اُردو ناول آن لائن

Sunday, 1 October 2017

peer-e-kamil(saw) # 5

peer-e-kamil(saw) # 5

































peer-e-kamil(saw) # 4

peer-e-kamil(saw) # 4
qist -4





































Jannat Kay pattay By Nimra Ahmad Episodey#17

Jannat Kay pattayBy Nimra AhmadEpisodey#17چوکهٹ میں کهڑا شخص چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتا، اس کی طرف بڑهنے لگا۔حیا نے نیم اندهیرے میں آنکهیں پهاڑ پهاڑ کر وہ تختی پڑهی۔"سکندر شاه" اس نے بے اختیار رینک دیکها۔ وه کرنل کی نشاندہی کر رہا تها۔وہ شرٹ ہاتھ میں پکڑے کسی الجهن میں گرفتار پلٹی اور ایک دم جهٹکے سے پیچهے ہٹی۔اس کے عقب میں جہاں نہیں تها۔ وه کوئی اور تها۔دراز قد، کنپٹیوں اور پیشانی سے جهلکتے سفید بال، سخت نقوش، نائٹ گاؤن میں ملبوس، وه کڑی نگاہوں سے اسے دیکهتے قریب آ رہے تهے۔وه سانس روکے انہیں دیکهے گئی۔وه عین اس کے سر پر آۓ، اور ایک جهٹکے سے اسکی گردن دبوچی۔"میری جاسوسی کرنے آئی ہو؟" اسکے گلے کو دبوچتے وه غراۓ تھء۔بے اختیار اس کے لبوں سے چیخ نکلی۔ شرٹ اس کے ہاتھ سے پهسل گئی۔ اس نے اپنی انگلیوں سے گردن کے گرد جکڑے ان کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی، مگر بے سود۔"پاکستانیوں نے بهیجا ہے تمہیں؟ اپنے مالکوں کو بولو، انہیں بلیو پڑنٹس کبهی نہیں ملیں گے۔"چهوڑیں مجهے۔" وه زور سے کهانسی۔ اس کا دم گهٹنے لگا تها۔ وه اس کا گلا دبا رہے تهے۔"کوئی مجھ تک نہیں پہنچ سکے گا، کبهی نہیں، ہر چیز آگے دے دی گئی ہے، ہر چیز۔" انهوں نے اسے گردن سے دبوچے اس کا سر کهلے صندوق پہ جهکایا۔ وه تڑپنے، چلانے لگی۔"چهوڑیں مجهے۔" وه اپنے ناخن ان کے ہاتھ میں چبهو کر ان کو ہٹانے کی ناکام سعی کر رہی تهی۔"تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا۔ وه بلیو پڑنٹس تمہیں کبهی نہیں ملیں گے"حیا کا سانس رکنےلگا۔ وه اس کا سر صندوق میں دے کر اوپر سے ڈھکنا بند کر رہے تھے، اسے لگا وه مرنے والی ہے۔"امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔۔!" وه وحشت سے چلانے لگی۔ وه اس کو گردن سے دبوچے، اس کا سر منہ کے بل اندر دے رہے تهے۔ گرد سے اٹے صندوق میں اسکا سانس اکهڑنے لگا۔*•••••*•••••*••••••*••••••*#باب_3چھوڑیں۔"دھاڑ سے دروازہ کھلا اور کوئی غصے چلاتا اندر آیا۔ اس کی گردن کے گرد جکڑےہاتھ کو کھینچ کر الگ کیا اور ادھ کھلا ڈھکن پورا کھول کر دوہری ہو کر اوندھی جھکی حیا کو بازو سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا۔"کیا کر رہے تھے آپ؟ وہ آپ کی بیٹی کی طرح ہے، ایک بات میری دھیان سے سنیں۔ آئندہ اگر آپ نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا۔"انگشت اٹھا کر سختی سے وہ انہیں تنبیہہ کر رہا تھا۔جہان کو دیکھ کر وہ دو قدم پیچھے ہٹ کر خاموشی سے اسے سنتے گۓ۔"اور تم!" وہ حیا کی طرف پلٹا۔ ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی، اور کہنی سے پکڑ کر کھینچتا باہر لایا۔ "اوپر کیوں آئی تھیں؟ کس نے کہا تھا ادھر آؤ؟"سیڑھیوں کے دہانے پہ لا کر اس نے حیا کا چہرہ دیکھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ دہشت سے چہرے کا رنگ لباس کی مانند زرد پڑ چکا تھا۔گردن پہ انگلیوں کے سرخ نشان پڑے تھے۔ وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔"وہ پھپھو نے۔۔۔۔۔۔۔""پھپھو کا بیٹا مر گیا تھا جو انہوں نے تمہیں بھیجا؟منع بھی کیا تھا، مگر یہاں کوئی سنے تو۔" وہ غصے میں بولتا، اسے کہنی سے پکڑے نیچے سیڑھیاں تیزی سے اترنے لگا۔ وہ اس کے ساتھ کھنچی چلی آ رہی تھی۔ پھپھو پریشان سی آخری سیڑھی کے پاس کھڑی تھیں۔"میں بکواس کر کے گیا تھا نا، مگر میری سنتا کون ہے اس گھر میں؟ دو دن کے لیے نہ ہوں تو سارا نظام الٹ جاتا ہے۔ پورے گھر کو پاگل کر دیا ہے انھوں نے۔"وہ آگے بڑھا اور سنٹر ٹیبل پہ رکھی میز سے پانی کی بوتل اٹھا کر لبوں سے لگائی۔ (پانی کی ضرورت تو حیا کو نہیں تھی؟)وہ سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ جہان کو اتنے شدید غصے میں اس نے پہلی دفعہ دیکھا اور اتنی شستہ اردو بولتے ہوۓ بھی۔"میں۔۔۔۔۔میں انھیں دیکھتی ہوں۔" پھپھو پریشانی سے کہتے ہوۓ اوپر سیڑھیاں چڑھ گئیں۔وہ گھونٹ پہ گھونٹ چڑھاتا گیا۔ بوتل خالی کر کے میز پہ رکھی اور اسکی طرف دیکھا۔"باہر آؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔" وہ کہہ کر روازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ وہ ڈری، سہمی ہوئی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے آئی۔وہ بیرونی دروازے کے آگے بنے اسٹیپس پہ بیٹھا تھا۔ حیا نے دروازہ بند کیا اور اس کے ساتھ آ بیٹھی۔ زرد فراک پھسل کر اس کے ننگے پاؤں کو ڈھانپ گیا۔ باہر سردی تھی، مگر اسے نہیں لگ رہی تھی۔"جو بھی ہوا، میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔" وہ سامنے دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔نیلی جینز کے اوپر پہنے بھورے سویئٹر کو عادتاً کہنیوں سے ذرا آگے موڑے، وہ ہمیشہ کی طرح وجیہہ اور اسمارٹ لگ رہا تھا۔ غصہ اب کہیں نہیں تھا۔ وہ پہلے والا دھیما سا اور سنجیدہ جہان بن گیا تھا۔"ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہوتے۔ کئی دفعہ انہوں نے ممی کو بھی مارنے کی کوشش کی ہے، مگر مجھے کچھ نہیں کہتے۔ ڈرتے نہیں ہیں، شاید نفرت کرتے ہیں۔"سامنے سبزہ تھا۔ اس سے آگے سفید لکڑی کی باڑ اور باڑ سے ہی بنا گیٹ، باڑ کے تختوں کی درزوں سے باہر گیلی سڑک دکھائی دیتی تھی۔ نم ہوا گھاس پر سے سرسراتی ہوئی گزر رہی تهی۔ وه گهٹنوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ بناۓ چہره جہان کی جانب موڑے بیٹھی تهی۔ فراک کا فرش کو چهوتا دامن ہوا کی لہروں سے پهڑپهڑاتا ہوا اوپر اٹھ جاتا تو پاجامے کی تنگ چوڑیوں میں مقید ٹخنے اور پاؤں چهلکتے۔"میرا بهی دل کرتا ہے کہ میں پاکستان جاؤں۔ اپنے رشتہ داروں کے درمیان رہوں۔ اپنا آبائی گھر دیکهوں۔ مگر ہم پاکستان نہیں جاتے اور تم اس دن ممی کو طعنہ دے رہی تهی ہم پاکستان نہیں آتے۔" (افف۔۔۔۔۔ اتنا جھوٹ)"نن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔" وه گڑبڑا گئی، مگر وه سن نہیں رہا تها۔"حیا! ہم کبھی پاکستان واپس نہیں جا سکتے۔"مگر کیوں؟ وه سناٹے میں ره گئی۔ وه چند لمحے چپ رہا، پهر آہستہ سے کہنے لگا۔میرے دادا اپنے کاروبار کے سلسلے میں استنبول آیا کرتے تهے۔ اس گھر کی انہوں نے ہی خریدی تھی بعد میں ابا نے ادھر گھر بنوایا۔ تب وه پاکستان آرمی کی طرف سے یہاں پوسٹڈ تهے۔ میں استنبول میں ہی پیدا ہوا تھا اور ابا کی دوباره اسلام آباد پوسٹنگ ہونے کے بعد بھی میں اور ممی ادھر دادا کے ساتھ رہتے تهے۔ میرے دادا بہت اچهے، بہت عظیم انسان تهے۔ انهوں نے مجهے بہت کچھ سکهایا تها۔ دین، دنیا، عزت، بہادری اور وقار سے جینے اور شان سے مرنے کا سبق انهوں نے ہی مجهے دیا تها۔ میں آٹھ سال کا تھا، جب وہ فوت ہوئے تو میں اور ممی کچھ عرصہ کے لیے پاکستان آگئے۔ اور تب ہی وه واقعہ ہوا، جس نے ہماری زندگی بدل دی۔"حیا کا سانس رک گیا۔ تب ہی تو ان کا نکاح ہوا تھا، تو کیا وہ باخبر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ (حیا کی خوش فہمیاں۔۔۔۔۔)"جن دنوں میں اور ممی پاکستان میں تهے، بلکہ تمهارے گھر میں تهے، ابا آناً فاناً ترکی فرار ہو گۓ۔ فرار اس لیے کہ انھوں نے ایک حساس مقام کے بلیو پرنٹس ان کو بیچ دیۓ تهے جو ہمیشہ خریدنے کے لیۓ تیار رہتے ہیں۔ ثبوت انہوں نے کوئی نہیں چهوڑا، مگر تفتیش شروع ہوئی تو بہت کچھ کهلنے لگا۔ ابا نے ترکی سے هہی اپنا استعفی بھجوا دیا۔ پیچھے عدالت میں مقدمہ چلا اور وه غدار ٹهہراۓ گۓ۔ ان کے جرائم کی فہرست خاصی طویل تھی۔ ان کو سزاۓ موت سنا دی گئی اور انهوں نے ترکی میں سیاسی پناه حاصل کر لی۔ کچھ تعلقات کام آۓ اور کچھ رشوتیں، ابا کو ترک حکومت کبھی ڈی پورٹ نا کر سکی، نا ہی انٹر پول نے کوئی قدم اٹهایا۔ قصہ مختصر، ابا جس دن پاکستان کی سرزمین پہ قدم رکهیں گے، وہ گرفتار ہو جائیں گے اور ان کو پهانسی دے دی جاۓ گی۔ یہ بات تمهارے والدین کو پتہ ہے، مگر بدنامی کے ڈر سے کسی کو بتائی نہیں جاتی۔" وه کسی بهی جزبے سے عاری نگاہوں سے سامنے باڑکو دیکھتا رہا تها۔ حیا یک ٹک اسے دیکهے گئی۔ اس کے گهر میں پهپهو کے شوهر کا ذکر کوئی نہیں کرتا تها۔ شاید دانستہ طور پہ ایسا کیا جاتا تها۔"میں ایک غدار کا بیٹا ہوں۔ میرا باپ ایک ملک دشمن ہے۔ اس ذلت کے باوجود ہم ابا کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ احساس جرم ہے یا قدرت کی طرف سے سزا، وه وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنا ذہن کهوتے جا رہے ہیں۔ سزاۓ موت کا خوف ان کے لیۓ ناسور بنتا جا رہا ہے۔ جو انهوں نے تمهارے ساتھ کیا، اس پہ ان کو معاف کر دینا۔ وه میرے باپ ہیں اور باوجود اس کے کہ یہ حقیقت بہت جگہ میرا سر جهکا دیتی ہے میں ان سے محبت کرنے پہ مجبور ہوں۔" حیا نے گہری سانس لی۔ اس کے کسی قصے میں اس کا قصہ نہیں تها، کسی داستان میں اس کی داستان نہ تهی۔"میں کام سے باہر جا رہا ہوں، آج کهانا کها کر جانا۔" وه اٹها اور دروازہ کهول کر اندر چلا گیا. شاید وه ابهی صرف تنہائی چاہتا تھا۔ حیا گردن موڑ کر اسے جاتے ہوئے دیکهنے لگی۔ وه ننگے پاؤں لکڑی کے فرش پہ چلتا سیڑهیوں کی طرف بڑھ رہا تها۔••••••••••••••••••••حیا۔۔۔۔۔۔۔ خدیجہ! ٹالی نے انہیں اس وقت پکارا، جب وہ دونوں ڈی جے کے بینک پہ بیٹھی، اس کی شاپنگ پہ تبصرہ کر رہی تھیں۔ وہ چودہ فروری کی دوپہر تھی۔ اور ترکی آئے آٹھواں روز تھا اور ڈی جے جو ویلنٹائن ڈے کی رونق دیکھنے آج ٹاقسم گئی تھی مایوس لوٹ آئی تھی۔ پاکستان کے برعکس ترک ہر کام چھوڑ کر سرخ رنگ میں نہیں نہا جاتے، بلکہ سوائے سرخ پھولوں کی فروخت کے استنبول میں ویلنٹائن ڈے کے کوئی آثار نہ تھے۔ جب ڈی جے خوب مایوس ہو چکی تو اس نے یہ کہہ کر اپنے خیالات میں ترمیم کر لی کہ ”بھاڑ میں گیا سینٹ ویلنٹائن، ہمیں اس تہوار سے کیالینا دینا“۔ان کی اس گفتگو میں مخل ہونے والی اسرائیلی ایکسچینج اسٹوڈنٹ تھی۔ہاں؟ وہ دونوں جھک کر نیچے دیکھنے لگی، جہاں ٹالی ان کے بنک سے نیچے لٹکتی سیڑھی کے ساتھ کھڑی تھی۔وہ لڑکے تمہارا پوچھ رہے تھے۔حیا اور ڈی جے نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ٹالی کو۔کون سے لڑکے؟ وہ فلسطینی ایکسچینج اسٹوڈنٹس جو ساتھ والے ڈروم میں رہتے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ وہ پاکستانی لڑکیاں کیسی ہیں اور یہ کہ ان کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے، اور یہ بھی کہ تم دونوں آج کی شام کی چائے کامن روم میں ان کے ساتھ پیو۔ وہ تمہارا انتظار کریں گے، اوکے بائے۔ ایک اسرائیلی مسکراہٹ ان کی طرف اچھالتی، وہ ہاتھ ہلا کر باہر نکل گئی۔یہ فلسطینیوں کو ہمارا خیال کیسے آ گیا؟اس ٹالیکے درخت سے دل بھر گیاہو گا شاید۔ ڈی جے نے قیاس آرائی کی۔بکو مت! وہ ہمیں صرف مسلمان بہنیں سمجھ کر بلا رہے ہوں گے۔اتنے ہینڈسم لڑکوں کی بہن بننے پر کم از کم میں تیار نہیں ہوں۔ یہ بھائی چارہ تمہیں مبارک ہو۔ ڈیجے بدک اٹھی تھی۔چلو پھر تیار ہو جائیں تاکہ وقت پہ پہنچ سکیں۔حیا لکڑی کی سیڑھی سے نیچے اترنے لگی۔صرف ہمیں بلایا ہے


