آ کر دکھاؤ.""اچھا!"عالیان سینے پر ہاتھ باندھ لیے اور اس کے اگلے حکم کا انتظار کرنے لگا."کیا ڈراما ہے یہ؟" امرحہ پوری قوت سے چلائی.اس نے جھرجھری لے کر ڈرنے کی اداکاری کی اور کان میں انگلی گھمانے لگا' پھر سر کو جھکا کر کان کو صاف کرنے کا عمل کیا. امرحہ کو کافی برا لگا. اس نے اپنے اسٹڈی ٹیبل پر رکھا ایک اعداد موٹا میگزین اٹھا لیا اور اسی دے مارنے کے لیے بلند کیا عالیان کو برا لگا. وو سنجیدہ ہو کر اسے دیکھنے لگا."کیا ووہ کھڑکی میں کھڑی جولیٹ ہے اور کیا وہ نیچے کھڑا رومیو ہے؟" ستاروں بھری رات نے وقت کے کان میں سرگوشی کر کے پوچھا. وقت نے کندھے اچکاۓ اور مسکرا کر کہا" انتظار کرو."*************امرحہ میگزین اسے دے مارتی ' وہ تیزی سے گھر کی دوسری طرف چلا گیا.اس نے تقریباّ خود کو آدھا کھڑکی سے باہر نکال کر اسی ڈھونڈنا چاہا لکن وہ اسے نظر نہیں آیا.کچھ ہی دیر میں اسے گھر کے اندر سے شور کی آوازیں آنے لگیں. رات کے وقت اسے یس طرح کی آوازوں کا آنا عجیب تھا، خاص کر لیڈی مہر کی آواز کا. وہ اپنے کمرے سے بھر ای تو سادھنا بھی اپنے کمرے سے نکل کر آ چکی تھی. "کیا ہو رہا ہے؟""دیدی کا بیٹا آیا ہے. انہیں سالگرہ وش کرنے""کب آیا...""ابھی... او اندر چلیں" سادھنا نے یس کا ہاتھ پکڑ لیا اور دونوں لیڈی مہر کے کمرے میں چلی گئیں.اور لیڈی مہر کے بیڈ پر بیٹھا عالیآن انہیں منا سا بیک کیک کھلا رہا تھا. کمرے کی کھڑکی کھلی تھی.. دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے مصروف تھے جیسے دنیا میں اکیلے وہ دو انسان ہی موجود ہوں.امرحہ دیکھتی رہ گے."میرا بیٹا بھی تمہاری یونیورسٹی میں ہی پڑھتا ہے" لیڈی مہر نے اسے ایک بار بتایا تھا."یونیورسٹی کو فخر ہے اس پر اور مجھے اس پر. بزنس کے نئے رجحانات اور تاریکوں پر اس نے جو اسائنمنٹ لکھی تھی' اسی یونیورسٹی نے کتابچے کی صورت میں چھاپ کر لائبریری میں رکھا ہے."سدھنا نے آگےبڑھ کر لیڈی مہر کو گلے لگایا اور سالگرہ وش کی. امرحہ بھی آگے بڑھی. عالیان نے جلدی سے کیک چھپا لیا."یہ بچا ہوا کیک میں ساتھ لے جاؤں؟""اتنے سے کیک میں بھی تمہاری جان ہے."لیڈی مہر بہت خوش تھیں.***************************"نہیں.. کیک میں جان نہیں رہی اب. مما آپ کو معلوم ہے لوگ آپ کے گھر کو یونیورسٹی میں کیا کہتے ہیں؟"کیا کہتے ہیں؟'"شٹل کاک... کیسا معصوم انسان تھا نا' وہ کیسے سچ اگل رہا تھا."کون کہتا ہے میرے وائٹ ہاؤس کو شٹل کاک؟"عالیان نہیں امرحہ کی طرف دیکھا."نہیں میں نہیں کہتی...یونیورسٹی میں پہلے سے ہے یہ شٹل کاک کے نام سے مشور تھا.. میں نہیں کہتی؟ امرحہ گھبرا گئی.. یہ ماں بیٹا دونوں کیسے بوکھلا دیتے تھے."عالیان! آج رات یہیں روک جاؤ..." وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لی کر بیٹھی تھیں. عالیان ہنسنے لگا."آپ مجھے رہنے کے لی کہ رہی ہیں؟""ٹھیک ہے جاؤ پھر"وہ اپنا بیگ اٹھا کر کھڑکی کی طرف لپکا. امرحہ ہرات سے اسے دیکھنے لگی. "یہ کیا طریقہ ہے آنے اور جانے کا.""آج میں دروازے کے راستے پر چلا جاتا ہوں."عالیان لیڈی مہر سے مل کر کمرے سے بھر آ گیا."تمہارا کمرہ کس طرف ہے""کیوں؟""مجھے اس کی کھڑکی دیکھنی ہے""کیوں؟""اتنے کیوں؟ مجھے دیکھنا ہے کہ اوپر سے نیچے کھڑا میں کیسا لگ رہا تھا""جیسے سامنے سے کھڑے لگ رہے ہو""کیسا لگ رہا ہوں؟""اف! "امرحہ کو خاموش ہونا پڑا.**************************ادھ کھلے دروازے سے اندر جھانک کر اس نے خود ہی اندازہ کر لیا کہ یہ اس کا کمرا ہے."تم لیڈی مہر کے بیٹے ہو؟""بالکل!" وہ کھڑکی میں سے سر باھر نکال کر اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ خود کھڑا تھا."لیکن ان کا نام تو مارگریٹ نہیں ہے"ایک دم سے عالیان کی مسکراہٹ غائب ہو گئی. اس نے جلدی سے اپنی پشت سے بیگ اتارا اور جو چنا منا کیک بچ گیا تھا وہ نکال کر امرحہ کے آگے کیا."یہ میں نے بیک کیا ہے.""تم کک ہو ؟""اوکے! میں چلا. اس نے ایک دم ایسے ہاتھ چھوڑ دئیےجیسے دیھان نہ دینے پر گر گیا ہو. امرحہ چیچ دباتی کھڑکی کی طرف لپکی نیچے جھانکا پائپ سے جھولتا وو زمین پر چھلانگ لگا چکا تھا/.امرحہ نے سر کھڑکی سے بھر نکال لیا."گڈ بائےکے لیے تھنکس.اب تم سو جاؤ".وہ دونوں ہاتھوں کو منہ کے دائیں بائیں رکھ کر تھوڑا سا چلایا"گڈ بائے"کون کہ رہا تھا اسے.امرحہ تو اس بندر کے تماشے دیکھ رہی تھی.غصے سے اس نے کھڑکی بند کرنی چاہے.میں نہیں جانتا کہ میں وہاں سے یہاں کھڑا کیسا لگ رہا ہوں لکن یہاں سے تم کھڑکی سے جھانکتے ہوے ٹامس کے ہاتھ سے بنی "گرل آیت ونڈو" جیسی لگ رہی ہو. بس تم ذرا غصے میں ہو. ٹامس کی گرل تو مسکراتی ہے. بیگ کو سمبھلتا دونو ٹانگوں کی تالی بجاتا وہ چلا گیا. "بندر" اتنے پیارے سپائیڈر مین کو امرحہ بندر کہ کربڑبڑنے لگی. اس کا دیا کیک وہ کچن میں رکھ آئ. اس کا کوئی موڈ نہیں تھارات کے اس وقت کیک کھانے کا لیکن عالیان کے اس طرح آنے کے بارے میں وہ نہ چاھتے ہے بھی رات گے تک سوچتی رہی.**************************یہ اس کا گھر ہے.یعنی عالیان بھی لیڈی مہر کا وو بچہ ہے جسے انہوں نے پلا ہے. عالیان سے مل کر اسے کبھی یہ گمان نہیں ہوا کہ وھو بھی کیک ایسے ادارے میں رہا ہے جہاں بے سہارا اور ناجائز بچے پرورش پاتے ہیں. اس کے انداز و اطوار ایسے تھے کہ لگتا تھا کہ وہ کسی بارے خاندان کا چشم و چراغ ہے.امرحہ کو عجیب سا لگا کہ یہاں ہر دوسرا شخص ایسا ہی ہے بغیر خاندان کے پرورش پانے والا... ناجائز.اس کا نام عالیان تھا اس کی ماں کا نام مارگریٹ تھا یہ سب کیا چکر تھا. شائد لیڈی مہر نے اس کا نام عالیان رکھا ہو. اسی اردو سکھائی ہو. ورنہ شائد وہ رچرڈ ، این یا ہرمن ہوتا. لیڈی مہر اپنے سب ہی بچوں سے بہت پیار کرتی تھی اور بچے ان سے. تو ایک بچا ان کے لیا اپنا نام تو بدل ہی سکتا ہے. ان کے باقی بچے بھی تھوڑی بہت اردو بول ہی لیتے تھے. تو عالیان کسی کی ناجائز اولاد ہے؟ اسی والدین کے نام پر صرف ماں ہی ملی. اس لیے یس کا سر نام مارگریٹ ہے.عالیان اس کا اچھا دوست بنتا جا رہا تھا. اس کے بارے میں ایک معلومات ہونے پر وہ اس کے لیےافسووسس محسوس کر رہی تھی.صرف افسوس اور کچھ نہیں.کھلی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی. امرحہ کو اس وائٹ ہاؤس میں رہنا بہت اچھا لگ رہا تھا. اس کا کمرا جو لیڈی مہر نے اسے دیا تھا کافی بڑا تھا. کھڑکیاں قد آدم تھیں اور کمرے کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ کھڑکی کے عین سامنے کی دیوار پر کسی نو آموز خطاط کے قلم سے سجی " کن فیکون" کی ہلکے رنگوں سے بنی پنٹنگ لگی تھی.*************************اس کی زندگی میں کی انوکھے واقعات ہو رہے تھے. اچھے تھے یا برے تھے لیکن اس کے لیے نئے تھے.وہ کھڑکی میں آ کر کھڑی ہو گئی اور غیر ارادی طور پر اس طرف دیکھنے لگی جہاں عالیان کھڑا تھا. وہ بہت خوبصورت اور زندگی سے بھرپور تھا.... جس فرنچ انداز سے وہ خفا ہوتا تھاوہ اس کا ٹریڈ مارک تھا. فرانسیسیوں کو سیکھنا چہیے کہ خفا کیسے ہوا جاتا ہے.لیکن امرحہ یہ نہیں سوچ رہی تھی کہ وو کتنا خوبصورت اور زندگی سے بھرپور ہے یا یونیورسٹی اس کے لکھے کو کتابی شکل میں لاتی ہے. وہ تو اس کے ناجائز ہوانے کے بارے میں سوچ رہی ہے. کسے قدر کراہت سے.***********************جاری ہے
یارم از: سمیرا حمید قسط نمبر 20
یارماز: سمیرا حمیدقسط نمبر 20**************
"تم نے کیسے جمع کیے؟" دادا کے سوا کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ وہاں جاب کرتی ہی. ایک ' دو بار دادا نے بابا سے کہا کہ امرحہ کو پیسے بھیجنے چاہیں' تا کہ وہ اپنی چھوٹی بڑی ضروریات پوری کر سکے تو بابا نے چند ہزار پاکستانی دادا کے حوالے کیے کہ اس سے اس کے تین' چار ماہ آرام سے گزر جائیں گے۔ امرحہ نے وہ پیسے دادا کے پاس ہی رہنے دیے۔"میں جاب کرتی ہوں بابا""جاب۔۔۔ تم کام کرتی ہو وہاں۔۔۔ تم نے تو کبھی پاکستان میں چھوٹی سی بھی جاب نہیں کی۔۔"" نہیں کی۔ غلطی کی۔۔۔ اب کر رہی ہوں اور بہت خوش ہوں۔۔ بابا یہاں سب کرتے ہیں۔"بابا آب دیدہ ہو گئے۔ زندگی میں پہلی بار اس کے لئے۔۔۔" امرحہ..تم کب اتنی سمجھدار ہو گئیں۔ علی اور حماد کو کھیلنے سے فرصت نہیں ہے اور تم نے مجھے وہاں سے لاکھوں بھیج دیے۔ میں نے تو تمہیں وہاں جانے کے لیے ایک روپیہ نہیں دیا تھا"۔"علی اور حماد کو کھیلنے کودنے سے اس لیے فرصت نہیں بابا کہ آپ نے انہیں کھیل کود میں مصروف رکھا ہے۔ ان پر سختی کریں۔ اگر وہ پڑھنا نہیں چاہتے تو انہیں کوئی ہنر سکھائیں۔ ہم خود ہی تو اپنے بچوں کو ایسے آرام و آسائش کی زندگی دیتے ہیں۔ ہم خود ہی تو انہین ناکارہ بنا دیتے ہیں۔"بابا خاموشی سے سنتے رہے۔" تمہارے دادا نے کہا تم وہاں بڑی کلاس میں پڑھ رہی ہو، مجھے یقین آ رہا ہے کہ واقعی تم بڑی کلاس میں پڑھ رہی ہو۔ مجھے بتاوّ مین اور کیا کیا کروں؟بابا کی یہ بات" مجھے بتاوّ مین اور کیا کیا کروں؟" نے اس کے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ خوشی سے اس کا برا حال ہو گیا۔"بابا ۔ ۔ ۔ پہلے تو سب کو کفایت کی عادت ڈالیں۔ فضول خرچی ترک کر دیں۔ علی اور حماد سے کہا کریں کہ صبح جلدی اٹھیں۔ دانیہ سے کہیں کہ وہ ساتھ ساتھ جاب کرے۔ بابا اپنے ذہن پر کوئی دباوّ نہ رکھیں۔ جو نقصان ہو گیا ہمارا اسی میں فائدہ ہو گا۔ ایک چھوٹا نقصان ہمین بڑے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بس یہی کافی ہے۔آپ بس محنت سے نئے سرے سے اپنا کام کریں اور میری خواہش ہے کہ آپ یتیم خانے کے بچوں کو بلوا کر انہیں دکان میں بٹھا کر کھانا کھلائیں" "میں خود جا کر انہیں لاوّں گا اور کھانا کھلاوّں گا—اور بتاوّ۔۔"وہ آب دیدہ ہو گئ اور بابا سے کہہ نہ سکی کہ یہ والدین ہی ہوتے ہیں، جو اپنی اولاد کو وہ کل پرزے بناتے ہیں جو زندگی کی گاڑی میں شان سے فٹ ہو جاتے ہیں اور گاڑی چھکا چھک دوڑتی چلی جاتی ہے اور اگر والدین ان ہی پرزوں کو کند کر دیں تو زندگی کی گاڑی جام ہو کر بند ہو جاتی ہے اور بہر حال اس کا ذمہ پہلے سربراہ پر آتا ہے' کیونکہ نومولاد اپنے لیے کچھ نہین کر سکتا۔"بس بابا—امنا خیال رکھیں اور کبھی دل چھوٹا مت کیجیے گا""میری دکان پھر سے چل نکلی تو میں تمہیں پیسے بھیجا کروں گا۔""اس کی ضرورت نہیں ہے بابا۔۔۔۔ میرے پاس میری ضرورت کے لیے کافی پیسے ہوتے ہیں۔""تم تھک جاتی ہوگی؟" "بالکل نہیں۔۔۔مجھے اچھا لگتا ہے سب کرنا۔"**کرسمس آنے میں ابھی وقت تھا۔ موسم اس کی سوچ سے زیادہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ یونیورسٹی میں وہ ہر وقت مونگ پھلی کھاتی ہوئی پائی جاتی اور جس تعداد میں اس کی ہائے ہیلو بڑھ چکی تھی یونیورسٹی میں اسی حساب سے جتنی مونگ پھلی منہ میں جاتی تھی، اس سے کہیں زیادہ دوسروں کی ہاتھوں ہیں جاتی تھی۔ اب روز کی کلو دو کلو مونگ پھلی تو وہ نہیں لے سکتی تھی نا۔ اس لیے جہاں ذرا سا سناٹا سا دیکھتی، منہ میں ڈال لیتی۔ ایک دن ایسا کرتے اسے اپنے پیچھے عالیان کا قہقہہ سنائی دیا۔"کتنی چالاک ہو تم' کیسے چھپ چھپ کر کھا رہی ہو۔""نہیں تو۔۔۔" وہ صاف مکر گئی۔امرحہ انگلش لٹریچر کی سٹوڈنٹ تھی اور عالیان بزنس کا۔۔۔ اور امرحہ تو پھر اپنی عادت کے مطابق پوری یونیورسٹی کا ہفتے میں ایک چکر ضرور لگا لیتی۔ ورنہ حصوں میں تو ضرور ہی چکر کو مکمل کرلیتی۔ لیکن عالیان کم ہی کہیں چلتا پھرتا، کھڑا ٹہلتا نظر آتا۔ ہاں کبھی کبھی وہ ایسے ہو جاتا کہ ہر وقت ہر ایک کو نظر آتا اور کبھی ایسے کہ ہر کوئی اس کا پوچھ رہا ہوتا کہ وہ کہاں ہے۔اب وہ پھر ایسے اچانک سے نمودار ہوا تو امرحہ کو اچھا لگا۔ اس نے جیب سے مونگ پھلی نکال کر اسے دی اور ساتھ ساتھ وہ اسے بتا رہی تھی کہ لاہور میں مونگ پھلے کیسے بکتی ہے۔ کیسے اسے گرم کیا جاتا ہے۔کیسے ہیٹر کے پاس بیٹھ کر اسے اڑایا جاتا ہے۔ پھر اس نے بتایا کہ بچپن میں وہ مونگ پھلی کے چھلکوں کے ڈھیر کو چپکے چپکے کھنگالا کرتی تھی کہ اس میں سے اسے کوئی مونگ پھلی مل ہی جائے۔عالیان دیر تک ہنستا رہا۔"میں یقین کرتا ہوں۔۔ مجھے یقین ہے' تم نے یہی کیا ہو گا۔"***وہ ہنستا رہا۔ پھر اپنی انگلی کی پور سے اپنی آنکھ کی نمی صاف کی اور اپنے کراس بیگ میں اس سے مونگ پھلی بھروا کر اپنی کلاس لینے چلا گیا اور پھر وہ اسے ایک ایسے وقت نظر آیا کہ اس نی حیرت سے کتاب بند کر دی. رات بارہ بجے سے پہلے کا وقت تھا. وہ اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھی اور اپنے کمرے کی کھڑکی سے ذرا دور گھر کے دوسرے کنارے کی طرف اسے وہ نظر آیا. پہلے اس نے سر کو اٹھا کر جیسے سارے گھر کا بھرپور جائزہ لیا . پھر وو ایک کھڑکی کی طرف بڑھا. امرحہ نے جھٹ اپنے کمرے کی بتی بھجا دی اور کھڑکی سے سر نکال کر اسی دیکھنے لگی. وہ اس کھڑکی سے اچھل اچھل کر اندر جھانک رہا تھا. پھر اس نے یہی کام دوسری کھڑکیوں کی ساتھ کیا. پھر وو کھڑکی کی چوکھٹ پر کھڑا ہو کر پائپ کا سہارا لے کر اوپر کی منزل کے ایک بیڈ روم میں جھانکنے لگاامرحہ کا حیرت سے برا حال تھا. وہ اتنی مشاقی سے یہ سب کر رہا تھا جیسے سپائیڈر مین ہو اور ایک عرصے سے ایسے کرتب کر رہا ہو. پھر وو اس کھڑکی سے زمین پر کود آیا اور ٹہلنے سا لگا. امرحہ نے سر کو ذرا پیچھے کر لیا.اب وہ اسی کھڑکی کی پاس آ رہا تھا. امرحہ نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا. وہ اسی کی کھڑکی کے پیچھے کھڑا تھا. اب وہ کھڑکی بھی بند نہیں کر سکتی تھی. وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی. اس نے چند منٹ انتظار کیا اور کھڑکی سے پیچھے جھانکنے کے لیے آگے ہوئی اور اس کی چیخ نکل گئی. عالیان ایک دم سے اس کے سامنے آیا. وہ کھڑکی پر چڑھ چکا تھا."امرحہ...!" عالیان نے سرگوشی سی کی.....***جاری ہے.
"تم نے کیسے جمع کیے؟" دادا کے سوا کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ وہاں جاب کرتی ہی. ایک ' دو بار دادا نے بابا سے کہا کہ امرحہ کو پیسے بھیجنے چاہیں' تا کہ وہ اپنی چھوٹی بڑی ضروریات پوری کر سکے تو بابا نے چند ہزار پاکستانی دادا کے حوالے کیے کہ اس سے اس کے تین' چار ماہ آرام سے گزر جائیں گے۔ امرحہ نے وہ پیسے دادا کے پاس ہی رہنے دیے۔"میں جاب کرتی ہوں بابا""جاب۔۔۔ تم کام کرتی ہو وہاں۔۔۔ تم نے تو کبھی پاکستان میں چھوٹی سی بھی جاب نہیں کی۔۔"" نہیں کی۔ غلطی کی۔۔۔ اب کر رہی ہوں اور بہت خوش ہوں۔۔ بابا یہاں سب کرتے ہیں۔"بابا آب دیدہ ہو گئے۔ زندگی میں پہلی بار اس کے لئے۔۔۔" امرحہ..تم کب اتنی سمجھدار ہو گئیں۔ علی اور حماد کو کھیلنے سے فرصت نہیں ہے اور تم نے مجھے وہاں سے لاکھوں بھیج دیے۔ میں نے تو تمہیں وہاں جانے کے لیے ایک روپیہ نہیں دیا تھا"۔"علی اور حماد کو کھیلنے کودنے سے اس لیے فرصت نہیں بابا کہ آپ نے انہیں کھیل کود میں مصروف رکھا ہے۔ ان پر سختی کریں۔ اگر وہ پڑھنا نہیں چاہتے تو انہیں کوئی ہنر سکھائیں۔ ہم خود ہی تو اپنے بچوں کو ایسے آرام و آسائش کی زندگی دیتے ہیں۔ ہم خود ہی تو انہین ناکارہ بنا دیتے ہیں۔"بابا خاموشی سے سنتے رہے۔" تمہارے دادا نے کہا تم وہاں بڑی کلاس میں پڑھ رہی ہو، مجھے یقین آ رہا ہے کہ واقعی تم بڑی کلاس میں پڑھ رہی ہو۔ مجھے بتاوّ مین اور کیا کیا کروں؟بابا کی یہ بات" مجھے بتاوّ مین اور کیا کیا کروں؟" نے اس کے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ خوشی سے اس کا برا حال ہو گیا۔"بابا ۔ ۔ ۔ پہلے تو سب کو کفایت کی عادت ڈالیں۔ فضول خرچی ترک کر دیں۔ علی اور حماد سے کہا کریں کہ صبح جلدی اٹھیں۔ دانیہ سے کہیں کہ وہ ساتھ ساتھ جاب کرے۔ بابا اپنے ذہن پر کوئی دباوّ نہ رکھیں۔ جو نقصان ہو گیا ہمارا اسی میں فائدہ ہو گا۔ ایک چھوٹا نقصان ہمین بڑے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بس یہی کافی ہے۔آپ بس محنت سے نئے سرے سے اپنا کام کریں اور میری خواہش ہے کہ آپ یتیم خانے کے بچوں کو بلوا کر انہیں دکان میں بٹھا کر کھانا کھلائیں" "میں خود جا کر انہیں لاوّں گا اور کھانا کھلاوّں گا—اور بتاوّ۔۔"وہ آب دیدہ ہو گئ اور بابا سے کہہ نہ سکی کہ یہ والدین ہی ہوتے ہیں، جو اپنی اولاد کو وہ کل پرزے بناتے ہیں جو زندگی کی گاڑی میں شان سے فٹ ہو جاتے ہیں اور گاڑی چھکا چھک دوڑتی چلی جاتی ہے اور اگر والدین ان ہی پرزوں کو کند کر دیں تو زندگی کی گاڑی جام ہو کر بند ہو جاتی ہے اور بہر حال اس کا ذمہ پہلے سربراہ پر آتا ہے' کیونکہ نومولاد اپنے لیے کچھ نہین کر سکتا۔"بس بابا—امنا خیال رکھیں اور کبھی دل چھوٹا مت کیجیے گا""میری دکان پھر سے چل نکلی تو میں تمہیں پیسے بھیجا کروں گا۔""اس کی ضرورت نہیں ہے بابا۔۔۔۔ میرے پاس میری ضرورت کے لیے کافی پیسے ہوتے ہیں۔""تم تھک جاتی ہوگی؟" "بالکل نہیں۔۔۔مجھے اچھا لگتا ہے سب کرنا۔"**کرسمس آنے میں ابھی وقت تھا۔ موسم اس کی سوچ سے زیادہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ یونیورسٹی میں وہ ہر وقت مونگ پھلی کھاتی ہوئی پائی جاتی اور جس تعداد میں اس کی ہائے ہیلو بڑھ چکی تھی یونیورسٹی میں اسی حساب سے جتنی مونگ پھلی منہ میں جاتی تھی، اس سے کہیں زیادہ دوسروں کی ہاتھوں ہیں جاتی تھی۔ اب روز کی کلو دو کلو مونگ پھلی تو وہ نہیں لے سکتی تھی نا۔ اس لیے جہاں ذرا سا سناٹا سا دیکھتی، منہ میں ڈال لیتی۔ ایک دن ایسا کرتے اسے اپنے پیچھے عالیان کا قہقہہ سنائی دیا۔"کتنی چالاک ہو تم' کیسے چھپ چھپ کر کھا رہی ہو۔""نہیں تو۔۔۔" وہ صاف مکر گئی۔امرحہ انگلش لٹریچر کی سٹوڈنٹ تھی اور عالیان بزنس کا۔۔۔ اور امرحہ تو پھر اپنی عادت کے مطابق پوری یونیورسٹی کا ہفتے میں ایک چکر ضرور لگا لیتی۔ ورنہ حصوں میں تو ضرور ہی چکر کو مکمل کرلیتی۔ لیکن عالیان کم ہی کہیں چلتا پھرتا، کھڑا ٹہلتا نظر آتا۔ ہاں کبھی کبھی وہ ایسے ہو جاتا کہ ہر وقت ہر ایک کو نظر آتا اور کبھی ایسے کہ ہر کوئی اس کا پوچھ رہا ہوتا کہ وہ کہاں ہے۔اب وہ پھر ایسے اچانک سے نمودار ہوا تو امرحہ کو اچھا لگا۔ اس نے جیب سے مونگ پھلی نکال کر اسے دی اور ساتھ ساتھ وہ اسے بتا رہی تھی کہ لاہور میں مونگ پھلے کیسے بکتی ہے۔ کیسے اسے گرم کیا جاتا ہے۔کیسے ہیٹر کے پاس بیٹھ کر اسے اڑایا جاتا ہے۔ پھر اس نے بتایا کہ بچپن میں وہ مونگ پھلی کے چھلکوں کے ڈھیر کو چپکے چپکے کھنگالا کرتی تھی کہ اس میں سے اسے کوئی مونگ پھلی مل ہی جائے۔عالیان دیر تک ہنستا رہا۔"میں یقین کرتا ہوں۔۔ مجھے یقین ہے' تم نے یہی کیا ہو گا۔"***وہ ہنستا رہا۔ پھر اپنی انگلی کی پور سے اپنی آنکھ کی نمی صاف کی اور اپنے کراس بیگ میں اس سے مونگ پھلی بھروا کر اپنی کلاس لینے چلا گیا اور پھر وہ اسے ایک ایسے وقت نظر آیا کہ اس نی حیرت سے کتاب بند کر دی. رات بارہ بجے سے پہلے کا وقت تھا. وہ اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھی اور اپنے کمرے کی کھڑکی سے ذرا دور گھر کے دوسرے کنارے کی طرف اسے وہ نظر آیا. پہلے اس نے سر کو اٹھا کر جیسے سارے گھر کا بھرپور جائزہ لیا . پھر وو ایک کھڑکی کی طرف بڑھا. امرحہ نے جھٹ اپنے کمرے کی بتی بھجا دی اور کھڑکی سے سر نکال کر اسی دیکھنے لگی. وہ اس کھڑکی سے اچھل اچھل کر اندر جھانک رہا تھا. پھر اس نے یہی کام دوسری کھڑکیوں کی ساتھ کیا. پھر وو کھڑکی کی چوکھٹ پر کھڑا ہو کر پائپ کا سہارا لے کر اوپر کی منزل کے ایک بیڈ روم میں جھانکنے لگاامرحہ کا حیرت سے برا حال تھا. وہ اتنی مشاقی سے یہ سب کر رہا تھا جیسے سپائیڈر مین ہو اور ایک عرصے سے ایسے کرتب کر رہا ہو. پھر وو اس کھڑکی سے زمین پر کود آیا اور ٹہلنے سا لگا. امرحہ نے سر کو ذرا پیچھے کر لیا.اب وہ اسی کھڑکی کی پاس آ رہا تھا. امرحہ نے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا. وہ اسی کی کھڑکی کے پیچھے کھڑا تھا. اب وہ کھڑکی بھی بند نہیں کر سکتی تھی. وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی. اس نے چند منٹ انتظار کیا اور کھڑکی سے پیچھے جھانکنے کے لیے آگے ہوئی اور اس کی چیخ نکل گئی. عالیان ایک دم سے اس کے سامنے آیا. وہ کھڑکی پر چڑھ چکا تھا."امرحہ...!" عالیان نے سرگوشی سی کی.....***جاری ہے.
