اُردو ناول آن لائن

Wednesday, 8 November 2017

پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 15


پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 15
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں اسجد سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تو شاپنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"امامہ نے مستحکم لہجے میں امی سے کہا۔سلمیٰ اسے اگلے روز اپنے ساتھ مارکٹ جانے کا کہنے کے لیے آئی تھیں۔
"پہلے تمہیں شادی پر اعتراض تھا ، اب تمہیں اسجد سے شادی پر اعتراض ہے ، آخر تُم چاہتی کیا ہو۔"سلمیٰ اس کی بات پر مشتعل ہو گئیں۔
"صرف یہ کہ آپ اسجد سے میری شادی نہ کریں۔"
"تو پھر کس سے کرنا چاہتی ہو تم۔"ہاشم مبین اچانک کھلے دروازے سے اندر آ گئے تھے۔یقیناً انہوں نے باہر کوریڈور میں امامہ اور سلمیٰ کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی اور وہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پائے تھے۔امامہ یک دم چپ ہو گئی۔
"بولو ، کس سے کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔اب منہ بند کیوں ہو گیا ہے ، آخر تم اسجد سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔کیا تکلیف ہے تمہیں۔"انہوں نے بلند آواز میں کہا۔
"بابا ! شادی ایک بار ہوتی ہے اور وہ میں اپنی پسند سے کروں گی۔"وہ ہمت کر کے بولی۔
"کل تک اسجد تمہاری پسند تھا۔"ہاشم مبین نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
"کل تھا ، اب نہیں ہے۔"
"کیوں ، اب کیوں نہیں ہے؟"امامہ کچھ کہے بغیر ان کا چہرہ دیکھنے لگی۔
"بولو ، اب کیوں پسند نہیں ہے وہ تمہیں۔"ہاشم مبین نے بلند آواز میں پوچھا۔
"بابا ! میں کسی مسلمان سے شادی کروں گی۔"ہاشم مبین کو لگا آسمان ان کے سر پر گر پڑا تھا۔
"کیا۔۔۔۔۔کہا تم نے۔۔۔۔۔؟"انہوں نے بےیقینی سے کہا۔
"میں کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کروں گی کیونکہ میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔"
کمرے میں اگلے کئی منٹ تک مکمل خاموشی رہی۔سلمیٰ کو جیسے سکتہ ہو گیا تھا اور ہاشم مبین۔۔۔۔۔وہ ایک پتھر کے مجسمے کی طرح اسے دیکھ رہے تھے۔ان کا منہ کھلا ہوا تھا وہ جیسے سانس لینا بھول گئے تھے۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی انہیں زندگی میں اپنی اولاد اور وہ بھی اپنی سب سے لاڈلی بیٹی کے سامنے اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کے چالیس سال مکمل طور پر بھنور کی زد میں آ گئے تھے۔
"تم کیا بکواس کر رہی ہو۔"ہاشم مبین کے اندر اشتعال کی ایک لہر اٹھی تھی۔
"بابا ! آپ جانتے ہیں میں کیا کہہ رہی ہوں۔آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔"
"تم پاگل ہو گئی ہو۔"انہوں نے آپے سے باہر ہوتے ہوئے کہا۔امامہ نے کچھ کہنے کی بجائے نفی میں گردن ہلائی۔وہ ہاشم مبین کی ذہنی کیفیت کو سمجھ سکتی تھی۔"اس لیے تمہیں پیدا کیا۔۔۔۔۔تمہاری پرورش کی کہ تم۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔۔"ہاشم مبین کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس سے کیا کہیں۔"صرف اسجد سے شادی نہ کرنے کے لیے تم یہ سب کر رہی ہو ، صرف اس لیے کہ تمہاری شادی اس آدمی سے کر دیں جس سے تم چاہتی ہو۔"
"نہیں ، ایسا نہیں ہے۔"
"ایسا ہی ہے۔۔۔۔۔تم بےوقوف سمجھتی ہو مجھے۔"ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔
"آپ میری شادی کسی بھی آدمی سے کریں ، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔بس وہ آپ کی کمیونٹی سے نہ ہو۔۔۔۔۔پھر آپ کم از کم یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ میں کسی خاص آدمی کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔"
ہاشم مبین اس کی بات پر دانت پیسنے لگے۔
"تم جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیداوار۔۔۔۔۔۔تمہیں پتا کیا ہے۔۔۔۔۔"
"میں سب جانتی ہوں بابا ! میری عمر بیس سال ہے ، میں آپ کی انگلی پکڑ کر چلنے والی بچی نہیں ہوں۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ کے اس مذہب کی وجہ سے ہمارے خاندان پر بڑی برکات نازل کی گئی ہیں۔"
وہ بڑے مستحکم اور ہموار انداز میں کہتی گئی۔"تم۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔بخشش نہیں ہو گی تمہاری۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔"
ہاشم مبین غصے کے عالم میں انگلی اٹھا کر بولنے لگے۔امامہ کو ان پر ترس آنے لگا۔اسے دوزخ میں کھڑے ہو کر دوزخ سے ڈرانے والے شخص پر ترس آیا ، اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر پھرنے والے شخص پر ترس آیا ، اسے مہر شدہ دل والے آدمی پر ترس آیا ، اسے نفس زدہ آدمی پر ترس آیا ، اسے گمراہی کی سب سے اوپر والی سیڑھی پر کھڑے آدمی پر ترس آیا۔
"تم گمراہی کے رستے پر چل پڑی ہو۔۔۔۔۔چند کتابیں پڑھ کر تم ۔۔۔۔۔۔"امامہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
"آپ اس بارے میں مجھ سے بحث نہیں کر سکیں گے ، میں سب کچھ جانتی ہوں ، تحقیق کر چکی ہوں ، تصدیق کر چکی ہوں۔آپ مجھے کیا بتائیں گے ، کیا سمجھائیں گے۔آپ نے اپنی مرضی کا راستہ چن لیا ہے ، میں نے اپنی مرضی کا راستہ چن لیا۔آپ وہ کر رہے ہیں جو آپ صحیح سمجھتے ہیں ،میں وہ کر رہی ہوں جو میں صحیح سمجھتی ہوں۔"آپ کا عقیدہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے۔میرا عقیدہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔کیا اب یہ بہتر نہیں ہے کہ آپ میرے اس فیصلے کو قبول کر لیں ، جذباتی حماقت کی بجائے بہت سوچ سمجھ کر اٹھایا جانے والا قدم سمجھ کر۔"
اس نے بڑی رسانیت اور سنجیدگی کے ساتھ کہا۔ہاشم مبین کی ناراضی میں اور اضافہ ہوا۔
"میں۔۔۔۔۔میں اپنی بیٹی کو مذہب بدلنے دوں تاکہ پوری کمیونٹی میرا بائیکاٹ کر دے۔۔۔۔۔میں فٹ پاتھ پر آ جاؤں۔۔۔۔۔نہیں امامہ ! یہ نہیں ہو سکتا۔تمہارا اگر دماغ بھی خراب ہو گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرا دماغ بھی خراب ہو جائے۔کوئی بھی مذہب اختیار کرو مگر تمہاری شادی میں اسجد سے ہی کروں گا ، تمہیں اسی کے گھر جانا ہو گا۔۔۔۔۔اس کے گھر چلی جاؤ اور پھر وہاں جا کر طے کرنا کہ تمہیں کیا کرنا ہے کیا نہیں۔ہو سکتا ہے تمہیں عقل آ جائے۔"
وہ غصے کے عالم میں کمرے سے نکل گئے۔
"مجھے پتا ہوتا کہ تمہاری وجہ سے ہمیں اتنی ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا تو میں پیدا ہوتے ہی تمہارا گلا دبا دیتی۔"ہاشم مبین کے جاتے ہی سلمیٰ نے کھڑے ہوتے ہوئے دانت پیس کر کہا۔"تم نے ہماری عزت خاک میں ملانے کا تہیہ کر لیا ہے۔"
امامہ کچھ کہنے کی بجائے خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔وہ کچھ دیر اسی طرح بولتی رہیں پھر کمرے سے چلی گئیں۔
