اُردو ناول آن لائن

Showing posts with label Urdu Novel Iqtibasat - اردو ناول اقتباسات. Show all posts
Showing posts with label Urdu Novel Iqtibasat - اردو ناول اقتباسات. Show all posts

Saturday, 7 December 2019

جو انسان اپنے اصل سے بھاگتا ہے ....




جو انسان اپنے اصل سے بھاگتا ہے، وہ پھر ساری زندگی بھاگتا ہی رہتا ہے- کیوں کہ اصل کبھی نہیں چھپتا، کبھی ختم نہیں ہوتا- اس پر لحاف ڈالیں،غلاف یا مٹی- یہ کہیں نہ کہیں سے پھر باہر نکل آتا ہے ہزار سروں والے اژدھے کی طرح جس کا ہزارواں سر کاٹتے کاٹتے پچھلے نو سو ننانوے پھر نکل آتے ہیں-
عمیرہ احمد کے ناول “من و سلویٰ” سے اقتباس

Saturday, 30 September 2017

کیا خدا اور الله میں فرق ہوتا ہے ؟



کیا خدا اور الله میں فرق ہوتا ہے ؟
وہ کچھ الجھ گیا تھا
"الله خدا کا ذاتی نام ہے ۔اس نام سے اسے پکاریں تو وہ زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے ۔دوست لگتا ہے ۔"
حدید نے اس کے چہرے سے نظرین اٹھا لیں ۔
"حدید! کل تم کہہ رہے تھے نا کہ تم نے جب بھی الله کو پکارا ہے اس نے تمہاری مدد نہیں کی ، جب بھی پیغمبر سے مدد مانگی ہے انہوں نے تمہارا ہاتھ جھٹک دیا ہے ۔ساری بات عشق کی ہے ، جب آپ کو کسی سے عشق ہو اور پھر آپ اسے پکاریں تو یہ ممکن نہیں کہ وہ آپ کی بات نہ سنے مگر تمہیں عشق نہیں تھا۔تمہیں ضرورت تھی اور تمہارا ہاتھ جھٹک دیا گیا ۔مجھے دیکھو ۔اس دن تمہیں دیکھا تھا پارک میں اور مجھے تم سے عشق ہو گیا اور پھر میں تم سے بات کرنے کے لئے تمھارے پیچھے بھاگی ،جیسے پاگل بھاگتے ہیں ۔میرے پاؤں میں جوتا تک نہیں تھا مگر مجھے اس کی پرواہ تک نہیں تھی ۔کیونکہ مجھے تو تم سے بات کرنا تھی ۔تمہاری تلاش تھی ۔تم نہیں ملے ۔میرے پاؤں میں کسی کیڑے نے کاٹ لیا ۔ایک ہفتہ تک میں ٹھیک سے نہیں چل سکی میرا پاؤں بینڈیج میں جکڑا رہا مگر مجھے درد نہیں ہوا ۔صرف تکلیف ہوئی تو اس بات کی کہ مجھے تم نہیں ملے ۔تم میرا عشق تھے ضرورت نہیں تم تک پہنچنے کے لئے اگر دوبارہ مجھے اسی تکلیف میں سے بھی گزرنا پڑتا تو بھی میں گزرتی ۔مگر تم دیکھو مجھے الله سے محبت تھی تو الله نے مجھے تم تک پہنچایا ،اس نے مجھے تکلیف دی آزمائش میں ڈالا مگر تم تک پہنچایا ۔میری دعا قبول ہوئی میری بات مانی گئی ۔تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ تمہیں جو تکلیفیں دی گئیں جن آزمائشوں میں ڈالا گیا ۔ان کے بعد دوبارہ تمہاری کبھی کوئی دعا قبول نہیں کی جائے گی ؟"

اقتباس از حاصل

چہرے کو صرف کالک ملنے والا پہلا ہاتھ میلا کرتا ہے۔

چہرے کو صرف کالک ملنے والا پہلا ہاتھ میلا کرتا ہے۔
اس کے بعد لاکھ ہاتھ چہرے پر کالک ملیں۔
آدمی ان کو کبھی نہیں گنتا۔ صرف پہلا ہاتھ یاد رہتا ہے۔
من و سلویٰ ۔ عمیرہ احمد

Thursday, 28 September 2017

ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے،



ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے، صرف ہمارا کردار ختم ہوتا ہے۔ کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، کسی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
پیرِ کامل ﷺ - عمیرہ احمد

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ۔۔۔۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ۔۔



ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ۔۔۔۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ۔۔۔۔ ﮐﮧ ﮨﻢ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﮯ ۔۔۔۔ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ۔۔۔۔ ﮔﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺑﺎﺯﻭ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ ۔۔۔۔ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ۔۔۔۔۔ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﺐ ، ﮐﮩﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ، ﺧﺎﮎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ۔


" ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺁﺳﻤﺎﻥ " ﻋﻤﯿﺮﮦ ﺍﺣﻤﺪ

زندگی میں انسان کو ایک عادت ضرور سیکھ لینی چاہئے



زندگی میں انسان کو ایک عادت ضرور سیکھ لینی چاہئے جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اسے بھول جانے کی عادت۔ یہ عادت بہت سی تکلیفوں سے بچا دیتی ہے۔
امربیل ۔ عمیرہ احمد

،آپ نے مجھے غرور سے چھوڑا تھا، میں آپ کو عاجزی سے چھوڑتی ہوں



،آپ نے مجھے غرور سے چھوڑا تھا، میں آپ کو عاجزی سے چھوڑتی ہوں
لوگوں کو پا نے کے لئے کبھی انکو کھونا پڑتا ہے !!

میری ذات ذرا بے نشاں

دنیا میں صرف برے لوگ نہیں ہوتے ۔۔



دنیا میں صرف برے لوگ نہیں ہوتے ۔۔ اگر اچھا ساتھی مل جائے تو زندگی کا سفر پھولوں کے رستے کا سفر بن جاتا ہے ۔۔
اور اگر ساتھی برا نکل آئے تو وہی رستہ کانٹوں سے بھر جاتا ہے بہتر نہیں ہے ہم نہ پھول مانگیں نہ کانٹے لیں خالی کچے راستے چلنا سیکھ لیں ۔۔

زندگی گلزار ہے ، عمیرہ احمد

زندگی میں ہارنے والوں کو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں۔۔۔۔

زندگی میں ہارنے والوں کو بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں۔۔۔۔
ہار انسان کے غیر معمولی چہرے کو بھی معمولی بنادیتی ہے اور جیت معمولی شکل کو غیر معمولی ۔
عکس ۔ عمیرہ احمد

Wednesday, 27 September 2017

اقتباس از " من چلے کا سودا " ، اشفاق احمد





اے بھائی میرے ، اے بہناں جی
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ چلیں گے رستے میں
اور ورد کریں گے رستے میں
ہم سر کو جھکا کر جائیں گے
اور قدم ملا کر جائیں گے
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں
اس مسجد کو کس چاہت سے
اپنے پرکھوں نے بنایا تھا
پھر اس کی ہری محرابوں میں
اشکوں سے چراغ جلایا تھا
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
ہم دونوں کا ہے ایک خدا
ہم دونوں کا ہے ایک آقا
قرآن بھی ایک رسول بھی ایک
اور دونوں کا ہے ایک کعبہ
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں
صد شکر کرو ہم رنگ ہیں سب
اور اک دوجے کے سنگ ہیں سب
اک آقا کملی والا ہے
ہم اس کےمست ملنگ ہیں سب
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں
جس وقت تمہاری مسجد سے
آواز اذان کی آتی ہے
میری بے تاب سماعت میں
گل رنگ چراغ جلاتی ہے
پھر ساتھ ہماری مسجد سے
آواز اذان کی آتی ہے
دونوں کی صدا کے ملنے سے
نگری جنت بن جاتی ہے
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں

اقتباس از " من چلے کا سودا " ، اشفاق احمد


خاموشی مکمل ہو گئی-



خاموشی مکمل ہو گئی- اجڑے ہوۓ رسیدہ پتے مردہ پڑے تھے پھو لوں کا بازار دھندلا رہا تھا-سنان کی آنکھوں میں نمی کی ہلکی سی تہ تیرنے لگی- اس نے جیب سے رومال نکالا اپنے آنسو پونچھے اور بھاری قدموں سے چلتا ہوا اپنے مکان کی طرف روانہ ہو گیا- اس کی آنکھیں جل رہی تھیں اور سارا وجود تپ رہا تھا اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا جسم دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا گیا ہو ،،،،ایک جگہ رہنے سے ہی،،،،،،ساکت ہونے سے ہی پھول جینی کی آواز گونجی،،،،، میں نے آج نقشے کو جلا دیا ہے،،،،،،،،اپنے دشمن کو،،،،،اس کے ذہن میں آوازیں گڈ مڈ ہوتی چلی گئیں،،پاسکل دریا کے کنارے اکیلی ہو گی،،،وہ مر جاۓ گی،،،،،نہیں مجھے وطن واپس جانا ہے - ترکی میں برف باری شروع ہو جاۓ گی - میرے ماں باپ بھائی بہن میرا انتظار کر رہے ہیں- میں سیاح ہوں- ایک جگہ رہنے سے میرے پاؤں زمین میں دھنس جایئں گے ،،،،،،ایک جگہ رہنے سے ہی پھول کھلتے ہیں - پھول،،،،،،،،زرد گلاب! جانے وہ کب اور کیسے اپنے مکان تک پہنچا - اس نے روک کر گھڑی کے چمکتے ہوۓ ڈایل پر نظر ڈالی،،،،،،، شاید نو بج رہے تھے ،،،دس بجے گاڑی ،،،،،،،وہ تیزی سے سیڑھیاں طے کر کے کمرے میں آ گیا - اور اپنے بکھرے ہوۓ سامان کو تھیلے میں ٹھو نسنے لگا......