یارم از: سمیرا حمید قسط نمبر 19
یارم از: سمیرا حمیدقسط نمبر 19**************یہ مختلف قوم و نسل سے تعلق رکھنے والے بچےتھے اور سب مہرکو پیارے تھے کرسمس نیا سال وہ مہر کے ساتھ گزارتے۔ان میں سے ایک مسلمان تھا وہ اپنی عید مہرکے گھر آ کر کرتا۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے گئے وہ مہر کے پاس رات بھی رکھنے لگے وہ سب نہ صرف اپنے کام خود کرتے بلکہ مہر کے بھی کہی کام کر دیتے۔مہر مہینے کے اس ایک دن اور رات کا انتظار کرتی جب وہ سب اس کے پاس ہوتے یہی بچے بالغ ہوتے ہی اپنے پیروں پہ کھڑے ہوتے مختلف ،شہروں ،ملکوں اور یونیورسٹیوں کی طرف بڑھتے گئے۔کچھ شادی کر چکے تھےکچھ نوکری کرتھے کچھ ابھی بھی پڑھ رہے تھے۔یہ سب دینا کے کسی بھی کونے میں کسی بھی حالت میں ہوتے مہر کو فون کرنا نہیں بھولتے تھے۔لیڈی مہر ہمہ وقت ان کے فون سنتیں یا انہیں سالگرہ کے تحائف بھیج رہی ہوتیں....ان کی طرف سے بھیجے جانے والے فون میسجز یا کارڈز پڑھتی رہتیں۔مہینے دو مہینے میں کوئی نہ کوئی ان سے ملنے آیا بھی ہوتا جس کی آمد پہ وہ ایسے خوش ہوتی جیسے پاکستانی مائیں اپنے بیٹوں کو سہرا باندھے دیکھ کر ہوتی ہیں۔گاہے بگاہے یہ سب شٹل کاک آتے رہتے تھے۔اسی لیے یہاں چار،پانچ سے زیادہ لوگوں کو پے انگ گیسٹ نہیں رکھا جاتا تھا۔ایک،دو دن رہ کر چلے جاتے۔کوئی ڈاکٹر تھا ،کوئی انجینئر،کوئی اپنا بزنس کر رہا تھا۔کوئی نرس تھی تو کوئی اسٹوڈنٹ،لیکن یہاں آتے ہی وہ سب لیڈی مہر کے بچے بن جاتےتھے ۔ان کےسارےکام خود کرنا پسند کرتے،انہیں کھانا کھلاتے ،منہ دھلواتے،ہفتہ وار چیک اپ کےلیے لےکر جاتے،انہیں مختلف پارکو میں لیے گومتے رہتے اور راتطکو انہیں کہانی سناتے ،لیڈی مہر ان کے لیے مقدس ہستی جیسی تھیں۔ان ہی میں ایک مورگن کیمبرج سے ایم فل کر رہی تھی۔وہ اپنے فرینڈ جوش کو برد کھودے کے لیے شٹل کاک لائی کہ اگر ماما ہاں کہتی ہے تو وہ بھی جوش کو ہاں کہہ دے۔۔”یہ گنجا کبوتر تمہیں واقع پسند ہے...مورگن؟“”اچھا انسان ہے ماما“مورگن مسکرائی”کیا سوویت یونین کے برفیلے پہاڑوں مٰیں کام کرتا رہاہے۔بہت ہی برفیلا ساہے“”اگلے سال جوش کی پی ایچ ڈی کمپلیٹ ہو جا ئے گی۔“***”مورگن ! کسی ہیرو شیروکو پسند کرتی سنا ہے کیمبرج میں بہت سے فلم سٹار پڑھنے آتے ہے۔میرا تو خواب ہی رہا کہ میرے کسی بچے کی کسی فلم سٹار سے شادی ہو ۔“”تو میں جوش کو انکار کر دوں ما ما ؟“”تمہارے انکار سے تو یہ مر مرا جائے گا“انہوں نے بےچارے سے نظر آتے جوش کو دیکھا جو ٹی وی پہ ایک ڈاکومنٹری دیکھ رہاتھا،سادھنا اور امرحہ اسے ایسے دیکھ رہی تھی کہ وہ بے چارہ بار بار پہلو بدل رہا تھا۔دراصل دونوں جان بوجھ کر اسے حواس باختہ کر رہی تھیں۔کر رہی تھی. ایویں خوامخواہ کا مشرقی شغل. تھوڑا ڈر تو ہے. مورگن نے ماما کی تائید کی. ٹھیک ہے ہاں کہہ دو پھر اسے. کب کرو گی شادی؟ میں چاہتی ہوں تم بہار کی دلہن بنو.لیکن کرسمس کی چھٹیوں کے علاوہ تم کہاں فارغ ہو گی شادی کے لیے.نہیں آپ کہہ رہی ہیں تو بہار میں ہی کرو گی.نہیں کرسمس ٹھیک ہے ہم کرسٹینا کو بہار کی دلہن بنا دیں گے.آج کل میں یہیں وہ آنے ہی والی ہے ایسے ہی نمونے کو لے کر.امرحہ اور سادھنا نے بلند بانگ قہقہے چھوڑے نمونے کے نام پر. لیڈی مہر نے جوش کو رسٹ واچ دی تو بے چارہ نم نم سا ہو گیا.لیڈی مہر نے مورگن پر ایک خائف سی نظر ڈالی.پھر سوچ لو مورگن مجھے تو لگتا ہے ایک دو بار رونے سے ہی پگھل کر ختم ہو جائے گا.اس بار وہ دونوں اتنا ہنسیں کہ نشست گاہ سے باہر جانا پڑا. جس دن سادھنا کو معلوم ہوا کہ اس کے اکلوتے بیٹے کو ایسی خطرناک بیماری ہو گئی ہے تو دونوں میاں بیوی کئی دن اور راتوں تک روتے رہے. اس کا شوہر ایک کمپنی میں چند ہزار پر ملازم تھا. وہ اتنی بڑی بیماری کا علاج کیسے کروا سکتے تھے.حیدرآباد میں ایک چھوٹا سا گھر ان کا اپنا تھا. لیکن اسے بیچ کر بھی ان کے بیٹےکا علاج نہیں ہو سکتا تھا.کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ گھر کو بیچ کر سادھنا کا شوہر یورپ کی طرف نکل جائے اور وہاں کام کرے انہوں نے گھر بیچ دیا لیکن اس کے شوہر کو ویزا نہ ملا. ویزا ایجنٹ نے ہی بتایا تھا کہ آدمی کی نسبت عورت کو ویزا ملنے کے چانسز زیادہ ہیں تو سادھنا نے ویزا کے لیے اپلائی کیا اور اسے ویزا مل گیا. وہ یہاں ایشیائی گھرانوں میں کام کرتی تھی. پاکستانی،ہندوستانی،سعودی، گھرانوں میں جا کر وہ گھریلو کام کرتی گھریلو کام کے لیے ہر گھر ہفتے میں دو دن اسے بلاتا اور فی گھنٹہ کے حساب سے پیسے ملتے.**لیڈی مہر کے گھر وہ پہلے کرائے دار تھی.پھر لیڈی مہر نے اس کے حوالے سارا گھر کردیا.وہ لیڈی مہر کو بھی دیکھتی اور گھر کو بھی. دو سالوں میں اس نے کافی کمایا تھا.سنگاپور کے ہسپتال میں آریان کے دو آپریشن ہو چکے تھے.ایک آخری آپریشن ہونا تھا. پھر تین ماہ تک میڈیکل چیک اپ ڈاکٹر پرامید تھے.آریان کے صحت یابی کے لیے اور ڈاکٹر سے زیادہ سادھنا خود تھی.جن گھرانوں میں وہ جاتی تھی وہ سب آریان کے علاج کے لیے الگ پیسے دیتے تھے.لیڈی مہر بھی آپریشن کے لیے ایک بڑی رقم دیتی تھیں.آپ بہت بہادر ہیں.امرحہ کو ساری کہانی معلوم ہوئی اس کی آنکھیں نم ہو گئی. ہاں میں میں بہت بہادر ہوں.اسی لیے اللہ نے میرا انتخاب کیا کہ میں اس مشکل کو آسان کردو. مجھے اپنے منتخب کیے جانے پر خوشی ہے.آپ کا بیٹا بہت بڑا انسان بنے گا.میں اسے بڑا ڑاکٹر بناؤں گی اور اچھا ہی ہوا کہ وہ اس تکلیف سے گزر رہا ہے.اس سے اسے یاد رہے گا کہ تکلیف سے گزرنے والوں کی اس نے کیسے مدد کرنی ہے اور ان سے غفلت نہیں برتنی. قدرت کے ہر اقدام میں ایک گہرا راز ہوتا ہے.میں کچھ سمجھ رہی ہوں اس راز کو کچھ سمجھ جاؤں گی.اگلا آپریشن کب ہے آریان کا؟ چھ ماہ بعد اس سے زیادہ وقت میں بھی ہو سکتا ہے.سادھنا نے اطمینان سے کہا. امرحہ بہت متاثر تھی سادھنا سے. جب وہ پاکستان میں تھی تو خود کو دنیا کی دکھی اور مظلوم ترین لڑکی سمجھتی تھی.وہ رات کو پائن ایپل کی پلیٹ بھر کر کھاتی جاتی اور روتی جاتی. اسے لگتا دنیا میں اس سے زیادہ مشکل اور مصیبت میں کوئی نہیں ہے. اس سے زیادہ گھٹن میں کوئی نہیں رہ رہا۔سب سے زیادہ تکلیفیں اسے ہی ملی ہیں۔مل رہی ہیں۔اگر انسان دنیا میں چل پھر کر دیکھے تو اسے خبر ہو کہ جس دکھ پر وہ ایسے واویلامچاتا ہیں، دہائی دیتا ہیں،وہ تو کوئی دکھ ہی نہیں ۔لوگ تو کیڑے پڑے زخموں کے ساتھ بھی گنگناتے ہیں....مسکراتے ہے اور اصل میں وہی انسان بھی ہیں جو سر کو آسمان کی طرف شکوے کے لیے نہیں شکر کے لیے اٹھاتے ہیں۔***ایک گاہک شو اسٹور میں پچھلے ایک گھنٹے سے گھوم پھر رہاتھا۔لیکن کوئی جوتا اسے پسند نہیں آ رہا تھا۔ہر بار وہ کاؤنٹر کا چکر لگا کر ذرا آگے نکل جاتا اور پھر سے گھوم کر کاؤنٹر تک آ جاتا۔امرحہ گو بہت مصروف تھی۔لیکن اسے دیکھ بھی رہی تھی۔”میں تمہیں یہ بتا دوں کہ یہاں سٹور میں جوتوں کی ٹوئیٹ نہیں ملتی۔“امرحہ اس کے پاس آئی”اچھا ...تم نے انہیں سکھایانہیں ٹوئیٹ لینا اور دینا۔“”تمہیں کیا چاہیے....تمہیں کوئی جوتا پسند نہیں آ رہا؟“”جو جوتا اچھا ہے وہ مہنگا ہے،جو مہنگا نہیں وہ اچھا نہیں ۔“”مجھے نہیں لگتا کہ تم یہاں کسی خریداری کے موڈ میں آئے ہو۔“”ہاں کچھ کچھ ایسا ہی ہیں“”اچھا دیکھو ہمارے اسٹور میں کچھ نقص والے جوتے رکھے ہیں اگر ہم ورکر چاہیں تو انہیں لے سکتے ہیں میں ان سے بات کر لیتی ہوں تم میرے ساتھ آکر اچھے والے لیکن سستے جوتے لے سکتے ہو “”کتنی اچھی ہو تم....لیکن آج نہیں ...شاید کل...“”پھر تم آج کیا کرنے آئے تھے یہاں۔“”آج پتہ نہیں میں کل پتہ کر کے بتاؤ گا۔“گھڑی کودیکھتا وہ چلا گیا جیسے مقصد پورہ ہو گیا ہو شیشے کے اس پار امرحہ نے اسے جاتے دیکھاوہ ”ہاؤ ڈیپ ان لو“کی دھن سیٹی پر بجا رہا تھا اور ایسے چل رہا تھا جیسے کوئی راک سٹار اپنا کامیاب شو کرکے لوٹ رہا ہو کل وہ پھر آگیا لیکن جوتے لے کر پھر بھی نہیں گیا...جب وہ اسے لے کر اسٹور روم میں لے گئی اور اس نے اس کا وہاں کافی وقت لیا تو عین وقت پہ اسے یاد آیا کہ اس کے پاس تواچھی حالت میں دوتین جوڑے جوتوں کے پڑے ہے پھر وہ نئے کیوں لے ”پھر تم یہاں کیوں آئے ہو وہ زچ ہو گئی۔”پتا نہیں بس کبھی کبھی میری یاداشت کام نہیں کرتی ایسی ہی چلی جاتی ہے ۔جب یاداشت گئی میں آگیا اب واپس آئی ہے تو مجھے جانا ہو گا “”پاکستان میں ہم تم جیسے لوگوں کو باؤلا کہتے ہے۔“”باول....آ.....؟”ہاں باول....آ چلو جاؤ اب ....کتنا وقت ضائع کیا میرا۔“جاتے جاتء وہ پھر رک سا گیا ۔میرا خیال ہے اگر میں ایک جوڑا لے ہی لو تو قومی اسمبلی میں یقینا اسے زیر بحث نہیں لایا جائے گا وہ پھر سے جوتے پہن پہن کر دیکھتا رہا ۔ویسے مجھے یہ خیال بھی آ رہا ہے کہ ایک اسٹوڈنٹ کو اتنا شاہ خرچ نہیں ہونا چاہیے....او ہاں مجھے یاد آیا...میں نے سناہے ایشیا میں لوگوں کے پاس اتنے کپڑے اور جوتے ہوتے ہے کہ اگر وہ اپنے کپڑے اور جوتے دنیا بھر کے انسانوں میں تقسیم کرنے لگے تو ہر ایک کو دو،دوجوتے اور کپڑے مل جائیں ...کیاتمہارے پاس بھی اتنے ہی ہے وہ گڑ بڑاگئی“پتا نہیں یعنی اتنے ہی ہے ہر وقت تم لوگ کپڑوں اور جوتوں کے بارے میں ہی سوچتے رہتےہو اور پھر اصل باتوں پر سوچنے کے لیے دماغ میں اور جگہ ہی نہیں رہتی۔”میرے دماغ میں بھی اور جگہ نہیں رہی،تمہاری اوٹ پٹانگ باتیں سن سن کر...“کندھے اچکا کر وہ چلا گیا...باہر بارش ہورہی تھی اور سڑک کوپار کرتے فٹ پاتھ پر چلتے اس نے کم سے کم پانچ بار مڑ کرشیشے کے اس پار کاؤنٹر پر سر جھکائے کمپیوٹر میں بلز کی انٹری کرتے امرحہ کودیکھا ۔اس بار اس نے سیٹی کی دھن بدل ڈالی۔وہ ایک مشرقی دھن بجا رہا تھا ۔*********ڈیرک آرٹ کا اسٹوڈنٹ تھا اور اس نےایک مقامی چینل کے لیے ایک ڈاکومنٹری بنائی اورڈبنگ کے لیے امرحہ کو بلایا۔امرحہ جانتی تھی ،وہ اب تک شرمندہ ہے۔اس لیے زیادہ سے زیادہ اس کی مدد کرتا ہے...دو منٹ کی ڈبنگ کے اسے اچھے خاصے پیسے مل گئے تھے اور کافی سے زیادہ معلومات بھی صرف ایک کیمرے کے ساتھ ڈیرک نے وہ ڈاکومنڑی بنا لی تھی اور اچھے خاصے پیسے بنالیے تھے۔ڈیرک نے اسے اپنی پہلی سے بنائی گئ دوسری ڈاکومنٹریزبھی دکھائیں۔ اسے وہ سب اچھی لگیں ،حاص کر ڈیرک کی کوشش اچھی لگی۔ چند دن سوچنے کے بعد اس نےڈیرک سےمشورہ کیا۔وہ مانچسٹر یونیورسٹی میں ایڈمیشن سے متعلق ایک تفصیلی ڈاکومنڑی بنوانا چاہتی تھی۔تاکہ پاکستانی اسٹوڈنٹس کو اچھی طرح سے اپ ڈیٹ رکھا جائے۔ڈیرک نے اسے بتایا کہ ڈاکومنڑی کے لیے بھی اسکرپٹ لکھا جاتا ہے۔پہلے وہ اسکرپٹ لکھے ۔اس نے اپنے لکھے اسکرپٹ اسے دے دیے۔تاکہ وہ ان سے سیکھ لے۔انہیں کئی دن پڑھنے کے بعد اس نے پانچ منٹ کا اسکرپٹ لکھ لیا۔ڈیرک نے کچھ بنیادی تبدیلیاں کیں اور انہوں نے ایڈمیشن سے متعلق ایک جامع ویڈیو بنا لی....ڈیرک نے اس کی انگلش میں ڈبنگ کی اور امرحہ نے اردو میں.....ویڈیو اس نے پاکستان کے چند ٹی وی چینلز کو بھیج دی اور جواب کا انتظار کرنے لگی ۔تھوڑا وقت لگا اور جواب آگیا۔وہ ویڈیو خریدنے کے لیے تیار تھے۔ پر وہ بہت کم پیسے دے رہے تھے۔اس نے سوچاکہ اسے کم پیسوں پر ہی دے دینی چاہی،لیکن ڈیرک نے روک دیا۔”کبھی فیصلوں میں اتنی جلدی نہیں کرتے ۔جلد بازی ایک بڑے نقصان کا باعث بے شک نہ بنے۔لیکن بڑے فائدے سے ضرور محروم کر دیتی ہے۔میری پہلی ڈاکومنڑی ایک سال میرے پاس پڑی رہی تھی ۔کوئی خریدنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ٹرائل کے لیے میں نے پھر اسے ایک جرنلسٹ کو دے دیا۔اس نے اپنے بلاگ پر پوسٹ کر دی۔بس پھر مت پوچھو...جن چینلز نے انکار کیا تھا وہ اس کے رائٹس لینے کے لیے تڑپنے لگے ،یہاں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک جنہیں اچھی چیز چاہئے....دوسرے جنہیں اچھی بکنے والی چیز چاہئے،جو انہیں فائدہ دے.....تمہیں ایک انکار ہوا ہے۔تم دوسرے کے پاس جاؤ“ڈیرک نے ہی اس کے ساتھ مل کر تھوڑی بہت ریسرچ کی اور اب کی بار انہوں نے ان پاکستانی کمپنیز کو ویڈیو بھیجی جو اسٹوڈنٹ ویزا کا کام کرتے تھے۔انہیں ایک دوسرے درجے کی ویزا کمپنی نے ہاں کہہ دی اور نسبتاً اچھی رقم آفر کی۔امرحہ نے ہاں کہہ دی....یہ ہاں اچھی رہی ...کیونکہ اسی کمپنی نے چند اور ایک ،ایک ..دو،دو منٹ کی ویڈیوز کے لیے امرحہ سے بات کی۔انہیں مانچسٹر یونیورسٹی کے چند دوسرے ڈپارٹمنٹس کی تفصیلات چاہیے تھیں۔جووہ اپنے اسٹوڈنٹس کو دیکھا سکتے۔امرحہ اور ڈیرک نے وہ بھی بنا کر بھیج دیں۔امرحہ کو اچھا خاصہ فائدہ ہواتھا۔اسے یقین تھا کہ اگر یہی رفتار رہی تو وہ بہت جلد اپنا تھرٹی پرسنٹ کا قرض دائم کے ہاتھ میں تھما دے گی۔**اس کی کفایت کا گراف اونچا ہوتا جارہا تھا اور فضول خرچی کا نا ہونے کے برابر....سردیاں آچکی تھیں،تو اس نے اپنےلیے صرف گرم کوٹ لیےتھے۔جو وہ پاکستان سے لائی تھی۔وہ یہاں بے کار تھے۔یہاں کی سردی اس کی سوچ سے بڑ کر تھی۔رات گئے ایک دن دادا جی کا فون آیا۔اسے وہ کافی پریشان لگے ۔”پریشان نہ ہوتا امرحہ....دھیان سے سنو تمہارے باباہسپتال میں.....میں....پوری اعظم مارکیٹ میں آگ لگی تھی....بس واجد خود کو سنبھال نہ سکا“”کیاہوا دادا؟“وہ چلا اٹھی۔”وہ ٹھیک ہے....سینے میں درد ہوا تھا اس کے“”میری بات کروائیں۔“”ابھی وہ ہوش میں نہیٍں ہے تم دعا کرو....“وہ کمرے سے نکل کر باہر کا دروازہ کھول کر آسمان تلے آگئی...اس کا دم گھٹنے لگا۔ایسے جیسے دنیا کی ہر چیز اسے دباؤ سے مار ڈالے گی۔سادھنا اس کے پیچھے آئی۔”پاکستان میں سب ٹھیک ہے امرحہ....؟“”میرے بابا ہسپتال میں ہیں....“اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔”وہ ٹھیک ہو جائے گے۔“وہ منہ اٹھا کر سادھنا کو دیکھنے لگی۔”تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو....دو دن پہلے تم مجھے کہہ رہی تھیں تم شیر جوان ہو۔“”میرے اندر گھبراہٹ بڑھ رہی ہے۔میرا دل پھٹا جا رہا ہے۔“”یہ گھبراہٹ نہیں مایوسی ہے....جب انسان مایوس ہوتا ہے اس کے اندر ایسے ہی ابال اٹھتے ہیں۔اسے بے چین کر دیتے ہیں....یہ مایوسی ہی ہے...ورنہ تم ایسے نکل کر باہر کو نہ بھاگتیں....اپنی عبادات کرتیں...پہلا کام رونےکا نہ کرتیں، دعا کا کرتیں۔خود کو سنبھالو....اپنے گھر والوں کا حال احوال لو.....“وہ سادھنا کی طرف دنگ سے دیکھتی رہ گئی اور اندر کی طرف لپکی...فون کیا اور دادی،اماں سب کو جی جان لگا کرتسلی دی۔”گھبرائیں نہیں وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔“اس کا اندز مضبوط تھا۔”اگر انہیں کچھ ہو گیا تو...؟“اماں روتی جاتی تھیں۔میرے پاس آپ کے مایوسیوں کے جوابات نہیں ہیں۔“دادا اس کی مختلف ڈاکٹرز سے بات کرواتے رہے۔ٹھیک تین گھنٹے بعد انہیں ہوش آگیا اوردو دن بعد وہ گھر چلے گئے۔دوکان میں موجود بیس پچیس لاکھ کے قالین جل کر راکھ ہو چکے تھے۔ بابا کے سینے میں تکلیف کیوں نہ ہواُٹھتی۔کاروبار کے نام پہ وہ کنگال ہو چکے تھے۔پاکستان میں سب بے حد پریشان تھے کہ اب کیاہو گااور مانچسٹر میں وہ تن دہی سے ان معاملات کا حل نکالنے میں مصروف تھی۔لیکن ہلکان یا پریشان نہیں۔”واجد سود پہ قرضہ لے رہا ہے۔“دادا نے فون پہ بتایا۔”سود پر؟“اسےدھچکا لگا۔”ہاں...میری کوئی بات نہیں سن رہا۔بنا سود کےقرض کہی پہ مل نہیں رہا۔“”سود حرم ہے دادا۔“اسے دکھ ہوا جان کر۔”یاد ہے مجھےاور واجد کو بھی یاد دلایا ہے۔کہتا ہے سود نہیں ہے بس وہ قرض پہ منافع لیں گے“دادا آبدیدہ ہو گئے۔یا وہ گھر بیچے گا یا قرض لے گا۔ورنہ دوکان کیسے چلائے گا”بابا سے کہیے گا قرض نہ لیں ،میں کچھ کرتی ہوں۔“”تم کیا کروگی؟“دادا حیران ہوئے۔کیوں بہت کچھ کر سکتی ہوں میں....جہاں ایک مشکل آتی ہے وہاں دائیں بائیں سو حل آتے ہیں۔میں دائیں بائیں اوپر نیچے دیکھتی ہوں،حل ضرور کہیں آس پاس ہی ہے۔“اس نے اب تک کی اپنی جمع کی گئی تنخواہ اور ڈاکومنٹریز سے ملنے والے پیسے بابا کےاکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دئے....وہ پاکستانی چندلاکھ تھے۔فی الحال اتنے بھی کافی تھے۔پھر کافی سوچ بچار کے بعد اس نےلیڈی مہر کے سامنے اپنا مسئلہ رکھا۔انہوں نے خاموشی سے ایک چیک کاٹ دیا۔وہ حیران دیکھتی رہ گئی۔اس کا خیال تھا کہ لیڈی مہر اسے مشورہ دیں گی کہ ایسے کرلو ویسے کر لو لیکن انہوں نے مناسب کاایک چیک اسےلکھ دیا۔”یہ قرض ہے۔“انہوں نے امرحہ کو یاد دلایا۔”جی بلکل......“اس نے سر ہلایا۔”تمہیں معلوم ہے امرحہ ! کہ میں تمہیں اور تم جیسی کہی لڑکیوں کو یہاں مفت بھی رکھ سکتی ہوں لیکن میں ایسا نہیں کرتی....اگر ایسا کیا میں نے تو تمہیں بے کار اور ناکارہ بنا دوں گی....میرا ایک بیٹا اسی شہر میں رہتا ہے اور وہ میرے ساتھ نہیں رہتا۔میں نے اسے کوشش اور مسلسل کوشش کرتے رہنا سکھایا ہے۔میرے اس آرام دہ گھر کے شاہانہ بستروں پہ اسے نیند نہیں آتی۔میں اپنے بچوں کو اس دنیا کے کامیاب ترین انسان بنے دیکھنا چاہتی ہوں اور ایسا انسان بننے کے لیے انہیں ایک شاہانہ نہیں محنت کی زندگی گزارنی پڑے گی۔انہیں زیرہ ہونا پڑے گا،تاکہ وہ زیرو کے آگے اعداد لکھ کر اپنے نمبر بڑھا سکیں۔میرے بابا ایک کسان تھے اسکاٹ لینڈ میں ان کا اپنا فارم ہاؤس تھا وہ کہا کرتے تھے ۔”محلوں میں زندگی گزارنے والے بد قسمت ترین لوگ ہیں،کیونکہ وہ ناکارہ ہیں۔“وہ انے مٹی سے اٹے ہاتھ اٹھا کر اعلان کرتے”خوش قسمت تو ہم ہیں....کیونکہ ہم کار آمد ہیں....زندگی ہم میں سانس لیتی ہیں....زندگی ہم میں دھڑکتی ہے۔“میں یہ رقم تمہیں ویسے بھی دے سکتی ہوں اللہ نے مجھے بہت دیا ہے...لیکن یہ قرض اس لیے ہے تاکہ اسے واپس کرنے کےلیے تم خود کو کار آمد بناؤ....ٹھیک ہے؟“”جی ٹھیک ہے۔“اس نے چیک بھی بابا کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دیا۔بابا کا فوراً فون آیا۔”امرحہ....اتنے پیسے....کہاں سے آئے اتنے پیسے؟“”میں نے اپنی لینڈ لیڈی سے بنا سود کے ادھار لیے ہیں....اور کچھ میرے اپنے جمع کیے گئے ہے۔“”تم نے کیسے جمع کیے؟“*************جاری ہے.