انہیں اس کے کمرے سے گئے ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا جب دروازے پر دستک دے کر اسجد اندر داخل ہوا۔امامہ کو اس کے اس وقت وہاں آنے کی توقع نہیں تھی۔اسجد کے چہرے پر پریشانی بہت نمایاں تھی۔یقیناً اسے ہاشم مبین نے بلوایا تھا اور وہ اسے سب کچھ بتا چکے تھے۔
"یہ سب کیا ہو رہا ہے امامہ؟"اس نے اندر داخل ہوتے ہی کہا۔وہ اپنے بیڈ پر بیٹھی اسے دیکھتے رہی۔
"تم کیوں کر رہی ہو یہ سب کچھ۔"
"اسجد ! تمہیں اگر یہ بتا دیا گیا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں تو پھر یہ بھی بتا دیا گیا ہو گا کہ میں کیوں کر رہی ہوں۔"
"تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم کیا کر رہی ہو۔"وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
"مجھے اندازہ ہے۔"
"اس عمر میں انسان جذبات میں آ کر بہت سے غلط فیصلے کر لیتا ہے۔۔۔۔۔"
امامہ نے ترشی سے اس کی بات کاٹ دی۔"جذبات میں آ کر۔۔۔۔۔؟کوئی جذبات میں آ کر مذہب تبدیل کرتا ہے؟کبھی نہیں۔۔۔۔۔میں چار سال سے اسلام کے بارے میں پڑھ رہی ہوں ، چار سال کم نہیں ہوتے۔"
"تم لوگوں کی باتوں میں آ گئی ہو۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔"
"نہیں ، میں کسی کی باتوں میں نہیں آئی۔میں نے جس چیز کو غلط سمجھا اسے چھوڑ دیا اور بس۔"
وہ کچھ دیر بےچارگی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹکتےہوئے اس نے کہا۔
"ٹھیک ہے ان سب باتوں کو چھوڑو ، شادی پر کیوں اعتراض ہے تمہیں۔۔۔۔۔تمہارے عقائد میں جو تبدیلی آئی ہے وہ ایک طرف۔کم از کم شادی تو ہونے دو۔"
"میری اور تمہاری شادی جائز نہیں۔"
وہ اس کی بات پر ہکا بکا رہ گیا۔"کیا میں غیر مسلم ہوں؟"
"ہاں ، تم ہو۔۔۔۔۔"
"انکل ٹھیک کہہ رہے تھے کسی نے واقعی تمہارا برین واش کر دیا ہے۔"اس نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔
"پھر تم ایک ایسی لڑکی سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو۔بہتر ہے تم کسی اور سے شادی کرو۔"اس نے ترکی بہ ترکی کہا۔
"میں نہیں چاہتا کہ تم اپنی زندگی برباد کر لو۔"وہ اس کی بات پر عجیب سے انداز میں ہنسی۔
"زندگی برباد۔۔۔۔۔کون سی زندگی۔۔۔۔۔یہ زندگی جو میں تم جیسے لوگوں کے ساتھ گزار رہی ہوں۔جنہوں نے پیسے کے لیے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا۔۔۔۔۔"
"Behave yourselff ۔۔۔۔۔تم بات کرنے کے تمام مینرز بھول گئی ہو۔کس کے بارے میں کیا کہنا چاہئیے اور کیا نہیں ، تم نے سرے سے ہی فراموش کر دیا ہے۔"اسجد اسے ڈانٹنے لگا۔
"میں ایسے کسی شخص کا احترام نہیں کر سکتی جو لوگوں کو گمراہ کر رہا ہو۔"امامہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔
"جس عمر میں تم ہو۔۔۔۔۔اس عمر میں ہر کوئی اسی طرح کنفیوز ہو جاتا ہے جس طرح تم کنفیوز ہو رہی ہو۔جب تم اس عمر سے نکلو گی تو تمہیں احساس ہو گا کہ ہم لوگ صحیح تھے یا غلط۔"۔اسجد نے ایک بار اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
"اگر تم لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ میں غلط ہوں ، تب بھی تم لوگ مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔اس طرح مجھے گھر میں قید کر کے کیوں رکھا ہوا ہے اگر تم لوگوں کو اپنے مذہب کی صداقت پر اتنا یقین ہے تو مجھے اس گھر سے چلے جانے دو۔۔۔۔۔حقیقت کو جانچنے دو۔۔۔۔۔"
"اگر کوئی اپنا ، اپنے آپ کو نقصان پہنچانے پر تل جائے تو اسے اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا اور وہ بھی ایک لڑکی کو۔۔۔۔۔امامہ ! تم اس مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھو ، اپنی فیملی کا خیال کرو ، تمہاری وجہ سے سب کچھ داؤ پر لگ گیا ہے۔"
"میری وجہ سے کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔اور اگر کچھ داؤ پر لگا بھی ہے تو میں اس کی پرواہ کیوں کروں۔میں تم لوگوں کے لئے دوزخ میں کیوں جاؤں ، صرف خاندان کے نام کی خاطر اپنا ایمان کیوں گنواؤں۔نہیں اسجد ! میں تم لوگوں کے ساتھ گمراہی کے اس راستے پر نہیں چل سکتی۔مجھے وہ کرنے دو جو میں کرنا چاہتی ہوں۔"اس نے قطعی لہجے میں کہا۔
"مجھ سے اگر تم نے زبردستی شادی کر بھی لی تو بھی تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔میں تمہاری بیوی نہیں بنوں گی ، میں تم سے وفا نہیں کروں گی۔مجھے جب بھی موقع ملے گا ، میں بھاگ جاؤں گی۔تم آخر کتنے سال مجھے اس طرح قید کر کے رکھ سکو گے ، کتنے سال مجھ پر پہرے بٹھاؤ گے۔۔۔۔۔مجھے صرف چند لمحے چاہئیے ہوں گے تمہارے گھر ، تمہاری قید سے بھاگ جانے کے لیے ۔۔۔۔۔اور میں۔۔۔۔۔میں تمہارے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤں گی۔تم ساری عمر انہیں دوبارہ دیکھ نہیں سکو گے۔"
وہ اسے مستقبل کا نقشہ دکھا کر خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"اگر میں تمہاری جگہ پر ہوتی تو میں کبھی امامہ ہاشم جیسی لڑکی سے شادی نہ کروں۔۔۔۔۔یہ سراسر خسارے کا سودا ہو گا۔۔۔۔۔حماقت اور بےوقوفی کی انتہا ہو گی۔۔۔۔۔تم اب بھی سوچ لو۔۔۔۔۔اب بھی پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔۔۔تمہارے سامنے تمہاری ساری زندگی پڑی ہے۔۔۔۔۔تم کسی بھی لڑکی کے ساتھ شادی کر کے پُر سکون زندگی گزار سکتے ہو۔۔۔۔۔کسی پریشانی۔۔۔۔۔کسی بےسکونی کے بغیر مگر میرے ساتھ نہیں۔میں تمہارے لیے بدترین بیوی ثابت ہوں گی ، تم اس سارے معاملے سے الگ ہو جاؤ ، شادی سے انکار کر دو ، انکل اعظم سے کہہ دو کہ تم مجھ سے شادی کرنا نہیں چاہتے یا کچھ عرصے کے لیے گھر سے غائب ہو جاؤ۔جب تمام معاملہ ختم ہو جائے تو پھر آ جانا۔"
"تم مجھے اس طرح کے احمقانہ مشورے مت دو ، میں کسی بھی قیمت پر تم سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔کسی بھی قیمت پر۔نہ میں انکار کروں گا ، نہ اس معاملے سے الگ ہوں گا ، نہ ہی گھر سے کہیں جاؤں گا ۔۔۔۔۔میں تم سے ہی شادی کروں گا امامہ ! اب یہ ہمارے خاندان کی عزت اور ساکھ کا معاملہ ہے۔یہ شادی نہ ہونے اور تمہارے گھر سے چلے جانے سے ہمارے پورے خاندان کو جتنا نقصان اٹھانا پڑے گا اس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں ورنہ تم مجھے کبھی یہ مشورہ نہ دیتیں۔جہاں تک بُری بیوی ثابت ہونے یا گھر سے بھاگ جانے کا تعلق ہے۔۔۔۔۔تو یہ سب بعد کا مسئلہ ہے۔میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ، تم اس طرح کے ٹمپرامنٹ کی مالک نہیں ہو کہ دوسروں کو بےجا پریشان کرتی رہو۔۔۔۔۔اور وہ بھی مجھے ، جس سے تمہیں محبت ہے۔"اسجد بڑے اطمینان سے کہہ رہا تھا۔
