اُردو ناول آن لائن

Thursday, 28 September 2017

جنت کے پتے نمره احمد قسط نمبر 10


جنت کے پتےنمره احمدقسط نمبر 10دروازے پہ مدهم سی دستک ہوئ تو وہ سرعت سے کرسی سے اٹهی.ایک نظر سوئ ہوئ ڈی جے پہ ڈالی، دوسری اپنے زیر استعمال بینک پہ جو دوبارہ سے بنا سلوٹ اور شکن کے بنایا جا چکا تها اور جس پہ ترک لڑکیوں کے اعتماد کے خون کیے جانے کی کوئ نشانی باقی نہ تهی.....اور دروازہ کهول دیا." السلام علیکم ایکسچینج اسٹوڈنٹس ! " ہالے نور ہشاش بشاش سی مسکراتی کهڑی تهی.وہ یوں تهی گویا دهلی ہوئ چاندنی.سیاہ اسکارف چہرے کے گرد لپیٹے ، ہلکی سبزلمبی جیکٹ تلے سفید جینز پہنےشانے پہ بیگ اور ہاتھ میں چابیوں کا گچھا پکڑے وہ پوری تیاری کے ساتھ آئی تھی ۔وعلیکم السلام ، آؤ ہالے " وہ مسکراتی ھوئی ایک طرف کو ھوئی ۔تمہارے کمرے میں گئی تھی ۔ مگر تم ادھر نہیں تھیں میں نے اندازہ کیا کہ تم یہیں ھو گی ۔ ہالے نے اپنا بیگ میز پہ رکھا اور کرسی کھینچ کر نفاست سے بیٹھی ۔ہاں میں علی الصبح ہی ادھر آ گئی تھی ۔ ڈی جے کی یاد آ رہی تھی ۔خدیجہ سو رہی ھے ؟ ہالے نے گردن اونچی کر کے اوپر دیکھا جہاں ڈی جے دو موٹے کمبل گٹھڑی کی صورت خود پہ ڈالے سو رہی تھی ۔ ہاں اور شاید دیر تک سوتی رہے ۔اوہ ... میں نے سوچا تھا کہ تمہارے فون رجسٹرڈ کروانے چلیں آج ۔ ترکی میں غیر ملکی فون پہ ترک سم کارڈ ایک ہفتے کے بعد بلاک ھو جاتا ہے ۔ہاں بالکل ۔ تم لوگ جاؤ اور میرا فون بھی لے جاؤ میں ابھی دو گھنٹے مزید سوؤں گی ،،کمبلوں کے اندر سے آواز آئی تو ہالے مسکرا دی ، مسکراتے ھوئے اس کی چمکتی ھوئی سرمئی آنکھیں چھوٹی ھو جاتی تھیں ۔ چلو حیا ! ہم دونوں چلتے ہیں ۔۔، وہ دونوں ساتھ ساتھ کھڑی ھو گئی تھیں ۔ حیا صبح اپنے کمرے میں جا کر فریش ھو آئی تھی ۔ ابھی وہ سیاہ چوڑی دار پاجامے اور ٹخنوں تک آتی سیاہ لمبی قمیص میں ملبوس تھی ۔ شیفون کا دوپٹہ گردن کے گرد مفلر کی ظرح لپیٹے اور اوپر لمبا سیاہ سوئیٹر پہنے ھوئے تھی ۔کچھ دن میرے خوش قسمت دن ھوتے ہیں ، جب میرے پاس کار ھوتی ھے اور کچھ دن بدقسمت دن جب میرے پاس کار نہیں ھوتی اور آج میرا خوش قسمت دن ھے ۔ ہالے نے اٹھتے ھوئے بتایا ۔ ابھی ہم قریبی دکانوں میں جائیں گے ۔ اگر وہاں سے فون رجسٹرڈ نہ ھوئے تو جواہر چلیں گے ، اس کے بعد وہاں سے جہانگیر ۔۔،،جواہر ؟ حیا نے ابرو اٹھائی ، جہانگیر کو اس نے کسی ترک کا نام سمجھ کر نظرانداز کر دیا ۔جواہر شاپنگ مال ھے ۔ یورپ کا سب سے بڑا اور دنیا کا چھٹا بڑا شاپنگ مال !..اوہ اچھا جیسے پاک ٹاورز ۔۔۔،، اوپر کمبلوں سے آواز آئی ۔پاک ٹاور ؟؟؟ ہالے نے گردن اٹھا کر خدیجہ کے کمبلوں کو دیکھا ۔ہمارا پاک ٹاورز ایشیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال میں شمار ھوتا ھے ،، وہ غنودہ آواز میں بولی ۔ نائس ہالے ستائش سے مسکرا کر باہر نکل گئی ۔ حیا نے اس کے جانے کی تسلی کر لیپھر لپک کر پیچھے آئی ۔ اور سیڑھی پر چڑھ کہ ڈی جے کا کمبل کھینچا ۔یہ پاک ٹاورز ایشیا کا سب سے بڑا مال کب سے ھو گیا ؟؟؟ اس نے کون سا جا کر چیک کر لینا ھے ۔ تھوڑا شو مارنے میں کیا حرج ھے ؟؟ ڈی جے غڑاپ سے پھر کمبل میں گھس گئی ہالے ڈرائیو کرتے ھوئے متاسف سی بار بار معذرت کر رہی تھی ۔ فون رجسٹر نہیں ھو سکے تھے ۔" وی آ " پورٹ کی دکان پہلے تو ملی نہیں ، دوسری موبائل کمپنیوں کی دکانیں ہی ہر جگہ تھیں ۔ یوں جیسے آپ کو زونگ کی دکان کی تلاش ھو اور ہر طرف یو فون کی دکانیں ھوں ۔ بمشکل ایک دکان ملی تو اس کا مینیجر شاپ بند کر کے جا رہا تھا ۔ لاکھ منتوں پر بھی اس نے دکان نہیں کھولی اور چلا گیا ۔ اب ہالے مسلسل شرمندگی کا اظہار کر رہی تھی ۔بس کرو ہالے بعد میں ھو جائے گا یہ کام اب مجھے شرمندہ مت کرو ،خیر تمہارا دوسرا کام تو کروں ، جہانگیر چلتے ہیں ۔ ہالے نے گہری سانس اندر کھینچی ۔ گاڑی سڑک پہ رواں دواں تھی ۔ اور کھڑکی کے باہر ہر سو برف دکھائی دے رہی تھی ۔تم ایڈریس دکھاؤ ہم پہنچنے والے ہیں ۔۔کدھر ؟؟؟ حیا نے ناسمجھی سے ڈرائیو کرتی ہالے کو دیکھا ۔ جہانگیر اور کدھر ؟؟ وہاں کیا ھے ؟ تمہاری آنٹی کا گھر ، کل کہا جو تھا کہ تمہیں لے جاؤں گی صبح بتایا بھی تھا ، بھول گئیں ؟ تم۔۔۔۔ تم مجھے ادھر لے کر جا رہی ھو ؟؟ وہ ہکا بکا رہ گئی ۔ہاں نا ۔۔ اب ایڈریس بتاؤ ، اسٹریٹ نمبر تو مجھے یاد رہ گیا تھا ، آگے بتاؤ ۔۔ اوہ ہالے ! اس نے ہڑبڑا کر پرس سے وہ مڑا تڑا سا کاغذ نکالا ۔۔۔ اس نے دیکھا ، اس علاقے کا نام Chihangir لکھا تھا وہ اسے سہانگیر پڑھتی رہی تھی ، اب یاد آیا کہ ترکوں کا سی ، جیم کی آواز سے پڑھا جاتا تھا ۔ اگر اسے زرا سا بھی اندازہ ھوتا کہ ادھر جانا ھے تو وہ تحائف ہی اٹھا لیتی جو اماں نے بھیجے تھے ۔ زرا اچھے کپڑے ہی پہن لیتی ۔لو یہ تو سامنے ہی تھا ۔ اب تم جاؤ مجھے ادھر تھوڑا کام ھے ۔ میرا نمبر تم نے فون میں فیڈ کر لیا ھے نا ؟ جب فارغ ھونا تو مجھے کال کر لینا ۔۔ میں آ جاؤں گی ، گھنٹہ تو مجھے بھی لگ ہی جائے گا، پھر کھانا ساتھ ہی کھائیں گے ۔ گاڑی رک چکی تھی ۔ حیا نے بےتوجہی سے اس کی ہدایات سنیں اور دروازہ کھول کر نیچے اتری ۔اس کے دروازہ بند کرتے ہی ہالے گاڑی زن سے بھگا لے گئی ۔وہ ایک خوبصورت چھوٹا سا بنگلہ تھا ۔ بیرونی چار دیواری کی جگہ سفید رنگ کی لکڑی کی باڑ لگی تھی ۔ گیٹ بھی لکڑی کی باڑ کا بنا تھا ۔ گیٹ کے پیچھے چھوٹا سا باغیچہ تھا اور اس کے آگے وہ بنگلہ ۔ بنگلے کی گلابی چھت مخروطی تھی ۔ داخلی سفید دروازہ زرا اونچا تھا ۔ اس تک چڑھنے کے لیے دو اسٹیپس بنے تھے ۔ اسٹیپس کے دونوں اطراف خوش رنگ پھولوں والے گملے رکھے تھے ۔ تو یہ تھی وہ چھوٹی سی جنت ، جس میں وہ رہتا تھا ۔ اور جس سے باہر نکلنے کا اس نےکبھی نہیں سوچا تھا ۔ وہ گیٹ کو دھکیل کر ، پتھروں کی روش پر چلتی ان اسٹیپس تک آئی ، اونچے سنہری دروازے پہ سنہری رنگ کی تختی لگی تھی ۔" سکندر شاہ " وہ ترک ہجوں میں لکھا نام اس کے پھوپھا کا ہی تھا ۔گھنٹی کی تلاش میں اس نے ادھر اُدھر نگاہ دوڑائی ۔ اس گھر میں بہت سی لکڑی کی کھڑکیاں بنی تھیں ۔ اور شاید کوئی کھڑکی کھلی تھی ۔جس سے مسلسل ایک ٹھک ، ٹھک کی آواز آ رہی تھی جیسے کوئی ہتھوڑے یا کلہاڑے کو لکڑی پہ زور سے مار رہا ھو ۔اس نے اپنی کپکپاتی انگلی گھنٹی پہ رکھی اور سنہری ڈور ناب کے چمکتے دھات میں اپنا عکس دیکھا ۔کاجل سے لبریز بڑی بڑی سیاہ آنکھیں ، دونوں شانوں پر سے پھسل کر نیچے گرتے لمبے بال اور سردی سے سرخ پڑتی ناک ۔وہ سیاہ لباس میں چینی کی مورت لگ رہی تھی ، گھبرائی ھوئی پریشان سی مورت ۔اس نے گھنٹی سے انگلی اٹھائی تو ٹھک ٹھک کی آواز بند ھو گئی ۔ چند لمحے بعد لکڑی کے فرش پہ قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ کوئی انجانی زبان میں بڑبڑاتا دروازہ کھولنے آ رہا تھا ۔وہ لب کاٹتے ھوئے کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی ، جب دروازہ کھلا ۔ چوکھٹ پہ بچھے ڈور میٹ پہ اسے دروازہ کھولنے والے کے ننگے پاؤں دکھائی دیے ۔ اس کی نگاہیں دھیرے سے اوپر اٹھتی گئیں ۔بلیو جینز اور اوپر گرے سوئیٹر میں ملبوس ، وہ ایک ہاتھ میں ہتھوڑی پکڑے کھڑا تھا ۔ سوئٹر کی آستینیں اس نے کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں اور اس کے کسرتی بازو جھلک رہے تھے حیا نے دھیرے سے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ اس کا سانس لمحے بھر کو ساکت ھوا ۔وہ ویسا ہی تھا جیسے اپنے بچپن کی تصاویر میں لگا کرتا تھا ۔ وہی بھورے مائل بال جو بہت اسٹائلش انداز میں ماتھے پہ گرتے تھے ۔ پر کشش آنکھیں ، اٹھی ھوئی مغرور ناک ، سنہری رنگت کے تیکھے نقوش ، وہ ماتھے پہ تیوری لیے آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہا تھا بلاشبہ وہ بہت ہینڈسم تھا ۔" سن کمسن ؟؟؟اس نے ترک میں کچھ پوچھا تو وہ چونکی ۔ سس ۔۔۔۔ سبین سکندر ۔۔۔۔ سبین سکندر کا گھر یہ ہی ھے ؟ جی یہی ھے "وہ انگریزی میں بتا کر سوالیہ جانچتی نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا ۔ اسے لگا وہ بوسفورس کے پل پر ہتھیلیاں پھیلائے کھڑی ھے ۔اور نیلے پانیوں کو چھو کر آتی ھوا اس کے بال پیچھے کو اڑا رہی ھے ۔ وہ کسی گہرے خواب کے زیر اثر تھی ۔ حسین خواب کے ۔۔۔ میں ان کی مہمان ھوں پاکستان سے آئی ھوں ۔ وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی ۔کیسی مہمان ؟؟ اس کا انداز اکھڑا اکھڑا سا تھا جیسے وہ کسی ضروری کام میں مصروف تھا جس میں حیا مخل ھوئی تھی ۔ میں حیا ھوں ۔۔۔ حیا سلیمان ۔۔۔ اس نے پرامید نگاہوں سے جہان سکندر کا چہرہ دیکھا ۔ کہ ابھی اس کا نام سن کر اس کی پرکشش آنکھوں میں شناسائی کی کوئی رمق ۔۔۔ کون حیا سلیمان ؟؟؟ اس کے قدموں تلے بوسفورس کا پل شق ھوا تھا ۔ وہ بے دم سی نیچے گہرے پانیوں میں جا گری تھی ۔"کون حیا سلیمان ؟؟؟ بے آواز دہراتے ھوئے وہ سن سی ھوتی اسے تک رہی تھی ۔ اس کی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں ۔ اس شخص کے چہرے پر زمانے بھر کی بیزاری اور اجنبیت تھی ۔ پہچاننے یا نا پہچاننے کا تو سوال ہی نہ تھا ۔ جہان سکندر تو اس سے واقف ہی نہ تھا ۔کون ، مادام ؟؟ اس نے قدرے اکتا کر دہرایا ۔ حیا نے خفیف سا سر جھٹکا پھر لب بھینچ لیے ۔میں سبین پھپھو سے ملنے آئی ھوں ۔ان کے بھائی سلیمان کی بیٹی ھوں ۔ وہ جانتی ہیں مجھے " اوکے , اندر آ جاؤ " وہ شانے اچکا کر واپس پلٹ گیا ۔وہ جھجھک کر اوپر زینے پہ چڑھی پائیدان کو دیکھ کر کچھ یاد آیا تو فورًا پیر جوتوں سے نکالے اور لکڑی کہ فرش پہ قدم رکھا ۔فرش بیحد سرد تھا ۔ دور راہداری کے اس پار جہاں اس نے جہان کو جاتے دیکھا تھا وہاں سے ہتھوڑے کی ٹھک ٹھک پھر سے شروع ھو چکی تھی ۔ وہ راہداری عبور کر کے کچن جے دروازے میں آ کھڑی ھوئی ۔ امریکی طرز کا کچن نفاست سے آراستہ تھا ۔ عین وسط گول میز کے گرد چار کرسیوں کا پھول بنا تھا ۔ ایک جانب کاؤنٹر کے ساتھ وہ حیا کی جانب پشت کیے کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں ہتھوڑی تھی ۔ جس سے وہ اوپر کیبنٹ کے کھلے دروازے کے جوڑ پر زور زور سے ضربیں لگا رہا تھا ۔ وہ چند لمحوں کے شش و پنج کے بعد ڈھیٹ بن کر آگے آئی ۔ اور قدرے آواز کے ساتھ کرسی کھینچی ۔ وہ بے اختیار چونک کر پلٹا ۔ ڈرائنگ روم ۔۔۔ خیر !،، وہ ناگواری سے لب بھینچ کر واپس کیبنٹ کی طرف مڑ گیا ۔ اس نے ایک ہاتھ سے کیبنٹ کے دروازے کے جوڑ پہ کسی شے کو پکڑ رکھا تھا ۔ اور دوسرے ہاتھ سے ہتھوڑی مار رہا تھا ۔ حیا سلیمان نے زندگی میں کبھی اتنی تذلیل محسوس نہیں کی تھی ۔ مام ۔۔۔۔۔۔ مام ۔۔۔۔۔ چند لمحے گزرے تو وہ اسی طرح اپنے کام کی طرف متوجہ ، چہرے پہ ڈھیروں سنجیدگی لیے پکارنے لگا ۔وہ انگلیاں مروڑتی ٹانگ پہ ٹانگ رکھے سر جھکائے بیٹھی تھی ۔دفعتًا چوکھٹ پہ آہٹ ھوئی تو سر اٹھایا ۔ راہداری سے برتن ہاتھ میں لیے سبین پھپھو اسی پل کچن میں داخل ھوئی تھیں ۔جاری هے