یارم از: سمیرا حمید قسط نمبر 18۔
یارم از: سمیرا حمیدقسط نمبر 18۔**************اب وہ رو رہی تھی اور وہ سب شرمندہ شرمندہ اسے سن رہے تھے۔ عالیان اٹھا اور چل کر اس کے قریب آکر بیٹھ گیا"مزاق کچھ زیادہ ہی ہو گیا نا_ ان کی غلطی ہے۔ انہیں معاف کر دو" وہ بدستور ہچکیاں لیتی رہی "پلیز... انہیں معاف کر دو ...پلیز..."اس نے سالوں تڑپ تڑپ کر، چھپ چھپ کر روتی رہی آنکھوں کو اٹھا کر عالیان کو دیکھا۔ عالیان وہیں کا وہیں رہ گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں دو آنکھوں میں اتنی تڑپ، تکلیف،دکھ اور غصہ سمٹا ہوا نہیں دیکھا تھا-اس نے سیاہ مشرقی آنکھیں دیکھی تھی۔ ان مشرقی آنکھوں میں طیش و شکوے کے ایسے بادل نہیں دیکھے تھے۔ وہ اسے شکایت سے دیکھ رہی تھی کہ اردو بولنے والا نام سے مسلمان لگنے والا وہ بھی ان کے ساتھ شامل تھاعالیان چپ کا چپ ہی رہ گیا۔ اس کی بھوری آنکھوں نے اس دے بھرپور شکایت کی۔ اسے انہیں ان دو سیاہ آنکھوں کے اتنا قریب نہیں لے جانا چاہئیے تھا۔ اب اگر وہ ایسا کر چکا تھا تو اس کا انجام اسے ہی بھگتنا تھا۔۔۔۔ اکیلے۔۔عشق مجازی کا اگر کوئی لاڈ کا نام ہوتا تو ہو محبوب کی آنکھ کا طیش ہوتا اور اگر روتی ہوئی اندھیری آنکھوں کا کوئی لاڈ کا نام ہوتا تو وہ امرحہ ہوتا۔عالیان کو یہ یاد کرنے میں دقت ہوئی کہ وہ کہاں بیٹھا ہے۔اس سے بھی زیادہ دشواری اسے اپنی آنکھوں کو آنسوءں کےپانیوں میں غرق ان آنکھوں سے ہٹانے میں ہو ئی۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھرا ہوا اور دو قدم پیچھے کو چلا اور پھر سے بھاگ پڑنے جیسے انداز میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ماسٹر بالی کلارنٹ پر بسنت رنگ بجا رہے تھے۔
اگلے دن وہ سب باری باری گھر آتے رہے اور دروازے کے پاس پھول رکھتے گئے۔ رات اس نے ان کا سوری قبول نہیں کیا تھا۔۔ڈر کے مارے وہ اندر نہیں آ رہے تھے۔وہ کھڑکی میں بیٹھی سب کا تماشہ دیکھتی رہی۔سب سے بڑا گلدستہ ایرک کی طرف سے تھا،یہ وہی تھا جس نے امرحہ کا انتخاب کیا تھا۔اس ڈرامے کیلیے۔ پھر اسے ایک لمبا چاڑٹ ملا جس پر ان سب کے دستخط تھے اور چارٹ پر ایک طرف روتا ہوا موٹے موٹے آنسو والا سوری لکھا تھا۔چارٹ کے ساتھ ہی وہ ویڈیو بھی بھیجی گئی تھی جو کل رات بنائی گئی تھی۔اسنے وہ ویڈیو دیکھی اور اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔واقعی۔۔۔وہ ایک مکمل عملی مزاق تھا۔ان سب کے تاثرات کمال کے تھےاسنے وہ ویڈیو لیڈی مہر اوع سادھنا کو بھی دکھائی۔۔وہ لوٹ پوٹ ہوتی ہوئی باربار ویڈیو چلا کر دیکھتی رہیں۔بعد میں اسے معلوم ہوا کہ کام کرنے کیلیے جتنے بھی لوگوں کا گروپ وہاں موجود تھا۔ان سب کے ساتھ کچھ نہ کچھ کچھ کیا جانا تھا۔ وہاں موجود سب ہی اسٹوڈنٹس مانچسٹر یونیورسٹی میں پچھلے چار سال سے پڑھ رہے تھے اور یہ ایک روایت ہی تھی کہ وہ ہر سال کچھ نہ کچھ کرتے لیکن امرحہ کے ساتھ مزاق کچھ زیادہ ہی سیریس ہو گیا۔۔
----
اس واقعے سے اتنا ہوا کہ وہ یونیورسٹی میں کافی مقبول ہو گئی۔اسکے کافی سے زیادہ سٹوڈنٹس دوست بن گئے تھے۔جو اسے دیکھ لیتا رک کر اسکا حال احوال ضرور پوچھتا۔۔۔اسے کافی۔۔لنچ کیلیے بلاتے۔۔کوئی نہ کوئی اسکی مدد کیلیے تیار رہت۔۔ جو اسٹوڈنٹس مانچسٹر کے ہی رہنے والے تھے وہ اسے اپنے گھر شام کی چائے یا ویک انڈ پر ڈنر پر مدعو کرتے ۔۔اسکے رونے دھونے کا ان سب فنکاروں پر ایسا اثر ہوا کہ وہ اسے ننھی منی بچی کی طرح ٹریٹ کرتے کہ بےبی چاکلیٹ کھا لو۔۔۔آئسکریم کھالو۔۔۔اچھا یہ لو باربی۔۔چلو دو لے لو۔۔۔بس رونا نہیں۔۔ایک وسیع حلقہ اسے جاننے لگا تھا۔وہ جس سے چاہتی پڑھنے میں مدد لے لیتی۔۔ اسی دوران شٹل کاک میں ایک روسی ویرا اور ایک جاپانی این اون (en eun)آ گئی جاپانی تو بہت خاموش طبع تھی. سال میں ایک بار بولنے والوں جیسی تھی. اس نے لیڈی مہر کو کہانی سنانی پر لیڈی مہر نے اسے خود ہی روک دیا کہ وہ بس چپ چاپ گھر میں رہتی رہے. البتہ ویرا نے اپنے شیر سوچی میں ہونے والی بائیسویں سرمائی اولیکس کی وہ وہ کہانیاں سنائی کہ خود امرحہ کا جی چاہا کہ کاش وہ کوئی ایتھلیٹ ہوتی. کاش فارغ اوقات میں ویرا مانچسٹر کی سڑکوں پر دیتی. اس کا قد چھ فٹ دو انچ تھا. بال کمر سے بہت نیچے تک لمبے تھے یا سکائکلینگ کرتی یا سیکٹنگ جب وہ یہ دونوں کرتی تو لگتا کہ کوئی پری بنا پروں کے سڑک پر نیچی پرواز پر اڑ رہی ہے. اس کے بال جو اونچی پونی کی صورت میں بندھے لہراتے اڑتے. ایک بار ویرا نے اسے اسلیٹگ شوز پہنا دیے اور امرحہ منہ کے بل سڑک پر گری ناک کی ہڈی اتنی بچ گئی کہ سرجری کی ضروت نہ رہی باقی ساری کسر پوری ہو گئی امرحہ کا بس کا کرایہ بھی بجا وہ ویرا کے ساتھ ہی اس کی سائیکل پر بیٹھ کر یونیورسٹی چلی جاتی. لیکن ویرا کے ساتھ سائیکل پر بیٹھنا بھی اتنا مشکل تھا جتنا رولر کوسٹر پر بیٹھنا دل گردے کا کام تھا.کرایہ بچانے کے لیے وہ اپنے دل گردے روز مظبوط کرتی وہ سائیکل پر ہزار ہزار کرتب دکھاتی ہوئی جاتی ویرا کچھ اخبارات کے لیے کالم لکھتی تھی. اس لیے اسے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی. اس نے شٹل کاک ہاؤس میں چھوٹے موٹے مرمت کے کام آسانی سے کر دیے. جس کی لیڈی مہر نے اجرت بھی دی. اس کا سر نہ میں ہلاتے امرحہ نے کم ہی دیکھا تھا. اسے جیسے سب ہی کام کرنے آتے تھے. ڈیرک کی مدد سے اسے جوتوں کے ایک اسٹور میں کام مل گیا اس کا کام بل بنانا تھا بس کافی آرام دہ کام تھا اور اس کی ہفتہ وار تنخواہ بھی اچھی تھی. ہفتے میں ایک بار وہ کیفے ضرور جاتی اور اپنے سابقہ باس سے کافی کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی بات چیت کر کے آتی. اب تو دادی اور اماں بھی اس سے بات کرتے آبدیدہ ہو جاتیں تھیں. اسے حیرت ہوئی اس نے پہلی بار دادی کو اپنے آنسو صاف کرتے دیکھا. حماد اور علی اسے کافی تمیز سے مخاطب کرتے.دانیہ اسے خاندان میں ہونے والی تقریبات کی ویڈیوز بھیجتی رہتی تھی اسے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی. البتہ سادھنا،لیڈی مہر،ویرا کافی شوق سے ان ویڈیوز کو دیکھتی تھیں.
ویسے تو موسم ابرآلود رہتا ہی تھا اور ہلکی پھلکی بارش ہو جاتی تھی لیکن اس دن ہلکی لیکن مسلسل بارش ہو رہی تھی. ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی. ویرا کو کسی اخبار کے دفتر جانا تھا.اس لیے وہ اکیلی ہی آکسفورڈ سڑک پر واک کرتی سست روی سے چلتی رہی. اسے قطعا جانے کی جلدی نہیں تھی. وہ موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھی. گیلی گیلی عمارتیں نم نم منظر اسے اچھا لگ رہا تھا بھلے وہاں کے مقابل اس موسم سے عاجز آ چکے ہوں پر غیر ملکی خاص کر گرم ملکوں کے باشندوں کی جان تھی اس موسم میں اس نے گہرے گلابی رنگ کے ویرا کے اسٹول کو گردن میں دو بل دے رکھے تھے. انہیں کھول کر اس نے سر پر اوڑھ لیا. پھر اس نے واپس گردن میں بل ہی دے دیے. بارش کی ہلکی پھوار سر پر پڑتی اچھی لگ رہی تھی. ایک دم سے پیچھے سے ایک نیلی چھتری جس پر گل لالہ کے پھول بکھرے تھے. اس کے سر کے اوپر تن گئی. اس نے سر اٹھا کر دیکھا پھر چھتری پکڑے ہاتھ کو وہاں عالیان کھڑا تھا.تمہیں اپنی ٹوئیٹ نہیں چاہیے؟ آج میں تمہیں برگر تو۷ کھلا سکتا ہوں اور کافی بھی. اتنی پرانی بات اب نہیں چاہیے. کیوں اب کیوں نہیں چاہیے؟ چھتدی بدستور وہ اس کے اوپر رکھے ہوا تھا. خود وہ بھیگ رہا تھا. تم سے نہیں چاہیے تم بہت بدتمیز ہومیں نے تم سے کیا بدتمیزی کی؟ ”کب نہیں کی....ویسے تم مجھ سے اتنی نرمی سے کیوں بات کر رہے ہو؟“مجھے خود نہیں پتا چل رہا....میرا دماغ کھسکتا ہی جا رہا ہے“”علاج کےلیے پیسے نہیں ہے تمہارے پاس؟ ایسا کرو،علاج کی بھی ٹوئیٹ لے لو“”علاج تو میں کروا لوں....لیکن اس بیماری کا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے“”ایک یونیورسٹی سٹو ڈنٹ کے ساتھ تم ایسی اونگی بونگی باتیں کیسے کرسکتےہو؟“”اور یہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس بھی تو سب اونگا بونگا کرتی ہے“”سب کیا؟“”سب مطلب سب....“وہ ہلکے سے مسکرایا اور یہ کرتے وہ ایسالگا کہ امرحہ نے سوچا۔”کیااس نے خدا سےالگ سے اپائمنٹنٹ لی تھی۔“امرحہ نے ایک چاکلیٹ نکل کر اسے دی ”کھاؤ،تمہاری کیلوریز تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔“”تمہیں ڈرپ کردوں۔“وہ چاکلیٹ لے کر کھانےلگا۔”تمہارے پاس گاڑی ہے؟“”نہ...سائیکل....؟”میں ویرا کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں بیٹھتی۔“”میں گراؤں گا نہیں۔“”پرمیں تمہیں ضرور گرا دوں گی....بھاگ جاؤ، میرا سر نہ کھاؤ۔“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنےکا ۔“”خاص تمہارے لیے ۔“”میرے لیے کچھ خاص....واؤ....ٹھیک ہے...تم نے سینما دیکھے ہے ہیں یہاں کے؟“اس کے بھورے سر پر بارش کے قطرے لکن میٹی کھیل رہے تھے۔“ ہاں ! ویرا کے ساتھ گئی تھی۔“”اس نے یقیناً تمہیں ہنگر گیمز دکھائی ہو گی۔اس کا ماننا ہے کہ وہ جینیفر سے مشابہہ ہے۔“”لیکن وہ جینیفر سے زیادہ خوبصورت ہے۔“”میں تمہاری کلاس فیلو جینیفر کی بات نہیں کر رہا۔ویسے میں تمہیں ایک اچھی انڈین مووی دیکھا دکھا سکتا ہوں۔“”میں انڈین موویز نہیں دیکھتی۔“”پاکستانی؟“”وہ تین،چار ہی ہیں میں پاکستان سے دیکھ کر آئی ہوں۔“”بنگالی؟“”مجھے بنگالی نہیں آتی۔“”ایرانی....افغانی،تاجکستانی،ترکمانی،عراقی،مصری اور ہاں اینی میٹڈ۔کیا تم نے کبھی سینما میں Animated فلم دیکھی ہے؟“”نہیں“”کیا تم نے Ratatouille دیکھی ہے؟دیکھو اگر تم نے اتنی عظیم فلم نہیں دیکھی تو میں تمہیں پہلےاس کہانی سنا سکتا ہوں۔دیکھنا خو تمہارا دل چاہے گا کہ تم یہ فلم دیکھو...یہ ایک قابل ذکر چوہے اور اس کے محسن کی کہانی ہے۔چوہا جس کے ہاتھ میں کمال کا ذئقہ ہوتا ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے شیف سے زیادہ اچھا اور لذیذ کھانا بنا سکتا ہے۔ایسا کھانا جس کی کھانے والے کو نظیر نہیں ملتی اور ایسی ترکیب اور سلیقے سے ....“”چوہا شیف ہوتا ہے ؟مطلب جو کھانا بناتا ہے؟“”ہاں....تم غلط سمجھ رہی ہو....وہ کھانابنانے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہے....اس کے ہاتھ صاف ہوتے ہیں....بلکل تمہاری طرح....“”چوہا اور کھانا....آخ...خ...خ“امرحہ نے سر کو زور زور سے جھٹکا۔”آخ..خ..خ..چوہا...اور میرے ہاتھوں جیسے صاف ہاتھ...“عالیان نے چھاتے کو بند کیا۔اس کا ہاتھ تھک چکا تھااور چلتے چلتے وہ رک گیا اور اسے بھی روک لیا،اب بارش کے قطرے دونوں کے بالوں میں لک چھپ جارہے تھے”پھر کرنا۔“”کیا....؟“”یہ جو ابھی کیا تھا۔“”کیا کیا تھا؟“”وہی جو چوہے کے نام پر کیا تھا۔“”آخ....خ“امرحہ کو پھر سے چوہے کا خیال آگیا۔”ایک بار پھر کرنا...یہی...یہی...پلیز۔“”تم پاگل ہو،کیا کہہ رہے ہو۔“”جب تم یہ آخ کرتی ہو تو تمہاری بھنویں اور آنکھیں بچکانہ سا رقص کرتی ہیں...اور تمہاری ناک...یہ دائیں بائیں لہرا کر اکساتی ہے کہ اسے پکڑ کر اس پر چٹکی بھری جائے۔“”تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو۔“امرحہ کو لگا،وہ اس کی ناک کی چٹکی بھر لے گا۔”اچھا تمہارا وقت بھی اب قیمتی ہو گیا؟اچھا چلو پھر فلم کے لیے پکا؟“”اگر ویرا جانے کے لیے تیار ہو گئی؟“”ویرا؟“”ہاں دادا نے کہا ہے،ہر جگہ اسے ساتھ لے کر جاؤں۔“”دادا جی کو یہاں ساتھ لے آتیں وہ پھر بھی اچھا تھا۔“”تم میرے دادا کامذاق اُڑا رہے ہو؟“”چلو ویرا کوبھی لے آنا۔“
-
اور وہ ویرا کو بھی لے گئی۔ویرا توجاتے ہی سو گئی....کیونکہ اسے خالص ایکشن فلمیں پسندتھیں جن میں ہر دو منٹ بعد ایک بم بلاسٹ ہو اور کم سے کم دوآدمی مر جائیں.....اور ہیرو بس بڑی بڑی عمارتیں پھلانگتا رہے....اور کسی زمین پہ کھڑا ہو بھی جائیں تو چار اطراف فائر کھول دے۔جب چوہے نے پہلی بار کھانا پکانا شروع کیاتو اس نےمنہ ہی منہ میں کتنی ہی بار ...آخ..خ....کیا ۔پھر آہستہ آہستہ وہ دلچسپی سے فلم دیکھنے لگی...اور فلم کے اختتام پر اس نے تالیاں بجائیں۔اس نے اس قسم کی فلم پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ہیرہ،ہیروئن کے لمبے جھمیلوں سے ہٹ کر....ایسی شان دار فلم....کمال ہو گیا۔جب وہ ویرا کی سائیکل پر بیٹھ رہی تھی گھر جانے کے لیے تو عالیان نے بہت آہستگی سے اس سے فر مائش کی۔”ایک بار کہہ دو...آخ...خ.. “وہ قہقہہ لگا کر ویرا کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گئی۔وہ وہیں کھڑا اسے جاتےہوئے دیکھتا رہا۔کچھ لوگوں کاآنا جتنی خوشی دیتا ہےان لوگوں کا جانا اتنی ہی تکلیف دیتا ہے۔ وہ اس وقت ننھی منی سی اسی تکلیف سے گزر رہا تھا۔وہ عالیان مارگریٹ جو جب سیٹی بجاتا...دونوں ٹانگوں کو ہوا میں اچھال کر ان کی تالی بجاتا جاتا ہے تو کم سے کم پچاس لوگ اسے مڑ کردیکھنا ضرور پسند کرتے ہیں۔اگر وہ غصے سے بھی کسی کو دیکھتا ہے تو بھی اس پر پیار ہی آتا ہے۔---
لیڈی مہر شادی کی دس تک بےاولاد رہیں...پھر جب دونوں نے بچہ گود لینے کا سوچا توان کے شوہر احمد حسین کا کار کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔احمدحسین دل کےسرجن ڈاکٹر تھے۔وہ ایک کامیاب تھے اور ایسے کامیاب نرم خو انسان کے چلے جانے کے بعد ان کی بیوی اتنی کامیاب سےزندگی نہ گزار سکیں۔پہلے فالج سے ان کا آدھا حصہ مفلوج ہوا۔وہ دو سال پرائیویٹ ہسپتال میں رہیں....میکے کے نام پر ان کے خاندان صرف ایک باپ تھے جو ان کی دو سالہ بیماری کے دوران چل بسے....احمد حسین کے تین بھائی تھے۔لیکن وہ اس صورت مہر سے ملنا چاہتے تھے اگر وہ احمد حسین کی جائیداد ان کے نام کر دیتیں....ایک گھر اور میڈیسن کمپنی کےشئیرز....مہر بچہ گود لینا چاہتی تھیں۔اب وہ بھی نہیں لے سکتی تھیں۔ان کی حالت ہی ایسی نہیں تھی۔وہ اپنے آپ کو نہیں سنبھال سکتی تھیں بچے کو کیسے...اور اس میں انہیں کوئی بھی ادارہ بچہ نہ دیتا۔تو انہوں نے بچوں کو ان اداروں میں رکھ کر ہی پالنا شروع کر دیا۔ایک ادارہ تھا” اُور کڈز“(ہمارے بچے) جو بچہ پالنے کے خواہش مند افراد کو ایک بچے سے ملا دیتے اور پھر اس کے اخراجات کے پیسے لیتے رہتے اور اسے اپنے پاس رکھ کر ہی اس کی تعلیم و تربیت کرتے....مہر نے یہاں ایک نہیں پورے دس بچوں کو لے کر پالا....وہ کمپنی سے ملنے والے منافع سے اپنے اخراجات کے لیے نکال کر باقی سب ادارے کو دے دیتیں۔بچے مہینے میں ایک بار ان سے آکر مل جاتے۔ ایک پورادن ان کے پاس گزار کر جاتے۔مہر کو ماما کہتے....*************جاری ہے
اگلے دن وہ سب باری باری گھر آتے رہے اور دروازے کے پاس پھول رکھتے گئے۔ رات اس نے ان کا سوری قبول نہیں کیا تھا۔۔ڈر کے مارے وہ اندر نہیں آ رہے تھے۔وہ کھڑکی میں بیٹھی سب کا تماشہ دیکھتی رہی۔سب سے بڑا گلدستہ ایرک کی طرف سے تھا،یہ وہی تھا جس نے امرحہ کا انتخاب کیا تھا۔اس ڈرامے کیلیے۔ پھر اسے ایک لمبا چاڑٹ ملا جس پر ان سب کے دستخط تھے اور چارٹ پر ایک طرف روتا ہوا موٹے موٹے آنسو والا سوری لکھا تھا۔چارٹ کے ساتھ ہی وہ ویڈیو بھی بھیجی گئی تھی جو کل رات بنائی گئی تھی۔اسنے وہ ویڈیو دیکھی اور اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔واقعی۔۔۔وہ ایک مکمل عملی مزاق تھا۔ان سب کے تاثرات کمال کے تھےاسنے وہ ویڈیو لیڈی مہر اوع سادھنا کو بھی دکھائی۔۔وہ لوٹ پوٹ ہوتی ہوئی باربار ویڈیو چلا کر دیکھتی رہیں۔بعد میں اسے معلوم ہوا کہ کام کرنے کیلیے جتنے بھی لوگوں کا گروپ وہاں موجود تھا۔ان سب کے ساتھ کچھ نہ کچھ کچھ کیا جانا تھا۔ وہاں موجود سب ہی اسٹوڈنٹس مانچسٹر یونیورسٹی میں پچھلے چار سال سے پڑھ رہے تھے اور یہ ایک روایت ہی تھی کہ وہ ہر سال کچھ نہ کچھ کرتے لیکن امرحہ کے ساتھ مزاق کچھ زیادہ ہی سیریس ہو گیا۔۔
----
اس واقعے سے اتنا ہوا کہ وہ یونیورسٹی میں کافی مقبول ہو گئی۔اسکے کافی سے زیادہ سٹوڈنٹس دوست بن گئے تھے۔جو اسے دیکھ لیتا رک کر اسکا حال احوال ضرور پوچھتا۔۔۔اسے کافی۔۔لنچ کیلیے بلاتے۔۔کوئی نہ کوئی اسکی مدد کیلیے تیار رہت۔۔ جو اسٹوڈنٹس مانچسٹر کے ہی رہنے والے تھے وہ اسے اپنے گھر شام کی چائے یا ویک انڈ پر ڈنر پر مدعو کرتے ۔۔اسکے رونے دھونے کا ان سب فنکاروں پر ایسا اثر ہوا کہ وہ اسے ننھی منی بچی کی طرح ٹریٹ کرتے کہ بےبی چاکلیٹ کھا لو۔۔۔آئسکریم کھالو۔۔۔اچھا یہ لو باربی۔۔چلو دو لے لو۔۔۔بس رونا نہیں۔۔ایک وسیع حلقہ اسے جاننے لگا تھا۔وہ جس سے چاہتی پڑھنے میں مدد لے لیتی۔۔ اسی دوران شٹل کاک میں ایک روسی ویرا اور ایک جاپانی این اون (en eun)آ گئی جاپانی تو بہت خاموش طبع تھی. سال میں ایک بار بولنے والوں جیسی تھی. اس نے لیڈی مہر کو کہانی سنانی پر لیڈی مہر نے اسے خود ہی روک دیا کہ وہ بس چپ چاپ گھر میں رہتی رہے. البتہ ویرا نے اپنے شیر سوچی میں ہونے والی بائیسویں سرمائی اولیکس کی وہ وہ کہانیاں سنائی کہ خود امرحہ کا جی چاہا کہ کاش وہ کوئی ایتھلیٹ ہوتی. کاش فارغ اوقات میں ویرا مانچسٹر کی سڑکوں پر دیتی. اس کا قد چھ فٹ دو انچ تھا. بال کمر سے بہت نیچے تک لمبے تھے یا سکائکلینگ کرتی یا سیکٹنگ جب وہ یہ دونوں کرتی تو لگتا کہ کوئی پری بنا پروں کے سڑک پر نیچی پرواز پر اڑ رہی ہے. اس کے بال جو اونچی پونی کی صورت میں بندھے لہراتے اڑتے. ایک بار ویرا نے اسے اسلیٹگ شوز پہنا دیے اور امرحہ منہ کے بل سڑک پر گری ناک کی ہڈی اتنی بچ گئی کہ سرجری کی ضروت نہ رہی باقی ساری کسر پوری ہو گئی امرحہ کا بس کا کرایہ بھی بجا وہ ویرا کے ساتھ ہی اس کی سائیکل پر بیٹھ کر یونیورسٹی چلی جاتی. لیکن ویرا کے ساتھ سائیکل پر بیٹھنا بھی اتنا مشکل تھا جتنا رولر کوسٹر پر بیٹھنا دل گردے کا کام تھا.کرایہ بچانے کے لیے وہ اپنے دل گردے روز مظبوط کرتی وہ سائیکل پر ہزار ہزار کرتب دکھاتی ہوئی جاتی ویرا کچھ اخبارات کے لیے کالم لکھتی تھی. اس لیے اسے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی. اس نے شٹل کاک ہاؤس میں چھوٹے موٹے مرمت کے کام آسانی سے کر دیے. جس کی لیڈی مہر نے اجرت بھی دی. اس کا سر نہ میں ہلاتے امرحہ نے کم ہی دیکھا تھا. اسے جیسے سب ہی کام کرنے آتے تھے. ڈیرک کی مدد سے اسے جوتوں کے ایک اسٹور میں کام مل گیا اس کا کام بل بنانا تھا بس کافی آرام دہ کام تھا اور اس کی ہفتہ وار تنخواہ بھی اچھی تھی. ہفتے میں ایک بار وہ کیفے ضرور جاتی اور اپنے سابقہ باس سے کافی کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی بات چیت کر کے آتی. اب تو دادی اور اماں بھی اس سے بات کرتے آبدیدہ ہو جاتیں تھیں. اسے حیرت ہوئی اس نے پہلی بار دادی کو اپنے آنسو صاف کرتے دیکھا. حماد اور علی اسے کافی تمیز سے مخاطب کرتے.دانیہ اسے خاندان میں ہونے والی تقریبات کی ویڈیوز بھیجتی رہتی تھی اسے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی. البتہ سادھنا،لیڈی مہر،ویرا کافی شوق سے ان ویڈیوز کو دیکھتی تھیں.