"تمہیں غلط فہمی ہے ، مجھے کبھی بھی تم سے محبت نہیں رہی۔۔۔۔۔کبھی بھی۔۔۔۔۔میں ذہنی طور پر تمہارے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے کو اس وقت سے ذہن سے نکال چکی ہوں جب میں نے اپنا مذہب چھوڑا تھا۔تم میری زندگی میں اب کہیں نہیں ہو ، کہیں بھی نہیں۔۔۔۔۔اگر میں اپنے گھر والوں کے لئے مسائل کھڑے کر سکتی ہوں تو کل تمہارے لیے کتنے مسائل کھڑے کروں گی تمہیں اس کا احساس ہونا چاہئیے اور اس غلط فہمی سے باہر نکل آنا چاہئیے۔۔۔۔۔ہم دونوں کبھی بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔میں تم لوگوں کے خاندان کا حصہ کبھی نہیں بنوں گی۔
نہیں اسجد ! تمہارے اور میرے درمیان بہت فاصلہ ہے ، اتنا فاصلہ کہ میں تمہیں دیکھ تک نہیں سکتی اور میں اس فاصلے کو کبھی ختم نہیں ہونے دوں گی۔میں کبھی بھی تم سے شادی کے لئے تیار نہیں ہوں گی۔"
اسجد بدلتی ہوئی رنگت کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی رہا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"کیا تم میرا ایک کام کر سکتے ہو؟"
"تمہارا کیا خیال ہے اب تک میں اس کے علاوہ کیا کر رہا ہوں۔"سالار نے پوچھا۔
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی ، پھر اس نے کہا۔"کیا تم لاہور جا کر جلال سے مل سکتے ہو۔"سالار نے ایک لمحہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کیں۔
"کس لئے۔"اسے امامہ کی آواز بہت بھاری لگ رہی تھی۔یوں جیسے اسے فلو تھا پھر اچانک اس کو خیال آیا کہ وہ یقیناً روتی رہی ہو گی۔یہ اسی کا اثر تھا۔
"تم میری طرف سے اس سے ریکویسٹ کرو کہ وہ مجھ سے شادی کر لے۔۔۔۔۔ہمیشہ کے لیے نہیں تو کچھ دنوں کے لیے ہی۔۔۔۔۔میں اس گھر سے نکلنا چاہتی ہوں اور میں کسی کی مدد کے بغیر یہاں سے نہیں نکل سکتی۔۔۔۔۔بس وہ مجھ سے نکاح کر لے۔"
"تمہارا تو اس سے فون پر رابطہ ہے تو پھر تم یہ سب خود اس سے فون پر کیوں نہیں کہہ دیتیں۔"سالار نے چپس کھاتے ہوئے بڑے اطمینان سے اسے مشورہ دیا۔
"میں کہہ چکی ہوں۔"اسے امامہ کی آواز پہلے سے زیادہ بھرائی ہوئی لگی۔
"پھر؟"
"اس نے انکار کر دیا ہے۔"
"ویری سیڈ۔"سالار نے افسوس کا اظہار کیا۔
"تو یہ ون سائیڈڈ لو افئیر تھا۔"اس نے کچھ تجسس کے عالم میں پوچھا۔
"نہیں۔"
"تو پھر اس نے انکار کیوں کر دیا؟"
"تم یہ جان کر کیا کرو گے۔"وہ کچھ چڑ کر بولی۔سالار نے ایک اور چپس اپنے منہ میں ڈالا۔
"میرے وہاں جا کر اس سے بات کرنے سے کیا ہو گا ، بہتر ہے تم ہی دوبارہ اس سے بات کر لو۔"
"وہ مجھ سے بات نہیں کر رہا ، وہ فون نہیں اٹھاتا۔ہاسپٹل میں بھی کوئی اسے فون پر نہیں بلا رہا۔وہ جان بوجھ کر کترا رہا ہے۔"امامہ نے کہا۔
"تو پھر تم اس کے پیچھے کیوں پڑی ہو ، جانے دو اسے۔وہ تم سے محبت نہیں کرتا۔"
"تم یہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتے ، تم صرف میری مدد کرو ، ایک بار جا کر اسے میری صورت حال کے بارے میں بتاؤ ، وہ مجھ سے اس طرح نہیں کر سکتا۔"
"اور اگر اس نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا تو۔"
"پھر بھی تم اس سے بات کرنا ، شاید۔۔۔۔۔شاید کوئی صورت نکل آئے ، میرا مسئلہ حل ہو جائے۔"
سالار کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی ، اسے امامہ کے حال پر ہنسی آ رہی تھی۔
فون بند کرنے کے بعد چپس کھاتے ہوئے بھی وہ اس سارے معاملے کے بارے میں سوچتا رہا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اس سارے معاملے میں زیادہ سے زیادہ انوالو ہوتا جا رہا تھا۔یہ اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا ایڈونچر محسوس ہو رہا تھا۔پہلے امامہ تک فون پہنچانا اور اب جلال سے رابطہ۔۔۔۔۔امامہ کا بوائے فرینڈ ۔۔۔۔۔اس نے چپس کھاتے ہوئے زیرِ لب دُہرایا۔امامہ نے اسے اس کے ہاسپٹل اور گھر کے تمام کوائف سے آگاہ کر دیا تھا اور اب وہ سوچ رہا تھا کہ اسے جلال انصر سے مل کر کیا کہنا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سالار نے اس شخص کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور وہ خاصا مایوس ہوا۔سامنے کھڑا لڑکا بڑی عام سی شکل و صورت کا تھا۔سالار کے لمبے قد اور خوبصورت جسم نے اسے صنفِ مخالف کے لئے کسی حد تک پرکشش بنا دیا تھا مگر سامنے کھڑا ہوا وہ شخص ان دونوں چیزوں سے محروم تھا۔وہ نارمل قد و قامت کا مالک تھا۔اس کے چہرے پر داڑھی نہ ہوتی تو وہ پھر بھی قدرے بہتر نظر آتا۔سالار سکندر کو جلال انصر سے مل کر مایوسی ہوئی تھی۔امامہ اب اسے پہلے سے زیادہ بےوقوف لگی۔
"میں جلال انصر ہوں ، آپ ملنا چاہتے ہیں مجھ سے؟"
"میرا نام سالار سکندر ہے۔"سالار نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
"معاف کیجئیے گا مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔"
"ظاہر ہے آپ پہچان بھی کیسے سکتے ہیں۔میں پہلی بار آپ سے مل رہا ہوں۔"
سالار اس وقت جلال کے ہاسپٹل میں اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا۔چند لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کرنے پر وہ اس کے پاس پہنچ گیا تھا۔اس وقت وہ ڈیوٹی روم کے باہر کھڑے تھے۔
"کہیں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟"جلال اب کچھ حیران نظر آیا۔
"بیٹھ کر بات۔۔۔۔۔مگر کس سلسلے میں۔"
"امامہ کے سلسلے میں۔"
جلال کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔"آپ کون ہیں؟"
"میں اس کا دوست ہوں۔"جلال کے چہرے کا رنگ ایک بار پھر بدل گیا۔وہ چپ چاپ ایک طرف چلنے لگا۔سالار اس کے ساتھ تھا۔
"پارکنگ میں میری گاڑی کھڑی ہے ، وہاں چلتے ہیں۔"سالار نے کہا۔
گاڑی تک پہنچنے اور اس کے اندر بیٹھنے تک دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔
"میں اسلام آباد سے آیا ہوں۔"سالار نے کہنا شروع کیا۔
"امامہ چاہتی تھی کہ میں آپ سے بات کروں۔"
"امامہ نے کبھی مجھ سے آپ کا ذکر نہیں کیا۔"جلال نے کچھ عجیب سے انداز میں کہا۔
"آپ امامہ کو کب سے جانتے ہیں؟"
"تقریباً بچپن سے۔۔۔۔۔ہم دونوں کے گھر ساتھ ساتھ ہیں۔بڑی گہری دوستی ہے ہماری۔"
سالار نہیں جانتا اس نے آخری جملہ کیوں کہا۔شاید یہ جلال کے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ تھے جن سے وہ کچھ اور محفوظ ہونا چاہتا تھا۔وہ جلال کے چہرے پر نمودار ہونے والی ناپسندیدگی دیکھ چکا تھا۔
"امامہ سے میری بہت تفصیلی بات ہو چکی ہے ، اتنی تفصیلی بات کے بعد اور کیا بات ہو سکتی ہے۔"جلال نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
"امامہ چاہتی ہے کہ آپ اس سے شادی کر لیں۔"سالار نے جیسے نیوز بلیٹن پڑھتے ہوئے کہا۔
"میں اپنا جواب اسے بتا چکا ہوں۔"
"وہ چاہتی ہے آپ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔"
"یہ ممکن نہیں ہے۔"
"وہ اس گھر میں اپنے والدین اور گھر والوں کی قید میں ہے۔وہ چاہتی ہے آپ اگر ہمیشہ کے لیے نہیں تو وقتی طور پر اس سے نکاح کریں اور پھر بیلف کی مدد سے اسے چھڑا لیں۔"
"یہ ممکن ہی نہیں ہے ، وہ ان کی قید میں ہے تو نکاح ہو ہی کیسے سکتا ہے۔"
"فون پر۔"