ناول: جنت کے پتے تحریر:نمره احمد قسط نمبر 9


ناول: جنت کے پتےتحریر:نمره احمدقسط نمبر 9رکهنے اور ساته شاہر ہ وقت اٹهائے رکهنے کا رواج تها." یعنی اگر کسی کا نام جہان ہو تو وہ ترک ہجوں میں اسے کیسے لکهے گا ؟" بلا ارادہ اس کے لبوں سے نکلا.پهر فورا" گڑبڑا کر ڈی جے کو دیکها.وہ ذرا فاصلے پر کبوتروں کی تصاویر کهینچ رہی تهی.اس نے نہیں سنا تها.ہالے شاپر ڈسٹ بن میں پهینک کر سیدهی ہوئ اور مسکرا کر ہجے کر کے بتایا. (CIHAN )" اوہ !" اس نے خفیف سا سر جهٹکا.تب ہی وہ اسے فیس بک پر نہیں ملا تها.وہ اس کو Jihan لکه کر ڈهونڈتی رہی مگر وہ تو اپنے نام کو Cihanلکهتا ہوگا.گلی صاف ستهری اور کشادہ تهی.دونوں اطراف میں دکانوں کے دروازے کهلے تهے.آگے کرسیاں میزیں بچهی تهیں.اردگرد بہت سے اسٹال لگے تهے.سڑک کے کناروں پہ کهلے عام کتے ٹہل رہے تهے مگر وہ بهونکتے نہیں تهے.حیا کو بهوک لگ رہی تهی اور وہ اب اس سفر نامے سے بور ہونے لگی تهی.بمشکل وہ تینوں اس رش بهرے محلے سے نکلیں." ایکسچنج اسٹوڈنس کو ان کا پہلا کهانا ایک ترک میزبان خاندان دیا کرتا ہے اور ابهی ہم اسی میزبان خاندان کے گهر جا رہے ہیں." جب وہ کار میں بوسفورس کے پل پر سے گزر رہی تهیں تو ہالے نے بتایا.کهانے کا سن کر اس پہ چهائ بیزاریت ذرا کم ہوئ.میزبان خاندان کا گهر استنبول کے ایک پوش علاقے میں واقع تها.کشادہ سڑک،خوبصورت بنگلوں کی قطار اور بنگلوں کے سامنے سبزے پہ جمی برف ان کے اسکالر شپ کو آرڈئ نیٹر نے چند باتیں انهیں ذہن نشین کروا دی تهیں کہ ترکی میں جوتے گهر سے باہر اتارنے ہیں، گهاس پہ نہیں چلنا اور ملاقات کے وقت ترک خاندان کے بڑے کا ہاته چومنا ہے." اس کی ضرورت نہیں تهی.اس تکلف کو رہنے دو " ان دونوں نے گهر کے داخلی دروازے کے باہر بچهے میٹ پہ جوتے اتارے تو اندر سے آتی وہ مشفق اور معمر خاتون پیاری بهری خفگی سے بولی تهیں.پہلے دن کوئ اصول نہیں ہوتے، السلام علیکم اور ترکی میں خوش آمدید " " آپ کے اصولوں کی پاسداری میں ہمارے لیے فخر ہے " حیا نے مسکراتے ہوئے ان کا ہاته تهاما اور سر جهکا کر ان کے ہاته کی پشت کو لبوں سے لگایا.معمر خاتون ، مسز عبدالله کا چہرہ خوشی سے دمک اٹها."اندر آجاؤ".وہ راستہ دینے کے لیے ایک طرف ہٹیں.ان کی سرخ بالوں والی بیٹی آگے بڑهی اور کارپٹ شوز حیا اور ڈی جے کے قدموں میں رکهے.وہ ریشمی کپڑے سے بنے کوٹ شوز کی شکل کے جوتے تهے.دونوں نے جهک کر وہ جوتے پہنے اور اندر داخل ہوئیں.اس ترک گهر کا فرش لکڑی کا بنا تها.لونگ روم کے فرش پہ بہت خوبصورت قالین بچهے تهے.وہ باته روم ہاته دهونے آئ تو دیکها ،وہاں بیسن اور ٹونٹی وغیرہ نہیں تهے بلکہ ایک طرف قطار میں نل لگے تهے، البتہ باته روم کے فرش پر بهی رگز ( پائیدان ) اور کاؤچ بچهے تهے، حیرت انگیز ! وہ واپس آئ تو ڈائننگ روم میں کهانا لگایا جا رہا تها.ڈی جے جهک کر پیار سے مسز عبدالله کی چه سالہ نواسی عروہ سے کچه کہہ رہی تهی.وہ تین خواتین پہ مشتمل چهوٹا سا کنبہ تها اور چونکہ وہ دونوں لڑکیاں تهیں سو ہالے نے ایسے ترک خاندان کا چناؤ کیا تها ، جس میں کوئ مرد نہ ہو.اسی پل مسز عبدالله سوپ کا بڑا سا پیالا اٹهائے آئیں.ہالے ان کی مستعدی سے مدد کروا رہی تهی." تم کیا کہہ رہی تهیں ، تمهارا یہاں کوئ رشتے دار بهی ہے ؟ " انهوں نے سوپ کا ڈونگا میز پہ رکها.حیا نے ایک نظر اس ملغوبے کو دیکها." جی میری پهپهو ہیں ادهر. " وہ سوپ کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکهتے ہوئے بولی." کدهر رہتی ہیں ؟ " "ادهر " اس نے پرس سے وہ مڑا تڑا کاغذ نکال کر ہالے کو تهمایا.ہالے نے ایک نظر اس کاغذ کو دیکها اور پهر اثبات میں سر ہلا دیا."کل میں ملوا دوں گی تمهیں ان سے ، کهانا شروع کرو." اس نے کاغذ واپس حیا کی جانب بڑها دیا." ڈی جے ! ہم واقعی ترکی میں بهوکوں مریں گے.اس ملغوبے کی شکل تو دیکهو ، مجهے تو پهر سے متلی ہو رہی ہے." حیا جبرا" مسکراتے ہوئے ہولے سے اردو میں بولی.مسز عبدالله نے ناسمجهی سے اسے دیکها." یہ کہہ رہی ہے کہ ان خواتین کا خلوص اسے شرمندہ کر رہا ہے."