ویسے تو موسم ابرآلود رہتا ہی تھا اور ہلکی پھلکی بارش ہو جاتی تھی لیکن اس دن ہلکی لیکن مسلسل بارش ہو رہی تھی. ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی. ویرا کو کسی اخبار کے دفتر جانا تھا.اس لیے وہ اکیلی ہی آکسفورڈ سڑک پر واک کرتی سست روی سے چلتی رہی. اسے قطعا جانے کی جلدی نہیں تھی. وہ موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھی. گیلی گیلی عمارتیں نم نم منظر اسے اچھا لگ رہا تھا بھلے وہاں کے مقابل اس موسم سے عاجز آ چکے ہوں پر غیر ملکی خاص کر گرم ملکوں کے باشندوں کی جان تھی اس موسم میں اس نے گہرے گلابی رنگ کے ویرا کے اسٹول کو گردن میں دو بل دے رکھے تھے. انہیں کھول کر اس نے سر پر اوڑھ لیا. پھر اس نے واپس گردن میں بل ہی دے دیے. بارش کی ہلکی پھوار سر پر پڑتی اچھی لگ رہی تھی. ایک دم سے پیچھے سے ایک نیلی چھتری جس پر گل لالہ کے پھول بکھرے تھے. اس کے سر کے اوپر تن گئی. اس نے سر اٹھا کر دیکھا پھر چھتری پکڑے ہاتھ کو وہاں عالیان کھڑا تھا.تمہیں اپنی ٹوئیٹ نہیں چاہیے؟ آج میں تمہیں برگر تو۷ کھلا سکتا ہوں اور کافی بھی. اتنی پرانی بات اب نہیں چاہیے. کیوں اب کیوں نہیں چاہیے؟ چھتدی بدستور وہ اس کے اوپر رکھے ہوا تھا. خود وہ بھیگ رہا تھا. تم سے نہیں چاہیے تم بہت بدتمیز ہومیں نے تم سے کیا بدتمیزی کی؟ ”کب نہیں کی....ویسے تم مجھ سے اتنی نرمی سے کیوں بات کر رہے ہو؟“مجھے خود نہیں پتا چل رہا....میرا دماغ کھسکتا ہی جا رہا ہے“”علاج کےلیے پیسے نہیں ہے تمہارے پاس؟ ایسا کرو،علاج کی بھی ٹوئیٹ لے لو“”علاج تو میں کروا لوں....لیکن اس بیماری کا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے“”ایک یونیورسٹی سٹو ڈنٹ کے ساتھ تم ایسی اونگی بونگی باتیں کیسے کرسکتےہو؟“”اور یہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس بھی تو سب اونگا بونگا کرتی ہے“”سب کیا؟“”سب مطلب سب....“وہ ہلکے سے مسکرایا اور یہ کرتے وہ ایسالگا کہ امرحہ نے سوچا۔”کیااس نے خدا سےالگ سے اپائمنٹنٹ لی تھی۔“امرحہ نے ایک چاکلیٹ نکل کر اسے دی ”کھاؤ،تمہاری کیلوریز تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔“”تمہیں ڈرپ کردوں۔“وہ چاکلیٹ لے کر کھانےلگا۔”تمہارے پاس گاڑی ہے؟“”نہ...سائیکل....؟”میں ویرا کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں بیٹھتی۔“”میں گراؤں گا نہیں۔“”پرمیں تمہیں ضرور گرا دوں گی....بھاگ جاؤ، میرا سر نہ کھاؤ۔“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنےکا ۔“”خاص تمہارے لیے ۔“”میرے لیے کچھ خاص....واؤ....ٹھیک ہے...تم نے سینما دیکھے ہے ہیں یہاں کے؟“اس کے بھورے سر پر بارش کے قطرے لکن میٹی کھیل رہے تھے۔“ ہاں ! ویرا کے ساتھ گئی تھی۔“”اس نے یقیناً تمہیں ہنگر گیمز دکھائی ہو گی۔اس کا ماننا ہے کہ وہ جینیفر سے مشابہہ ہے۔“”لیکن وہ جینیفر سے زیادہ خوبصورت ہے۔“”میں تمہاری کلاس فیلو جینیفر کی بات نہیں کر رہا۔ویسے میں تمہیں ایک اچھی انڈین مووی دیکھا دکھا سکتا ہوں۔“”میں انڈین موویز نہیں دیکھتی۔“”پاکستانی؟“”وہ تین،چار ہی ہیں میں پاکستان سے دیکھ کر آئی ہوں۔“”بنگالی؟“”مجھے بنگالی نہیں آتی۔“”ایرانی....افغانی،تاجکستانی،ترکمانی،عراقی،مصری اور ہاں اینی میٹڈ۔کیا تم نے کبھی سینما میں Animated فلم دیکھی ہے؟“”نہیں“”کیا تم نے Ratatouille دیکھی ہے؟دیکھو اگر تم نے اتنی عظیم فلم نہیں دیکھی تو میں تمہیں پہلےاس کہانی سنا سکتا ہوں۔دیکھنا خو تمہارا دل چاہے گا کہ تم یہ فلم دیکھو...یہ ایک قابل ذکر چوہے اور اس کے محسن کی کہانی ہے۔چوہا جس کے ہاتھ میں کمال کا ذئقہ ہوتا ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے شیف سے زیادہ اچھا اور لذیذ کھانا بنا سکتا ہے۔ایسا کھانا جس کی کھانے والے کو نظیر نہیں ملتی اور ایسی ترکیب اور سلیقے سے ....“”چوہا شیف ہوتا ہے ؟مطلب جو کھانا بناتا ہے؟“”ہاں....تم غلط سمجھ رہی ہو....وہ کھانابنانے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہے....اس کے ہاتھ صاف ہوتے ہیں....بلکل تمہاری طرح....“”چوہا اور کھانا....آخ...خ...خ“امرحہ نے سر کو زور زور سے جھٹکا۔”آخ..خ..خ..چوہا...اور میرے ہاتھوں جیسے صاف ہاتھ...“عالیان نے چھاتے کو بند کیا۔اس کا ہاتھ تھک چکا تھااور چلتے چلتے وہ رک گیا اور اسے بھی روک لیا،اب بارش کے قطرے دونوں کے بالوں میں لک چھپ جارہے تھے”پھر کرنا۔“”کیا....؟“”یہ جو ابھی کیا تھا۔“”کیا کیا تھا؟“”وہی جو چوہے کے نام پر کیا تھا۔“”آخ....خ“امرحہ کو پھر سے چوہے کا خیال آگیا۔”ایک بار پھر کرنا...یہی...یہی...پلیز۔“”تم پاگل ہو،کیا کہہ رہے ہو۔“”جب تم یہ آخ کرتی ہو تو تمہاری بھنویں اور آنکھیں بچکانہ سا رقص کرتی ہیں...اور تمہاری ناک...یہ دائیں بائیں لہرا کر اکساتی ہے کہ اسے پکڑ کر اس پر چٹکی بھری جائے۔“”تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو۔“امرحہ کو لگا،وہ اس کی ناک کی چٹکی بھر لے گا۔”اچھا تمہارا وقت بھی اب قیمتی ہو گیا؟اچھا چلو پھر فلم کے لیے پکا؟“”اگر ویرا جانے کے لیے تیار ہو گئی؟“”ویرا؟“”ہاں دادا نے کہا ہے،ہر جگہ اسے ساتھ لے کر جاؤں۔“”دادا جی کو یہاں ساتھ لے آتیں وہ پھر بھی اچھا تھا۔“”تم میرے دادا کامذاق اُڑا رہے ہو؟“”چلو ویرا کوبھی لے آنا۔“
-
اور وہ ویرا کو بھی لے گئی۔ویرا توجاتے ہی سو گئی....کیونکہ اسے خالص ایکشن فلمیں پسندتھیں جن میں ہر دو منٹ بعد ایک بم بلاسٹ ہو اور کم سے کم دوآدمی مر جائیں.....اور ہیرو بس بڑی بڑی عمارتیں پھلانگتا رہے....اور کسی زمین پہ کھڑا ہو بھی جائیں تو چار اطراف فائر کھول دے۔جب چوہے نے پہلی بار کھانا پکانا شروع کیاتو اس نےمنہ ہی منہ میں کتنی ہی بار ...آخ..خ....کیا ۔پھر آہستہ آہستہ وہ دلچسپی سے فلم دیکھنے لگی...اور فلم کے اختتام پر اس نے تالیاں بجائیں۔اس نے اس قسم کی فلم پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ہیرہ،ہیروئن کے لمبے جھمیلوں سے ہٹ کر....ایسی شان دار فلم....کمال ہو گیا۔جب وہ ویرا کی سائیکل پر بیٹھ رہی تھی گھر جانے کے لیے تو عالیان نے بہت آہستگی سے اس سے فر مائش کی۔”ایک بار کہہ دو...آخ...خ.. “وہ قہقہہ لگا کر ویرا کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گئی۔وہ وہیں کھڑا اسے جاتےہوئے دیکھتا رہا۔کچھ لوگوں کاآنا جتنی خوشی دیتا ہےان لوگوں کا جانا اتنی ہی تکلیف دیتا ہے۔ وہ اس وقت ننھی منی سی اسی تکلیف سے گزر رہا تھا۔وہ عالیان مارگریٹ جو جب سیٹی بجاتا...دونوں ٹانگوں کو ہوا میں اچھال کر ان کی تالی بجاتا جاتا ہے تو کم سے کم پچاس لوگ اسے مڑ کردیکھنا ضرور پسند کرتے ہیں۔اگر وہ غصے سے بھی کسی کو دیکھتا ہے تو بھی اس پر پیار ہی آتا ہے۔---
لیڈی مہر شادی کی دس تک بےاولاد رہیں...پھر جب دونوں نے بچہ گود لینے کا سوچا توان کے شوہر احمد حسین کا کار کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔احمدحسین دل کےسرجن ڈاکٹر تھے۔وہ ایک کامیاب تھے اور ایسے کامیاب نرم خو انسان کے چلے جانے کے بعد ان کی بیوی اتنی کامیاب سےزندگی نہ گزار سکیں۔پہلے فالج سے ان کا آدھا حصہ مفلوج ہوا۔وہ دو سال پرائیویٹ ہسپتال میں رہیں....میکے کے نام پر ان کے خاندان صرف ایک باپ تھے جو ان کی دو سالہ بیماری کے دوران چل بسے....احمد حسین کے تین بھائی تھے۔لیکن وہ اس صورت مہر سے ملنا چاہتے تھے اگر وہ احمد حسین کی جائیداد ان کے نام کر دیتیں....ایک گھر اور میڈیسن کمپنی کےشئیرز....مہر بچہ گود لینا چاہتی تھیں۔اب وہ بھی نہیں لے سکتی تھیں۔ان کی حالت ہی ایسی نہیں تھی۔وہ اپنے آپ کو نہیں سنبھال سکتی تھیں بچے کو کیسے...اور اس میں انہیں کوئی بھی ادارہ بچہ نہ دیتا۔تو انہوں نے بچوں کو ان اداروں میں رکھ کر ہی پالنا شروع کر دیا۔ایک ادارہ تھا” اُور کڈز“(ہمارے بچے) جو بچہ پالنے کے خواہش مند افراد کو ایک بچے سے ملا دیتے اور پھر اس کے اخراجات کے پیسے لیتے رہتے اور اسے اپنے پاس رکھ کر ہی اس کی تعلیم و تربیت کرتے....مہر نے یہاں ایک نہیں پورے دس بچوں کو لے کر پالا....وہ کمپنی سے ملنے والے منافع سے اپنے اخراجات کے لیے نکال کر باقی سب ادارے کو دے دیتیں۔بچے مہینے میں ایک بار ان سے آکر مل جاتے۔ ایک پورادن ان کے پاس گزار کر جاتے۔مہر کو ماما کہتے....*************جاری ہے
یارم از: سمیرا حمید قسط نمبر 17۔
یارم از: سمیرا حمید
قسط نمبر 17۔
**********
اس دوران ایک چھوٹا سا واقع ہوا جو کافی بڑی صورت اختیار کر گیا۔اسےاور اس کےچند کلاس فیلو کو یونیورسٹی کے ایک دوسرے گروپ نے اپروچ کیا....وہ مانچسٹر میں اپنی نئی کلاسسز کے شروع ہونے کے سلسلے میں ایک پارٹی کا اہتمام کر رہے تھے۔....اور پارٹی کے انتظامات کے لیے انہوں نے یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کو ہی موقع دیاتھا۔تاکہ وہ چند گھنٹوں میں کچھ زیادہ پونڈ کما سکیں...اس کے کلاس فیلوز نے ہاں کہا تھا...اس نے بھی کہہ دیا...انہیں پارٹی کے سارے انتظامات دیکھنے تھے....ڈیکوریشن سے لے کرسرونگ تک....پارٹی ان میں سےکسی ایک سٹوڈنٹ کے گھر کے لان میں تھی اور جہاں یہ گھر تھا وہاں باقی گھرکافی دور دور تے
تھے۔جن کے آگے سڑکیں کھلی اور کشادہ تھیں۔ سرشام ہی ان سب نے پارٹی کے لیے ابتدائی سیٹنگ مکمل کر لی....باقی ان کا کام میزوں پر کھانے کی اشیا رکھنا تھا جو ذرا ہٹ کر الگ سے لگی تھیں۔انہیں ہر فرد کو الگ الگ نہیں پیش کرنا تھا۔
”تم شکل سے بہت زیادہ پاکستانی لگتی ہو“ایرک اور اس کے دوسرے دوست اسے تشویش سے ایسے دیکھنے لگے کہ اسے تشویش ہونے لگی۔وہ سب پارٹی کے انتظامات دیکھنے آئے تھے۔”میں ہوں بھی پاکستانی۔“وہ برا مان گئی”نہیں ہمارامطلب....وہ سب ذرا ڈرتے ہیں....ذرا سے کچھ زیادہ ہی ڈرتے ہیں۔“
”ڈرتے ہیں ....کون...؟“
”آج کی پارٹی میں آنے والے زیادہ تر اسٹوڈنٹس....“وہ کافی زیادہ گول مول سی باتیں کر رہا تھا۔”انہیں پاکستان فوبیا ہے کیا؟“
”نہیں....شاید ہاں....یہ اخبارات....ٹی وی...میڈیا دماغ خراب کر دیتے ہیں...جو کچھ اخبارات میں کہا جاتا ہے اس پر یقین کرلیتے ہیں....اور تم ہو بھی مسلم....پلیز ایسے برا نہ مانو....دھماکوں سے بہت ڈر لگتا ہے انہیں۔“
”دھماکوںسے ڈر لگتا ہے..میں مسلم ہوں...آخر کیا مطلب ان سب باتوں کا..مجھے بھی دھماکوں سے ڈر لگتا ہے ....لیکن میں نے تو تمہیں نہیں بتا رہی۔“وہ ایک نہ سمجھ سکی۔”دیکھا تم برا مان گئیں....تم غلط سمجھ رہی ہو...یہاں کون سا دھماکا ہونے جا رہا ہے...مطلب کچھ ہو گا ہی نہیں تو ڈرنا کیسا؟“
”کچھ ہونے کا خطرہ ہے یہاں...کوئی بلاسٹ؟تم مجھے ڈرا رہے ہو؟“
”میں تمہیں صرف بتارہا ہوں...ان میں سے زیادہ تر کے انکل اور فادرز پولیس میں ہیں....بس ایسے ہی بتا رہا ہوں....ایسے پریشان نہ ہو۔“
"امرحہ کا سر چکر انے لگا۔کیا کہ رہے ہو....کیاسمجھانا چاہ رہے ہو مجھے؟؟"
"ایسے ہی تم سے باتیں شیئر کر رہے ہیں"
ایسے باتیں شیئر کرتے ہیں.....تم سب مجھے شک سے گھور رہے ہو....تمہیں لگتا ہے میں یہاں دھماکا کروں گی...میں...کیا مذاق ہے یہ؟؟"
ایسی تو کوئی بات ہم نے نہیں کی...تم کیا سے کیا سوچ رہی ہو؟؟؟
ہاں سیدھے سیدھے یہ بات نہیں کی'پرجوکی' ہیں ان کا مطلب خوف ناک ہے."
"ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں'تمہارا تو ابھی سے رنگ اڑ، گیا ہے"
"ابھی سے مطلب...." اسکا رنگ واقعی اڑ' اڑ گیا تھا.
وہ گڑبڑا گئے تھے..."مطلب ہم تو صرف باتیں کر رہے ہیں ."
ایسی خطر ناک باتیں ہی کرتے ہو تم سب؟مجھے تمہاری باتیں پسند نہیں آ ئیں."
وہ اپنے کم میں لگ گئی اور اندر ہی اندر سہم بھی گئی..یعنی اگر ذرا سی بھی کوئی گڑ بڑ ہو گئی تو یہ لوگ صاف صاف اس پر الزام لگا دیں گے..پولیس اور پھر.....