"نہیں ، میں اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتا۔میں ایسے معاملات میں انوالو ہونا ہی نہیں چاہتا۔"جلال نے کہا۔"میرے والدین مجھے اس شادی کی اجازت نہیں دیں گے اور پھر وہ امامہ کو قبول کرنے پر تیار بھی نہیں ہیں۔"
جلال کی نظریں اب سالار کے بالوں کی پونی پر جمی ہوئی تھیں ، یقیناً سالار کی طرح اس نے بھی اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہو گا۔
"اس نے کہا کہ آپ وقتی طور پر اس سے صرف نکاح کر لیں تاکہ وہ اپنے گھر سے نکل سکے ، بعد میں آپ چاہیں تو اسے طلاق دے دیں۔"
"میں نے کہا نا میں اس کی مدد نہیں کر سکتا اور پھر اس طرح کے معاملات ۔۔۔۔۔آپ خود اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے۔۔۔۔۔اگر وقتی شادی کی بات ہے تو آپ کر لیں۔آخر آپ اس کے دوست ہیں۔"
جلال نے کچھ چھبتے ہوئے انداز میں سالار سے کہا۔"آپ اسلام آباد سے لاہور اس کی مدد کے لیے آ سکتے ہیں تو پھر یہ کام بھی کر سکتے ہیں۔"
"اس نے مجھ سے شادی کا نہیں کہا ، اس لئے میں نے اس بارے میں نہیں سوچا۔"سالار نے کندھے جھٹکتے ہوئے بےتاثر لہجے میں کہا۔"ویسے بھی وہ آپ سے محبت کرتی ہے ، مجھ سے نہیں۔"
"مگر عارضی شادی یا نکاح میں تو محبت کا ہونا ضروری نہیں۔بعد میں آپ بھی اسے طلاق دے دیں۔"جلال نے مسئلے کا حل نکال لیا تھا۔
"آپ کا مشورہ میں اسے پہنچا دوں گا۔"سالار نے سنجیدگی سے کہا۔
"اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر امامہ سے کہیں کہ وہ کوئی اور طریقہ اپنائے۔۔۔۔۔بلکہ آپ کسی نیوز پیپر کے آفس چلے جائیں اور انہیں امامہ کے بارے میں بتائیں کہ کس طرح اس کے خاندان نے اسے زبردستی قید کر رکھا ہے۔جب میڈیا اس معاملے کو ہائی لائٹ کرے گا تو خود ہی وہ امامہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے یا پھر آپ پولیس کو اس معاملے کی اطلاع دیں۔"
سالار کو حیرانی ہوئی۔جلال کی تجویز بری نہیں تھی۔واقعی امامہ اس بارے میں کیوں نہیں سوچ رہی تھی۔یہ راستہ زیادہ محفوظ تھا۔
"میں آپ کا یہ مشورہ بھی اسے پہنچا دوں گا۔"
"آپ دوبارہ میرے پاس نہ آئیں بلکہ امامہ سے بھی یہ کہہ دیں کہ وہ مجھ سے کسی بھی طریقے یا ذریعے سے دوبارہ رابطہ نہ کرے۔میرے والدین ویسے بھی میری منگنی کرنے والے ہیں۔"جلال نے جیسے انکشاف کیا۔
""ٹھیک ہے ، میں یہ ساری باتیں اس تک پہنچا دوں گا۔"سالار نے لاپرواہی سے کہا۔جلال مزید کچھ کہے بغیر گاڑی سے اُتر گیا۔
اگر امامہ کو یہ توقع تھی کہ سالار جلال کو اس سے شادی کرنے کے لیے قائل کرے گا تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول تھی۔وہ امامہ سے کوئی ہمدردی رکھتا تھا نہ ہی کسی خوفِ خدا کے تحت اس سارے معاملے میں کودا تھا۔۔۔۔۔اس کے لئے یہ سب کچھ ایک ایڈونچر تھا اور ایڈونچر میں یقیناً جلال سے امامہ کی شادی شامل نہیں تھی۔اگر جلال سے اس کی شادی کے لئے دلائل دینے بھی پڑتے تو وہ کیا دیتا۔اس کے پاس صرف ایک دلیل کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں تھی کہ جلال اور امامہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور یہ وہ دلیل تھی جسے جلال پہلے ہی رد کر چکا تھا۔وہ مذہبی یا اخلاقی حوالوں سے قائل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ خود ان دونوں چیزوں سے نا بلد تھا۔مذہب اور اخلاقیات سے اس کا دور دور سے بھی کوئی واسطہ نہیں تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ آخر وہ امامہ کے لیے ایک دوسرے آدمی سے اتنی لمبی بحث کرتا کیوں۔وہ بھی ایسا آدمی جسے دیکھتے ہی اس نے ناپسند کر دیا تھا۔
اور یہ تمام وہ باتیں تھیں جو وہ اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے سوچ رہا تھا۔وہ آیا اس لیے تھا کیونکہ وہ جلال سے ملنا چاہتا تھا اور دیکھنا چاہتا تھا کہ امامہ کے پیغام پر اس کا ردِ عمل کیا رہتا تھا۔اس نے امامہ کا پیغام اسی کے لفظوں میں کسی اضافے یا ترمیم کے بغیر پہنچا دیا تھا اور اب وہ جلال کا جواب لے کر واپس جا رہا تھا اور خاصا محفوظ ہو رہا تھا۔آخر اس پیغام کے جواب میں وہ کیا کرے گی ، کہے گی۔اسجد سے شادی تو وہ نہیں کرے گی ، جلال اس سے شادی کرنے پر تیار نہیں ، گھر سے وہ نکل نہیں سکتی ، کوئی اور ایسا آدمی نہیں جو اس کی مدد کے لیے آ سکے پھر آخر وہ آگے کیا کرے گی۔عام طور پر لڑکیاں ان حالات میں خودکشی کرتی ہیں۔اوہ یس۔۔۔۔۔وہ یقیناً اب مجھ سے زہر یا ریوالور پہنچانے کی خواہش کرے گی۔
سالار متوقع صورت حال کے بارے میں سوچ کر پُر جوش ہو رہا تھا۔"خودکشی۔۔۔۔۔ویری ایکسائیٹنگ۔
"آخر اس کے علاوہ وہ اور کر بھی کیا سکتی ہے۔٭
"تم مجھ سے شادی کرو گے؟" سالار کو جیسے شاک لگا۔"فون پر نکاح؟" وہ کچھ دیر کے لئے بول نہیں سکا۔
لاہور سے واپس آنے کے بعد اس نے امامہ کو جلال کا جواب بالکل اسی طرح سے پہنچا دیا تھا۔ اس کا اندازہ تھا کہ وہ اب رونا دھونا شروع کرے گی اور پھر اس سے کسی ہتھیار کی فرمائش کرے گی، مگر وہ کچھ دیر کے لئے خاموش رہی پھر اس نے سالار سے جو کہا تھا اس نے چند ثانیوں کے لئے سالار کے ہوش گم کر دئیے تھے۔
"مجھے صرف کچھ دیر کے لئے تمہارا ساتھ چاہئیے۔ تاکہ میرے والدین اسجد کے ساتھ میری شادی نہ کر سکیں اور پھر تم بیلف کے ذریعے مجھے یہاں سے نکال لو۔ اس کے بعد مجھے تمہاری ضرورت نہیں رہے گی اور میں کبھی بھی اپنے والدین کو تمہارا نام نہیں بتاؤں گی۔" وہ اب کہہ رہی تھی۔
"اوکے کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔ مگر یہ بیلف والا کام تھوڑا مشکل ہے۔ اس میں بہت سی legalitiess انوالو ہو جاتی ہیں۔ وکیل کو ہائر کرنا۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔"امامہ نے دوسری طرف سے اس کی بات کاٹ دی۔"تم اپنے فرینڈز سے اس سلسلے میں مدد لے سکتے ہو۔ تمہارے فرینڈز تو اس طرح کے کاموں میں ماہر ہوں گے۔"
سالار کے ماتھے پر کچھ بل نمودار ہوئے۔"کس طرح کے کاموں میں۔"
"اسی طرح کے کاموں میں۔"تم کیسے جانتی ہو۔"
"وسیم نے مجھے بتایا تھا کہ تمہاری کمپنی اچھی نہیں ہے۔"
امامہ کے منہ سے بے اختیار نکلا اور پھر وہ خاموش ہو گئی۔ یہ جملہ مناسب نہیں تھا۔
"میری کمپنی بہت اچھی ہے، کم از کم جلال انصر کی کمپنی سے بہتر ہے۔" سالار نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ اس بار بھی خاموش رہی۔
"بہرحال میں دیکھتا ہوں، میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں۔"سالار کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد بولا۔" مگر تمہیں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئیے کہ یہ کام بہت رسکی ہے۔"
"میں جانتی ہوں مگر ہو سکتا ہے میرے والدین صرف یہ پتا چلنے پر ہی مجھے گھر سے نکال دیں کہ میں شادی کر چکی ہوں اور مجھے بیلف کی مدد لینی نہ پڑے یا ہو سکتا ہے وہ میری شادی کو قبول کر لیں اور پھر میں تم سے طلاق لے کر جلال سے شادی کر سکوں۔"