ڈی جے نے جلدی سے ترجمانی کرتے ہوئے میز کے نیچے سے اس کا پیر زور سے کچلا."اوہ شکریہ " مسز عبدالله مسکرا کر کهانا پیش کرنے لگیں.سوپ دراصل سرخ مسور کی دال کس شوربہ تها اور اردو جیسی ترک میں اسے چوربہ کہتے تهے.وہ ذائقے میں شکل سے بڑه کر بدمزا تها.چند لمحوں بعد ہی دونوں پاکستانی ایکسچنج اسٹوڈنٹس کی برداشت جواب دینے لگی.' حیا مجهے الٹی آنے والی ہے " " اور میں مرنے کے قریب ہوں"وہ بدقت مسکراہٹ چہروں پہ سجائے چمچہ بهر رہی تهیں.ترک خواتین بہت مرغوبیت سے سوپ پی رہی تهیں.چوربہ ختم ہوا تو کهانا آ گیا.وہ اس سے بهی بڑه کر بدمزا.ایک چاولوں کا پلاؤتها.پاکستان میں پلاؤکو " پ" کے اوپر پیش کے ساته بولا جاتا ہے.مگر یہاں اسے "پ" تلے زیر کے ساته بولا جاتا تها.پلاؤ شکل میں ابلے چاولوں سے مختلف نہ تها.ساته چنے کا سالن اور مرغی کی گریوی ، منچورین کی طرح تهی.وڈیڑه دن کی بهوکی تهیں اور اوپر سے یہ بدمزا کهانے مزید حالت خراب کر رہے تهے." خدیجہ ! تمهاری دوست مجهے کچه پریشان لگ رہی ہے،خیریت ؟" مسز عبدالله نے پوچه ہی لیا.پلاؤ کا پیالا بهی ختم ہو چکا تها اور ہم پاکستانی میزبانوں کے برعکس وہ اسے دوبارہ بهرنے کے لیے دوڑی نہیں تهیں.وجہ ان کی خلوص کی کمی نہیں تهی ، بلکہ شاید یہی ان کا طریقہ تها.ڈی جے نے گڑبڑا کر اسے دیکها.سب کهانے سے ہاته روک کر اسے دیکهنے لگے تهے.حیا نے میز تلے آہستہ سے اپنا پاؤں ڈی جے کے پاؤں پہ رکها." فیملی فرنٹ کی ہما، کوئ معقول وجہ بتاؤ ان کو ." " نہیں.....وہ.....دراصل.....حیا... حیا بہت ڈرپوک ہے.اسے سٹریٹ کرائم سے بہت ڈر لگتا ہے.اور یہ پہلی دفعہ اکیلی یورپ آئ ہے، تو یہ پوچه رہی ہے کہ کہیں استنبول میں ہمارا آرگنائزڈ کرمنلز سے تو واسطہ نہیں پڑے گا ؟" حیا خفت سے سر جهکائے لب کاٹتی رہی.وہ خالی ہاته ان کے گهر آئ تهیں اور انہوں نے میز بهر دی تهی، پهر بهی اس کے نخرے ختم ہونے میں نہیں آ رہے تهے.اسے بے حد پچهتاوا ہوا.وہ بات سنبهالنے پہ ڈی جے کی بے حد ممنون تهی." قطعا" نہیں ،استنبول بہت محفوظ شہر ہے." سرخ بالوں والی لڑکی رسان سے بولی." یہاں کی پولیس ایسے لوگوں کو کهلے عام نہیں پهرنے دیتی."بالکل .....استنبول میں قانون کی بہت پاسداری کی جاتی ہے." ہالے نے تائید کی.مسز عبدالله خاموشی سے سنتی رہیں.ان کے چہرے پہ کچه ایسا تها کہ حیا انہیں دیکهے گئ.جب ہالے نور استنبول کی شان میں قصیدہ پڑه کر فارغ ہوئ تو مسز عندالله نے گہری سانس لی." خدا کرے ' تمہارا واسطہ کبهی عبفالرحمان پاشا سے نہ پڑے." حیا نے دهیرے سے کانٹا واپس پلیٹ میں رکها.ایک دم پورے ہال میں اتنا سناٹا چها گیا تها کہ کانٹے کی کانچ سے ٹکرانے کی آواز سب نے سنی." کون پاشا؟" ڈی جے نے الجه کر مسز عبدالله کو دیکها." وہ ممبئ کا ایک اسمگلر ہے' یورپ سے ایشیا اسلحہ اسمگل کرتا ہے.استنبول میں اگر چڑیا کا بچہ بهی لاپتا ہو جائے تو اس میں پاشا کا ہاته ہوتا ہے.بو سفورس کے سمندر میں ایک جزیرہ ہے، بیوک ادا.اس جزیرے پہ اس مافیا کا راج ہے." " اور میری مام کو خواب بہت آتے ہیں." ان کی بیٹی نے خفگی سے ان کو دیکها." یہ لڑکیاں سمجهتی ہیں ، میری عقل میرا ساته چهوڑنے لگی ہے."" بالکل ٹهیک سمجهتی ہیں اور ایکسچینج اسٹوڈنٹس ! کان کهول کر سن لو." ہالے نے قدرے تلملا کر مداخلت کی." استنبول میں ایسا کوئ کرائم سین نہیں ہے، یہ سب گهریلو عورتوں کے افسانے ہیں.یہاں کوئ بهارتی اسمگلر نہیں ہے." دونوں ترک لڑکیاں اپنے تئیں بات ختم کرکےاب سوئٹ ڈش کی طرف متوجہ ہوچکی تهیں.خدیجہ بهی ان کی باتوں پہ مطمئن ہوکر شکر پارے کهانے لگی تهی، مگر حیا کے حلق میں وہ شکر پارے کہیں اٹک سے گئے تهے.ابوظہبی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہ اس نے اس حبشی کے منہ سے پاشا کا نام سنا تها.وہ نہایت مضمحل سا اپنی بیوی سے عربی میں بات کر رہاتها.اپنے بیٹے کے علاج کا ذکر،پاشا کے کسی کام کا ذکر،پیسے کم ملنے کا ذکر،مگر شاید وہ کسی اور کا ذکر کر رہا ہو اور واقعی ترک گهریلو عورتوں کے افسانوں کے مرکز پاشا کا کوئ وجود نہ ہو.