لان میں ایک طرف اونچائی پر ڈی-جے کا انتظام کیا گیا تھاجیسے کلب میں ہوتا ہے...اندھیراگہراہوا تو ٹوئسٹ لائٹس نے اور twist بڑھا دیا...انہوں نے ڈی-جے ساؤنڈ چیک کیا جو خطر ناک حد تک تیز تھا.نیلی'پیلی'ہری'لال ٹوئسٹ لائٹس حرکت کرنے لگیں.سب آنے لگے....انہوں نے میزوں پر پہلے سے ہی سوفٹ ڈرنکس رکھ دیں تھیں۔دوگھنٹےبعد انہیں کھانے کی چیزیں رکھنی تھیں۔
ایک گھنٹہ گزر گیا...دوسرا بھی گزر گیا....ان سب نے مل کر میزوں پر کھانے کی اشیا رکھ دیں..ڈی-جے نسبتاہلکی آواز میں میوزک کے ساتھ تجربات رہا ...جو امرحہ کو کافی پسند آئے...وہ گلاسوں کی ٹرے رکھنےجا رہی تھی کہ ایرک نے اسے آواز دی....وہ اس کے قریب جا ہی رہی تھی کہ ایک زوردار دہشت ناک دھماکہ ہوا۔اتنا زور دارکہ کانوں کے پردے پھٹنے کے قریب ہو گئے... امرحہ بری طرح لڑھک کر گری... اسی دھماکے کے ساتھ شیشے ٹوٹنے کی آوازیں اور کچھ انسانی چیخوں کی آوازیں بھی آئیں۔ پورے ایک منٹ تک سناٹا رہا۔ امرحہ زندگی میں کبھی اتنی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی جتنی اس دھماکے سے ہو گئی تھی۔وہ بمشکل اٹھی اور اس پاس نظر دوڑانے لگی کی کوشش....دوسرے لوگ بھی کچھ اٹھ چکے تھے کچھ اٹھ رہے تھے۔یہ ایک خوف ناک منظر تھا اس لیے نہیں کہ وہاں دھماکہ ہوا تھا۔بلکہ اس لیے کہ سب اسے گھور رہے تھے۔ اس نے جینز پر لمبی قمیص پہن رکھی تھی اور ایرک نے ہی کہا تھا کہ سر ڈھانپ کے کام کرنا ہے تو اس نے اسکارف کو سر پر اچھی طرح سے اوڑھ لیا تھا۔ امرحہ کو پہلے یہ صرف اپنا وہم لگا کہ سب ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہے ہیں پھر اس نے ذرا گردن گھمائی تو وہم لگنے والا خیال سو فیصدخوف میں بدل گیا وہ سب اپنی اپنی جگہ پر جمے اسے ہی دیکھ رہے تھے.... گھور رہے تھے۔ان میں سے ایک نے کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ انگلی اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کیا یو یو ڈڈدز (تم نے کیا ہے یہ ) اتنی سی بات سے کسی نے اس کے سر پر دوسرا دھماکہ کیا لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کے ذہن میں نائن الیون٬لندن ٹربن دھماکے٬اخبارات٬ ٹی وی چینلز کی سب خبریں...ڈاکومنٹرز....گڈمڈ ہو کر چکرانے لگیں....دہشت گرد...یوڈٹ دز..دہشت گرد....یو.....یو....اس کا سر چکرانے لگا.....دہشت اس کے چہرے پر نظر آنے لگی۔”میں....مجھے نہیں معلوم....“وہ اٹک اٹک کر ہونٹ ہلانے لگی۔آواز اس کے ہونٹوں سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ وہ ساری زندگی بول ہی نہیں سکے گی اور ٹھیک اسی دوران ایک اور دھماکہ ہوا.... ویسا ہی زوردار... ان سب نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں.....وہاں موجود ساری چیزیں گریں..... شیشے کے چھوٹے ٹکڑوں کی ایک بھوچھاڑ آندھی کی طرح آئی۔ پیچھے کھڑے بہت سے لڑکے لڑکیاں گر گئے اور کراہنے لگے۔ اس طرف کافی اندھیرا تھا.... لیکن ان کی چیخیں اور کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔اس بار امرحہ گری نہیں کھڑی رہی اور کافی دہشت ناک انداز لیے کھڑی رہی..... ایک دم سے فضا میں پولیس سائرن اور فائربریگیڈ سائرن کی آوازیں گونجیں۔ پیچھے کہیں سے زوردار آگ کے بھڑک اٹھنے کی آواز یں بھی آرہی تھیں۔ اس نے ایک بم اپنے ساتھ بھی باندھ رکھا ہے. کسی نے چلا کر اس کی طرف انگلی اٹھا کر کہا. سب سہم کر دور دور ہونے لگے. اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب ...یہ سب ایسے ہی ہو رہا ہے جیسے اسے نظر آ رہا ہے۔ پولیس سائرن کی آواز قریب آتی جارہی تھی۔ اس کی نخوست کہ مانچسٹر میں ایک سٹوڈنٹ پارٹی میں دھماکے ہو گئے... اور اس جگہ امرحہ موجود تھی..... کھڑے کھڑے اس نے کل کے اخبارات میں اپنی تصویر دیکھ لی ... ٹی وی رلورٹنگ کا اندازہ لگا لیا... عدالت میں خود پر کیس چلتا دیکھ لیا....اس کے حق میں چند ہزار مسلم ریلی نکال رہے ہیں۔ پھر اور عدالت اپنا فیصلہ سنا رہی ہے اس کے گھر والے اسے لعنت ملامت کر رہے ہیں.... اور وہ معصوم ہوتے ہوئے بھی اسے یورپین میڈیا دہشت گرد ثابت کر رہا ہے۔ اس کی پڑھائی کا کیا ہو گا۔ اس کا کیا ہو گا۔وہ تو مر جائے گی اور ٹھیک اسی دوران ایک اور دھماکہ ہوا اور وہ حلق کے بل چلانے لگی... پاگلوں کی طرح....
”میں نے کچھ نہیں کیا...کچھ نہیں کیا۔“ایک سیکنڈ میں وہ یہ بات بیس بارکہہ گئی٬ساتھ چلاتی رہی... چار پانچ سو سٹوڈنٹ کا گروپ ادھر ادھر اسے دیکھتا رہا۔” سن رہے ہو تم میں نے کچھ نہیں کیا ۔“وہ پوری قوت سے چلائی.... ساری ہمت جمع کر کے... پورا زور لگا کر... وہ ویسے ہی کھڑے رہے جیسے کوئی سٹیج شو کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں۔ تم تمہارا میڈیا تمہارے ٹی وی چینلز اخبارات جھوٹ بولتے ہیں. پاگل ہو تم سب ،پاگل بناتے ہو دنیا ....کو ہم دہشت گرد ہیں یا تم.... ہم نہیں تم ہو... تم نے دنیا میں فرسٹریشن کو بڑھایا ہے... تم ہو خرابی کی جڑ... اتنی بیوقوف نہیں ہوں میں کہ تم مجھ پر الزام لگا کر مجھے اندر کروا دو.... میں تم سب کو مار ڈالوں گی۔ دہشت گرد نہیں ہوں میں.... نہیں ہوں“ پھر ایک دم سبزے پر بیٹھ کر وہ اونچی اونچی آواز میں رونے لگی. اور اونچی اور اونچی پولیس اور فائربریگیڈ سائرن بند ہو گئے۔ پارٹی میں صرف اس کے رونے کی آواز آ رہی تھی. وہ سب جہاں کھڑے تھے وہیں کھڑے رگئے۔ اب وہ ایسے کھڑے تھے جیسے ہارر مووی دیکھ رہے تھے۔ یہ سب تمہارے ساتھ پریکٹیکل جوک( عملی مذاق) کر رہے تھے۔ آواز کچھ جانی پہچانی تھی اس نے جھٹکے سے گردن اٹھا کر آواز کی سمت دیکھا. اس سے ذرا سا دور اندھیرے میں ایک کرسی پر عالیان بیٹھا کاک ٹیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا. اس نے یہ بات اتنے سکون سے کی جیسے وہ خاموشی سے بیٹھا اوپرا دیکھتا رہاہو۔
پریکٹیکل جوک وہ کئی لحظے سناٹے ...میں ہی رہی پھر اٹھ کر کھڑی ہو گئی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس حد تک کوئی عملی مذاق بھی کیا جا سکتا ہے۔
تیسرے دھماکے کے بعد انہوں نے تمہیں خود ہے بتا دینا تھ۔ا یہ سینئرز ہیں اور جونیئرز کے....
” شٹ اپ..“ اس نے دھاڑ کر انگلی اٹھا کر عالیان سے کہا۔ پھر وہی انگلی لہرا کر اس نے وہی شٹ اپ پوری قوت سے چلا کر ان سب سے کہا۔. تم لوگ ....انگریز... گورے ....دنیا پر حکمرانی کرنے والے....جو جی میں آئے کرنے والے..... ہمیں غلام سمجھ رکھا ہے۔ جب جی میں آیا مزاق بنا لیا ہمارا۔جب جی میں آیا غلام بنا لیا۔کیا سمجھ رکھا ہے ہمیں۔پہلے ہمارے ملک میں آئے۔ہم پر راج کیا۔ہماری تزلیل کرتے رہے اور اب ہمیں دہشت گرد بنا رہے ہو۔ ہم سے حسد کرتے ہو کہ ہم زندگی میں آگے نہ نکل جائیں۔تم سب سے آگے نہ نکل جائیں"گالی اور گنتی کیلیے ہر انسان اپنی مادری زبان استعمال کرتا ہے کی مصداق وہ روانی سے چیخ چلا کر اردو میں ان پر برس رہی تھی۔عالیان ساتھ ساتھ انگریزی میں ترجمہ کرتا جا رہا تھا۔
"تم انگریز۔۔گورے۔۔ہمارے ملک میں آئے۔ ہم نے تمہاری میزبانی کی۔تمہیں بادشاہ بنایا۔جاتے ہوئے تمہیں کوہ نور تحفے میں دیا" عالیان اپنی مرضی کا ترجمہ کر رہا تھا۔ اسے اور بھڑکا رہا تھا۔ امرحہ کے پاس عالیان سے نپٹنے کا وقت نہیں تھا۔
"تم لوگ خود کو سمجھتے کیا ہو؟ کیا سمجھتے تم خود کو ہاں؟ بہت بڑی توپ قوم ہو تم؟ نیک۔شریف۔پڑھے لکھے۔ اور ہم جاہل۔۔۔گنوار۔۔۔دہشت گرد۔۔ مسلمان دہشت گرد نہیں ہے۔ تم اور تمہاری گندی سیاست نے مل کر اسے دہشت گرد بنا دیا ہے۔۔ ایک نومولود بچہ بھی دہشتگرد ہے۔اگر وہ مسلمان ہے تو؟"
امرحہ کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔اسکے اس جلال کے عالم میں کسی میں بھی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ کچھ بول سکے۔ یا اسکے قریب آسکے۔ عالیان خاموش ہو گیا۔اسنے کوئی ترجمہ نہ کیا۔
"ٹرانسلیشن پلیز" کسی کونے سے آواز آئی۔
"جوک کرنے کیلیے تمہیں یہی جوک ملا؟ خود تم نے گوانتاموبے میں کیا کیا؟ "
"وہ امریکی تھے" عالیان بولا
"وہ ظالم تھے۔ ظالم کسی قوم سے نہیں ہوتا۔۔ اور یہ سب بھی ظالم ہیں" اسنے ہاتھ لہرا کر کہا
آنسوؤں کا دریا اسکی آنکھوں میں بہنے لگا۔
"ٹرانسلیشن پلیز" آواز پھر آئی۔ امرحہ نے ایک قہر آلود نظر سب پر ڈالی اور اس بار انگلش میں بولی۔
"اس مذاق سے اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا۔۔ اگر میں مر جاتی۔۔۔ اتنا گھٹیا مزاق۔۔ تم لوگ اتنے ظالم ہو کہ مزاق بھی اتنا ظالمانہ سوچا۔ تف ہے تم پر۔۔ کتنے چھوٹے ہو تم سب۔۔ اتنی بڑی یونیورسٹی میں پڑھتے اور یہ سب سیکھتے ہو۔۔گندے ہو تم ۔۔۔ جاہل۔۔تم نے میری بے عزتی کی ہے۔ مر جاؤ سب کے سب تم۔ اتنے پونڈز تم نے دھماکوں پر لگا دیے اگر وہی پونڈز تم۔۔۔"
"کوئی پونڈ نہیں لگا۔۔۔ وہ تو ایسے ہوئےہیں" ڈی جے بٹن دبایا اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ یعنی وہ ساؤنڈ چھوڑ رہا تھا۔ اللہ انہیں نظرِبد سے بچائے کس قدر ٹیلنٹڈ تھے۔
"وہ سب جو شیشے کی کرچیاں اڑ کر آئی تھیں۔۔ وہ ہارڈ کرسٹل شیٹ کی تھیں" امرحہ نے شدید غصے میں اپنے قریب ہی گرا ہوا ایک گلاس اٹھا کر اوپر ڈی جے کی طرف اچھالا۔
"انگلیاں ٹوٹ جائیں تمہاری۔بہرے ہو جاؤ تم"
"ریلیکس۔۔۔۔ کافی ہوگیا۔۔چلو اب بس کرو" عالیان نے نرمی سے کہا۔۔اسے اور غصہ آیا۔۔
"بکواس بند رکھو اپنی" اسکی آواز ڈی جے کے کیے دھماکےسے زیادہ دھماکاانگیز تھی اس بار۔
اس نے ایک بار پھر سب پر نگاہ ڈالی۔۔ بے عزتی کے احساس سے اسکا سارا وجود جھلسنے لگا۔اور جیسا کی یہاں آنے سے پہلے وہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی تھی۔۔تو سب ہی دھاڑیں اسکے اندر پھر سے جاگ اٹھیں۔وہ گھاس پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ چھپا کر ان سب دھاڑوں کو آواز لگا کر رونے لگی۔۔ سب نے دور سے ہی اس کے اردگرد گھیرا بنا لیا۔۔کسی میں اب اتنی جرأت نہیں تھی کہ شیرنی بنی امرحہ کے پاس آئے اور اسے چپ کروائے۔ عملی مزاق تھا اور کچھ زیادہ ہی عملی ہو گیا تھا۔
***********
جاری ہے۔
قسط نمبر 17۔
**********
اس دوران ایک چھوٹا سا واقع ہوا جو کافی بڑی صورت اختیار کر گیا۔اسےاور اس کےچند کلاس فیلو کو یونیورسٹی کے ایک دوسرے گروپ نے اپروچ کیا....وہ مانچسٹر میں اپنی نئی کلاسسز کے شروع ہونے کے سلسلے میں ایک پارٹی کا اہتمام کر رہے تھے۔....اور پارٹی کے انتظامات کے لیے انہوں نے یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کو ہی موقع دیاتھا۔تاکہ وہ چند گھنٹوں میں کچھ زیادہ پونڈ کما سکیں...اس کے کلاس فیلوز نے ہاں کہا تھا...اس نے بھی کہہ دیا...انہیں پارٹی کے سارے انتظامات دیکھنے تھے....ڈیکوریشن سے لے کرسرونگ تک....پارٹی ان میں سےکسی ایک سٹوڈنٹ کے گھر کے لان میں تھی اور جہاں یہ گھر تھا وہاں باقی گھرکافی دور دور تے
تھے۔جن کے آگے سڑکیں کھلی اور کشادہ تھیں۔ سرشام ہی ان سب نے پارٹی کے لیے ابتدائی سیٹنگ مکمل کر لی....باقی ان کا کام میزوں پر کھانے کی اشیا رکھنا تھا جو ذرا ہٹ کر الگ سے لگی تھیں۔انہیں ہر فرد کو الگ الگ نہیں پیش کرنا تھا۔
”تم شکل سے بہت زیادہ پاکستانی لگتی ہو“ایرک اور اس کے دوسرے دوست اسے تشویش سے ایسے دیکھنے لگے کہ اسے تشویش ہونے لگی۔وہ سب پارٹی کے انتظامات دیکھنے آئے تھے۔”میں ہوں بھی پاکستانی۔“وہ برا مان گئی”نہیں ہمارامطلب....وہ سب ذرا ڈرتے ہیں....ذرا سے کچھ زیادہ ہی ڈرتے ہیں۔“
”ڈرتے ہیں ....کون...؟“
”آج کی پارٹی میں آنے والے زیادہ تر اسٹوڈنٹس....“وہ کافی زیادہ گول مول سی باتیں کر رہا تھا۔”انہیں پاکستان فوبیا ہے کیا؟“
”نہیں....شاید ہاں....یہ اخبارات....ٹی وی...میڈیا دماغ خراب کر دیتے ہیں...جو کچھ اخبارات میں کہا جاتا ہے اس پر یقین کرلیتے ہیں....اور تم ہو بھی مسلم....پلیز ایسے برا نہ مانو....دھماکوں سے بہت ڈر لگتا ہے انہیں۔“
”دھماکوںسے ڈر لگتا ہے..میں مسلم ہوں...آخر کیا مطلب ان سب باتوں کا..مجھے بھی دھماکوں سے ڈر لگتا ہے ....لیکن میں نے تو تمہیں نہیں بتا رہی۔“وہ ایک نہ سمجھ سکی۔”دیکھا تم برا مان گئیں....تم غلط سمجھ رہی ہو...یہاں کون سا دھماکا ہونے جا رہا ہے...مطلب کچھ ہو گا ہی نہیں تو ڈرنا کیسا؟“
”کچھ ہونے کا خطرہ ہے یہاں...کوئی بلاسٹ؟تم مجھے ڈرا رہے ہو؟“
”میں تمہیں صرف بتارہا ہوں...ان میں سے زیادہ تر کے انکل اور فادرز پولیس میں ہیں....بس ایسے ہی بتا رہا ہوں....ایسے پریشان نہ ہو۔“
"امرحہ کا سر چکر انے لگا۔کیا کہ رہے ہو....کیاسمجھانا چاہ رہے ہو مجھے؟؟"
"ایسے ہی تم سے باتیں شیئر کر رہے ہیں"
ایسے باتیں شیئر کرتے ہیں.....تم سب مجھے شک سے گھور رہے ہو....تمہیں لگتا ہے میں یہاں دھماکا کروں گی...میں...کیا مذاق ہے یہ؟؟"
ایسی تو کوئی بات ہم نے نہیں کی...تم کیا سے کیا سوچ رہی ہو؟؟؟
ہاں سیدھے سیدھے یہ بات نہیں کی'پرجوکی' ہیں ان کا مطلب خوف ناک ہے."
"ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں'تمہارا تو ابھی سے رنگ اڑ، گیا ہے"
"ابھی سے مطلب...." اسکا رنگ واقعی اڑ' اڑ گیا تھا.
وہ گڑبڑا گئے تھے..."مطلب ہم تو صرف باتیں کر رہے ہیں ."
ایسی خطر ناک باتیں ہی کرتے ہو تم سب؟مجھے تمہاری باتیں پسند نہیں آ ئیں."
وہ اپنے کم میں لگ گئی اور اندر ہی اندر سہم بھی گئی..یعنی اگر ذرا سی بھی کوئی گڑ بڑ ہو گئی تو یہ لوگ صاف صاف اس پر الزام لگا دیں گے..پولیس اور پھر.....
لان میں ایک طرف اونچائی پر ڈی-جے کا انتظام کیا گیا تھاجیسے کلب میں ہوتا ہے...اندھیراگہراہوا تو ٹوئسٹ لائٹس نے اور twist بڑھا دیا...انہوں نے ڈی-جے ساؤنڈ چیک کیا جو خطر ناک حد تک تیز تھا.نیلی'پیلی'ہری'لال ٹوئسٹ لائٹس حرکت کرنے لگیں.سب آنے لگے....انہوں نے میزوں پر پہلے سے ہی سوفٹ ڈرنکس رکھ دیں تھیں۔دوگھنٹےبعد انہیں کھانے کی چیزیں رکھنی تھیں۔
ایک گھنٹہ گزر گیا...دوسرا بھی گزر گیا....ان سب نے مل کر میزوں پر کھانے کی اشیا رکھ دیں..ڈی-جے نسبتاہلکی آواز میں میوزک کے ساتھ تجربات رہا ...جو امرحہ کو کافی پسند آئے...وہ گلاسوں کی ٹرے رکھنےجا رہی تھی کہ ایرک نے اسے آواز دی....وہ اس کے قریب جا ہی رہی تھی کہ ایک زوردار دہشت ناک دھماکہ ہوا۔اتنا زور دارکہ کانوں کے پردے پھٹنے کے قریب ہو گئے... امرحہ بری طرح لڑھک کر گری... اسی دھماکے کے ساتھ شیشے ٹوٹنے کی آوازیں اور کچھ انسانی چیخوں کی آوازیں بھی آئیں۔ پورے ایک منٹ تک سناٹا رہا۔ امرحہ زندگی میں کبھی اتنی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی جتنی اس دھماکے سے ہو گئی تھی۔وہ بمشکل اٹھی اور اس پاس نظر دوڑانے لگی کی کوشش....دوسرے لوگ بھی کچھ اٹھ چکے تھے کچھ اٹھ رہے تھے۔یہ ایک خوف ناک منظر تھا اس لیے نہیں کہ وہاں دھماکہ ہوا تھا۔بلکہ اس لیے کہ سب اسے گھور رہے تھے۔ اس نے جینز پر لمبی قمیص پہن رکھی تھی اور ایرک نے ہی کہا تھا کہ سر ڈھانپ کے کام کرنا ہے تو اس نے اسکارف کو سر پر اچھی طرح سے اوڑھ لیا تھا۔ امرحہ کو پہلے یہ صرف اپنا وہم لگا کہ سب ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہے ہیں پھر اس نے ذرا گردن گھمائی تو وہم لگنے والا خیال سو فیصدخوف میں بدل گیا وہ سب اپنی اپنی جگہ پر جمے اسے ہی دیکھ رہے تھے.... گھور رہے تھے۔ان میں سے ایک نے کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ انگلی اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کیا یو یو ڈڈدز (تم نے کیا ہے یہ ) اتنی سی بات سے کسی نے اس کے سر پر دوسرا دھماکہ کیا لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کے ذہن میں نائن الیون٬لندن ٹربن دھماکے٬اخبارات٬ ٹی وی چینلز کی سب خبریں...ڈاکومنٹرز....گڈمڈ ہو کر چکرانے لگیں....دہشت گرد...یوڈٹ دز..دہشت گرد....یو.....یو....اس کا سر چکرانے لگا.....دہشت اس کے چہرے پر نظر آنے لگی۔”میں....مجھے نہیں معلوم....“وہ اٹک اٹک کر ہونٹ ہلانے لگی۔آواز اس کے ہونٹوں سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ وہ ساری زندگی بول ہی نہیں سکے گی اور ٹھیک اسی دوران ایک اور دھماکہ ہوا.... ویسا ہی زوردار... ان سب نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں.....وہاں موجود ساری چیزیں گریں..... شیشے کے چھوٹے ٹکڑوں کی ایک بھوچھاڑ آندھی کی طرح آئی۔ پیچھے کھڑے بہت سے لڑکے لڑکیاں گر گئے اور کراہنے لگے۔ اس طرف کافی اندھیرا تھا.... لیکن ان کی چیخیں اور کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔اس بار امرحہ گری نہیں کھڑی رہی اور کافی دہشت ناک انداز لیے کھڑی رہی..... ایک دم سے فضا میں پولیس سائرن اور فائربریگیڈ سائرن کی آوازیں گونجیں۔ پیچھے کہیں سے زوردار آگ کے بھڑک اٹھنے کی آواز یں بھی آرہی تھیں۔ اس نے ایک بم اپنے ساتھ بھی باندھ رکھا ہے. کسی نے چلا کر اس کی طرف انگلی اٹھا کر کہا. سب سہم کر دور دور ہونے لگے. اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب ...یہ سب ایسے ہی ہو رہا ہے جیسے اسے نظر آ رہا ہے۔ پولیس سائرن کی آواز قریب آتی جارہی تھی۔ اس کی نخوست کہ مانچسٹر میں ایک سٹوڈنٹ پارٹی میں دھماکے ہو گئے... اور اس جگہ امرحہ موجود تھی..... کھڑے کھڑے اس نے کل کے اخبارات میں اپنی تصویر دیکھ لی ... ٹی وی رلورٹنگ کا اندازہ لگا لیا... عدالت میں خود پر کیس چلتا دیکھ لیا....اس کے حق میں چند ہزار مسلم ریلی نکال رہے ہیں۔ پھر اور عدالت اپنا فیصلہ سنا رہی ہے اس کے گھر والے اسے لعنت ملامت کر رہے ہیں.... اور وہ معصوم ہوتے ہوئے بھی اسے یورپین میڈیا دہشت گرد ثابت کر رہا ہے۔ اس کی پڑھائی کا کیا ہو گا۔ اس کا کیا ہو گا۔وہ تو مر جائے گی اور ٹھیک اسی دوران ایک اور دھماکہ ہوا اور وہ حلق کے بل چلانے لگی... پاگلوں کی طرح....
”میں نے کچھ نہیں کیا...کچھ نہیں کیا۔“ایک سیکنڈ میں وہ یہ بات بیس بارکہہ گئی٬ساتھ چلاتی رہی... چار پانچ سو سٹوڈنٹ کا گروپ ادھر ادھر اسے دیکھتا رہا۔” سن رہے ہو تم میں نے کچھ نہیں کیا ۔“وہ پوری قوت سے چلائی.... ساری ہمت جمع کر کے... پورا زور لگا کر... وہ ویسے ہی کھڑے رہے جیسے کوئی سٹیج شو کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں۔ تم تمہارا میڈیا تمہارے ٹی وی چینلز اخبارات جھوٹ بولتے ہیں. پاگل ہو تم سب ،پاگل بناتے ہو دنیا ....کو ہم دہشت گرد ہیں یا تم.... ہم نہیں تم ہو... تم نے دنیا میں فرسٹریشن کو بڑھایا ہے... تم ہو خرابی کی جڑ... اتنی بیوقوف نہیں ہوں میں کہ تم مجھ پر الزام لگا کر مجھے اندر کروا دو.... میں تم سب کو مار ڈالوں گی۔ دہشت گرد نہیں ہوں میں.... نہیں ہوں“ پھر ایک دم سبزے پر بیٹھ کر وہ اونچی اونچی آواز میں رونے لگی. اور اونچی اور اونچی پولیس اور فائربریگیڈ سائرن بند ہو گئے۔ پارٹی میں صرف اس کے رونے کی آواز آ رہی تھی. وہ سب جہاں کھڑے تھے وہیں کھڑے رگئے۔ اب وہ ایسے کھڑے تھے جیسے ہارر مووی دیکھ رہے تھے۔ یہ سب تمہارے ساتھ پریکٹیکل جوک( عملی مذاق) کر رہے تھے۔ آواز کچھ جانی پہچانی تھی اس نے جھٹکے سے گردن اٹھا کر آواز کی سمت دیکھا. اس سے ذرا سا دور اندھیرے میں ایک کرسی پر عالیان بیٹھا کاک ٹیل سے لطف اندوز ہو رہا تھا. اس نے یہ بات اتنے سکون سے کی جیسے وہ خاموشی سے بیٹھا اوپرا دیکھتا رہاہو۔
پریکٹیکل جوک وہ کئی لحظے سناٹے ...میں ہی رہی پھر اٹھ کر کھڑی ہو گئی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس حد تک کوئی عملی مذاق بھی کیا جا سکتا ہے۔
تیسرے دھماکے کے بعد انہوں نے تمہیں خود ہے بتا دینا تھ۔ا یہ سینئرز ہیں اور جونیئرز کے....