ﻋﺸﻖ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ - ﭘﮩﻠﯽ ﻗﺴﻂ



ﻋﺸﻖ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﻧﮕﯽ
ﭘﮩﻠﯽ ﻗﺴﻂ
ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﮐﺎﻟﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﺠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍ ﺳﮑﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺁﺑﯽ ﺁﺑﯽ ﺗﻢ ﺳﻦ ﺗﻮ ﺭﮬﯽ ﮬﻮﮞ ﻧﮧ ,,,,
ﺍﺑﯿﮩﺎ ﺗﻤﯿﮩﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮬﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ .
ﻧﺎﺟﯿﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﭘﺮﺗﺶ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺍﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ .
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﯽ ﺑﻠﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺎ .... ﻣﯿﺮﺍ ﻗﺼﻮﺭ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﮭﺒﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺁﺑﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﮬﯽ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﻨﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ...
ﻧﺎﺟﯿﮧ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﻮﮞ
ﻧﺎ ﺟﯿﮧ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﮨﺎﮞ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮬﻮﮞ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺑﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮬﻮﮞ ﻭﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮬﮯ .... ﻧﺎﺟﯿﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺍﭨﮫ ﮔﮩﯽ
ﻧﺎﺟﯿﮧ ﻧﮯ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺩﻋﺎﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺳﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮬﻮﮮ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺍﺑﯿﮩﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺮﺍﺩﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ..... ﺍﮐﻠﻮﺗﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺑﯿﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺍﺅ ﺗﮭﺎ .... ﺗﻌﻠﯿﻤﯽ ﻗﺎﺑﻠﯿﺖ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ ..... ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕﯼ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ..... ﻭﮦ ﺗﮭﯽ ﮨﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ... ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﺮﺗﯽ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺣﺎﻭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺎ ...
....................................
Love is a life .....
Life is a way where love sacrifice .....
ﻧﺠﺎﻧﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﭘﮩﺮ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﻧﺎﺟﯿﮧ ﻧﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮍﮮ ﮬﻮﮮ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺟﮭﮑﮯ ﺍﺑﯿﮩﺎ ﮐﮯ ﻃﻠﺴﻢ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﺍ .....
ﺁﺑﯽ !!!!!!!
ﺍﺑﯿﮩﺎ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺩﺍﻧﺖ ﮐﭽﻠﺘﮯ ﮬﻮﮮ ﺑﻮﻟﯽ ....
ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﻧﺎﺟﯿﮧ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﮩﻮ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺖ ﺗﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ......
ﺁﺑﯽ ﻏﺼﮧ ﻣﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻟﮕﺘﯽ ﮬﻮﮞ ...... ﺍﺑﯿﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﺳﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭼﮭﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﻮ ﻧﺎﺟﯿﮧ ﻧﮯ ﭘﮑﮍ ﻟﯽ .....
ﺭﺍﺕ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﺰﺭ ﮔﯽ .......
ﺻﺒﺢ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﭼﺮﻧﺪ ﭘﺮﻧﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﻤﺪﻭﺛﻨﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺑﯿﮩﺎ ﺭﻭﺯ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﯼ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺎ ﺟﺎﮨﺰﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺍﺳﮑﻮ ﻧﺎﺟﯿﮧ ﻧﮯ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﭩﮑﯽ ﮐﺎﭦ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺩﻟﻮﺍﯾﺎ
ﺁﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺮﻡ ﻧﯿﺎﺯﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﺮ ...... ﻧﺎﺟﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﯿﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻗﯿﺪ .....
ﮨﻤﮩﻢ ﮨﻤﮩﻢ .... ﺑﺲ ﮐﺮ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﻨﺎ ..... ﭘﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ... ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻭﺍ ﺭﮨﯽ .... ﺁﭨﮫ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ........ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﺑﯿﮓ ﺍﭨﮭﺎﮮ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﮔﯽ .... ﺍﺏ ﻧﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﻭ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺴﺖ ﺭﻭﯼ ﺳﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ .....
ﺁﭨﮫ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻧﮯ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﻧﯿﮩﮟ ﺗﮭﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ .. ﻟﯿﮑﻦ ﻧﻮﺍﺏ ﺣﺴﻨﯿﻦ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﻥ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼ ﻗﮯ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺭﮐﺘﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﯾﺰﻭﺟﺎﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﺑﯿﮩﺎ ﮐﮯ ﻟﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﺑﮭﯿﺠﻮﺍﯼ ﺗﮭﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮧ ﮬﻮ .....
ﺍﺑﯿﮩﺎ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮩﺖ ﻻﮈ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﻻ ﺗﮭﺎ ...... ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﮨﻠﯿﺰ ﭘﮯ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﺘﮭﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺠﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮ ﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭨﺎﻝ ﺩﯾﺘﮯ ...
ﻧﻮﺍﺏ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺑﮯﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ . ﺟﺐ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮬﮯ ....
ﺍﺑﯿﮩﺎ ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﺑﮭﺎ ﮔﺘﮯ ﮨﻮﮬﮯ ﻟﮓ ﮔﯽ ,.
............... ......
ﺍﺑﯿﮩﺎ ﻧﮯ ﺍﯾﺒﭧ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﺍﯾﻢ ﻓﻞ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﯽ ﺗﮭﯽ ......
ﻣﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﺑﮭﻨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ..... ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮﮔﯽ ......
ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺑﺎﺟﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﮮ ﺍﭼﺎ ﻧﮏ ﺍﻧﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﺎﺑﺎﺟﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺟﺎﻥ ﺟﮕﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻠﭽﻞ ﻣﭽﺎ ﺩﯼ ......
ﺍﻧﮑﻞ ﻓﺨﺮ ﺯﻣﺎﻥ ﺟﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ .... ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮧ ﺩﯾﺎﺭﻏﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮨﻮﻧﮩﺎﺭ ﺑﯿﭩﺎ ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ ﻓﺨﺮﺯﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ....
ﺍﻭﻧﭽﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﻗﺪﻭﺟﺴﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮐﺸﺶ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺧﺪﻭﺧﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺯﺏ ﻧﻈﺮ ﻟﮓ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ..... ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﺸﺶ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﻨﮭﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ .. ﮐﺐ ﮐﺴﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﺩﯾﻮﺍﻧﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﺳﮯ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﭼﻼ ., ....
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ .....
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺑﺎﺟﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﮭﺠﮏ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﻟﮓ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ .......
ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﻃﮯ ﭘﺎ ﮔﯿﺎ ..... ﺍﺑﯿﮩﺎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﭘﺮ ﺭﺷﮏ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﮑﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﺼﯿﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﮔﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭘﺎﻟﯿﺎ .......
............
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﻮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻟﭧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ... ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﺍ ﺟﺴﮑﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﻧﺪﯾﺸﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺁﻧﺪﮬﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﮮ ﭘﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻣﻮﺕ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ .. ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﮨﻢ ﻭﮔﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﻠﭩﺎ ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ .....
ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﮭﻮﻣﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ..... ﺍﺳﮑﺎ ﺩﻝ ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮬﮯ ...... ﻭﮦ ﺩﻥ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮬﮯ ﺟﺐ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﺎ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﺁﯾﺎﺟﺴﮑﻮ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻮﺍﺱ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ... ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺭﮐﮭﺎ ........
..........,
ﺁﺝ ﻣﻮ ﺳﻢ ﮐﺎﻓﯽ ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﺑﮩﯿﺎ ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺁﮔﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ......
ﺁﮨﻤﮩﻢ ﺁﮨﻤﮩﻢ ,,, ﺁﺑﯽ ﺗﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻧﮑﻞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮ ...... ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺁﺅ ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺁﮮ ﮬﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮬﯿﮟ ...
ﻧﺎﺟﯿﮧ ﺗﻢ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻮﮈ ﻧﯿﮩﮟ ﮬﯿﮟ ... ﻧﯿﮩﮟ ﺟﯽ ﺁﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﮯ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ ﺍﻧﮑﻞ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﮯ ﻟﯽ ﮬﮯ ﺍﺏ ﻧﻮ ﺍﮔﺮ ﻣﮕﺮ ﭼﻞ ﭨﮫ ﺍﺏ ......
ﺍﭼﮭﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺁﺗﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﺗﻮ ﭼﯿﻨﺞ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﮮ ﻭﮦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﮟ .....
ﯾﺎﺭ ﺍﻭﺭﻧﺞ ﮐﻠﺮ ﻭﺍﻻ ﮐﺮﺗﺎ ﻧﮑﺎﻟﻮ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﮐﯽ ﮐﮍﺍﮨﯽ ﮐﯽ ﮨﻮﯼ ﮬﮯ .... ﺍﻭﮐﮯ ﻣﯿﮉﻡ ......
ﻭﮦ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﯿﭩﮭﯽ .... ﺍﺑﯿﮩﺎ ﮈﺭﺍﮨﯿﻮﻧﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﻧﺎﺟﯿﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ..... ﺳﻔﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﺎ . ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺭﮬﺎ ...,
ﺟﺎﺭﯼ ﮬﮯ