الوداعی لمحات میں جب باقی سب آگے نکل چکے تو مسز عبدالله نے دهیرے سے حیا کے قریب سرگوشی کی." یہ لڑکیاں اپنے استنبول کی برائ نہیں سن سکتیں.تمہیں اس لیے بتایا کہ تم کرائم سے ڈرتی ہو اور خوبصورت بهی ہو، خوبصورت لڑکیوں پہ عموما" ایسے لوگ نظر رکهتے ہیں." حیا نے چونک کر انہیں دیکها ان کے جهریوں زدہ چہرے پہ سچائ بکهری تهی." وہ واقعی اپنا وجود رکهتا ہے." وہ بالکل سن سی ہوئ انہیں دیکهے گئ.کیا افواہوں کا خوف مجسم صورت میں ان کے سامنے آگیا تها،یا ان کی عقل واقعی ان کا ساته چهوڑ رہی تهی؟ ❄ شام کے سائے گہرے پڑ رہے تهے.،جب وہ سبانجی یونیورسٹی پہنچیں.سبانجی امرا کی جامعہ تهی.وہاں چار ماہ کے ایک سمسٹر کی فیس بهی دس ہزار ڈالرز سے کم نہ تهی.شہر سے دور ، مضافات میں واقع وہ قدرے گولائ میں تعمیر کردہ عمارت بہت پرسکون سی دکهتی تهی.چونکہ وہ جگہ استنبول شہر سے قریبا" پینتالیس منٹ کے فاصلے پہ تهی، اس لیے سبانجی میں ڈے اسکالرز نہیں ہوتے تهے.ان کے تمام طلبہ و طالبات بشمول ہالے نور جیسے لوگوں کے، جن کے گهر استنبول میں ہی تهے،ہاسٹل میں رہائش پذیر تهے.یونیورسٹی کی عمارت سے دور برف سے ڈهکے میدانوں میں ایک جگہ تهوڑے تهوڑے فاصلے پہ اونچی عمارتیں کهڑی تهیں.وہ ان کے رہائشی بلاکس تهے.انگریزی حرف ایل کی صورت کهڑی تین تین منزلہ عمارتیں ،جن کے کمروں کے آگے بالکونی بنی تهیں.چه کمرے ایک کی ایک لکیر پہ تهے اور چه دوسری لکیر پہ تهے." تمہارا کمرا دوسری منزل پہ ہے." ہالے نے اس کا سامان گاڑی سے نکالتے ہوئے بتایا.حیا اور ڈی جے دوسرا بیگ گهسیٹ کر لا رہی تهیں.ایل کی شکل کا بلاک جس کو ہالے بی ون کہہ رہی تهی،کے باہر گولائ میں چکر کهاتی سیڑهیاں کهلے آسمان تلے بنی تهیں ، جو اوپر تک لے جاتی تهیں.لوہے کی ان سیڑهیوں کے ہر دو زینوں کے درمیان خلا تها اور زینوں پہ برف کی موٹی تہ تهی.ذرا سا پاؤں پهسلے اور آپ کی ٹانگ اس گیپ میں سے نیچے پهسل جائے.وہ تینوں گرتی پڑتی بمشکل حیا کا سامان اوپر لائیں." کمرا تو اچها ہے،ہم یہاں رہیں گے ؟" حیا نے ہالے کی تهمائ چابی سے دروازہ کهول کر دهکیلا تو بے اختیار لبوں سے نکلا." ہم نہیں ،صرف تم ، کیونکہ خدیجہ کا بلاک بی ٹو ہے.وہ جو سامنے ہے." اس نے انگلی سے دور برفیلے میدان میں بنی عمارت کی جانب اشارہ کیا." کیا مطلب ، میں ادهر اکیلی ؟" وہ دنگ رہ گئ." بعد میں تم بدلوا سکتی ہو آفیسر سے کہہ کر.ابهی تم آرام کرو،ہر کمرے میں چار اسٹوڈنٹس ہوتے ہیں.ہر سٹوڈنٹ کی ٹیلی فون ایکسٹینشن اس کی میز پہ ہوتی ہے.آج کل چهٹیاں ہیں، اکثر طالب علم اپنے گهر گئے ہوئے ہیں.تمہارا کمرا خالی ہے، مگر تم جا کر اپنے بیڈ پر ہی سونا ، ترک لڑکیوں کے بستر پہ کوئ سو جائے تو وہ بہت برا مانتی ہیں.کوئ مسئلہ ہوتو میرا بی فور میں ہے،اوکے؟" مسکرا کر وہ بولی تو حیا نے سرہلا دیا.ڈی جے نے بے چارگی سے اسے دیکها اور ہالے کے ہمراہ سیڑهیاں اترنے لگی " ہالے ! سنو ،اس عمارت کے پیچهے کیا ہے ؟" کسی خیال کے تحت اس نے پکارا.ہالے مسکرا کر پلٹی اور بولی " جنگل ! " پهر وہ دونوں زینے اتر گئیں.حیا نے اندر کمرے میں قدم رکها.کمرا خوبصورتی سے آراستہ تها.ہر دیوار کے ساته ایک ایک ڈبل اسٹوری بینک رکها تها.عموما" ایسے بینکس میں نیچے ایک بیڈ اور اوپر بهی ایک بیڈ ہوتا ہے ،مگر اس میں نیچے بڑی سی رائٹینگ ٹیبل بنی تهی.اس کے ساته ہی لکڑی کی سیڑهی اوپر جاتی ،جہاں ایک آرام دہ بیڈ تها.میز پہ ایک ٹیلی فون رکها تها.وہ چاروں بینکس کو دیکهتی اپنے نام کی میز کی کرسی کهینچ کر نڈهال سی بیٹه گئ.وہ ایک تهکا دینے والا دن ثابت ہوا تها ، مگر ابهی وہ تهکن کے بجائے عجیب سی اداسی میں گهری تهی.غیر ملک ،غیر خطہ ،غیر جگہ اور تنہا کمرا.جس کے پیچهے جنگل تها.اسے جانے کیوں بے چینی ہونے لگی.وہ فریش ہونے کے لیے اٹهی اور دروازے کی طرف بڑهی ،تاکہ باہر کہیں باته روم ڈهونڈے ،ابهی اس نے دروازہ کهولا ہی تها کہ دو کمرے چهوڑ کر ایک کمرے کا دروازہ کهلا،اس میں سے ایک لڑکا بیگ اٹهائے نکل رہا تها.اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پهر مقفل کر دیا.