” شٹ اپ..“ اس نے دھاڑ کر انگلی اٹھا کر عالیان سے کہا۔ پھر وہی انگلی لہرا کر اس نے وہی شٹ اپ پوری قوت سے چلا کر ان سب سے کہا۔. تم لوگ ....انگریز... گورے ....دنیا پر حکمرانی کرنے والے....جو جی میں آئے کرنے والے..... ہمیں غلام سمجھ رکھا ہے۔ جب جی میں آیا مزاق بنا لیا ہمارا۔جب جی میں آیا غلام بنا لیا۔کیا سمجھ رکھا ہے ہمیں۔پہلے ہمارے ملک میں آئے۔ہم پر راج کیا۔ہماری تزلیل کرتے رہے اور اب ہمیں دہشت گرد بنا رہے ہو۔ ہم سے حسد کرتے ہو کہ ہم زندگی میں آگے نہ نکل جائیں۔تم سب سے آگے نہ نکل جائیں"گالی اور گنتی کیلیے ہر انسان اپنی مادری زبان استعمال کرتا ہے کی مصداق وہ روانی سے چیخ چلا کر اردو میں ان پر برس رہی تھی۔عالیان ساتھ ساتھ انگریزی میں ترجمہ کرتا جا رہا تھا۔
"تم انگریز۔۔گورے۔۔ہمارے ملک میں آئے۔ ہم نے تمہاری میزبانی کی۔تمہیں بادشاہ بنایا۔جاتے ہوئے تمہیں کوہ نور تحفے میں دیا" عالیان اپنی مرضی کا ترجمہ کر رہا تھا۔ اسے اور بھڑکا رہا تھا۔ امرحہ کے پاس عالیان سے نپٹنے کا وقت نہیں تھا۔
"تم لوگ خود کو سمجھتے کیا ہو؟ کیا سمجھتے تم خود کو ہاں؟ بہت بڑی توپ قوم ہو تم؟ نیک۔شریف۔پڑھے لکھے۔ اور ہم جاہل۔۔۔گنوار۔۔۔دہشت گرد۔۔ مسلمان دہشت گرد نہیں ہے۔ تم اور تمہاری گندی سیاست نے مل کر اسے دہشت گرد بنا دیا ہے۔۔ ایک نومولود بچہ بھی دہشتگرد ہے۔اگر وہ مسلمان ہے تو؟"
امرحہ کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔اسکے اس جلال کے عالم میں کسی میں بھی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ کچھ بول سکے۔ یا اسکے قریب آسکے۔ عالیان خاموش ہو گیا۔اسنے کوئی ترجمہ نہ کیا۔
"ٹرانسلیشن پلیز" کسی کونے سے آواز آئی۔
"جوک کرنے کیلیے تمہیں یہی جوک ملا؟ خود تم نے گوانتاموبے میں کیا کیا؟ "
"وہ امریکی تھے" عالیان بولا
"وہ ظالم تھے۔ ظالم کسی قوم سے نہیں ہوتا۔۔ اور یہ سب بھی ظالم ہیں" اسنے ہاتھ لہرا کر کہا
آنسوؤں کا دریا اسکی آنکھوں میں بہنے لگا۔
"ٹرانسلیشن پلیز" آواز پھر آئی۔ امرحہ نے ایک قہر آلود نظر سب پر ڈالی اور اس بار انگلش میں بولی۔
"اس مذاق سے اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا۔۔ اگر میں مر جاتی۔۔۔ اتنا گھٹیا مزاق۔۔ تم لوگ اتنے ظالم ہو کہ مزاق بھی اتنا ظالمانہ سوچا۔ تف ہے تم پر۔۔ کتنے چھوٹے ہو تم سب۔۔ اتنی بڑی یونیورسٹی میں پڑھتے اور یہ سب سیکھتے ہو۔۔گندے ہو تم ۔۔۔ جاہل۔۔تم نے میری بے عزتی کی ہے۔ مر جاؤ سب کے سب تم۔ اتنے پونڈز تم نے دھماکوں پر لگا دیے اگر وہی پونڈز تم۔۔۔"
"کوئی پونڈ نہیں لگا۔۔۔ وہ تو ایسے ہوئےہیں" ڈی جے بٹن دبایا اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ یعنی وہ ساؤنڈ چھوڑ رہا تھا۔ اللہ انہیں نظرِبد سے بچائے کس قدر ٹیلنٹڈ تھے۔
"وہ سب جو شیشے کی کرچیاں اڑ کر آئی تھیں۔۔ وہ ہارڈ کرسٹل شیٹ کی تھیں" امرحہ نے شدید غصے میں اپنے قریب ہی گرا ہوا ایک گلاس اٹھا کر اوپر ڈی جے کی طرف اچھالا۔
"انگلیاں ٹوٹ جائیں تمہاری۔بہرے ہو جاؤ تم"
"ریلیکس۔۔۔۔ کافی ہوگیا۔۔چلو اب بس کرو" عالیان نے نرمی سے کہا۔۔اسے اور غصہ آیا۔۔
"بکواس بند رکھو اپنی" اسکی آواز ڈی جے کے کیے دھماکےسے زیادہ دھماکاانگیز تھی اس بار۔
اس نے ایک بار پھر سب پر نگاہ ڈالی۔۔ بے عزتی کے احساس سے اسکا سارا وجود جھلسنے لگا۔اور جیسا کی یہاں آنے سے پہلے وہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی تھی۔۔تو سب ہی دھاڑیں اسکے اندر پھر سے جاگ اٹھیں۔وہ گھاس پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ چھپا کر ان سب دھاڑوں کو آواز لگا کر رونے لگی۔۔ سب نے دور سے ہی اس کے اردگرد گھیرا بنا لیا۔۔کسی میں اب اتنی جرأت نہیں تھی کہ شیرنی بنی امرحہ کے پاس آئے اور اسے چپ کروائے۔ عملی مزاق تھا اور کچھ زیادہ ہی عملی ہو گیا تھا۔
***********
جاری ہے۔
یارم از:سمیرا حمید قسط نمبر: 16
یارم از:سمیرا حمید
قسط نمبر: 16
*************
”میں یہاں ہوں.... کہاں ہوں.... میں؟“ وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی ،سادھنا ،لینڈ لیڈی کی راکنگ چیئر کے پاس صوفے پر بیٹھی کہانی سنا رہی تھی۔اسے لگا وہ صرف پانچ منٹ ہی سوئی ہے۔”اور کیا ،کیا کہہ رہی تھیں آپ؟“ وہ آنکھیں ملنے لگی۔” تم ایسے ہی ہر جگہ لم لیٹ ہو جاتی ہو لڑکی؟“ لینڈ لیڈی ہنس کر بولیں۔ امرحہ لفظ لم لیٹ پر حیران ہوئی۔خالص دیسی لفظ تھا۔یقینا کوئی پاکستانی سکھا کر گیا تھاانہیں۔
” نہیں... جی... بس آج تھکی ہوئی تھی تو “
”جاؤ کھانا کھا لو کچن میں رکھا ہے“
” کھانا؟“ جیسے صدیوں بعد یہ لفظ سنا تھا. وہ جلدی سے کچن میں گئی اور سارے ویجی ٹیبل رائس اور چکن سوپ ہڑپ کر گئی. کافی بنائی اور مگ لے کر آ گئی لینڈ لیڈی اسے دیکھتی ہی رہ گئیں۔”کافی کس سے پوچھ کر بنائی تم نے ؟“ اوہ ! پھر غلطی کر دی اس نے“ وہ خاموش کھڑی دونوں خواتین کو دیکھتی رہی اور منہ لٹکا لیا۔شکل پر بیچارگی لے آئی۔”بیٹھ کر پی لو“ لینڈ لیڈی کے اعصاب کچھ ڈھیلے ہوئے۔ وہ بیٹھ کر پینے لگی برا نہ ماننا پر تم ایشیا والے بہت تنگ کرتے ہو ایک لمبا وقت تمہیں بنیادی اخلاقیات سکھانے میں لگ جاتا ہے اور تم لوگ کھاتے بھی بہت ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں پر تھوڑا اپنی عادات پر قابو پاؤ انہیں درست کرو. امرحہ خاموشی سے کافی پیتی رہی. تم جا کر سو جاؤ سادھنا اور تم امرحہ مجھے میرے کمرے میں لے چلو. وہ انہیں کمرے تک لے آئی. وہ ایک ٹانگ سے معذور تھیں. دائیں ٹانگ فالج زدہ تھی. دایاں ہاتھ بھی مشکل سے حرکت کرتا تھا. لیکن ٹانگ کی طرح مفلوج نہیں تھا. انہیں ان کے بیڈ پر لٹایا۔میرے بال بھی اتار دو. ”بال امرحہ کو لگا ان کے دماغ کے ساتھ بھی کچھ مسئلہ ہے“
” ہاں بھئی !آؤتو“ تو وہ قریب ہوئی اور بالوں پر ہاتھ رکھ کر کھینچا اور وگ اس کے ہاتھ میں آ گئی اور اندر سے بمشکل آدھ انچ لمبے بال نکلے۔
پھر وہ سوئچ بورڈ کی طرف آئی اگر اس نے ٹھیک سے گنے تو وہاں کم سے کم پچیس سے زیادہ بٹن تھے۔نائٹ بلب کا شیڈ پسند کرنے میں انھوں نے کافی زیادہ وقت لیا۔پھر ہلکے سرمئی کو انھوں نے اتوار کی رات کے لیے پسند کیا اور اسے جانے کے لیے کہا۔
” تم ساتھ والے کمرے میں سو جاؤ صبح اپنا سامان لے آنا۔“خوشی سے اس کی چیخ نکل گئی۔ کیونکہ تین وقت کے کھانے کے ساتھ یہ جگہ اسے بہت ہی سستی پڑ رہی تھی۔”اور ہاں دوبارہ کچن میں نہ جانا۔“ لیکن وہ پہلے کچن میں گئی ایک کپ اور کافی بنائی اور اور ایک کپ کافی کی قیمت کچن کاؤنٹر پر رکھ دی اور کمرے میں آ کر سو گئی۔ درمیان میں اس کی آنکھ کھلی تو اسے اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے فورا شرلی کو فون کیا۔ میں پولیس کو کال کرنے ہی جا رہی تھی، تم نے ہمیں پریشان کر دیا۔وہ ابھی اتنی ذمےدار نہیں ہوئی تھی۔
*.......*........*
اگلے دن سامان لا کر اسے کمرے میں سیٹ کیا.پھر اس دن سنی ڈے تھا تو کارپٹ کو اٹھا کر دھوپ میں ڈالا.... کپڑے دھوئے، استری کئے، پھر انہیں لیڈی مہر کے وارڈروب میں لٹکایا۔سادھنا کے ساتھ مل کر کھانا بنایا اور پھر کیفے آ گئی۔ واپسی پر بک سٹور ہوتی گئی۔لیکن وہاں اردو کی کتابیں بہت کم تھیں جو تھیں وہ بہت ادبی تھیں زیادہ تر شاعری کی تھیں۔آگ کا دریا،خدا کی بستی،اداس نسلیں،من چلے کا سودا وغیرہ وغیرہ ایک تو وہ فی الحال اس طرح کی مہنگی کتابیں خرید نہیں سکتی تھی۔دوسرے اس عمر میں اپنے سر کے بال جھڑوانا نہیں چاہتی تھی۔وہ یہ سب کتابیں پڑھ چکی تھی لیکن پڑھ کر سنا نہیں سکتی تھی۔یہ ایک صبر آزما کام تھا اور اتنا زیادہ صبر اتنی سی عمر میں نہیں کرنا چاہتی تھی۔اسے ایک سادہ سی سستی سی کتاب چاہیے تھی۔ اس نے اپنی پاکستانی ہم جماعت سے بات کی تو اس نے اسے اپنی خالہ کی ایک کتاب لا دی "کھیل تماشا"اشفاق احمد کی ایک تو مفت میں کتاب مل گئی تھی دوسرا زیادہ موٹی نہیں تھی۔اپنی باری پر اس نے لیڈی مہر کو کھیل تماشا سنانا شروع کی وہ تو مزے سے سنتی رہی لیکن امرحہ کے دماغ کے کہیں اوپر سے الفاظ گزر گزر کر جاتے رہے وہ بلاشبہ اپنی طرز کی شاہکار کتاب تھی.لیکن امرحہ جیسے کندذہن اسے بیکار بنا رہے تھے لیڈی مہر اسے بار بار پیچھے لے جاتیں کئی کئی سطروں کو بار بار پڑھواتیں اتفاق سے اس نے ایک بڑا معرکہ سر کر لیا تھا۔کھیل تماشا کے سننے والے اور سنانے والے دونوں کا دل موہ لیا تھا۔تحت پور کے ماسٹرہالی اور ان پر مر مٹنے والی رجنی نے نشست گاہ میں جادو سا جگا دیا جیسے ایسے لگتا ہے جیسے ماسٹرہالی اپنی کلا رنٹ پہ آساکی وار ان کے سامنے بیٹھے ہی بجا رہے ہوں.اور رجنی عین ان کے سامنے داسی بنی بیٹھی ہو۔لیڈی مہر نہال ہو گئی بہت کمال کی شاندار سادھنا قدیم بنگالی اور بھوج پوری لوک کہانیاں سناتی تھی جو اس نے اپنے بنگالی باپ بھوج پوری ماں سے سنی تھیں.اور حیرت انگیز طور پر وہ کہانیاں اتنی تھیں کہ امرحہ کو لگتا سادھنا نے اپنی زندگی کے اتنے سال صرف کہانی سنتے ہی گزارے ہیں۔جب وہ رات کو کہانی شروع کرتی تو اس کی آواز میں سارے بنگال کا سحر سمٹ آتا۔ وہ کنگا جمنا کی طرح رواں دواں ہو جاتی ہلکورے کھاتی شفاف ہو ہو جاتی اکثر اس کی کہانیاں پرسوز ہوتیں لیکن وہ انہیں اتنی نرمی اور چاہت سے سناتی کہ لگتا ہی نا کہ ان کہانیوں میں سوز ہے۔ سادھنا بمشکل بتیس سال کی تھی اور اس کے آٹھ سالہ بیٹے کو ہڈیوں کا کینسر تھا۔سادھنا کی کہانی محبت سے شروع ہو کر امرجیت پر ختم ہوتی۔وہ پرسوز کہانی سناتے ہوئے بلکل آبدیدہ نہیں ہوتی بلکہ ایسے لگتا کہ اس کا آٹھ سالہ بیٹا اس کے سامنے کھڑا ہے اور اسے کہہ رہا ہے.جو دکھ پر روتا ہے وہ تو پھر انسان ہوا لیکن جو کم بختی پر روتا ہے وہ بھی کوئی انسان ہوتا ہے؟وہ بھی کوئی انسان بھلا
تو سادھنا کیونکر روتی،جب اس کا بیٹا ہی جواں حوصلہ ہے....ساری تکلیف سہ کر بھی اسے فون کرتاہے اور کہتا ہے۔میں جب تک زندہ رہوں گا....کبھی رو کر نہیں سوؤں گا....کبھی رو کر آنکھ نہیں کھولوں گا...ڈکٹروں کے سارے آوزار اور ان کی دوائیں.... اور میرے جسم کی ساری تکلیف بھی مل کرمجھے ہرا نہیں سکے گی۔میں نہیں روؤں گا ماں کبھی نہیں۔
تو ایسے بچےکی ماں کیسے روتی....وہ بات بات پر مسکراتی...ہنستی...اس کہ کہانیاں کیوں نہ ”امر جیت“ ہوتیں....اسکی آواز میں ایسا سحر کیوں نہ آتا جو تھپک تھپک کر سلا دیتا ہے۔دل پہ کیسا ہی بوجھ کیوں نہ ہو....اس کی کہانی کی پرستان لے ہی جاتی ہے۔سادھنا کی کہانی سنتے سنتے وہ نشست گاہ میں ہی سو جاتی جیسے کوئی وہ لوری سناتا ہو جو جنگ سے لوٹ آنے والا اپنے بچوں کو اور جنگ جیت جانے والااپنے کنبے کو سناتاہے وہی جواں مردی کے قصے اور شہیدوں کے لہو رنگ فسانے۔
*........*........*
جاری ہے۔
قسط نمبر: 16
*************
”میں یہاں ہوں.... کہاں ہوں.... میں؟“ وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی ،سادھنا ،لینڈ لیڈی کی راکنگ چیئر کے پاس صوفے پر بیٹھی کہانی سنا رہی تھی۔اسے لگا وہ صرف پانچ منٹ ہی سوئی ہے۔”اور کیا ،کیا کہہ رہی تھیں آپ؟“ وہ آنکھیں ملنے لگی۔” تم ایسے ہی ہر جگہ لم لیٹ ہو جاتی ہو لڑکی؟“ لینڈ لیڈی ہنس کر بولیں۔ امرحہ لفظ لم لیٹ پر حیران ہوئی۔خالص دیسی لفظ تھا۔یقینا کوئی پاکستانی سکھا کر گیا تھاانہیں۔
” نہیں... جی... بس آج تھکی ہوئی تھی تو “
”جاؤ کھانا کھا لو کچن میں رکھا ہے“
” کھانا؟“ جیسے صدیوں بعد یہ لفظ سنا تھا. وہ جلدی سے کچن میں گئی اور سارے ویجی ٹیبل رائس اور چکن سوپ ہڑپ کر گئی. کافی بنائی اور مگ لے کر آ گئی لینڈ لیڈی اسے دیکھتی ہی رہ گئیں۔”کافی کس سے پوچھ کر بنائی تم نے ؟“ اوہ ! پھر غلطی کر دی اس نے“ وہ خاموش کھڑی دونوں خواتین کو دیکھتی رہی اور منہ لٹکا لیا۔شکل پر بیچارگی لے آئی۔”بیٹھ کر پی لو“ لینڈ لیڈی کے اعصاب کچھ ڈھیلے ہوئے۔ وہ بیٹھ کر پینے لگی برا نہ ماننا پر تم ایشیا والے بہت تنگ کرتے ہو ایک لمبا وقت تمہیں بنیادی اخلاقیات سکھانے میں لگ جاتا ہے اور تم لوگ کھاتے بھی بہت ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں پر تھوڑا اپنی عادات پر قابو پاؤ انہیں درست کرو. امرحہ خاموشی سے کافی پیتی رہی. تم جا کر سو جاؤ سادھنا اور تم امرحہ مجھے میرے کمرے میں لے چلو. وہ انہیں کمرے تک لے آئی. وہ ایک ٹانگ سے معذور تھیں. دائیں ٹانگ فالج زدہ تھی. دایاں ہاتھ بھی مشکل سے حرکت کرتا تھا. لیکن ٹانگ کی طرح مفلوج نہیں تھا. انہیں ان کے بیڈ پر لٹایا۔میرے بال بھی اتار دو. ”بال امرحہ کو لگا ان کے دماغ کے ساتھ بھی کچھ مسئلہ ہے“
” ہاں بھئی !آؤتو“ تو وہ قریب ہوئی اور بالوں پر ہاتھ رکھ کر کھینچا اور وگ اس کے ہاتھ میں آ گئی اور اندر سے بمشکل آدھ انچ لمبے بال نکلے۔
پھر وہ سوئچ بورڈ کی طرف آئی اگر اس نے ٹھیک سے گنے تو وہاں کم سے کم پچیس سے زیادہ بٹن تھے۔نائٹ بلب کا شیڈ پسند کرنے میں انھوں نے کافی زیادہ وقت لیا۔پھر ہلکے سرمئی کو انھوں نے اتوار کی رات کے لیے پسند کیا اور اسے جانے کے لیے کہا۔
” تم ساتھ والے کمرے میں سو جاؤ صبح اپنا سامان لے آنا۔“خوشی سے اس کی چیخ نکل گئی۔ کیونکہ تین وقت کے کھانے کے ساتھ یہ جگہ اسے بہت ہی سستی پڑ رہی تھی۔”اور ہاں دوبارہ کچن میں نہ جانا۔“ لیکن وہ پہلے کچن میں گئی ایک کپ اور کافی بنائی اور اور ایک کپ کافی کی قیمت کچن کاؤنٹر پر رکھ دی اور کمرے میں آ کر سو گئی۔ درمیان میں اس کی آنکھ کھلی تو اسے اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے فورا شرلی کو فون کیا۔ میں پولیس کو کال کرنے ہی جا رہی تھی، تم نے ہمیں پریشان کر دیا۔وہ ابھی اتنی ذمےدار نہیں ہوئی تھی۔
*.......*........*
اگلے دن سامان لا کر اسے کمرے میں سیٹ کیا.پھر اس دن سنی ڈے تھا تو کارپٹ کو اٹھا کر دھوپ میں ڈالا.... کپڑے دھوئے، استری کئے، پھر انہیں لیڈی مہر کے وارڈروب میں لٹکایا۔سادھنا کے ساتھ مل کر کھانا بنایا اور پھر کیفے آ گئی۔ واپسی پر بک سٹور ہوتی گئی۔لیکن وہاں اردو کی کتابیں بہت کم تھیں جو تھیں وہ بہت ادبی تھیں زیادہ تر شاعری کی تھیں۔آگ کا دریا،خدا کی بستی،اداس نسلیں،من چلے کا سودا وغیرہ وغیرہ ایک تو وہ فی الحال اس طرح کی مہنگی کتابیں خرید نہیں سکتی تھی۔دوسرے اس عمر میں اپنے سر کے بال جھڑوانا نہیں چاہتی تھی۔وہ یہ سب کتابیں پڑھ چکی تھی لیکن پڑھ کر سنا نہیں سکتی تھی۔یہ ایک صبر آزما کام تھا اور اتنا زیادہ صبر اتنی سی عمر میں نہیں کرنا چاہتی تھی۔اسے ایک سادہ سی سستی سی کتاب چاہیے تھی۔ اس نے اپنی پاکستانی ہم جماعت سے بات کی تو اس نے اسے اپنی خالہ کی ایک کتاب لا دی "کھیل تماشا"اشفاق احمد کی ایک تو مفت میں کتاب مل گئی تھی دوسرا زیادہ موٹی نہیں تھی۔اپنی باری پر اس نے لیڈی مہر کو کھیل تماشا سنانا شروع کی وہ تو مزے سے سنتی رہی لیکن امرحہ کے دماغ کے کہیں اوپر سے الفاظ گزر گزر کر جاتے رہے وہ بلاشبہ اپنی طرز کی شاہکار کتاب تھی.لیکن امرحہ جیسے کندذہن اسے بیکار بنا رہے تھے لیڈی مہر اسے بار بار پیچھے لے جاتیں کئی کئی سطروں کو بار بار پڑھواتیں اتفاق سے اس نے ایک بڑا معرکہ سر کر لیا تھا۔کھیل تماشا کے سننے والے اور سنانے والے دونوں کا دل موہ لیا تھا۔تحت پور کے ماسٹرہالی اور ان پر مر مٹنے والی رجنی نے نشست گاہ میں جادو سا جگا دیا جیسے ایسے لگتا ہے جیسے ماسٹرہالی اپنی کلا رنٹ پہ آساکی وار ان کے سامنے بیٹھے ہی بجا رہے ہوں.اور رجنی عین ان کے سامنے داسی بنی بیٹھی ہو۔لیڈی مہر نہال ہو گئی بہت کمال کی شاندار سادھنا قدیم بنگالی اور بھوج پوری لوک کہانیاں سناتی تھی جو اس نے اپنے بنگالی باپ بھوج پوری ماں سے سنی تھیں.اور حیرت انگیز طور پر وہ کہانیاں اتنی تھیں کہ امرحہ کو لگتا سادھنا نے اپنی زندگی کے اتنے سال صرف کہانی سنتے ہی گزارے ہیں۔جب وہ رات کو کہانی شروع کرتی تو اس کی آواز میں سارے بنگال کا سحر سمٹ آتا۔ وہ کنگا جمنا کی طرح رواں دواں ہو جاتی ہلکورے کھاتی شفاف ہو ہو جاتی اکثر اس کی کہانیاں پرسوز ہوتیں لیکن وہ انہیں اتنی نرمی اور چاہت سے سناتی کہ لگتا ہی نا کہ ان کہانیوں میں سوز ہے۔ سادھنا بمشکل بتیس سال کی تھی اور اس کے آٹھ سالہ بیٹے کو ہڈیوں کا کینسر تھا۔سادھنا کی کہانی محبت سے شروع ہو کر امرجیت پر ختم ہوتی۔وہ پرسوز کہانی سناتے ہوئے بلکل آبدیدہ نہیں ہوتی بلکہ ایسے لگتا کہ اس کا آٹھ سالہ بیٹا اس کے سامنے کھڑا ہے اور اسے کہہ رہا ہے.جو دکھ پر روتا ہے وہ تو پھر انسان ہوا لیکن جو کم بختی پر روتا ہے وہ بھی کوئی انسان ہوتا ہے؟وہ بھی کوئی انسان بھلا
تو سادھنا کیونکر روتی،جب اس کا بیٹا ہی جواں حوصلہ ہے....ساری تکلیف سہ کر بھی اسے فون کرتاہے اور کہتا ہے۔میں جب تک زندہ رہوں گا....کبھی رو کر نہیں سوؤں گا....کبھی رو کر آنکھ نہیں کھولوں گا...ڈکٹروں کے سارے آوزار اور ان کی دوائیں.... اور میرے جسم کی ساری تکلیف بھی مل کرمجھے ہرا نہیں سکے گی۔میں نہیں روؤں گا ماں کبھی نہیں۔
تو ایسے بچےکی ماں کیسے روتی....وہ بات بات پر مسکراتی...ہنستی...اس کہ کہانیاں کیوں نہ ”امر جیت“ ہوتیں....اسکی آواز میں ایسا سحر کیوں نہ آتا جو تھپک تھپک کر سلا دیتا ہے۔دل پہ کیسا ہی بوجھ کیوں نہ ہو....اس کی کہانی کی پرستان لے ہی جاتی ہے۔سادھنا کی کہانی سنتے سنتے وہ نشست گاہ میں ہی سو جاتی جیسے کوئی وہ لوری سناتا ہو جو جنگ سے لوٹ آنے والا اپنے بچوں کو اور جنگ جیت جانے والااپنے کنبے کو سناتاہے وہی جواں مردی کے قصے اور شہیدوں کے لہو رنگ فسانے۔
*........*........*
جاری ہے۔
یارم از: سمیرا حمید قسط نمبر: 15
یارم از: سمیرا حمید
قسط نمبر: 15
**************
."یہ کیا ہے؟" امرحہ نے اس امریکی نقوش کے حامل فرنچ غصے کو سہم کر دیکھا یہ اس نے کیا کہہ دیا اتنے دھڑلے سے امرحہ نے آس پاس دیکھا اف یونیورسٹی کے سارے اسٹوڈنٹ انگوٹھا ہلا ہلا کے شرم کرو شرم کرو کہہ رہے تھے پہلے تو امرحہ نے آنکھیں میچ لیں پھر اس نے غصے سے بھڑک کر اسے دیکھا اقصی نے پڑھا کاغذ پہ سینڈوچ لکھا تھا.ٹوئیٹ می بیک پلیز اقصی نے اس کی عزت رکھ لی اگلے ہفتے تک اس نے شان سے کندھے چکائے جیسے بڑا نقصان کرنے کے بعد اطالوی چکاتے ہیں بےنیازی سے بھی اور خونخواری سے بھی.تم دونوں ہینڈل کر لو پلیز اقصی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک بھوکے اور دوسرے کنگلے کو کیسے ہینڈل کرے اور وہ یہ کہہ کر گراؤنڈ سے اٹھ کر چلی گئی.”اگلے ہفتے سے ایک بھی دن پہلے میرے پاس نہ آنا۔“لمبے کانوں والے نے ناک پھلا کے کہا اور پھر سے لائبریری کی طرف جانے لگا۔”اگلے ہفتے تک میں بھوکی مر جاؤں گی“ وہ پھر سے اس کے ساتھ چلنے لگی
”ایک میری ہی ٹوئیٹ پہ زندہ ہو کیا؟“ وہ پھر سے ایک فرنچ بن گیا جو غصے کو دبانے کے لیے لفظ چباتے ہیں تو آنکھیں سرد مہری سے اندر کر لیتے ہیں اختلاف اپنی جگہ لیکن وہ اس کے اسی طرح خم دے کے طنز جھاڑنے پر اسے دیکھتی رہ گئی۔غصہ کر بھی رہا تھا اور نہیں بھی کیسی بات تھی۔
”آج تو اسی ٹوئیٹ پہ رہنا ہے سارے پیسے ختم ہو گئے اور نوڈلز بھی صبح جلدی کی وجہ سے چائے بھی نہیں پی“ اس بات پر وہ ذرا رکا اپنے کراس بیگ کو اپنی گردن سے نکال کر کھنگالنے لگا تھوڑا وقت لگا لیکن وہ مطلوبہ چیز نکال چکا تھا اس نے ایک چاکلیٹ نکالی جو آدھی کھائی ہوئی تھی یہ لو آدھی کھائی چاکلیٹ اس کی طرف پڑھائی اس سے کیا ہو گا چاکلیٹ دیکھ کر امرحہ کو خوشی تو ضرور ہوئی لیکن فی لحال اسے سینڈوچ ہی کھانا تھا ۔”کافی کیلوریز ہیں اس میں“ بھوری آنکھوں والے نے بیگ کو واپس گلے میں ڈالا ایک ہاتھ جینز کی جیب میں ڈالا اور ایسے کھڑا ہو گیا جیسے اس کا فوٹو سیشن ہو رہا ہو۔”لارڈ میئر جوانی کے دنوں میں یونیورسٹی میں چیریٹی کرتے ہوئے۔“ فوٹو کا کیپشن اس سے بڑھ کر اور کیا ہوتا۔”مجھے کیلوریز نہیں چاہئیں... کھانا چاہیے۔“
”تو یہ کیا بھوسا ہے؟“ لارڈ میئر نے بہنوئیں اچکائے اور کچھ ایسے اچکائے کہ پیشانی پر گرے بھورے بالوں سے جا ملیں۔
”اور یہ چھوٹی بھی ہے چھوٹی اور آدھی کھائی ہوئی اور پھر میں کیوں کسی کی چیز کھاؤں۔“
”بھنویں... اس بار سوالیہ اچکیں... یعنی اتنی ایگو ہے تم میں ...اچھا.. سچ میں..“
”دوسری طرف سے کھا لو آخری کنارہ پھینک دینا۔“ وہ منہ بنائے کھڑی رہی.... اس نے پھر سے بیگ کھنگالا اور ایک پیکٹ نکالا..... جس میں ریپر کو ایک کامن پن سے بند کیا گیا تھا۔ تا کہ اندر کوئی موجود میوہ جات بیگ میں بکھر نہ جائیں۔ پیکٹ بسکٹ کا لگتا تھا۔
” یہ لو اور یہ بھی لو“ چاکلیٹ اور بسکٹ دونوں اس کے آگے کیے۔ اس نے دونوں پیکٹ پکڑ لیے... ایک میں موجود چاکلیٹ اس نے دیکھ لی تھی دوسری کی پن نکالی تو وہ بسکٹ کا چورا تھا۔
”مجھے کیا سمجھ رکھا ہے چیریٹی کر رہے ہو“ امرحہ بری طرح سے برا مان گئی۔ لیکن اس نے جیسے سنا ہی نہیں اور وہ تیزی سے لائبریری کی طرف جانے لگا۔
جو دونوں پیکٹ ہاتھ میں لیے کھڑی ہے۔اس تو آپ جانتے ہی ہیں۔ لیکن جو جا چکا ہے کیا اسے جانتے ہیں؟ عالیان مارگریٹ.... وہ اپنی ماں کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
*......*......*
رہائش کا مسئلہ تھوڑا سنجیدہ ہوتا جا رہا تھا۔جو رہائش مل رہی تھی، وہ مہنگی تھی، جو سستی تھیں یا وہ بہت دور تھیں یا لڑکوں کے ساتھ تھیں۔یعنی لڑکے لڑکیاں ایک ہی فلیٹ میں....سب اس کے لیے اپنی اپنی جگہ پر کوشش کر رہے تھے۔وہ ایک ،دو برطانوی، پاکستانی،ہندوستانی گھرانوں میں بھی گئی، لیکن وہ رہائش بھی اس کی گنجائش سے بہت زیادہ تھی۔ وہ بہت نارمل سی ایک رہائش افورڈ کر سکتی تھی۔یعنی بے حد سستی سی۔ جتنی زیادہ سستی ہو سکے اتنی سستی اور یونیورسٹی کے پاس بھی.....