Jannat Kay patay By Nimra Ahmad Episode # 16

Jannat Kay patay
By Nimra Ahmad
Episode # 16
اچھا میں ڈرائیو کر رہا ہوں، پھر بات ہوتی ہے۔ مزید کچھ سنے بغیر اس نے فون بند کر دیا۔
وہ دل مسوس کر رہ گئی۔ عجیب اجنبی سا اپنا تھا۔
پھپھو اسے کیب پر لینے آئی تھیں۔ وہ جو چند لیراز کی بچت کے چکر میں کیب کر کے نہیں گئی تھی، خوب شرمندہ ہوئی۔
گاڑی نہیں تھی تو بتاتیں، میں تو ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں، گاڑی تو جہان کے پاس ہی ہوتی ہے۔ اور وہ مزید شرمندہ ہوئی۔ پھر گردن موڑ کر کھڑکی کےباہر دوڑتے درخت دیکھنےلگی۔
اسے پھپھو کچن میں ہی لے آئیں۔ حسب عادت وہ کام میں مصروف ہو گئیں۔
یہ میرے لیے اتنا بکھیڑا پالنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ اردگرد پھیلی اشیا دیکھ کر خفا ہوئی۔
کوئی بات نہیں، تم میری بیٹی ہو، میرا ہاتھ بٹا دو گی، اس لیے میں نے یہ سب شروع کر لیا۔ دونوں کے درمیان پچھلی ملاقات کے ناخوشگوار اختتام کا کوئی تزکرہ نہ ہوا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
چلیں! آج پلاؤ تو میں ہی بناتی ہوں، مجھے ریسیپی سمجھاتی جائیں، ویسے بھی ترکوں کی میز اس پلاؤ کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔ وہ کوٹ اسٹینڈ پر لٹکا کر آستین کلائی سے ذرا پیچھے کرتی واپس آئی۔ ڈوپٹہ اس نے اتار کر کرسی پہ رکھ دیا تھا۔
پہلے تو تم چکن کی بوٹیاں کاٹ دو۔ انھوں نے ٹوکری میں رکھے مرغ مسلم کی طرف اشارہ کیا اور خود چولھے پر چڑھی دیگچی میں چمچہ ہلانے لگیں۔
چھری تو یہ پڑی ہے، کٹنگ بورڈ کدھر ہے؟ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
کٹنگ بورڈ۔۔۔۔۔۔ اوہو۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو صبح نہیں مل رہا۔ جہان بھی پتا نہیں چیزیں اٹھا کر کدھر رکھ دیتا ہے۔ ٹھہرو! میں ایک پرانا بورڈ لے آؤں۔ اوپر ایٹک attic سے۔
آپ رہنے دیں، میں لے آتی ہوں، ایٹک اوپر کس طرف ہے؟
سیڑھیوں سے اوپر راہداری کے آخری سرے پہ، مگر تمہیں تکلیف ہو گی، میں خود۔۔۔۔۔۔
آپ گوشت بھونیں، جل نہ جائے، میں بس ابھی آئی۔ وہ ننگے پاؤں چلتی باہر لوبگ روم تک آئی۔
سیڑھیوں کے ساتھ لگے قد آور آئینے میں اسے اپنا عکس دکھائی دیا تو ذرا سی مسکرا دی۔ فرش کو چھوتے زرد فراک میں وہ کھلتے پھول کی طرح لگ رہی تھی۔ گلے کا کاٹ کھلا تھا اور اس کے دہانے پہ چھوٹے چھوٹے سورج مکھی کے پھولوں کی لیس نیم دائرے میں لگی تھی۔ یوں لگتا تھا اس کی خوبصورت لمبی گردن میں سورج مکھی کے پھولوں کا ڈھیلا سا ہار لٹک رہا ہو۔ اس نے انگلیوں فراک پہلوؤں سے ذرا سا اٹھایا اور ننگے پاؤں لکڑی کے زینوں پر چڑھنے لگی۔
اور راہداری کے آغاز میں ایک کمرے کا دروازہ بند تھا، شاید وہ جہان کا ایک کمرہ تھا۔ ابھی گھر میں داخل ہوتے ہوئے پھپھو نے ایسا کچھ بتایا تھا۔
وہ ایک نظر بند دروازے پہ ڈال کر آگے بڑھ گئی۔ فراک اب اس نے پہلوؤں سے چھوڑ دیا تھا۔
ایٹک میں آگے پیچھے بہت سے صندوق اور کاٹھ کباڑ رکھا تھا۔ متذبذب سی اندر آئی۔ بتی نہ جانے کدھر تھی۔ اس نے دروازہ کھلا رہنے دیا، باہر سے آتی روشنی کافی تھی۔
وہاں ہر سو سامان رکھا تھا، کٹنگ بورڈ نہ جانے کدھر تھا۔ وہ اندازا آگے بڑھی اور ایک کونے والے صندوق کا کنڈا کھول کر ڈھکن اوپر اٹھایا۔
نیچے لونگ روم سے بیرونی دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آوز آئی۔ ساتھ میں جہان اور پھپھو کی ملی جلی آوازیں۔ یقینا وہ آ گیا تھا۔ وہ مسکرا کر صندوق پر جھکی۔
اس میں الیکٹرک کا کوئی ٹوٹا پھوٹا سامان رکھا تھا۔ کٹنگ بورڈ کہیں نہیں تھا۔ حیا نے ڈھکن بند کیا اور نسبتا کونے میں رکھے صندوق کی طرف آئی۔
اپنے عقب میں اسے راہداری سے کسی دروازے کے ہولے سے کھلنے کی چرر سنائی دی تھی۔ جہان اتنی جلدی اوپر پہنچ گیا؟ مگر وہ پلٹی نہیں اور صندوق کو کھولنےلگی، جس کےڈھکن کے اوپر گرد اور مکڑی کے جالوں کی تہہ تھی۔
اس نے چند چیزیں الٹ پلٹ کی تو بےاختیار گرد نتھنوں میں گھسنے لگی۔ اسے ذرا سی کھانسی آئی۔ پورا ایٹک بےحد صاف تھا۔ ماسوائے اس کونےمیں رکھے دو تین صندوقوں کے، جیسےانہیں زمانوں سے نہ کھولا گیا ہو۔
اس کی پشت پہ ایٹک کا ادھ کھلا دروازہ ہولے سے کھلا۔ کوئی چوکھٹ میں آن کھڑا ہوا تھا، یوں کہ راہداری کی آتی روشنی کا راستہ رک گیا۔ پل بھر میں ایٹک۔۔۔۔۔۔ نیم تاریک ہو گیا۔
وہ پلٹنے ہی لگی تھی کہ صندوق میں کسی خاکی شے کی جھلک دکھائی دی۔ اس نے دونوں میں پکڑ کر اسے اوپر نکالا۔ وہ لکڑی کا تختہ نہیںتھا، بلکہ اکڑا ہوا کپڑا تھا۔
حیا نےکپڑا کھول کر سیدھاکیا۔ ایک پرانی گرد آلود خاکی شرٹ۔۔۔۔۔ے ستارے، تمغے اور ایک نام کی تختی۔
چوکھٹ میں کھڑا شخص چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا، اس طرف بڑھنےلگا