گرلز ہاسٹل میں لڑکا ؟ اگر پاکستان میں ہوتی تو یقینا" یہی سوچتی ،مگر یہ بات تو سبانجی کے پراسپکٹس میں پڑه چکی تهی کہ وہ مخلوط ہاسٹل تها.البتہ ایک کمرے کے اندر صرف ایک صنف والے افراد ہی رہ سکتے تهے.وہ بددل سی ہو کر واپس کرسی پہ آبیٹهی.سامنے والی دیوار پہ ایک سفید اور سیاہ تصویر آویزاں تهی، پنسل سے بنایا گیا وہ خاکہ ایک کلہاڑے کا تها، جس کے پهل سے خون کی بوندیں گر رہی تهیں.خاکہ نے رنگ تها، مگر خون کے قطروں کو بےحد شوخ سرخ رنگ سے بنایا گیا تها.اس نے جهرجهری لے کر دوسری دیوار کو دیکها.وہاں ایک لڑکی کے چہرے کا بےرنگ پنسل سے بنا خاکہ ٹنگا ہوا تها.وہ تکلیف کی شدت سے آنکهیں میچے ہوئے تهی ، اس کی گردن پہ چهری چل رہی تهی.اور ادهر سے بهڑکیلے سرخ خون کے قطرے ٹپک رہے تهے.وہ مضطرب سی اٹه کهڑی ہوئ.ان تصاویر والی دیوار کے ساته لگے بینک کی میز پہ بہت سے چاقو اور چهریاں قطار میں رکهے تهے.ہر سائز ،ہر قسم اور ہر دهار کا چاقو ،جن کے لوہے کے پهل مدهم روشنی میں بهی چمک رہے تهے.وہ ایک دم بہت خوف زدہ ہو کر باہر لپکی.کوریڈور میں اندهیرا تها.دور نیچے برف سے ڈهکے میدان دیکهائ دے رہے تهے.وہ تیزی سے سیڑهیوں کی جانب بڑهی، جیسے ہی اس نے پہلے زینے پہ قدم رکها اوپر چهت پہ لگا بلب ایک دم جل اٹها.وہ ٹهٹک کر رکی اور گردن گهمائ.کوریڈور خالی تها،
وہاں کوئ نہیں تها.پهر بلب کس نے جلایا؟اس کی گردن کی پشت کے بال کهڑے ہونے لگے.دهڑکتے دل کے ساته وہ پلٹی اور زینے اترنے لگی.تب ہی ایک دم ٹهاہ کی آواز کے ساته اوپر کوئ دروازہ بند ہوا.اس نے پتهر بن جانے کے خوف سے پیچهے مڑ کر نہیں دیکها اور تیزی سے سیڑهیاں پهلانگتی چلی گئ.آخری زینے سے اتر کر اس نے جیسے ہی برف زار پہ قدم رکها ، اوپر بالکونی میں جلتا بلب بجه گیا.باہر زور و شور سے برف گر رہی تهی.تازہ پڑی برف سے اس کے قدم پهسلنے لگے تهے.سفید سفید گالے اس کے بالوں اور جیکٹ پہ آ ٹهہرے تهے.وہ گرتے پڑتے ڈی جے کے بلاک بی ٹو کی طرف بڑه رہی تهی.اسے پہلی دفعہ اپنی مانگی گئ کسی دعا پہ پچهتاوا ہوا تها ، "کاش! آج یہ برف نہ پڑتی." بی ٹو کی دوسری منزل کی بالکونی میں وہ دم لینے کو رکی.اسے منزل یاد تهی، مگر کمرے کا نمبر بهول چکا تها.اس نے ہونٹوں کے گرد ہاتهوں کا پیالا بنا کر زور سے آواز دی." ڈی جے ....تم کہاں ہو ؟" "ڈی جے ......" ایک دروازہ جهٹ سے کهلا اور کسی نے ہاته سے پکڑ کر اسے اندر کهینچا." اگر تم دو منٹ مزید تاخیر کرتیں تو میں مر چکی ہوتی حیا !" ڈی جے بهی اس کی طرح تنہا اور خوفزدہ لگ رہی تهی.مگر اب اس کمرے میں آکر حیا کا سارا خوف اڑن چهو ہوچکا تها." ڈرو مت ، تمہارے لیے ہی تو آئ ہوں.مجهے پتہ تها ، تم اکیلی ڈر رہی ہوگی ،ورنہ میرا کیا ہے، میں تو کہیں بهی رہ لیتی ہوں." وہ لاپرواہی سے شانے اچکا کر بولی ، پهر بے اختیار جمائ روکی." مگر ڈی جے ! میں سوؤں گئ کدهر ؟" " ان تین خالی بیڈز پہ کانٹے بچهے ہوئے ہیں کیا ؟" " مگر ہالے نے کہا تها کہ ترک لڑکیاں....." " فی الحال یہاں نہ ہالے ہے اور نہ ہی ترک لڑکیاں...." " مگر الله تو دیکه رہا ہے ! " غیر ملک میں اس کا سویا ہوا خوف_ خدا جاگ اٹها تها." اور مجهے امید ہے کہ الله تعالی' ہالے کو پتہ نہیں لگنے دے گا.اب بستر میں گهسو اور سو جاؤ.خدا جانے مجهے کس پاگل کتے نے کاٹا تها ، ترکی آگئ.آگے جهیل ،پیچهے جنگل ،اتنی وحشت ...." ڈی جے کمبل میں لیٹے بڑبڑائے جارہی تهی.نیند سے تو وہ بهی بے حال ہونے لگی تهی، سو ڈی جے کے قریبی بینک کی سیڑهیاں پهلانگ کر اوپر کمبل میں لیٹ گئ."حیا ...." وہ کچی نیند میں تهی، جب ڈی جے نے اسے پکارا." ہوں ؟" اس کی پلکیں اتنی بوجهل تهیں کہ وہ انہیں کهول نہیں پا رہی تهی." سامنے والے کمرے میں بڑے ہینڈسم سے لڑکے رہتے ہیں، میں نے انہیں کمرے میں جاتے دیکها ہے." " اچها...." اس کا ذہن غنودگی میں ڈوب رہا تها."اور سنو ،وہ پلاؤ اتنا برا بهی نہیں تها، ہمیں صرف سفر کی تهکاوٹ کے باعث برا لگا ،اور سنو ....." مگر ڈی جے کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی وہ سو چکی تهی.جاری هے.....