سالار نے سر کو قدرے افسوس کے عالم میں جھٹکا۔ اس نے دنیا میں اس طرح کا احمق پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ وہ احمقوں کی جنت کی ملکہ تھی یا شاید ہونے والی تھی۔
"چلو دیکھتا ہوں، کیا ہوتا ہے۔" سالار نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔
٭
"میں ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔" حسن نے سالار کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر بےاختیار ہنسا۔
"یہ اس سال کا نیا ایڈونچر ہے یا آخری ایڈونچر؟"
"آخری ایڈونچر۔"سالار نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ تبصرہ کیا۔"یعنی تم شادی کر رہے ہو۔"
حسن نے برگر کھاتے ہوئے کہا۔
"شادی کا کون کہہ رہا ہے۔" سالار نے اسے دیکھا۔
"تو پھر؟"
"میں ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہ رہا ہوں۔ اس کو مدد کی ضرورت ہے، میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔" حسن اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
"آج تم مذاق کے موڈ میں ہو؟"
"نہیں، بالکل بھی نہیں۔ میں نے تمہیں یہاں مذاق کرنے کے لئے تو نہیں بلایا۔"
"پھر کیا فضول باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔ نکاح۔۔۔۔۔ لڑکی کی مدد۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔" اس بار حسن نے قدرے ناگواری سے کہا۔" محبت ہو گئی ہے تمہیں اس سے؟"
"مائی فٹ۔۔۔۔۔ میرا دماغ خراب ہے کہ میں کسی سے محبت کروں گا اور وہ بھی اس عمر میں۔" سالار نے تحقیر آمیز انداز میں کہا۔
"یہی تو۔۔۔۔۔ میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ پھر تم کیا کر رہے ہو۔"
سالار نے اس بار اسے تفصیل سے امامہ اور اس کے مسئلے کے بارے میں بتایا۔ اس نے احسن کو صرف یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ لڑکی وسیم کی بہن ہے کیونکہ حسن وسیم سے بہت اچھی طرح واقف تھا لیکن اس سے تفصیلات سننے کے بعد حسن نے پہلا سوال ہی یہ کیا تھا۔
"وہ لڑکی کون ہے؟" سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
"وسیم کی بہن۔"
"واٹ۔" حسن بے اختیار اچھلا۔"وسیم کی بہن۔۔۔۔۔ وہ جو میڈیکل کالج میں پڑھتی ہے۔"
"ہاں۔"
"تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ، تم کیوں خوامخواہ اس طرح کی حماقت کر رہے ہو۔وسیم کو بتا دو اس سارے معاملے کے بارے میں۔"
"میں تم سے مدد مانگنے آیا ہوں ، مشورہ مانگنے نہیں۔"سالار نے ناگواری سے کہا۔
"میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں۔"حسن نے کچھ اُلجھے ہوئے انداز میں کہا۔
"تم نکاح خواں اور کچھ گواہوں کا انتظام کرو ، تاکہ میں اس سے فون پر نکاح کر سکوں۔"سالار نے فوراً ہی کام کی بات کی۔
"مگر تمہیں یہ نکاح کر کے کیا فائدہ ہو گا۔"
"کچھ بھی نہیں ، مگر میں کسی فائدے کے بارے میں سوچ بھی کب رہا ہوں۔"
"دفع کرو سالار ! اس سب کو۔۔۔۔۔تم کیوں کسی دوسرے کے معاملے میں کود رہے ہو اور وہ بھی وسیم کی بہن کے معاملے میں۔۔۔۔۔بہتر۔۔۔۔۔"
سالار نے اس بار درشتی سے اس کی بات کاٹی۔"تم مجھے صرف یہ بتاؤ میری مدد کرو گے یا نہیں۔۔۔۔۔باقی چیزوں کے بارے میں پریشان ہونا تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔"
"ٹھیک ہے ، میں تمہاری مدد کروں گا۔میں مدد کرنے سے انکار نہیں کر رہا ہوں ، مگر تم یہ سوچ لو کہ یہ سب بہت خطرناک ہے۔"حسن نے ہتھیار ڈالنے والے انداز میں کہا۔
"میں سوچ چکا ہوں ، تم مجھے تفصیلات بتاؤ۔"سالار نے اس بار فرنچ فرائز کھاتے ہوئے کچھ مطمئن انداز میں کہا۔
"بس ایک بات۔۔۔۔۔اگر انکل اور آنٹی کو پتا چل گیا تو کیا ہو گا۔"
"انہیں پتا نہیں چلے گا ، وہ یہاں نہیں ہیں ، کراچی گئے ہوئے ہیں اور ابھی کچھ دن وہاں رکیں گے۔وہ یہاں ہوتے پھر میرے لیے یہ سب کچھ کرنا بہت مشکل ہوتا۔"سالار نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔وہ اپنا برگر تقریباً ختم کر چکا تھا۔حسن اب اپنا برگر کھاتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا نظر آ رہا تھا مگر سالار اس کے تاثرات کی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ حسن اس وقت اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں مصروف ہے۔اسے حسن سے کسی قسم کا خوف یا خطرہ نہیں تھا۔وہ اس کا بہترین
جاری ہے


پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 14


پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 14
__________________
امامہ اپنے کمرے میں آ کر بھی اسی طرح بیٹھی رہی، اسے اپنے پیٹ میں گرہیں پڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ صرف چند گھنٹوں میں سب کچھ بدل گیا تھا۔ وہ پوری رات سو نہیں سکی۔ صبح وہ ناشتے کے لئے باہر آئی۔ اس کی بھوک یک دم جیسے غائب ہو گئی تھی۔
دس ساڑھے دس بجے کے قریب اس نے پورچ میں کچھ گاڑیوں کے سٹارٹ ہونے اور جانے کی آوازیں سنیں۔ وہ جانتی تھی اس وقت ہاشم مبین اور اس کے بڑے بھائی آفس چلے جاتے تھے اور اسے ان کے آفس جانے کا انتظار تھا۔ ان کے جانے کے آدھ گھنٹہ بعد وہ اپنے کمرے سے باہر آئی۔ لاؤنج میں اس کی امی اور بھابھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ خاموشی سے فون کے پاس چلی گئی۔ اس نے فون کا ریسیور اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسے اپنی امی کی آواز سنائی دی۔
"تمہارے بابا کہہ کر گئے ہیں کہ تم کہیں فون نہیں کرو گی۔" اس نے گردن موڑ کر اپنی امی کو دیکھا۔
"میں اسجد کو فون کر رہی ہوں۔"
"کس لئے؟"
"میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔"
"وہی فضول باتیں جو تم رات کو کر رہی تھیں۔" سلمیٰ نے تیز لہجے میں کہا۔
"میں آپ کے سامنے بات کر رہی ہوں، آپ مجھے بات کرنے دیں۔۔۔۔۔ اگر میں نے کوئی غلط بات کی تو آپ فون بند کر سکتی ہیں۔" اس نے پرسکون انداز میں کہا اور شاید یہ اس کا انداز ہی تھا جس نے سلمیٰ کو کچھ مطمئن کر دیا۔
امامہ نے نمبر ڈائل کیا مگر وہ ا سجد کو فون نہیں کر رہی تھی۔ چند بار بیل بجنے کے بعد دوسری طرف فون اٹھا لیا گیا۔ فون اٹھانے والا جلال ہی تھا۔ خوشی کی ایک لہر امامہ کے اندر سے گزر گئی۔
"ہیلو! میں امامہ بول رہی ہوں۔" اس نے جلال کا نام لیے بغیر اعتماد سے کہا۔
"تم بتائے بغیر اسلام آباد کیوں چلی گئیں میں کل تم سے ملنے ہاسٹل گیا تھا۔" جلال نے کہا۔
"میں اسلام آباد آئی ہوں اسجد!" امامہ نے کہا۔
"اسجد!" دوسری طرف سے جلال کی آواز آئی۔" تم کس سے کہہ رہی ہو؟"
"مجھے بابا نے رات ہی بتایا کہ میری شادی کی تاریخ طے ہو گئی ہے۔"
"امامہ؟" جلال کو جیسے ایک کرنٹ لگا۔"شادی کی تاریخ۔" امامہ اس کی بات سنے بغیر اسی پرسکون انداز میں بولتی رہی۔" میں جاننا چاہتی ہوں کہ تم نے اپنے پیرنٹس سے بات کی ہے؟"
"امامہ! میں ابھی بات نہیں کر سکا۔"