پیارکا پہلا شہر سے اقتباس



Tuesday, 26 September 2017

کبھی کبھی انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ



کبھی کبھی انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک ہمارے سوا سب مطمئین ہیں،شادوآباد ہیں،پتہ نہیں ہہ نظر کا دھوکہ ہوتا ہے یا خود ترسی کی کوئی منزل...
‏ "شب آرزو تیری چاہ میں" از 
نائلہ_طارق

Monday, 25 September 2017

یہ الہامی کتاب ہے - Mashaf



اس نے صبح کی تلاوت پہ لگائے گئے بک مارک سے کھولا- سب سے اوپر لکھا تھا-
''اور اس نے عطا کیا تم کو ہر اس چیز سے جو تم نے اس سے مانگی تھی-اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمت کو، اسے تم شمار نہیں کر سکتے -'' بے اختیار اس کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی-
''کیوں مسکرا رہی ہو؟'' وہ ڈرائیو کرتے ہوئے حیران ہوا تھا-
''نہیں، کچھ نہیں'' اس کے دل کی تسلی ہوگئی تھی، سو قرآن بند کر کے رکھنے لگی- اسے واقعی ہر وہ چیز مل گئی تھی جو کبھی اس نے مانگی تھی-
''بتاؤ نا-''
''اصل میں میرے لیے بڑی پیاری آیت اتاری تھی اللہ تعالی نے وہی پڑھ کر ان پہ بہت پیار آیا تھا-'' وہ سر جھٹک کے ہنس دیا-
''ہنسے کیوں؟''
''کم آن محمل! اٹس آل ان یور مائنڈ!''
''کیا؟'' وہ حیران ہوئی اور الجھی بھی-
''محمل! وہ آیت تمہارے لیے نہیں تھی، یہ الہامی کتاب ہے، اوکے اتنا casually ٹریٹ مت کرو اسے- یہ قرآن پاک ہے-اس میں نماز روزے کے احکام ہیں-اٹس ناٹ اباؤٹ یو-'' اس نے موڑ کاٹا-
کھلی شاہراہ رات کے اس پہر سنسان پڑی تھی-
وہ سکتے کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی-
''تم دیکھو محمل! ایک ہی تصویر کو ہر شخص اپنی زاویے سے دیکھتا ہے، مثلا نقاد اس کی خامی ڈھونڈے گا، شاعر اس کے حسن میں کھوئے گا،سائنس دان کسی اور طرح اسے دیکھیں گا- اٹس آل ان یور مائنڈ-''
''نہیں ہمایوں!قرآن میں وہی کچھ ہوتا ہے جو میں سوچتی ہوں-''
''اس لیے کہ تم وہی پڑھنا چاہتی ہو--تمہیں ہر چیز اپنے سے ریلیٹڈ لگتی ہے کیونکہ تم خود سے ریلیٹ کرنا چاہتی ہو- محمل! یہ سب تمہارے ذہن میں ہے، یہ الہامی کتاب ہے اس میں تمہارا ذکر نہیں ہے- ٹرائی ٹو انڈر اسٹینڈ-''
دفعتا اس کے موبائل کی گھنٹی بجی - اس نے ڈیش بورڈ پہ رکھا موبائل اٹھایا، چمکتی اسکرین پہ اپنا نمبر دیکھا،اور پھر بٹن دبا کر کان سے لگالیا-
''جی رانا صاحب۔۔۔۔۔۔۔'' وہ محو گفتگو تھا-
محمل نے گم صم سی نگاہ گود میں سوئے تیمور پہ ڈالی اور پھر ہاتھوں میں پکرے قرآن کو دیکھا جس کو وہ ابھی بیگ میں رکھنے ہی لگی تھی-اسے لگا ہمایوں کی بات نے اس کی جان ہی نکال لی تھی-روح کھینچ لی تھی-وہ لمحے بھر میں کھوکھلی ہوگئی-اس کا دل کھوکھلا ہوگیا، خیال کھوکھلا ہوگیا- امید کھوکھلی ہوگی-
تو کیا اتنا عرصہ وہ یہ سب تصور کرتی آئی تھی-وہ وہی پڑھتی تھی جو وہ پڑھنا چاہتی تھی-اسے وہی دکھائی دیتا جو اس کی خواہش ہوتی ؟وہ ہر چیز کا من چاہا مطلب نکالتی تھی؟
اس کا دل جیسے پاتال میں گرتا گیا-ہمایوں ابھی تک فون پہ مصروف تھا مگر اسے اس کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی-سب آوازیں جیسے بند ہوگئی تھیں-وہ گم صم سی ہاتھوں میں پکڑے قرآن کو دیکھے گئی،پھر درمیان سے کھول دیا-دو صفحے سامنے روشن ہوگئے-
پہلے صفحے کے وسط میں لکھا تھا-
''بے شک (اس قرآن) میں ذکر ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔''
اس سے آگے پڑھا ہی نہیں گیا-وہ جیسے پھر سے جی اٹھی تھی-
ساری اداسی، ویرانی ہوا ہو گئی-دل پھر سے منور ہوگیا-اب اسے کسی کا نظریہ یا رائے خود پہ مسلط نہیں کرنا تھی- اسے اس کا جواب نظر آگیا تھا-دلیل مل گئی تھی-
مسکراہٹ لبوں پہ بکھیرے اس نے واپس سنبھال کر قرآن بیگ میں رکھا اور زپ بند کی،پھر سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موندلیں- اسے ہمایوں سے بحث نہیں کرنا تھی- اسے کچھ نہیں سمجھانا تھا- وہ اسے سمجھا ہی نہیں سکتی تھی کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، نہیں مانتے-