jannat_kay_pattay - Episode - 8 ﺗﺤﺮﯾﺮﻧﻤﺮﮦ ﺍﺣمد


jannat_kay_pattay - Episode - 8ﺗﺤﺮﯾﺮﻧﻤﺮﮦ ﺍﺣمد•••••••••••••••••••••••ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺧﺎﺻﺎ ﻭﺯﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺗﺤﺎﺷﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﮍﮐﮯ ﺳﺮﻣﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﮐﯽ ﮨﺎﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﮕﺰ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﺎﻧﭗ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺁﭖ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﮨﯿﮟ؟ ﭼﻐﺘﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺗﻮ ﺍﺣﻤﺖ ﻧﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ۔ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﺎﺗﺮﮎ ﺍﺋﺮﭘﻮﺭﭦ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﺁﺗﺎﮨﮯ، ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﺑﻮ ﺍﯾﻮﺏ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼؓ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺳﮯﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﺍﭼﮭﺎ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺣﻤﺖ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﯿﮓ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﯽ۔ﻣﮕﺮ ﺣﯿﺎ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺗﻮﮨﻢ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭﺷﺮﮎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﮈﯼ ﺟﮯ ﮐﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺑﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮﮐﺎ۔ﻣﯿﺰﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺚ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﭘﺎﮔﻞ ! ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﻣﻨﺠﻤﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯿﻨﺪﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﻨﺠﻤﺪ ﻣﺠﺴﻤﮯ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ﺍﺣﻤﺖ ﮐﻮ ﭨﻮﭨﯽ ﭘﮭﻮﭨﯽ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺳﻮ ﻭﮦ ﺳﺎﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮔﺮﺩﻭﭘﯿﺶ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺣﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﻔﺮ ﻧﺎﻣﮯ ﺳﮯ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺳﻮ ﺭﺥ ﭘﮭﯿﺮﮮ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺌﯽ۔ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﻠﻨﺪﻭﺑﺎﻻﺗﺮ ﻋﻤﺎﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺱ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ، ﻗﺪﺭﮮ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﯾﻮﺭﭖ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﺷﯿﺸﮯ، ﺻﻘﻒ ﺳﮍﮐﯿﮟ، ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﻟﻮﮒ، ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺑﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺳﮍﮎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺑﭽﮭﯽ ﺑﺮﻑ ﮐﯽ ﺗﮩﯿﮟ، ﮔﻮﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﮔﮭﺎﺱ ﮨﻮ۔ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﺮﮎ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺑﮍﮮ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﯽ ﺍﺳﮑﺮﭨﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺧﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﺑﺮﻑ ﻧﮧ ﭘﮍﮮ۔ ﭼﻐﺘﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻣﻮﮌ ﮐﺎﭨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺗﺸﻮﯾﺶ ﻧﮕﺎﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻠﮯ ﺑﺮﻑ ﺯﺍﺭ ﭘﮧ ﮈﺍﻟﯽ۔ﮨﺎﮞ ! ﺧﺪﺍ ﮐﺮﮮ ﺭﺍﺕ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﺮﻑ ﻧﮧ ﭘﮍﮮ۔ﺍﺣﻤﺖ ﻧﮯ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮐﯽ۔ﺣﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮈﯼ ﺟﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺑﮍﺍﺋﯽ۔ﺍﯾﻮﯾﮟ ﻧﮧ ﭘﮍﮮ۔۔۔۔۔ ﺧﺪ ﺗﻮ ﺑﺮﻑ ﺑﺎﺭﯼ ﺩﯾﮑﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﮐﺘﺎ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ، ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺮﮮ، ﺭﺍﺕ ﺑﺮﻑ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮍﮮ ﺁﻣﯿﻦ، ﺛﻢ ﺁﻣﯿﻦ۔ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮐﯽ۔ﻭﻧﮉ ﺳﮑﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ ﯾﻮﺭﭘﯿﻦ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﮔﮯ ﻧﯿﻼ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺑﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﯾﺸﯿﺎﺋﯽ ﺣﺼﮧ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺣﺼﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﭘﻞ ﻧﮯ ﺟﻮﮌ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻼﭖ، ﺩﻭ ﺗﮩﺰﯾﺒﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻨﮕﻢ۔۔۔۔۔۔۔ﻣﺮﻣﺮﺍ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺣﺼﮧ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﮯ ﺑﻮﺳﻔﻮﺭﺱ ﮐﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﭘﻞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺳﻔﻮﺭﺱ ﺑﺮﺝ ﮨﮯ۔ ﺍﺣﻤﺖ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﺗﻮ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﯾﻮﺭﭘﯿﻦ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﭘﻞ ﻋﺒﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ؟ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﮯ ﭘﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭘﻞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﺍﻧﺎﻃﻮﻟﯿﻦ ﺷﮩﺮ ﺗﮭﺎ۔ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﻞ ﻋﺒﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﺁﮔﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﺗﮏ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔ﭼﻐﺘﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﮎ ﺩﯼ۔ ﺍﺣﻤﺖ ﺏ ﻻﮎ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ، ﺍﻭﻧﭽﮯ ﭘﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﺎﮐﮧ ﮐﺘﻨﮯ ﺑﺮﺱ ﻭﮦ ﺍﺳﯽ ﭘﻞ ﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﻮﺳﻔﻮﺭﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﻠﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﭘﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﻗﺺ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﮐﯽ ﺳﻔﯿﺪ ﮔﮭﺎﺱ ﺳﯽ ﺑﺮﻑ ﺟﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﯾﺎ ﻣﺮﻣﺮﺍ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻞ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﯽ؟ ﺍﺱ ﺧﯿﺎﻝ ﭘﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺩﻝ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺮﻣﺮﺍ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﻟﭩﯽ ﭘﭩﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﺮﺍ ﺗﮭﺎ۔ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺪ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﯽ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺍﺳﮑﺎﺭﻑ ﻟﭙﯿﭩﮯ، ﺑﻠﯿﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﺁﺗﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﻮﭦ ﭘﮩﻨﮯ، ﻭﮦ ﮐﻮﭦ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻮﺟﮭﻞ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮﻣﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﺮﮎ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻐﺘﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭼﺎﺑﯽ ﻟﯽ۔ ﺍﺣﻤﺖ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﺎﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺮﻡ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﺳﺮ ﮨﻼﺗﯽ ﺳﻨﺘﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﮍﮐﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺋﯽ۔ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﻧﮓ ﺳﯿﭧ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮔﺮﺩﻥ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﮭﻤﺎﺋﯽ۔ﺳﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ۔۔۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﺁﻣﺪﯾﺪ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺷﺴﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺑﮯﺣﺪ ﻧﺮﻡ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﺮﮎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺳﻼﻡ ﻋﻠﯿﮑﻢ Salamun Alaikum ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ۔ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﮕﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺮﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﺍ۔ ﻭﮦ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﻣﮑﮭﻦ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﺎﻟﮯﻧﻮﺭ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﺍ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﻣﯽ ﻓﻮﺭﻡ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﺎﻧﺠﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﭩﯿﺮﯾﻞ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﺲ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺋﺮﭘﻮﺭﭦ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﻮ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﯽ ﺁﻧﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺳﮑﯽ، ﺑﮩﺖ ﻣﻌﺬﺭﺕ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺎﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﻮﮌ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ﺣﯿﺎ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ۔۔۔۔۔۔۔ﺧﺪﯾﺠﮧ ﺭﺍﻧﺎ۔۔۔۔۔۔۔ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﻮ ﮨﺎﻟﮯ ﻧﻮﺭ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻼﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻧﻮﺭ ﮐﺎ ﮨﻠﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺩﮬﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ۔ﺍﺏ ﮨﻢ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﻣﺤﻠﮧ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﺳﭩﯿﺮﻧﮓ ﮔﮭﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ۔ﻣﺤﻠﮧ؟ ﺍﺭﺩﻭ ﻭﺍﻻ ﻣﺤﻠﮧ، ﺣﯿﺎ ! ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﯽ۔ﺷﺎﯾﺪ۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺗﺐ ﮨﯽ ﺗﻮﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﮎ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﭩﺮﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻓﻘﺮﮮ ﮐﺎ ﺭﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ، ﻟﻔﻆ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﮎ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ! ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﭼﮩﮏ ﮐﺮ ﻓﻘﺮﮦ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯿﺎ۔” ﺍﯾﻮﺏ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺟﺎﻣﻌﮧ “ ﮐﮯ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻧﺼﺎﺭﯼ ﻣﺤﻠﮧ۔ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺭﺵ، ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺳﻮ ﺍﮌﺗﮯ، ﭼﮕﺘﮯ ﮐﺒﻮﺗﺮ، ﻭﮦ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﻨﺎﺗﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﺣﺎﻃﮯ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ Eyup Sultan Cammi ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﻣﯿﮟ j ﮐﯽ ﺟﮕﮧ C ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﻠﻂ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔


Wednesday, 27 September 2017

احساس اپنا ثبوت آپ ہے ۔



بات دعویٰ کی نہیں بات احساس کی ہے، اور احساس کسی مزید مشاہدے کا محتاج نہیں ہوتا ۔ احساس اپنا ثبوت آپ ہے ۔ جب ہم وادئ احساس میں قدم رکھتے ہیں ، تو بس ، اس سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں رہتا ۔ ہم احساس کو قابو کرتے ہیں اور احساس ہمیں قابو کر لیتا ہے ۔
احساس شائد اپنی ہی آواز میں اپنا نوحہ بھی ہے اور اپنا قصیدہ بھی ۔ اس آواز کو جتنا بند کرو، یہ اتنی ہی سربلند ہوتی ہے ۔ یہ آواز ہی طلسمِ ہوشربا ہے ۔ یہ آواز آہ و فغانِ نیم شب کا پیغام بھی لاتی ہے اور حرفِ رائیگاں بھی نوشت کرتی ہے۔ خاموشی میں ، رات کے سناٹوں میں ، یہ آواز شور مچاتی ہے ۔ سینے کے اندر سے چلّاتی ہے ۔ مجھے آزاد کرو ، مجھے بولنے دو ، میں مرگئی تو تم بھی مرجاوٴ گے ۔ آوازیں بند ہوجائیں تو سمجھ لیجئیے ، کوئی سانحہ گزر رہا ہے ۔

حضرت واصف علی واصف رح



اقتباس از " من چلے کا سودا " ، اشفاق احمد





اے بھائی میرے ، اے بہناں جی
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ چلیں گے رستے میں
اور ورد کریں گے رستے میں
ہم سر کو جھکا کر جائیں گے
اور قدم ملا کر جائیں گے
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں
اس مسجد کو کس چاہت سے
اپنے پرکھوں نے بنایا تھا
پھر اس کی ہری محرابوں میں
اشکوں سے چراغ جلایا تھا
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
ہم دونوں کا ہے ایک خدا
ہم دونوں کا ہے ایک آقا
قرآن بھی ایک رسول بھی ایک
اور دونوں کا ہے ایک کعبہ
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں
صد شکر کرو ہم رنگ ہیں سب
اور اک دوجے کے سنگ ہیں سب
اک آقا کملی والا ہے
ہم اس کےمست ملنگ ہیں سب
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں
جس وقت تمہاری مسجد سے
آواز اذان کی آتی ہے
میری بے تاب سماعت میں
گل رنگ چراغ جلاتی ہے
پھر ساتھ ہماری مسجد سے
آواز اذان کی آتی ہے
دونوں کی صدا کے ملنے سے
نگری جنت بن جاتی ہے
تم اپنی مسجد کو جاؤ
میں اپنی مسجد کو جاتا ہوں
پر ساتھ رہیں گے ہم دونوں
اور ساتھ مریں گے ہم دونوں

اقتباس از " من چلے کا سودا " ، اشفاق احمد


خاموشی مکمل ہو گئی-



خاموشی مکمل ہو گئی- اجڑے ہوۓ رسیدہ پتے مردہ پڑے تھے پھو لوں کا بازار دھندلا رہا تھا-سنان کی آنکھوں میں نمی کی ہلکی سی تہ تیرنے لگی- اس نے جیب سے رومال نکالا اپنے آنسو پونچھے اور بھاری قدموں سے چلتا ہوا اپنے مکان کی طرف روانہ ہو گیا- اس کی آنکھیں جل رہی تھیں اور سارا وجود تپ رہا تھا اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا جسم دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا گیا ہو ،،،،ایک جگہ رہنے سے ہی،،،،،،ساکت ہونے سے ہی پھول جینی کی آواز گونجی،،،،، میں نے آج نقشے کو جلا دیا ہے،،،،،،،،اپنے دشمن کو،،،،،اس کے ذہن میں آوازیں گڈ مڈ ہوتی چلی گئیں،،پاسکل دریا کے کنارے اکیلی ہو گی،،،وہ مر جاۓ گی،،،،،نہیں مجھے وطن واپس جانا ہے - ترکی میں برف باری شروع ہو جاۓ گی - میرے ماں باپ بھائی بہن میرا انتظار کر رہے ہیں- میں سیاح ہوں- ایک جگہ رہنے سے میرے پاؤں زمین میں دھنس جایئں گے ،،،،،،ایک جگہ رہنے سے ہی پھول کھلتے ہیں - پھول،،،،،،،،زرد گلاب! جانے وہ کب اور کیسے اپنے مکان تک پہنچا - اس نے روک کر گھڑی کے چمکتے ہوۓ ڈایل پر نظر ڈالی،،،،،،، شاید نو بج رہے تھے ،،،دس بجے گاڑی ،،،،،،،وہ تیزی سے سیڑھیاں طے کر کے کمرے میں آ گیا - اور اپنے بکھرے ہوۓ سامان کو تھیلے میں ٹھو نسنے لگا......

پیارکا پہلا شہر سے اقتباس



peer-e-kamil(saw) qist - 3

peer-e-kamil(saw) - پیرِ کامل ﷺ,

qist-3
baab - soom































 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India