"تو پھر تم بات کرو، میں تمہارے علاوہ کسی دوسرے سے شادی نہیں کر سکتی، یہ تم جانتے ہو۔۔۔۔۔ مگر میں اس طرح کی شادی نہیں کروں گی۔ تم اپنے پیرنٹس سے بات کرو اور پھر مجھے بتاؤ کہ وہ کیا کہتے ہیں۔"
"امامہ! کیا تمہارے پاس کوئی ہے۔" جلال کے ذہن میں اچانک ایک جھماکا ہوا۔
"ہاں۔"
"اس لئے تم مجھے اسجد کہہ رہی ہو؟"
"ہاں۔"
"میں اپنے پیرنٹس سے بات کرتا ہوں، تم مجھے دوبارہ رنگ کب کرو گی؟"
"تم مجھے بتا دو کہ میں تمہیں کب رنگ کروں؟"
"کل فون کر لو، تمہاری شادی کی تاریخ کب طے کی گئی ہے۔" جلال کی آواز میں پریشانی تھی۔
"یہ مجھے نہیں پتا۔"امامہ نے کہا۔
"ٹھیک ہے امامہ! میں آج ہی ا پنے پیرنٹس سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔ اور تم پریشان مت ہونا۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔" اس نےا مامہ کو تسلی دیتے ہوئے فون بند کر دیا۔
امامہ نے شکر ادا کیا کہ اس کی بھابھی یا امی کو یہ شک نہیں ہو سکا کہ وہ اسجد سے نہیں کسی اور سے بات کر رہی تھی۔
"یہ شادی تمہارے بابا اور اعظم بھائی نے مل کر طے کی ہے۔ تمہارے یا اسجد کے کہنے پر وہ اسے ملتوی نہیں کریں گے۔" سلمیٰ نے اس بار قدرے نرم لہجے میں کہا۔
"امی! میں مارکیٹ تک جا رہی ہوں، مجھے کچھ ضروری چیزیں لینی ہیں۔" امامہ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے کہا۔
"فون کی بات دوسری ہے مگر میں تمہیں گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں سے سکتی۔ تمہارے بابا نہ صرف مجھے بلکہ چوکیدار کو بھی ہدایت کر گئے ہیں کہ تمہیں باہر جانے نہ دیں۔"
"آمی! آپ لوگ میرے ساتھ آخر اس طرح کیوں کر رہےہیں؟" امامہ نے کچھ بے بسی کے عالم میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔" میں نے آپ کو اپنی شادی سے تو منع نہیں کیا۔ میری ہاؤس جاب تک انتظار کر لیں، اس کے بعد میری شادی کر دیں۔"
"میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ تم شادی سے انکار کیوں کر رہی ہو، تمہاری شادی جلد ہو رہی ہے مگر تمہاری مرضی کے خلاف تو نہیں ہو رہی۔" اس بار اس کی بھابھی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
"خواہ مخواہ کل رات سے پورا گھر ٹینشن کا شکا ر ہے اور میں تو تمہیں دیکھ کر حیران ہوں تم تو کبھی بھی اس طرح ضد نہیں کرتی تھیں پھر اب کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔۔۔ جب سے تم لاہور گئی ہو بہت عجیب ہو گئی ہو۔"
"اور ہمارے چاہنے سے ویسے بھی کچھ نہیں ہو گا۔ میں نے تمہیں بتایا ہے، تمہارے بابا نے طے کیا ہے یہ سب کچھ۔"
"آپ انہیں سمجھا تو سکتی تھیں۔" امامہ نے سلمیٰ کی بات پرا حتجاج کیا۔
"کس بات پر؟" سمجھاتی تو تب اگر مجھے کوئی بات قابلِ اعتراض لگتی اور مجھے کوئی بات قابلِ اعتراض نہیں لگی۔" سلمیٰ نے بڑے آرام سے کہا۔ امامہ غصہ کے عالم میں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سالار صبح خلاف معمول دیر سے اٹھا۔ گھڑی دیکھتے ہوئے اس نے کالج نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ سکندر اور طیبہ کراچی گئے ہوئے تھے اور وہ گھر پر اکیلا ہی تھا، ملازم جس وقت ناشتہ لے کر آیا وہ ٹی وی آن کئے بیٹھا تھا۔
"ذرا ناصرہ کو اندر بھیجنا۔" اسے ملازم کو دیکھ کر کچھ یاد آیا۔ اس کے جانے کے چند منٹ بعد ناصرہ اندر داخل ہوئی۔
"جی صاحب! آپ نے بلایا ہے؟" ادھیڑ عمر ملازمہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
"ہاں، میں نے بلایا ہے۔۔۔۔ تم سے ایک کام کروانا ہے۔" سالار نے ٹی وی کا چینل بدلتے ہوئے کہا۔
"ناصرہ! تمہاری بیٹی وسیم کے گھر کام کرتی ہے نا؟" سالار اب ریموٹ رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
"ہاشم صاحب کے گھر؟" ناصرہ نے کہا۔
"ہاں، ان ہی کے گھر۔"
"ہاں جی کرتی ہے۔" وہ کچھ حیران ہو کر اس کا منہ دیکھنے لگی۔
"کس وقت جاتی ہے وہ ان کے گھر؟"
"اس وقت ان کے گھر پر ہی ہے۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔ سالار صاحب؟" ناصرہ اب کچھ پریشان نظر آنے لگی۔
"کچھ نہیں۔۔۔۔۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ، یہ موبائل اسے دو اور اس سے کہو کہ یہ امامہ کو دےدے۔" سالار نے بڑے لاپرواہ انداز میں اپنا موبائل اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔
ناصرہ ہکا بکا رہ گئی۔ میں آپ کی بات نہیں سمجھی۔
"یہ موبائل اپنی بیٹی کو دو اور اس سے کہو کسی کو بتائے بغیر یہ امامہ تک پہنچا دے۔"
"مگر کیوں؟"
"یہ جاننا تمہارے لئے ضروری نہیں ہے، تمہیں جو کہا ہے وہی کرو۔" سالار نے ناگواری کے عالم میں اسے جھڑکا۔
"لیکن اگر کسی کو وہاں پتا چل گیا تو۔۔۔۔۔" ناصرہ کی بات کو اس نے درشتی سے کاٹ دیا۔
"کسی کو پتا تب چلے گا جب تم اپنا منہ کھولو گی۔۔۔۔۔ اور تم اپنا منہ کھولو گی تو صرف تمہیں اور تمہاری بیٹی کو نقصان ہو گا اور کسی کو نہیں۔۔۔۔۔ لیکن اگر تم اپنا منہ بند رکھو گی تو نہ صرف کسی کو پتا نہیں چلے گا بلکہ تمہیں بھی خاصا فائدہ ہو گا۔"
ناصرہ نے اس بار کچھ کہے بغیر خاموشی سے وہ موبائل پکڑ لیا۔" میں پھر کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔ کسی کو اس موبائل کے بارے میں پتا نہیں چلنا چاہئیے۔" وہ اپنا والٹ نکال رہا تھا۔
ناصرہ سر ہلاتے ہوئے جانے لگی۔"ایک منٹ ٹھہرو۔" سالار نے اسے روکا۔ وہ اب اپنے والٹ سے کچھ کرنسی نوٹ نکال رہا تھا۔
"یہ لے لو۔" اس نے انہیں ناصرہ کی طرف بڑھا دئیے۔ ناصرہ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ نوٹ پکڑ لئے۔ وہ جن گھروں میں کام کرتی رہی تھی وہاں کے بچوں کے ایسے بہت سے رازوں سے واقف تھی، اسے بھی پیسے کمانے کا موقع مل گیا تھا۔ اس نے فوری اندازہ یہی لگایا تھا کہ امامہ اور سالار کا چکر چل رہا تھا اور یہ موبائل وہ تحفہ تھا جو اسے امامہ کو دینا تھا، مگر اسے حیرانی اس بات پر ہو رہی تھی کہ اس سب کا اسے پہلے پتا کیوں نہیں چلا۔۔۔۔۔ اور پھر امامہ۔۔۔۔۔ اس کی تو شادی ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ پھر وہ کیوں اس طرح کی حرکتیں کر رہی تھی۔
"اور دیکھو ذرا مجھے، میں امامہ بی بی کو کتنا سیدھا سمجھتی رہی۔" ناصرہ کو اب اپنی بے خبری پر افسوس ہو رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"ابو! میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔" جلال رات کو اپنے والد کے کمرے میں چلا آیا۔ اس کے والد اس وقت اپنی ایک فائل دیکھنے میں مصروف تھے۔
"ہاں آؤ، کیابات ہے۔" انہوں نے جلال کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ ان کے پاس ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر وہ اسی طرح خاموش بیٹھا رہا، اس کے والد نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا، انہیں یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کچھ پریشان ہے۔" انہیں یک دم تشویش ہونے لگی۔