”ایک لینڈ لیڈی ہیں تو، لیکن ایک مسئلہ ہے کہ وہاں کم ہی لوگ رہنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ ان کو سمجھنا بہت مشکل ہے وہاں جا کر دیکھ لو شاید تم ان کو سمجھ سکو۔“
”ٹھیک ہے وہاں بھی جا کر دیکھ لیتی ہوں۔“ اس کا منہ لٹک گیا۔
ہاں... ایسے ہی منہ لٹکا لینا... اور وہ اپنا مشہور زمانہ آزمودہ فقرہ ضرور کہنا،منحوس ماری... مجھے تو مر جانا چاہیے۔اس بات پہ وہ نوال سے زیادہ ہنسی۔ایک، دو، لڑکیاں ہیں جو وہاں گئی تھیں۔ ایک چند دن بعد ہی واپس آ گئی اور ایک نے چند ہفتے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔وہ اسے شٹل کاک کہ رہی تھی۔
”نام اچھا ہے شٹل کاک۔“
ٓکہانی آتی ہے تمہیں“
”ہاں ایک ،دو، آتی ہیں
”گڈ...سنا ہے وہ ہر رات کہانی ضرور سنتی ہیں۔
اچھا... صرف کہانی... مطلب کرایہ نہیں لیں گی؟
ہاہاہا کرایہ تو ضرور لے گی ساتھ میں کہانی بھی،
ٹھیک ہے، میں دو چار کہانیاں یاد کر کے جاتی ہوں۔
......
شٹل کاک کا پتا لے کر وہ چھٹی والے دن شام کو آ گئی۔یہ ایک دو منزلہ برطانوی طرز تعمیر کا کافی بڑا گھر تھا۔گھر کے آگے سبزے کا بڑا قطعہ تھا۔جس میں مختلف اقسام کے پودے اور پھول لگے تھے۔ساری عمارت سفید رنگی تھی اور وائٹ ہاؤس کا چھوٹا سا منا سا نمونہ لگ رہی تھی۔امرحہ کو شٹل کاک کا بیرونی نظارہ بہت پسند آیا۔بلکہ بہت ہی زیادہ پسند آیا۔
اگر اسے یہاں رکھ لیا جائے تو وہ کافی شاندار قسم کی رہائش گاہ ثابت ہو والی تھی۔
.بیل دی اور کافی دیر تک دیتی رہی کھڑکیوں سے بھی جھانکتی رہی
دروازہ بھی بجایا۔لیکن کوئی بات نہیں بنی۔ وہ دروازے کے پاس سیڑھی پر بیٹھ گئی کہ شاید مالکن بازار گئی ہوں۔کوئی بیس منٹ بعد دروازہ کھلا... وہ جلدی سے اٹھ کے دروازے تک آئی ۔”مجھے کہانی آتی ہے۔“ جھٹ سے کہا۔
سامنے والی کی ہنسی کافوارہ نکلا۔وہ ہلکے گلابی رنگ کی ساڑھی میں تھی۔ لمبی پتلی سانولی سی ... کالے سیاہ بالوں کی چوٹی بنائے ہوئے اور انہیں کندھے پر گرائے ہوئے۔
"مجھے کمرہ چاہیے".
”اندر آ جاؤ“ وہ ہنستی ہوئی اندر کی طرف بڑھی۔امرحہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگی۔
بعد ازاں امرحہ کو معلوم ہوا کہ وہ لینڈ لیڈی کو شام کی چائے پلا رہی تھی۔پھر ان کا منہ دھلایا کپڑے تبدیل کروائے۔
بیل دینے والا دروازہ پیٹنے والا جائے بھاڑ میں ہم کیا کریں۔ لینڈ لیڈی کی نشست گاہ میں ٹھنڈےآتش دان کے پاس بیٹھی باب جیبریل کا انگلش ترجمہ پڑھ رہی تھیں۔اس کی سانس اٹکنے لگی....یعنی شاعری بھی سنانی پڑے گی وہ بھی ایسی اعلا پائے کی ...یعنی یہاں بھی اس کا کام بننے والا نہیں تھا ۔بہت دیر اس کا انٹریو ہوتا رہا۔وہ بہت صبر سے اور اپنی طرف سے چالاکی سے سارے سوالات کے جوابات دیتی رہی۔”کھانا پکا لیتی ہو؟کیا کیا پکا لیتی ہو؟“
”چاول ،روٹی اور تنور ہو تو نان بھی لگا لیتی ہوں۔“اس نے اس چیز کا نام لیا جو برطانیہ میں میسر ہو ہی نہیں سکتی تھی۔”تنور“
”بیسن کی روٹی...آلو.... گوبھی.....قیمے کے پراٹھے...مولی کے بھی....نان پہ بیسن لگا کر اسےتل بھی لیتی ہوں۔بہت مزے کا بنتا ہے۔آلو کے پکوڑے...بینگن،پالک،چکن کے،مچھلی کے بھی بنا لیتی ہوں۔“ لینڈ لیڈی اپنے بچوں کے سے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ٹھوڑی تلے رکھےاسے دیکھتی رہیں۔”ہو چکا تمہارا؟اب بتاؤکھانا پکا لیتی ہو؟“اس کا منہ لٹک گیا۔اس کی چالاکی کسی کام نہ آئی۔دادی ٹھیک کہاکرتی تھیں کہ انسان کو زندگی میں سب کام آنے چاہئیں۔نا معلوم زندگی کہاں لے جائے اور کون سا سیکھا کام...کام آجائے۔”گوشت کا سالن اور چاول بس ...روٹی بھی“
”سادھنا!یہ پرٹھوں کی اتنی ورئٹی کام کی ہیے؟“
”جی ہفتے میں دو بار یہ ہو جائے گا۔باقی گوشت کا سالن اور چاول۔“میڈم سادھنا اسی کے ساتھ صوفے پر ذرا کنارے پر بیٹھی تھیں سویٹر بن رہی تھیں۔”سودا سلف بھی لانا ہوگا“
”جی میں لے آؤگی،سنڈے کے سنڈے۔“
”سنڈے ونڈے ہم نہیں جانتے۔جب جب سادھنا کہے گی لانا ہو گا،تازہ سبزی آتی ہے روز....حلال گوشت آتا ہے...بولو ہاں یا نا؟“
”ہاں جی ہاں.....“
”گڈ...اچھا اب بولو کہانی آتی ہے کوئی؟“
”جی آتی ہے دو“
”گڈکون کون سی ؟سناؤ ذرا۔“
”ایک کوا تھا ،بہت پیاسا تھا...ادھر اڑا اُدھر اڑا....“
دوسری؟
”دوسری خرگوش اور کچھوے والی۔“سادھنا تیزی سے سلائیاں چلانے لگی،تاکہ اس کی ہنسی کم سے کم اس کے منہ سے نکلے....لینڈ لیڈی البتہ ہونٹ بھینچے بیٹھی رہیں۔
”بی بی! یہاں رہنا ہے یا نہیں؟“
”رہنا ہے۔“
تو کہانیاں بدلو۔
میں اچھی اچھی کتابیں لے لوں گی...آپ کو پڑھ کر سناؤں گی۔
گڈ
کرایہ پہلے بتا دیں پلیز
”پہلے شرائط سن لو....تم سے پہلے تین لڑکیاں جا چکی ہیں۔تم چوتھی آئی ہو سادھنا یہاں دو سالوں سے رہ رہی ہے۔“ اس نے سہم کر سادھنا نامی ”لڑکی“ کو دیکھا ۔ہائے میری عمر بھی اتنی لگتی ہے کیا؟
”سادھنا سے پہلے یہاں چھ لڑکے رہ کر گئے ہیں۔اچھے لڑکے تھے ،سارا کام کر دیتے تھے۔میں تو اب بھی لڑکوں کی حق میں ہی تھی ۔پر اب سادھنا کی وجہ سے لڑکیاں ہی رکھتی ہوں۔سارے گھر کی صفائی کرنی ہو گی اور صبح ہی کر کے جانی ہو گی۔باقی کےکمرے بند ہیں اور جتنا بھی گھر استعمال ہو رہا ہے۔وہ تمہیں صا ف کرنا ہو گا۔کھانا بنانا ہو گا۔ہفتے میں دو دن پودوں کی کانٹ چھانٹ اور کھڑکیوں کی صفائی....ایک ہفتہ تم میرے کپڑے لانڈری کرو گی اور استری بھی ایک ہفتہ سادھنا کرے گی۔جتنی زیادہ لڑکیاں یہاں رہنے کے لئے آجائیں گی اتنا ہی کام کم ہو جائے گا۔میرے کمرے کا جو سینٹرل کارپٹ ہے،اسے دھوپ کے دنوں میں تمہیں دھوپ لگوانی ہو گی۔پاکستان میں اپنے گھر کا نمبر تمہیں مجھے دینا ہو گا۔کیونکہ اگر میں نے تمہیں ٹریک سے اترتے ہوئے دیکھا یعنی اگر تم میں کوئی غلط ہرکت دیکھی تو فوراً میں تمہارے گھر والوں کو بتاؤں گی،تم ایک مسلمان لڑکی ہو ،اس لئے میں تمہارے پاس کو ئی ایسی ویسی چیز نہ دیکھوں،ورنہ میں تمہیں فوراً یہاں سے نکال دوں گی اسی وقت چاہے باہر برف باری ہو رہی ہو اور تم نمونیہ کا شکار ہو ۔تمہارے ہر طرح کے دوست یہاں آسکتے ہیں،لیکن اگرمیں نے ان دوستوں میں خرابی دیکھی تو بھی تمہیں یہ جگہ چھوڑنی ہو گی۔ بے شک تمہیں پورے انگلینڈ میں کہی جگہ نہ ملے۔اگر میں سوتی ہوں تو چٹکی کی آواز سے بھی اٹھ جاتی ہوں۔اس لئے جب میں سوؤں تو تم ایسی ہو جانا جیسے گونگی ہو۔“لینڈ لیڈی بولتی رہیں بولتی رہیں۔وہ جس صوفے پہ بیٹھی تھی اسی پر اونگھنے لگی۔کوئی تین گھنٹے بعد اس کی آنکھ کھلی تو وہ اسی صوفے پہ آڑی ترچھی پڑی سو رہی تھی۔اس کی نظر چھت پہ لگ بڑے سے فانوس پہ گئی جو روشن تھا۔ لیکن اس کی نیند اے بھری آنکھیں اس فا نوس میں سے مختلف رنگ نکلتے دیکھ رہی تھیں۔وہ رنگ اڑ رہے تھے ۔
”کیا مجھے کسی ڈان نے اغوا کر لیا ہے ۔“چھت اور قدآدم کھڑکی کی قد آدم پردوں کو گھورتے اس نے سوچا۔
**********
جاری ہے۔
قسط نمبر: 15
**************
."یہ کیا ہے؟" امرحہ نے اس امریکی نقوش کے حامل فرنچ غصے کو سہم کر دیکھا یہ اس نے کیا کہہ دیا اتنے دھڑلے سے امرحہ نے آس پاس دیکھا اف یونیورسٹی کے سارے اسٹوڈنٹ انگوٹھا ہلا ہلا کے شرم کرو شرم کرو کہہ رہے تھے پہلے تو امرحہ نے آنکھیں میچ لیں پھر اس نے غصے سے بھڑک کر اسے دیکھا اقصی نے پڑھا کاغذ پہ سینڈوچ لکھا تھا.ٹوئیٹ می بیک پلیز اقصی نے اس کی عزت رکھ لی اگلے ہفتے تک اس نے شان سے کندھے چکائے جیسے بڑا نقصان کرنے کے بعد اطالوی چکاتے ہیں بےنیازی سے بھی اور خونخواری سے بھی.تم دونوں ہینڈل کر لو پلیز اقصی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک بھوکے اور دوسرے کنگلے کو کیسے ہینڈل کرے اور وہ یہ کہہ کر گراؤنڈ سے اٹھ کر چلی گئی.”اگلے ہفتے سے ایک بھی دن پہلے میرے پاس نہ آنا۔“لمبے کانوں والے نے ناک پھلا کے کہا اور پھر سے لائبریری کی طرف جانے لگا۔”اگلے ہفتے تک میں بھوکی مر جاؤں گی“ وہ پھر سے اس کے ساتھ چلنے لگی
”ایک میری ہی ٹوئیٹ پہ زندہ ہو کیا؟“ وہ پھر سے ایک فرنچ بن گیا جو غصے کو دبانے کے لیے لفظ چباتے ہیں تو آنکھیں سرد مہری سے اندر کر لیتے ہیں اختلاف اپنی جگہ لیکن وہ اس کے اسی طرح خم دے کے طنز جھاڑنے پر اسے دیکھتی رہ گئی۔غصہ کر بھی رہا تھا اور نہیں بھی کیسی بات تھی۔
”آج تو اسی ٹوئیٹ پہ رہنا ہے سارے پیسے ختم ہو گئے اور نوڈلز بھی صبح جلدی کی وجہ سے چائے بھی نہیں پی“ اس بات پر وہ ذرا رکا اپنے کراس بیگ کو اپنی گردن سے نکال کر کھنگالنے لگا تھوڑا وقت لگا لیکن وہ مطلوبہ چیز نکال چکا تھا اس نے ایک چاکلیٹ نکالی جو آدھی کھائی ہوئی تھی یہ لو آدھی کھائی چاکلیٹ اس کی طرف پڑھائی اس سے کیا ہو گا چاکلیٹ دیکھ کر امرحہ کو خوشی تو ضرور ہوئی لیکن فی لحال اسے سینڈوچ ہی کھانا تھا ۔”کافی کیلوریز ہیں اس میں“ بھوری آنکھوں والے نے بیگ کو واپس گلے میں ڈالا ایک ہاتھ جینز کی جیب میں ڈالا اور ایسے کھڑا ہو گیا جیسے اس کا فوٹو سیشن ہو رہا ہو۔”لارڈ میئر جوانی کے دنوں میں یونیورسٹی میں چیریٹی کرتے ہوئے۔“ فوٹو کا کیپشن اس سے بڑھ کر اور کیا ہوتا۔”مجھے کیلوریز نہیں چاہئیں... کھانا چاہیے۔“
”تو یہ کیا بھوسا ہے؟“ لارڈ میئر نے بہنوئیں اچکائے اور کچھ ایسے اچکائے کہ پیشانی پر گرے بھورے بالوں سے جا ملیں۔
”اور یہ چھوٹی بھی ہے چھوٹی اور آدھی کھائی ہوئی اور پھر میں کیوں کسی کی چیز کھاؤں۔“
”بھنویں... اس بار سوالیہ اچکیں... یعنی اتنی ایگو ہے تم میں ...اچھا.. سچ میں..“
”دوسری طرف سے کھا لو آخری کنارہ پھینک دینا۔“ وہ منہ بنائے کھڑی رہی.... اس نے پھر سے بیگ کھنگالا اور ایک پیکٹ نکالا..... جس میں ریپر کو ایک کامن پن سے بند کیا گیا تھا۔ تا کہ اندر کوئی موجود میوہ جات بیگ میں بکھر نہ جائیں۔ پیکٹ بسکٹ کا لگتا تھا۔
” یہ لو اور یہ بھی لو“ چاکلیٹ اور بسکٹ دونوں اس کے آگے کیے۔ اس نے دونوں پیکٹ پکڑ لیے... ایک میں موجود چاکلیٹ اس نے دیکھ لی تھی دوسری کی پن نکالی تو وہ بسکٹ کا چورا تھا۔
”مجھے کیا سمجھ رکھا ہے چیریٹی کر رہے ہو“ امرحہ بری طرح سے برا مان گئی۔ لیکن اس نے جیسے سنا ہی نہیں اور وہ تیزی سے لائبریری کی طرف جانے لگا۔
جو دونوں پیکٹ ہاتھ میں لیے کھڑی ہے۔اس تو آپ جانتے ہی ہیں۔ لیکن جو جا چکا ہے کیا اسے جانتے ہیں؟ عالیان مارگریٹ.... وہ اپنی ماں کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
*......*......*
رہائش کا مسئلہ تھوڑا سنجیدہ ہوتا جا رہا تھا۔جو رہائش مل رہی تھی، وہ مہنگی تھی، جو سستی تھیں یا وہ بہت دور تھیں یا لڑکوں کے ساتھ تھیں۔یعنی لڑکے لڑکیاں ایک ہی فلیٹ میں....سب اس کے لیے اپنی اپنی جگہ پر کوشش کر رہے تھے۔وہ ایک ،دو برطانوی، پاکستانی،ہندوستانی گھرانوں میں بھی گئی، لیکن وہ رہائش بھی اس کی گنجائش سے بہت زیادہ تھی۔ وہ بہت نارمل سی ایک رہائش افورڈ کر سکتی تھی۔یعنی بے حد سستی سی۔ جتنی زیادہ سستی ہو سکے اتنی سستی اور یونیورسٹی کے پاس بھی.....
”ایک لینڈ لیڈی ہیں تو، لیکن ایک مسئلہ ہے کہ وہاں کم ہی لوگ رہنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ ان کو سمجھنا بہت مشکل ہے وہاں جا کر دیکھ لو شاید تم ان کو سمجھ سکو۔“
”ٹھیک ہے وہاں بھی جا کر دیکھ لیتی ہوں۔“ اس کا منہ لٹک گیا۔
ہاں... ایسے ہی منہ لٹکا لینا... اور وہ اپنا مشہور زمانہ آزمودہ فقرہ ضرور کہنا،منحوس ماری... مجھے تو مر جانا چاہیے۔اس بات پہ وہ نوال سے زیادہ ہنسی۔ایک، دو، لڑکیاں ہیں جو وہاں گئی تھیں۔ ایک چند دن بعد ہی واپس آ گئی اور ایک نے چند ہفتے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔وہ اسے شٹل کاک کہ رہی تھی۔
”نام اچھا ہے شٹل کاک۔“
ٓکہانی آتی ہے تمہیں“
”ہاں ایک ،دو، آتی ہیں
”گڈ...سنا ہے وہ ہر رات کہانی ضرور سنتی ہیں۔
اچھا... صرف کہانی... مطلب کرایہ نہیں لیں گی؟
ہاہاہا کرایہ تو ضرور لے گی ساتھ میں کہانی بھی،
ٹھیک ہے، میں دو چار کہانیاں یاد کر کے جاتی ہوں۔
......
شٹل کاک کا پتا لے کر وہ چھٹی والے دن شام کو آ گئی۔یہ ایک دو منزلہ برطانوی طرز تعمیر کا کافی بڑا گھر تھا۔گھر کے آگے سبزے کا بڑا قطعہ تھا۔جس میں مختلف اقسام کے پودے اور پھول لگے تھے۔ساری عمارت سفید رنگی تھی اور وائٹ ہاؤس کا چھوٹا سا منا سا نمونہ لگ رہی تھی۔امرحہ کو شٹل کاک کا بیرونی نظارہ بہت پسند آیا۔بلکہ بہت ہی زیادہ پسند آیا۔
اگر اسے یہاں رکھ لیا جائے تو وہ کافی شاندار قسم کی رہائش گاہ ثابت ہو والی تھی۔
.بیل دی اور کافی دیر تک دیتی رہی کھڑکیوں سے بھی جھانکتی رہی
دروازہ بھی بجایا۔لیکن کوئی بات نہیں بنی۔ وہ دروازے کے پاس سیڑھی پر بیٹھ گئی کہ شاید مالکن بازار گئی ہوں۔کوئی بیس منٹ بعد دروازہ کھلا... وہ جلدی سے اٹھ کے دروازے تک آئی ۔”مجھے کہانی آتی ہے۔“ جھٹ سے کہا۔
سامنے والی کی ہنسی کافوارہ نکلا۔وہ ہلکے گلابی رنگ کی ساڑھی میں تھی۔ لمبی پتلی سانولی سی ... کالے سیاہ بالوں کی چوٹی بنائے ہوئے اور انہیں کندھے پر گرائے ہوئے۔
"مجھے کمرہ چاہیے".