ناول:جنت کے پتے تحریر: نمره احمد قسط نمبر 15



ناول:جنت کے پتے
تحریر: نمره احمد
قسط نمبر 15



Novel Jannat kay patay
Episode number 15
written by Nimra Ahmad
میں سسلی جانا چاھتی ھوں شاپنگ وغیرہ کے لیئے اور تم تو اپنی پھپھو کے گھر جاو گی نہ؟ڈی جی کوفتے کے سالن سے تیل نکال کر دوسرے پیالے میں ڈال رہی تھی۔وہ یونہی ھر سالن سے تیل نکالا کرتی تھی۔تلی ھوئ چیزوں کو اخبار میں لپٹتی اور پھر کھاتی۔ھاں اور تم ہڈیوں کا ڈھانچہ اسی لئے ھو۔حیا نے روک کر ناگواری سے اس کے عمل کو دیکھا وہ بنا اثر لئے اوپر آیا تیل دوسرے پیالے میں انڈیلتی رہی۔ڈائننگ ھال بےحد وسیع و عریض تھا ہر سو ذرد روشنیاں جگمگا رہی تھی۔وہاں دو لمبی سی قطاروں میں مستطیل میزیں لگی تھیں اور دونوں قطاروں کے چاروں طرف کرسیوں کی سرحد بنی تھی ھر طرف گھما گہمی رش اور شور سا تھا۔رفعتا پلیٹ کے ساتھ رکھا حیا کا موبائل بج اٹھا۔اس نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور نپکین سے ہاتھ صاف کرتےہوئے چمکتی اسکرین کو دیکھا۔تایا فرقان ہوم کالنگ ہیلو اس نے فون اٹھایا حیا ارم بول رہی ہوں ہوں،،،،کیسی ھو ارم نوالہ منہ میں تھا اس لیے اس کی پھنسی پھنسی سی آواز نکلی ٹھیک،،،تم سناو،،،ارم کی آواز میں ذرا بےچینی تھی۔سب خیریت ہے تم بتاؤ کوئی بات ہوئی ہے کیا؟ نہیں،،،ہاں،،،سنو ایک بات تھی آواز دھیمی سرگوشی میں بدل گئی کہو میں سن رہی ہوں حیا نے آہستہ سے چمچہ رکھا اور نپکین سے لبوں کو دبایا اس کے ذہن کے پردے پہ وہ وڈیو ابھری وہ،،،یار عجیب سی بات ہے مگر تم ابا وغیرہ کو نہ بتانا اصل میں کل شام جب میں یونیورسٹی سے واپس آئ تو گیٹ کے قریب ایک خواجہ سرا تھا اس نے مجھے روکا حیا بلکل دم سادھے سنے گئی پل بھر کو اسے ڈائننگ ہال کی آوازیں آنا بند ہو گئی تھی اس کی سماعت میں صرف ارم کے الفاظ گونج رہے تھے۔ پہلے تو میں ڈر گئ مگر اس نے کوئی غلط حرکت نہیں کی تو مجھے تسلی ہوئی وہ مجھ سے تمہارا پوچھ رہا تھا کہ حیا باجی کہاں ہیں اور کیسی ہیں؟ امریکہ پہنچ گئیں ہیں خیریت سے؟میں نے بتایا وہ امریکہ نہیں ترکی ہے پھر وہ کہنے لگا کہ میں تمہیں اس کا سلام اور وہ جھجکی اور دعا دے دوں۔اور کچھ؟ نہیں مگر تم ابا وغیرہ کو نہ بتانا کہ میں نے ایک خواجہ سرا سے بات کی ہے یہ بات تمہیں اس سے مخاطب ہونے سے پہلے سوچنی چاہیے تھی بھر حال میں نہیں جانتی کون ہے وہ کیا نام بتایا اس نے اپنا؟ ڈولی،،، پتا نہیں کون ہے آیندہ ملے تو بات نہ کرنا بلکہ نظر انداز کر کے گذر جانا مزید چند باتیں کر کے اس نے فون رکھ دیا اور دوبارہ پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئی ویسے تمھاری پھپھو کا کوئی ہینڈسم سا بیٹا ویٹا ہے؟ ڈے جی نپکین سے ہاتھ صاف کر کے مگن سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔اس کا ہاتھ روک گیا وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔کیوں؟ تمھاری چمک دمک دیکھ کر یہ خیال آیا ڈی جے نے مسکراہٹ دباتے اپنی عینک انگلی سے پچھے کی۔حیا نے یونہی چمچہ پکڑے گردن جھکا کر خود کو دیکھا۔