"ابو! میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔" جلال نے کسی تمہید کے بغیر کہا۔
"کیا؟" انصر جاوید کو اس کے منہ سے اس جملے کی توقع نہیں تھی۔" تم کیا کرنا چاہتے ہو؟"
"میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔"
"یہ فیصلہ تم نے یک دم کیسے کر لیا۔ کل تک تو تم باہر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے اوراب آج تم شادی کا ذکر لے بیٹھے ہو۔" انصر جاوید مسکرائے۔
"بس۔۔۔۔۔ معاملہ ہی کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ مجھے آپ سے بات کرنی پڑ رہی ہے۔"
انصر جاوید سنجیدہ ہو گئے۔
"آپ نے زینب کی دوست امامہ کو دیکھا ہے۔" اس نے چند لمحوں کے توقف کے بعد کہا۔
"ہاں! تم اس میں انٹرسٹڈ ہو۔" انصر جاوید نے فوراً اندازہ لگایا۔
جلال نے اثبات میں سر ہلا دیا۔" مگر وہ لوگ تو بہت امیر ہیں۔۔۔۔۔ اس کا باپ بڑا صنعت کا ر ہے اور وہ مسلمان بھی نہیں ہے۔" انصر جاوید کا لہجہ بدل چکا تھا۔
"ابو ! وہ اسلام قبول کر چکی ہے، اس کی فیملی قادیانی ہے۔" جلال نے وضاحت کی۔
"اس کے گھر والوں کو پتا ہے؟"
"نہیں۔"
"تمہارا خیال ہے وہ یہ پرپوزل قبول کر لیں گے؟" انصر جاوید نے چبھتے ہوئے لہجہ میں پوچھا۔
"ابو! اس کی فیملی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان لوگوں کی اجازت کی بغیر ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔"
"تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟" اس بار انصر جاوید نے بلند آواز میں کہا۔" میں تمہیں کسی حالت میں اجازت نہیں دے سکتا۔"
جلال کا چہرہ اتر گیا۔"ابو! میری اس کے ساتھ کمٹمنٹ ہے۔" اس نے مدھم آواز میں کہا۔
"مجھ سے پوچھ کر کمٹمنٹ نہیں کی تھی تم نے۔۔۔۔۔ اور اس عمر میں بہت ساری کمٹمنٹس ہوتی رہتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بندہ اپنی زندگی خراب کر لے۔۔۔۔۔ انہیں اپنے پیچھے لگا کر ہم سب برباد ہو جائیں گے۔"
"ابو! میں خفیہ طور پر شادی کر لیتاہوں۔۔۔۔۔ کسی کو بتائیں گے نہیں تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔"
"اور اگر پتا چل گیا تو۔۔۔۔۔ میں ویسے بھی تمہاری تعلیم کے مکمل ہونے تک تمہاری شادی کرنا نہیں چاہتا۔ ابھی تمہیں بہت کچھ کرنا ہے۔"
"ابو! پلیز۔۔۔۔۔ میں اس کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتا۔" جلال نے مدھم آواز میں اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
"اچھا۔۔۔۔۔ ایسا ہے تو تم اس سے کہو کہ وہ اپنے والدین سے اس سلسلے میں بات کرے۔ اگر اس کے والدین مان جاتے ہیں تو میں تم دونوں کی شادی کر دوں گا۔" انہوں نے تیز مگر حتمی لہجے میں کہا۔" مگر میں تمہاری شادی کسی ایسی لڑکی سے قطعی نہیں کروں گا جو اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف تم سے شادی کرنا چاہے۔۔۔۔۔"
"ابو! آپ اس کا مسئلہ سمجھیں۔ وہ بری لڑکی نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ بس وہ کسی مسلمان سے شادی کرنا چاہتی ہے جس پر اس کے گھر والے راضی نہیں ہوں گے۔" جلال نے دانستہ طور پر اسجد اور اس کی منگنی کا ذکر گول کر دیا۔
"مجھے کسی دوسرے کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور تمہیں بھی نہیں ہونی چاہئیے۔ یہ امامہ کا مسئلہ ہے، وہ جانے۔ تم اپنے کام سے کام رکھو۔ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچو۔" انصر جاوید نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"ابو ! پلیز۔۔۔۔۔ میری بات سمجھیں۔ اس کو مدد کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔"
"بہت سے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے تم کس کس کی مدد کرو گے۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی ہمارے اور ان کے اسٹیٹس میں اتنا فرق ہے کہ ان سے کوئی دشمنی یا مخالفت مول لینا ہمارے بس کی بات نہیں، سمجھے تم اور پھر میں ایک غیر مسلم لڑکی سے شادی کر کے اپنے خاندان والوں کا سامنا کیسے کروں گا۔"
"ابو! وہ مسلمان ہو چکی ہے۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو بتایا ہے۔" جلال نے جھنجھلا کر کہا۔
"چار ملاقاتوں میں وہ تم سے اتنی متاثر ہو گئی کہ ا س نے اسلام قبول کر لیا۔"
"ابو! اس نے مجھے ملنے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔"
"تم نے اسلام قبول کرتے دیکھا تھا اسے؟"
"میں اس سے مذہب کے بارے میں تفصیلاً بات کرتارہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام قبول کر چکی ہے۔"
"بالفرض وہ ایسا کر بھی چکی ہے۔۔۔۔۔ تو پھر اسے اپنے مسائل سے خود نمٹنا چاہئیے۔ تمہیں بیچ میں نہیں گھسیٹنا چاہئیے۔ اپنے والدین سے دو ٹوک بات کرے، انہیں بتائے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔ پھر میں اور تمہاری امی دیکھیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ دیکھو جلال اگر اس کا خاندان اپنی مرضی اور خوشی سے اس کی شادی تمہارے ساتھ کرنے پر تیار ہو جائے تو میں اسے بخوشی قبول کر لوں گا۔۔۔۔۔ مگر کسی بے نام و نشان لڑکی سے میں تمہاری شادی نہیں کروں گا۔ مجھے اس معاشرہ میں رہنا ہے۔۔۔۔۔ لوگوں کو منہ دکھانا ہے۔۔۔۔۔ بہو کے خاندان کے بارے میں کیا کہوں گا میں کسی سے۔۔۔۔۔ یہ کہ وہ گھر چھوڑ کر آئی ہے اور اس نے اپنی مرضی سے میرے بیٹے سے شادی کر لی ہے۔"
"ابو! یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ ہم اس کی مدد کریں اور۔۔۔۔۔" انصر جاوید نے تلخی سے اس کی بات کاٹ دی۔
"مذہب کو بیچ میں مت لے کر آؤ، ہر چیز میں مذہب کی شرکت ضروری نہیں ہوتی۔ صرف تم ہی یہ مذہبی فریضہ ادا کرنے والے رہ گئے ہو، باقی سارے مسلمان مر گئے ہیں۔"
"ابو! اس نے مجھ سے مدد مانگی ہے، میں اس لئے کہہ رہا ہوں۔"
"بیٹا! یہاں بات مدد کی یا مذہب کی نہیں ہے، یہاں صرف زمینی حقائق کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بہت اچھی بات ہے کہ تم میں مدد کا جذبہ ہے اور تمہیں اپنے مذہبی فرائض کا احساس ہے مگر انسان پر کچھ حق اس کے والدین کا بھی ہوتا ہے اور یہ حق بھی مذہب نے ہی فرض کیا ہے اور اس حق کے تحت میں چاہتا ہوں کہ تم اس کے خاندان کی مرضی کے بغیر اس سے شادی نہ کرو۔۔۔۔۔ فرض کرو تم اس سے شادی کر بھی لیتے ہو۔۔۔۔۔ تو کیا ہو گا۔۔۔۔۔ تم تو چند ماہ میں امریکہ ہو گے۔۔۔۔۔ اور وہ یہاں گھر بیٹھی ہو گی۔۔۔۔ میرے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ میں تم چاروں کی تعلیم پر بھی خرچ کروں اور اس کی تعلیم پر بھی۔۔۔۔۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ تم پر میرا کتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ تو وہ ڈاکٹر تو نہیں بنے گی۔۔۔۔۔ یہاں گھر میں کتنے سال تم اسے بٹھا سکتے ہو۔۔۔۔۔ اور اگر اس کے خاندان نے تم پر یا ہم پر کیس کر دیا تو اس صورت میں تم بھی پابند ہو کر رہ جاؤ گے اور میں بھی۔۔۔۔۔ تم کو اپنی بہن کا احساس ہونا چاہئیے، تم یہ چاہتے ہو کہ اس عمر میں، میں جیل چلا جاؤں۔۔۔۔۔ اور شاید تم بھی۔۔۔۔۔"