”اندر آ جاؤ“ وہ ہنستی ہوئی اندر کی طرف بڑھی۔امرحہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگی۔
بعد ازاں امرحہ کو معلوم ہوا کہ وہ لینڈ لیڈی کو شام کی چائے پلا رہی تھی۔پھر ان کا منہ دھلایا کپڑے تبدیل کروائے۔
بیل دینے والا دروازہ پیٹنے والا جائے بھاڑ میں ہم کیا کریں۔ لینڈ لیڈی کی نشست گاہ میں ٹھنڈےآتش دان کے پاس بیٹھی باب جیبریل کا انگلش ترجمہ پڑھ رہی تھیں۔اس کی سانس اٹکنے لگی....یعنی شاعری بھی سنانی پڑے گی وہ بھی ایسی اعلا پائے کی ...یعنی یہاں بھی اس کا کام بننے والا نہیں تھا ۔بہت دیر اس کا انٹریو ہوتا رہا۔وہ بہت صبر سے اور اپنی طرف سے چالاکی سے سارے سوالات کے جوابات دیتی رہی۔”کھانا پکا لیتی ہو؟کیا کیا پکا لیتی ہو؟“
”چاول ،روٹی اور تنور ہو تو نان بھی لگا لیتی ہوں۔“اس نے اس چیز کا نام لیا جو برطانیہ میں میسر ہو ہی نہیں سکتی تھی۔”تنور“
”بیسن کی روٹی...آلو.... گوبھی.....قیمے کے پراٹھے...مولی کے بھی....نان پہ بیسن لگا کر اسےتل بھی لیتی ہوں۔بہت مزے کا بنتا ہے۔آلو کے پکوڑے...بینگن،پالک،چکن کے،مچھلی کے بھی بنا لیتی ہوں۔“ لینڈ لیڈی اپنے بچوں کے سے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ٹھوڑی تلے رکھےاسے دیکھتی رہیں۔”ہو چکا تمہارا؟اب بتاؤکھانا پکا لیتی ہو؟“اس کا منہ لٹک گیا۔اس کی چالاکی کسی کام نہ آئی۔دادی ٹھیک کہاکرتی تھیں کہ انسان کو زندگی میں سب کام آنے چاہئیں۔نا معلوم زندگی کہاں لے جائے اور کون سا سیکھا کام...کام آجائے۔”گوشت کا سالن اور چاول بس ...روٹی بھی“
”سادھنا!یہ پرٹھوں کی اتنی ورئٹی کام کی ہیے؟“
”جی ہفتے میں دو بار یہ ہو جائے گا۔باقی گوشت کا سالن اور چاول۔“میڈم سادھنا اسی کے ساتھ صوفے پر ذرا کنارے پر بیٹھی تھیں سویٹر بن رہی تھیں۔”سودا سلف بھی لانا ہوگا“
”جی میں لے آؤگی،سنڈے کے سنڈے۔“
”سنڈے ونڈے ہم نہیں جانتے۔جب جب سادھنا کہے گی لانا ہو گا،تازہ سبزی آتی ہے روز....حلال گوشت آتا ہے...بولو ہاں یا نا؟“
”ہاں جی ہاں.....“
”گڈ...اچھا اب بولو کہانی آتی ہے کوئی؟“
”جی آتی ہے دو“
”گڈکون کون سی ؟سناؤ ذرا۔“
”ایک کوا تھا ،بہت پیاسا تھا...ادھر اڑا اُدھر اڑا....“
دوسری؟
”دوسری خرگوش اور کچھوے والی۔“سادھنا تیزی سے سلائیاں چلانے لگی،تاکہ اس کی ہنسی کم سے کم اس کے منہ سے نکلے....لینڈ لیڈی البتہ ہونٹ بھینچے بیٹھی رہیں۔
”بی بی! یہاں رہنا ہے یا نہیں؟“
”رہنا ہے۔“
تو کہانیاں بدلو۔
میں اچھی اچھی کتابیں لے لوں گی...آپ کو پڑھ کر سناؤں گی۔
گڈ
کرایہ پہلے بتا دیں پلیز
”پہلے شرائط سن لو....تم سے پہلے تین لڑکیاں جا چکی ہیں۔تم چوتھی آئی ہو سادھنا یہاں دو سالوں سے رہ رہی ہے۔“ اس نے سہم کر سادھنا نامی ”لڑکی“ کو دیکھا ۔ہائے میری عمر بھی اتنی لگتی ہے کیا؟
”سادھنا سے پہلے یہاں چھ لڑکے رہ کر گئے ہیں۔اچھے لڑکے تھے ،سارا کام کر دیتے تھے۔میں تو اب بھی لڑکوں کی حق میں ہی تھی ۔پر اب سادھنا کی وجہ سے لڑکیاں ہی رکھتی ہوں۔سارے گھر کی صفائی کرنی ہو گی اور صبح ہی کر کے جانی ہو گی۔باقی کےکمرے بند ہیں اور جتنا بھی گھر استعمال ہو رہا ہے۔وہ تمہیں صا ف کرنا ہو گا۔کھانا بنانا ہو گا۔ہفتے میں دو دن پودوں کی کانٹ چھانٹ اور کھڑکیوں کی صفائی....ایک ہفتہ تم میرے کپڑے لانڈری کرو گی اور استری بھی ایک ہفتہ سادھنا کرے گی۔جتنی زیادہ لڑکیاں یہاں رہنے کے لئے آجائیں گی اتنا ہی کام کم ہو جائے گا۔میرے کمرے کا جو سینٹرل کارپٹ ہے،اسے دھوپ کے دنوں میں تمہیں دھوپ لگوانی ہو گی۔پاکستان میں اپنے گھر کا نمبر تمہیں مجھے دینا ہو گا۔کیونکہ اگر میں نے تمہیں ٹریک سے اترتے ہوئے دیکھا یعنی اگر تم میں کوئی غلط ہرکت دیکھی تو فوراً میں تمہارے گھر والوں کو بتاؤں گی،تم ایک مسلمان لڑکی ہو ،اس لئے میں تمہارے پاس کو ئی ایسی ویسی چیز نہ دیکھوں،ورنہ میں تمہیں فوراً یہاں سے نکال دوں گی اسی وقت چاہے باہر برف باری ہو رہی ہو اور تم نمونیہ کا شکار ہو ۔تمہارے ہر طرح کے دوست یہاں آسکتے ہیں،لیکن اگرمیں نے ان دوستوں میں خرابی دیکھی تو بھی تمہیں یہ جگہ چھوڑنی ہو گی۔ بے شک تمہیں پورے انگلینڈ میں کہی جگہ نہ ملے۔اگر میں سوتی ہوں تو چٹکی کی آواز سے بھی اٹھ جاتی ہوں۔اس لئے جب میں سوؤں تو تم ایسی ہو جانا جیسے گونگی ہو۔“لینڈ لیڈی بولتی رہیں بولتی رہیں۔وہ جس صوفے پہ بیٹھی تھی اسی پر اونگھنے لگی۔کوئی تین گھنٹے بعد اس کی آنکھ کھلی تو وہ اسی صوفے پہ آڑی ترچھی پڑی سو رہی تھی۔اس کی نظر چھت پہ لگ بڑے سے فانوس پہ گئی جو روشن تھا۔ لیکن اس کی نیند اے بھری آنکھیں اس فا نوس میں سے مختلف رنگ نکلتے دیکھ رہی تھیں۔وہ رنگ اڑ رہے تھے ۔
”کیا مجھے کسی ڈان نے اغوا کر لیا ہے ۔“چھت اور قدآدم کھڑکی کی قد آدم پردوں کو گھورتے اس نے سوچا۔
**********
جاری ہے۔
یارم از:سمیرا حمید قسط نمبر 14
یارم از:سمیرا حمید
قسط نمبر 14
*************
وہ کام سے بھی لگ گئی اور کلاسسز میں بھی مصروف ہو گئی۔ساتھ ہی اس نے بھی نوڈلز کھانےشروع کر دیے۔اپنی پہلی تنخواہ سے اس نے سب سے پہلے ہانا کی پسند کے نوڈلز کا بڑا پیکٹ لیا جو وہ دو ہفتے تک کھا سکتی تھی۔ساتھ ہی انڈے،دودھکے ڈبے،جام، ڈبل روٹی لےکر اسے نے فریج بھرا تاکہ وہ سب بھی استعمال کریں....اب اسے رہائش کی تلاش تھی....ساتھ ساتھ وہ اپنا رہائش کا مسئلہ بھی حل کر رہی تھی ۔گو شرلی نےاس سے کہہ دیا تھا کہ وہ اتنی پرشان نہ ہو رہائش کے لیے لیکن وہ پریشان تھی اگر اسے انہوں نے خندہ پیشانی سے اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ڈھیٹ بن کر مستقل ہی وہاں جم جاتی اور بہانے بناتی کہ اسے رہائش نہیں مل رہی ۔چونکہ اسے شروع سے بہت زیادہ کھانے کی عادات تھی تو ابھی وہ مکمل طور پر اپنی بھوک پر قابو نہیں پا سکتی تھی۔چنے منے سے ناشتے سے تو اس کا کچھ بنتا ہی نہیں تھا اس سے زیادہ تو وہ شام کی چائے میں اُڑا جایا کرتی تھی۔دوپہر کے کھانے کے وقت یونیورسٹی میں اسےکسی نہ کسی ٹوئیٹ مل جاتی۔ٹوئیٹ...(Twit) تو ٹوئیٹ کا قصہ کچھ یوں تھاکہ کسی بھی فرینڈیاہائے ہیلوفرینڈیا کلاس فیلو کے پاس جایا جاتااور اس سے کہا جاتا ۔”ٹوئیٹ می پلیز“(مجھے ٹوئیٹ کرو)اگر وہ چاہتا یا افورڈ کر سکتا تو اسے ٹوئیٹ کر دیتا یعنی ایک کپ چائے ،کافی یا کوئی بھی کولڈرنک پلا دی جاتی۔دائم گروپ نے اسے اپنی ساری ٹوئیٹس دے دی تھیں۔ٹوئیٹ مانگنے والے کو وہ ٹوئیٹ واپس بھی کرنی ہوتی تھیں۔اب منظرکچھ یوں ہوتا کہ دائم یا نوال اس سے کہتے کہ جو سامنے حماد بیٹھا ہے اس کے پاس میری چھ ٹوئیٹس ہیں۔اس کے پاس جاؤ اور کہو ”ٹوئیٹ می بیک پلیز“وہ جاتی اور کہہ دیتی۔اسی طرح شرلی ،عذرہ اور ایسےہی دوسرے ہائے ہیلو دوست اپنی ٹوئیٹس دے دیتے۔اکثر جن کی تین یا چار ٹوئیٹس اکھٹی ہو چکی ہوتیں ان کا وہ برگر کھا لیتی لیکن برگر،سینڈوچ یا پیزا کھائے جانے پر ایک ایکسٹرا ٹوئیٹ منفی ہوجاتی یعنی اگر چار ٹوئیٹس ہے تو تین کا برگر اور ایک منفی یعنی باقی زیرو....اور اگر تین ہی تھیں تو ایک جمع ہو جاتی یعنی برگر کھانے والےکھاتے میں ایک ٹوئیٹ آجاتی۔پہلی بار تو امرحہ کو کافی سے زیادہ شرم آئی بھر اس نے محسوس کیا کہ امیر کبیر اسٹوڈنٹس بھی ایسا کر لیتے ہیں تو وہ بھی کرنے لگی....وہ دائم نوال شرلی کے پاس جاتی ریفری"آٹوئیٹ پلیز "کہتی وه سوچتے.ادھر ادھر دیکھتے.
وه سامنے....ہاں وہاں گراؤنڈ میں...وه جس نے سفید شرٹ پہنی ہے. ہاں وہی اس کے پاس جاؤ."
کاغذ پہ لکھ دیا جاتا" ٹوئیٹ ہر بیک "(اسے ٹوئیٹ واپس کر دو)اسی کاغذ پر ٹوئیٹ دینے والا لکھ دیتا" بقایا دو" باقی کی دو بھی وہ ہڑپ کر جاتی.اسےبڑا مزہ آ رہا تھا. اسے ٹوئیٹ پہ ٹو ئیٹ مل رہی تھیں.....اس نے دادا کو سب بتایا.
"مانگنے کے نت نئے انداز" وہ ہنسنے لگے.
"دینے کے نت نئے انداز دادا."
"کیا کمال کا جواب دیا ہے تم نے" وہ بہت خوش ہوئے.اس دن وہ دائم گروپ کی ایک لڑکی اقصیٰ کےپاس گئی اورٹوئیٹ ریفرکرنے کے لئےکہا.
یہ تمہیں لائبریری میں ملے گا ورنہ کہیں نہیں ملے گا اس وقت ....بڑے بڑے کان ہیں اس کے...لائبریری میں کسی سے بھی پوچھ لینا.تمھیں اس کا بتا دیا جائے گا."پوری بیس ٹو ئیٹس ہیں میری اس کے پاس".
"بیس..!"،امرحہ کے منہ میں پانی بھر آیا.آرام سے چار پانچ برگرکھائےجاسکتےہیں'کافی بھی.....آرام سے دوہفتےنکل جائیں گے.
یعنی اگلےدوہفتوں کےلیے بالکل خوار نہیں ہوناپڑےگا....وہ لائبریری میں آگئی اور سرگوشی کے انداز میں اسکاپوچھا.
"میں سمجھ نہیں پائی....کونسی کتاب چاہئے؟؟"
"اف..کتاب نہیں چاہئے...عالیان کا پوچھ رہی ہوں.جس کی بڑے بڑے کان ہیں."
ایک ہلکی سی مسکراہٹ لائبریرین کے چہرے پر نمودارہوکرمعدوم ہو گئی اوراس نےہاتھ سے اشارہ کرکے بتایاکہ وہ کہاں بیٹھا ہے.وہ اسکےپاس آئی اور کاغذ جس پراقصیٰ کی لکھائی میں ٹوئیٹ کالکھاتھااسکےاگےکیا.
اس نے اپنی موٹی سی کتاب سے نظر اٹھاکراس چٹ کوپڑھاپھرجس ہاتھ نےچٹ تھام رکھی تھی'اس خفگی سے گھورا...اس کی پیشانی پر پتلی سی لکیربن کرغائب ہو گئی.
"سوری اس وقت نہیں"اس نے آ ہستگی سے کہا.
"پھرکس وقت؟؟"
"بس آج نہیں....ان فیکٹ اگلے ہفتے تک نہیں...برائےمہربانی اس سےپہلےمجھےتنگ نہ کیا جائے."
پر مجھے توابھی اسی وقت بھوک لگی ہے."اسکی تیز آواز پر وہ بھوری آنکھوں والا حیران رہ گیا.پیشانی پرخفگی سے دو لکیریں بن کر ابھریں اوروہیں براجمان رہیں.
"ٹوئیٹ می بیک." امرحہ نےدونوں ہاتھ سینے پر باندھ کرتھوڑی اوراونچی آوازمیں کہا.یہ وہی تھاناجواس دن ویلکم ویک میں اس پرچلا رہاتھا.اب وہ اس پر چلا سکتی تھی.
"میں نہیں کر رہا." اس نےذرا سختی سے کہا.
"میں کیا کروں....مجھے تو بھوک لگی ہے." اس نے اس طرف آتےہوئےایک اورکام کیاتھا.اس نےکاغذپرخودہی سینڈوچ لکھ دیاتھا.
اسکی تیزبھوری آنکھیں ایک لحظےکےلیےسیاہی مائل سی ہوئیں.پیشانی پر شکنوں کاجال سا بچھ گیا.90ءکے ہیروز کی طرح اس نے گردن کو ہلکا سا جھٹکا دے کر اس کو گھورااورپھروہ ٹوئنٹی ز کے ہیروکی ترطرح مکمل نظرانداز کرکےاٹھ کھڑاہوا.
"میں نے کہانا'اگلےہفتےسےپہلےمیرےپاس نہ آنا." وہ لائبریری بلڈنگ سے باہر نکلا.
"میں کچھ نہیں جانتی."وہ بھی اسکے ساتھ نکلی.اس نے اس کے ہاتھ سے کاغذ کھینچااورتیزی سے آگےآگےچلنےلگا.
وہ اسکے پیچھے پیچھے لپکی کہ وہ کینیٹن جارہاہے.لیکن.....وہ تو.....وہ تو
"یہ کیا ہے اقصیٰ؟؟" اس نےدوانگلیوں میں اٹکایا کاغذ اقصیٰ کےآگےکیا.
"کس بھوکی کومیرےپیچھےلگادیاہے؟؟"
*********
جاری ہے۔
قسط نمبر 14
*************
وہ کام سے بھی لگ گئی اور کلاسسز میں بھی مصروف ہو گئی۔ساتھ ہی اس نے بھی نوڈلز کھانےشروع کر دیے۔اپنی پہلی تنخواہ سے اس نے سب سے پہلے ہانا کی پسند کے نوڈلز کا بڑا پیکٹ لیا جو وہ دو ہفتے تک کھا سکتی تھی۔ساتھ ہی انڈے،دودھکے ڈبے،جام، ڈبل روٹی لےکر اسے نے فریج بھرا تاکہ وہ سب بھی استعمال کریں....اب اسے رہائش کی تلاش تھی....ساتھ ساتھ وہ اپنا رہائش کا مسئلہ بھی حل کر رہی تھی ۔گو شرلی نےاس سے کہہ دیا تھا کہ وہ اتنی پرشان نہ ہو رہائش کے لیے لیکن وہ پریشان تھی اگر اسے انہوں نے خندہ پیشانی سے اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ڈھیٹ بن کر مستقل ہی وہاں جم جاتی اور بہانے بناتی کہ اسے رہائش نہیں مل رہی ۔چونکہ اسے شروع سے بہت زیادہ کھانے کی عادات تھی تو ابھی وہ مکمل طور پر اپنی بھوک پر قابو نہیں پا سکتی تھی۔چنے منے سے ناشتے سے تو اس کا کچھ بنتا ہی نہیں تھا اس سے زیادہ تو وہ شام کی چائے میں اُڑا جایا کرتی تھی۔دوپہر کے کھانے کے وقت یونیورسٹی میں اسےکسی نہ کسی ٹوئیٹ مل جاتی۔ٹوئیٹ...(Twit) تو ٹوئیٹ کا قصہ کچھ یوں تھاکہ کسی بھی فرینڈیاہائے ہیلوفرینڈیا کلاس فیلو کے پاس جایا جاتااور اس سے کہا جاتا ۔”ٹوئیٹ می پلیز“(مجھے ٹوئیٹ کرو)اگر وہ چاہتا یا افورڈ کر سکتا تو اسے ٹوئیٹ کر دیتا یعنی ایک کپ چائے ،کافی یا کوئی بھی کولڈرنک پلا دی جاتی۔دائم گروپ نے اسے اپنی ساری ٹوئیٹس دے دی تھیں۔ٹوئیٹ مانگنے والے کو وہ ٹوئیٹ واپس بھی کرنی ہوتی تھیں۔اب منظرکچھ یوں ہوتا کہ دائم یا نوال اس سے کہتے کہ جو سامنے حماد بیٹھا ہے اس کے پاس میری چھ ٹوئیٹس ہیں۔اس کے پاس جاؤ اور کہو ”ٹوئیٹ می بیک پلیز“وہ جاتی اور کہہ دیتی۔اسی طرح شرلی ،عذرہ اور ایسےہی دوسرے ہائے ہیلو دوست اپنی ٹوئیٹس دے دیتے۔اکثر جن کی تین یا چار ٹوئیٹس اکھٹی ہو چکی ہوتیں ان کا وہ برگر کھا لیتی لیکن برگر،سینڈوچ یا پیزا کھائے جانے پر ایک ایکسٹرا ٹوئیٹ منفی ہوجاتی یعنی اگر چار ٹوئیٹس ہے تو تین کا برگر اور ایک منفی یعنی باقی زیرو....اور اگر تین ہی تھیں تو ایک جمع ہو جاتی یعنی برگر کھانے والےکھاتے میں ایک ٹوئیٹ آجاتی۔پہلی بار تو امرحہ کو کافی سے زیادہ شرم آئی بھر اس نے محسوس کیا کہ امیر کبیر اسٹوڈنٹس بھی ایسا کر لیتے ہیں تو وہ بھی کرنے لگی....وہ دائم نوال شرلی کے پاس جاتی ریفری"آٹوئیٹ پلیز "کہتی وه سوچتے.ادھر ادھر دیکھتے.
وه سامنے....ہاں وہاں گراؤنڈ میں...وه جس نے سفید شرٹ پہنی ہے. ہاں وہی اس کے پاس جاؤ."
کاغذ پہ لکھ دیا جاتا" ٹوئیٹ ہر بیک "(اسے ٹوئیٹ واپس کر دو)اسی کاغذ پر ٹوئیٹ دینے والا لکھ دیتا" بقایا دو" باقی کی دو بھی وہ ہڑپ کر جاتی.اسےبڑا مزہ آ رہا تھا. اسے ٹوئیٹ پہ ٹو ئیٹ مل رہی تھیں.....اس نے دادا کو سب بتایا.
"مانگنے کے نت نئے انداز" وہ ہنسنے لگے.
"دینے کے نت نئے انداز دادا."
"کیا کمال کا جواب دیا ہے تم نے" وہ بہت خوش ہوئے.اس دن وہ دائم گروپ کی ایک لڑکی اقصیٰ کےپاس گئی اورٹوئیٹ ریفرکرنے کے لئےکہا.
یہ تمہیں لائبریری میں ملے گا ورنہ کہیں نہیں ملے گا اس وقت ....بڑے بڑے کان ہیں اس کے...لائبریری میں کسی سے بھی پوچھ لینا.تمھیں اس کا بتا دیا جائے گا."پوری بیس ٹو ئیٹس ہیں میری اس کے پاس".
"بیس..!"،امرحہ کے منہ میں پانی بھر آیا.آرام سے چار پانچ برگرکھائےجاسکتےہیں'کافی بھی.....آرام سے دوہفتےنکل جائیں گے.
یعنی اگلےدوہفتوں کےلیے بالکل خوار نہیں ہوناپڑےگا....وہ لائبریری میں آگئی اور سرگوشی کے انداز میں اسکاپوچھا.
"میں سمجھ نہیں پائی....کونسی کتاب چاہئے؟؟"
"اف..کتاب نہیں چاہئے...عالیان کا پوچھ رہی ہوں.جس کی بڑے بڑے کان ہیں."
ایک ہلکی سی مسکراہٹ لائبریرین کے چہرے پر نمودارہوکرمعدوم ہو گئی اوراس نےہاتھ سے اشارہ کرکے بتایاکہ وہ کہاں بیٹھا ہے.وہ اسکےپاس آئی اور کاغذ جس پراقصیٰ کی لکھائی میں ٹوئیٹ کالکھاتھااسکےاگےکیا.
اس نے اپنی موٹی سی کتاب سے نظر اٹھاکراس چٹ کوپڑھاپھرجس ہاتھ نےچٹ تھام رکھی تھی'اس خفگی سے گھورا...اس کی پیشانی پر پتلی سی لکیربن کرغائب ہو گئی.
"سوری اس وقت نہیں"اس نے آ ہستگی سے کہا.
"پھرکس وقت؟؟"
"بس آج نہیں....ان فیکٹ اگلے ہفتے تک نہیں...برائےمہربانی اس سےپہلےمجھےتنگ نہ کیا جائے."
پر مجھے توابھی اسی وقت بھوک لگی ہے."اسکی تیز آواز پر وہ بھوری آنکھوں والا حیران رہ گیا.پیشانی پرخفگی سے دو لکیریں بن کر ابھریں اوروہیں براجمان رہیں.
"ٹوئیٹ می بیک." امرحہ نےدونوں ہاتھ سینے پر باندھ کرتھوڑی اوراونچی آوازمیں کہا.یہ وہی تھاناجواس دن ویلکم ویک میں اس پرچلا رہاتھا.اب وہ اس پر چلا سکتی تھی.
"میں نہیں کر رہا." اس نےذرا سختی سے کہا.
"میں کیا کروں....مجھے تو بھوک لگی ہے." اس نے اس طرف آتےہوئےایک اورکام کیاتھا.اس نےکاغذپرخودہی سینڈوچ لکھ دیاتھا.
اسکی تیزبھوری آنکھیں ایک لحظےکےلیےسیاہی مائل سی ہوئیں.پیشانی پر شکنوں کاجال سا بچھ گیا.90ءکے ہیروز کی طرح اس نے گردن کو ہلکا سا جھٹکا دے کر اس کو گھورااورپھروہ ٹوئنٹی ز کے ہیروکی ترطرح مکمل نظرانداز کرکےاٹھ کھڑاہوا.
"میں نے کہانا'اگلےہفتےسےپہلےمیرےپاس نہ آنا." وہ لائبریری بلڈنگ سے باہر نکلا.
"میں کچھ نہیں جانتی."وہ بھی اسکے ساتھ نکلی.اس نے اس کے ہاتھ سے کاغذ کھینچااورتیزی سے آگےآگےچلنےلگا.
وہ اسکے پیچھے پیچھے لپکی کہ وہ کینیٹن جارہاہے.لیکن.....وہ تو.....وہ تو
"یہ کیا ہے اقصیٰ؟؟" اس نےدوانگلیوں میں اٹکایا کاغذ اقصیٰ کےآگےکیا.
"کس بھوکی کومیرےپیچھےلگادیاہے؟؟"
*********
جاری ہے۔


September 25, 2017
message