وہ پاوں کو چھوتے ذرد فراک اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی فراک کی ذرد شیفون کی تنگ چوڑی دار آستینں کلائ تک آتی تھی شیفون کا دوبٹا اس نے گردن کے گرد لپیٹ رکھا تھا بال حسب عادت سمیٹ کر دائیں کندھے پے آگے کو ڈال رکھے تھے ۔ ہاں ہے ایک بیٹا مگر شادی شدہ ہے وہ لاپرواہی سے شانے اچکا کر پلیٹ میں پڑھا کوفتہ کانٹے سے توڑنے لگی اونہوں،،سارا مزہ ہی کرکرا کر دیا اوے ڈی جے یہ کیا ہے؟ وہ ڈی جے کے پچھے کچھ دیکھ کر روکی تھی۔۔کوفتہ ہے اور کیا ہے ڈی جے نے کانٹے میں پھنسے ہوئے کوفتے کو دیکھ کر کہا افواہ'' اپنے پچھے دیکھو اس نے جھنجھلا کر کہا تو ڈی جے نے گردن موڑی وہاں ایک قدرے فربہی مائل لڑکی چلی آرہی تھی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ شلوار قمیص اور دوپٹے میں ملبوس تھی سبانجی میں ہم وطن ؟ ڈی جے نے بے یقینی میں پلکیں جھپکیں۔اگلے ہی پل وہ دونوں اپنے اپنے کوٹ اٹھا کر کھانا چھوڑ کر اس کی طرف لپکی تھی وہ لڑکی اپنی کتابیں سنبھالتی چلی آرہی تھی ان دونوں کو دیکھ کر ٹھٹکی وہ ڈی جے کی شلوار قمیص اور حیا کا فراک پاجامہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔اور وہ دونوں اس کی شلوار قمیص۔آپ پاکستانی ہیں؟ حیا پرجوش سی اس کے پاس گئی ڈی جے اس سے ذرا پچھے تھی نہیں میں انڈین ہوں۔ ڈی جے ڈھیلی پڑ گئی،،رہنے دو حیا مجھے ابھی ورلڈ کپ کا غم نہیں بھولا اس نے سرگوشی کی حیا نے زور سے اپنا پاوں ڈی جے کے جوتے پہ رکھ کر دبایا۔ہم پاکستانی ایکسچینج سٹوڈنٹ ہیں حیا سلیمان اور یہ خدیجہ رانا۔اور آپ؟میں انجم ہوں۔میں اور میرے ہزبینڑ پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ہم دونوں یہاں پڑھاتے بھی ہیں ۔ادھر فیکلٹی میں ہمارا اپارٹمنٹ ہے وہیں رہتے ہیں ہم۔کھبی آو نہ ادھر انجم ان دونوں سے ذیادہ پرجوش ہو گئی تھیں۔شیور،،انجم باجی ڈی جے ان کا مسلمان ہونا سن کر پھر سے پرجوش ہو گئی تھی وہ تینوں کافی دیر وہاں کھڑی باتیں کرتی رہی اور جب ڈی جے کو یاد آیا گورسل نکلنے میں پانچ منٹ ہیں تو انجم باجی کو جلدی سے خدا حافظ بول کر وہ اپنا کوٹ ہاتھوں میں پکڑے باہر بھاگی۔وہ ٹاقسم پارک میں سنگی بینچ پہ بیٹھی تھی اس نے اپنا لمبا سفید اونی کوٹ اب ذرد فراک پہ پہن لیا تھا اور سر جھکائے ہاتھ میں پکڑی شکن زدہ چٹ پر سے سبین پھپھو کا نمبر موبائل پہ ملا رہی تھی کال کا بٹن دبا کر اس نے وہ بھدا ترک فون کان سے لگایا۔وہاں دور تک سبزہ پھیلا تھا خوشنما پھول اور رنگوں،تتلیوں کی بہتات ہوا اسکے لمبے بال اڑا رہی تھی وہ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے فون پہ جاتی گھنٹی سننے لگی۔ہیلو بہت دیر بعد جہان نے فون اٹھایا۔جہان،،،،میں حیا ،،اس کے انداز میں خفت در آئی اس سے کہہ رہا تھا اسلئے آج جا رہی تھی ورنہ اس سرخ کوٹ نے تو اسے خوب بے وقعت کیا تھا ہاں حیا بولو؟وہ مصروف سا لگ رہا تھا وہ میں ٹاقسم پہ ہوں تم مجھے یہاں سے پک کر کے گھر لے جا سکتے ہو؟ آج ویک اینڈ تھا تو سوری حیا میں شہر سے باہر ہوں تم گھر ممی کو فون کر لونہ۔یہ تمھارے گھر کا نمبر ہو ہے؟اس نے حیرت سے چٹ کو دیکھا نہیں یہ تو میرا موبائل نمبر ہے۔تو کیا اس نے دوار بھائی کی مہندی والے روز جہان کے موبائل پہ فون ملا دیا تھا؟اوہ مجھے پھپھو کا نمبر لکھوا دو جہان نے فورا نمبر لکھوا دیا
جاری هے