مصحف


Saturday, 23 September 2017

یہاں کھڑے ہو کر تجھ سے انبیاء دعا مانگا کرتے تھے۔





یہاں کھڑے ہو کر تجھ سے انبیاء دعا مانگا کرتے تھے۔ ان کی دعاؤں اور میری دعاؤں میں فرق ہے۔ میں نبی ہوتا تو نبیوں جیسی دعا کرتا۔ ۔

مگر میں تو عام بشر ہوں اور گناہ گار بشر۔ میری خواہشات میری آرزوئیں سب عام ہیں۔ یہاں کھڑے ہو کر کبھی کوئی کسی عورت کے لیے نہیں رویا ہوگا۔ میری زلت اور پستی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ میں حرم پاک میں ایک عورت کے لیے گڑگڑا رہا ہوں۔ مگر مجھے نہ اپنے دل پر اختیار ہے نہ اپنے آنسوؤں پر۔ یہ میں نہیں تھا جس نے اس عورت کو اپنے دل میں جگہ دی۔ یہ تو نے کیا۔ کیوں میرے دل میں ایک عورت کے لیے اتنی محبت ڈال دی کہ میں تیرے سامنے کھڑا بھی اس کو یاد کر رہا ہوں؟
کیوں مجھے اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ مجھے اپنے وجود پر بھی کوئی اختیار نہیں رہا میں وہ بشر ہوں جسے تو نے ان تمام کمزوریوں کے ساتھ بنایا ہے وہ بشر ہوں جسے تیرے سوا کوئی راستہ دیکھانے والا نہیں۔ اور وہ عورت میری زندگی کہ ھر رستے پہ کھڑی ہے۔۔ مجھے کہیں جانے کہیں پہنچنے نہیں دے رہی۔ یا تو اس کی محبت کو اس طرح میرے دل سے نکال دے کہ مجھے کبھی اس کا خیال ہی نہ آئے۔ یا پھر اسے مجھے دے دے۔ وہ نہیں ملے گی تو میں ساری زندگی اس کے لیے روتا رہوں گا۔ وہ مل جائے تو تیرے علاوہ کسی اور کے لیے آنسو نہیں بہا سکوں گا۔ میرے آنسو خالص ہونے دے۔ میری محبت کو خالص ہونے دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!!
عمیرہ احمد کے ناول "پیر کامل" سے اقتباس




 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India