ناول:جنت کے پتے تحریر: نمره احمد قسط نمبر 14


ناول:جنت کے پتے
تحریر: نمره احمد
قسط نمبر 14
مگراندرسےوه بھت خیال رکھنےوالابھی ھےاورباریک بین بھی ھے.جومعمولی باتیں وه نظرانداز کردیتی تھی.وه جھان کی زیرک نگاھوں سے چھپی نھیں رھتی تھی.
جب وه ھاسٹل واپس آئی تو ڈی جےاورھالےایک رساله کھولےکسی طویل بحث میں مگن تھیں.ڈی جےکی نگاه سب سےپھلے اس کے سرخ ھاتھ پر پڑی تھی. تمھیں کیاھواھے?ایک جگه گدلی برف کیساتھ کیچڑ تھی'وھیں پهسل گئی.پهربات بدلنےکی غرض سے بولی.ھالےیه بالکونی میں بتی کون جلاتا ھے.جیسےھی اسکےنیچےجاؤتووه جل اٹھتی ھے.
ھالےغورسےاسکےکوٹ کودیکھ رھی تھی.اسکےسوال پرنگاھیں اٹھاکراسےدیکھا. ان میں آٹومیٹک سینسرزلگےھیں'وه اپنی رو میں کسی انسان کی موجودگی پریاپهرتیزھوا'آندھی وغیره میں خودبخودجل اٹھتی ھیں.
اوردروازه بھت دیرسےبندھواخودبخود.
ان دروازوں کےکیچرزسلوھیں.یه چوکھٹ په آکردیرسےلگتےھیں.آھاں.....ڈی جےنےبھی سمجھکرسرھلایا. ھمارےھاں بھی ھاسٹلزمیں ایسےدروازےاورلائٹس.....
نھیں ھوتے...حیانےتیزی سے ڈی جے کی بات کاٹی. اور پاک ٹاورایشیاکادوسرابڑامال نھیں. ھمیں غلط فھمی ھوئی تھی. حیا ڈی جےنےاحتجاجا گھورا.ھالےابھی تک حیاکاکوٹ دیکھ رھی تھی.حیاالماری کی طرف چلی گئی تو ھالےنےگھری سانس لی.
پهر حیاتمھیں کسی ھینڈ سم لڑکےنےکافی پلائی. وه جو ٹوٹی جوتی والا شاپرالماری میں رکھ رھی تھی چونک کر پلٹی.
نھیں..کیوں?وه تیزی سےبولی. کافی'چائے'لنچ کچھ بھی نھیں?
نھیں...مگرکیوں?
تم عقلمندجوسرخ کوٹ پهن کرگئی تھی شھرکی سیرپه استنبول میں اتنازیاده سرخ رنگ پهن کراورھیوی میک اپ کرکےنکالاجاۓتواسکاایک ھی مطلب ھوتپا ھےکه......ھالےنےمسکراھٹ دبائی.پارکنگ فار اےڈیٹ.یا پهرون نائٹ اسٹینڈ.یهاں تولوگویلنٹائن پربھی سرخ پھن کر نھیں نکلتے.
اچھاپته نھیں..وه دانسته انکیطرف سے رخ موڑکرالماری میں سےچیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی.
یه دعوت کس خوشی میں ھے. تمھارےاس خوبصورت کوٹ کی خوشی میں.
مارے تضحیک کے اسکےکانوں سےدھواں نکلنےلگا. وه جھان کی مسکراھٹیں'وه شائستگی'وهریسٹورنٹ لے جانا.سب کسی اپنائیت کےجذبےکے تحت نھیں تھا'بلکه...بلکه وه اسےبکاؤمال سمجھ رھا تھا.خود کوپلیٹ میں رکھ کرپیش کرنے والی لڑکی.کوئی پیشه ور....
اسکےدل پےبھت سےآنسو گررھےتھے.جھان سکندر ھمیشه اسے اسی طرح بےعزت کردیاکرتاتھا.
آھسته آھسته وه جھان سکندر کےاستنبول میں ایڈجسٹ ھوتی جارھی تھی. ڈی جے کی نینداور نسیان البته اسے عاجز کردیتے تھے.ڈی جے کو کھیں ذرا ٹیک مل جاتی وه آنکھیں بند کرکے سونے کیلۓ تیارھوجاتی اور پهر اسکا بھلکڑ پن..حیا جب بھی کچھ فوٹو کروانے جاتی اسے وھاں لاوارث پڑے کسی رجسٹرکسی نوٹس کے جتھے کسی کتاب پےھمیشه شناسائی کاگمان گزرتا.وه اسےاٹھاکردیکھتی توبڑابڑا ڈی جےلکھاھوتاتھا.وه هر چیزواپس لاکرڈی جےکےسرپرماراکرتی تھی.اور ڈی جے یه ادھر کیسے پهنچ گیا ? کهه کرھنسنےلگ جاتی.
سبانجی میں انکاایک مخصوص آئی ڈی کارڈ بنا تھا. اس پےتصویرکھنچوانےکی شرط سراورگردن کھلی رکھنا تھی.وه موبائل کےپریپیڈکارڈکی طرح تھا.گورسل کاٹکٹ'فوٹوکاپئیرکی رقم اور دوپھر کے کھانےکابل اسی کارڈپےاداھوتاتھا. اسمیں موبائل کے ایزی لوڈکی طرح بیلنس ڈلوایا جاتا تھا.
انھیں ان پانچ ماه میں ھر مھینےایک ھزاریوروزکا اسکالرشپ ملناتھا.مگرچندتکنیکی مسائل کےباعث کسی بھی اسکالرشپ ایکسیچینج اسٹوڈنٹ کےفروری کےایک ھزاریوروزنھیں آۓتھے.امیدتھی کےمارچ میں اکٹھےدوھزارمل جائیں گے اورپهرآگے ھرمھینے باقاعدگی سے ملا کریں گے. تب تک پاکستان سے آئی رقم سےگزارا کرناتھا.سوآج کل سب ایکسیچینج اسٹوڈنٹ کاھاتھ تنگ تھا.دوپهرکاکھاناوه سبانجی کےڈائننگ ھال میں کھاتی تھیں. رات کاکھانااپنےکمرےمیں خودبناناھوتا. ھربلاک میں ایک کچن تھا.جھاں پراسٹوڈنٹ اپناناشته اور رات کاکھاناتیارکرتاتھا.مئسله یه تھاکه وھاں طلبه کےلئےخصوصی ڈیزائن کرده چولھے تھے.اس خطرےکےپیش نظر که کھیں کوئی پڑھائی میں مگن چولھے په کچھ رکھ کے بھول جائے یاگیس کھلی چھوڑ دےاورنقصان نه ھو' وه چولھےآٹومیٹک تھے. ھرپندره منٹ بعدجب چولھا خوب گرم ھوجاتاتو خودبخود بند ھوجاتا. پهر پانچ منٹ بعد دوباره جل اٹھتا. انکوبندھونےسےروکنےکاکوئی طریقه نه تھا.اورایسےبیکار چولھوں په دیسی کھاناپکاناناممکن تھا.ھاسٹل کےبلاکس کےقریب ھی ایک بھت بڑا لگژری سپراسٹور"دیاسا"تھا.
"دیا"اسکانام تھااور"سا"ترک میں اسٹورکوکھتے تھے.وه دونوں دیا اسٹور سےراشن لاتیں اور بل آدھا آدھاتقسیم کر لیتیں.ایک رات حیاکھانا بناتی اوروه بھت اچھاسا دیسی کھاناھوتا.دوسری رات ڈی جے کی باری ھوتی اور جو وه بناتی" وه کچھ بھی ھوتا تھا مگر کھانا نه ھوتا.
ڈی جے میں یه تمھارے سر پر الٹ دوں گی.وی جب بغیر بھنی ابلی ھوئی سبزی کا سالن دیکھتی یا پهر ابلے چاولوں په آملیٹ کے ٹکڑےتوڈی جے په خوب چلایا کرتی تھی..اورپهرترکی کےمصالحے.....وه اتنے پھیکےھوتےکه حیا چارچار چمچے بھر کے سرخ مرچ ڈالتے توبھی ذراساذائقه آتا.کھانے اسکے بھی پهیکے ھوتے مگر ڈی جے سے بھتر تھے. البته اپنے کمرے میں روز جب صبح ھوتی تو ڈی جے بینک کی سیڑھیاں پهلانگ کراترتی اور اسی طرح نھار منه کھڑکی میں کھڑی ھوجاتی.پھرپٹ کھول کر باھرچھره نکال کرزورسےآوازلگاتی..
گڈما آآ آ رننگ ڈی جے..اور جواب میں دور کسی بلاک سے ایک لڑکازور سے پکارتا. ٹی بے.. غالبا وه ڈی جےکےالفاظ ٹھیک سمجھ نھیں پاتا تھا. ڈی جے روز صبح صبح یھی عمل دوھراتی تھی. اسکے ٹی بے کھنے کے بعد وه پکارتی"ذا.......لیل"اور وه لڑکا جوابا چلاتا دا...دی. اسکے بعد حیاکمبل سے منه نکال کر کشن اٹھاتی اور ڈی جے کوزور سے دے مارتی. یوں اسکی اور اس ان دیکھے لڑکےکی گفتگواختتام پذیر ھوتی. گھر روز ھی بات ھوجاتی تھی. البته موبائل کی رجسٹریشن میں مئسله ھوا تھا. ڈی جے کاتو رجسٹر ھوگیا'مگر حیاکےساتھ ھوایون که اسکےپاسپورٹ پےجھاں انٹری کی تاریخ پانچ فروری لکھی تھی. وھاں اوپر آفیسر کے دستخط کے باعث پانچ کاھندسه بظاھر چھ لگ رھاتھا.تاریخ کاذرا سا فرق مشکل پیدا کرنے لگا اور اسکا فون رجسٹرنه هوسکا. وه ترک سم اس پےاستعمال نھیں کرسکتی تھی. کیونکه هفتے کے بعد غیر رجسٹر فون پے ترک سم بلاک ھوجاتی تھیتو ھالے نے اسے اپنا ایک پرانا موبائل سیٹ لا دیا. اور وه اس بدصورت موٹے بھدے فون کو برداشت کرنے پر مجبور ھوگئی. اپنے موبائل په اس نے اپنی پاکستانی سم لگا دی تھی.اور وه رومنگ پر ٹھیک چل رھاتھا..
*****
تمھارا کھاں کا پلان ھے. ? حیا نے چاولوں کی پلیٹ میں سے چمچه بھرتے ڈی جے سے پوچھا. یه پلاؤ اب اسکا اور ڈی جے کا مرغوب ترین کھانا بن چکا تھا. اور ساتھ ترک کوفتے اور پھلوں کا سلاد . وه دونوں آمنے سامنے ڈائننگ ھال میں بیٹھی جلدی جلدی کھانا کھا رھی تھی...
جاری هے


 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India