جلال کچھ بول نہیں سکا۔
"ان چیزوں کے بارے میں اتنا جذباتی ہو کر نہیں سوچنا چاہئیے۔ میں نے تمہیں راستہ بتا دیا ہے۔۔۔۔۔ اس سے کہو اپنے والدین سے بات کر کے انہیں رضامند کرے۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ رضامند ہو جائیں پھر مجھے کیا اعتراض ہو گا تم دونوں کی شادی پر لیکن اگر وہ یہ نہیں کرتی تو پھر اس سے کہو کہ وہ کسی اور سے شادی کر لے اور تم ٹھنڈے دل سے سوچو، تمہیں خود پتا چل جائے گا کہ تمہارا فیصلہ کتنا نقصان دہ ہے۔"
انصر جاوید نے آخری کیل ٹھونکی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"باجی ! میں آپ کا کمرہ صاف کر دوں؟"ملازمہ نے دروازے پر دستک دیتے ہوئے امامہ سے پوچھا۔
"نہیں ، تم جاؤ۔"امامہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کے لیے کہا۔ملازمہ باہر جانے کی بجائے دروازہ بند کر کے اس کے پاس آ گئی۔
"میں نے تم سے کہا ہے نا کہ تم۔۔۔۔۔"امامہ نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر پھر اس کی بات حلق میں ہی رہ گئی۔ملازمہ نے اپنی چادر کے اندر سے ایک موبائل نکالا تھا۔ امامہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
"باجی ! یہ میری ماں نے دیا ہے ، وہ کہہ رہی تھی کہ ساتھ والے سالار صاحب نے آپ کے لیے دیا ہے۔"اس نے امامہ کی طرف عجلت کے عالم میں وہ موبائل بڑھایا۔ امامہ نے تیزی سے موبائل کو جھپٹ لیا۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
"دیکھو ، تم کسی کو بتانا مت کہ تم نے مجھے کوئی موبائل لا کر دیا ہے۔"امامہ نے اسے تاکید کی۔
"نہیں باجی ! آپ بےفکر رہیں ، میں نہیں بتاؤں گی۔ اگر آپ کو بھی کوئی چیز سالار صاحب کے لیے دینی ہو تو مجھے دے دیں۔"
"نہیں ، مجھے کچھ نہیں دینا ، تم جاؤ۔"اس نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
ملازمہ کے کمرے سے نکلتے ہی اس نے کمرے کو لاک کر لیا۔ کانپتے ہاتھوں اور دل کی بےقابو ہوتی ہوئی دھڑکنوں کے ساتھ اس نے دراز سے موبائل اور اس پر جلال کا نمبر ڈائل کرنا شروع کیا۔ وہ اسے تفصیل سے ساری بات بتانا چاہتی تھی۔فون جلال کی امی نے اٹھایا۔
"بیٹا ! جلال تو باہر گیا ہوا ہے ، وہ تو رات کو ہی آئے گا۔تم زینب سے بات کر لو۔اسے بلا دوں؟"جلال کی امی نے کہا۔
"نہیں آنٹی ! مجھے کچھ جلدی ہے ، میں زینب سے پھر بات کر لوں گی۔بس میں نے ان سے چند کتابوں کا کہا تھا ، مجھے ان ہی کے بارے میں پوچھنا تھا۔میں دوبارہ فون کر لوں گی۔"امامہ نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔
امامہ نے اس دن دوپہر کو بھی کھانا نہیں کھایا۔وہ صرف رات ہونے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ جلال گھر آ جائے اور وہ اس سے دوبارہ بات کر سکے۔شام کے وقت ملازمہ نے اسے اسجد کے فون کی اطلاع دی۔
وہ جس وقت نیچے آئی اس وقت لاؤنج میں صرف وسیم بیٹھا ہوا تھا۔وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے فون کی طرف چلی گئی۔فون کا ریسیور اٹھاتے ہی دوسری طرف اسجد کی آواز سنائی دی تھی۔بےاختیار امامہ کا خون کھولنے لگا۔یہ جاننے کے باوجود کہ اس شادی کو طے کرنے میں اسجد سے زیادہ خود ہاشم مبین کا ہاتھ تھا۔امامہ کو اس پر غصہ آ رہا تھا۔
وہ اس کا حال دریافت کر رہا تھا۔
" اسجد ! تم نے اس طرح میرے ساتھ دھوکا کیوں کیا ہے؟"
"کیسا دھوکہ امامہ ! "
"شادی کی تاریخ طے کرنا۔۔۔۔۔تم نے اس سلسلے میں مجھ سے بات کیوں نہیں کی۔"وہ کھولتے ہوئے بولی۔
"کیا انکل نے تم سے بات نہیں کی۔"
"انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا اور میں نے ان سے کہا تھا کہ میں ابھی شادی کرنا نہیں چاہتی۔"
"بہر حال اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔اور پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ شادی اب ہو یا کچھ سالوں کے بعد۔"اسجد نے قدرے لاپرواہی سے کہا۔
"اسجد ! تمہیں فرق پڑتا ہو یا نہیں ، مجھے پڑتا ہے۔میں اپنی تعلیم مکمل کرنے تک شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔اور یہ بات تم اچھی طرح جانتے تھے۔"
"ہاں ، میں جانتا ہوں مگر اس سارے معاملے میں ، میں تو کہیں بھی انوالو نہیں ہوں۔تمہیں بتا رہا ہوں ، شادی انکل کے اصرار پر ہی ہو رہی ہے۔"
"تم اسے رکوا دو۔"
"تم کیسی باتیں کر رہی ہو امامہ ! میں اسے کیسے رکوا دوں۔"اسجد نے کچھ حیرانی سے کہا۔
"اسجد پلیز ! "
"امامہ ! میں ایسا نہیں کر سکتا ، تم میری پوزیشن سمجھو۔اب تو ویسے بھی کارڈ چھپ چکے ہیں ، دونوں گھروں میں تیاریاں ہو رہی ہیں اور۔۔۔۔۔۔"
امامہ نے اس کی بات سنے بغیر ریسیور پٹخ دیا۔وسیم نے اس پوری گفتگو میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔وہ خاموشی سے اسجد کے ساتھ ہونے والی اس کی گفتگو سنتا رہا تھا جب امامہ نے فون بند کر دیا تو وسیم نے اس سے کہا۔
"تم خوامخواہ ایک فضول بات پر اتنا ہنگامہ کھڑا کر رہی ہو۔کل بھی تو تم نے شادی اسجد کے ساتھ ہی کرنی ہے پھر اس طرح کر کے تم خود اپنے لئے مسائل پیدا کر رہی ہو۔بابا تم سے بہت ناراض ہیں۔"
"میں نے تم سے تمہاری رائے نہیں مانگی ، تم اپنے کام سے کام رکھو۔جو کچھ تم میرے ساتھ کر چکے ہو وہ کافی ہے۔"
امامہ اس پر غرائی اور پھر واپس کمرے میں آ گئی۔
وہ رات کو بھی اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی مگر ملازم کے کھانا لانے پر اس نے کھانا کھا لیا تھا۔رات کو گیارہ بجے کے قریب اس نے جلال کو فون کیا۔فون جلال نے ہی اٹھایا تھا۔شاید وہ امامہ کے فون کی توقع کر رہا تھا۔مختصر سی تمہید کے بعد وہ اصل موضوع کی طرف آ گیا۔
"امامہ ! میں نے ابو سے کچھ دیر پہلے بات کی ہے۔"اس نے امامہ سے کہا۔
"پھر؟"وہ اس کے استفسار پر چند لمحے خاموش رہا پھر اس نے کہا۔
"ابو ! اس شادی پر رضامند نہیں ہیں۔"
امامہ کا دل ڈوب گیا۔"مگر آپ تو کہہ رہے تھے انہیں اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔"
"ہاں ، میرا یہی خیال تھا مگر انہیں بہت ساری باتوں پر اعتراض ہے۔وہ سمجھتے ہیں تمہارے اور ہمارے گھرانے کے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے۔۔۔۔۔اور وہ تمہارے خاندان کے بارے میں بھی جانتے ہیں اور انہیں سب سے بڑا اعتراض اس بات پر ہے کہ تم اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔انہیں یہ خوف ہے کہ اس صورت میں تمہارے گھر والے میرے گھر والوں کو تنگ کریں گے۔"
وہ ساکت بیٹھی موبائل کان سے لگائے اس کی آواز سنتی رہی۔"آپ نے انہیں رضامند کرنے کی کوشش نہیں کی۔"ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے کہا۔
"میں نے بہت کوشش کی۔انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ اگر تمہارے گھر والے اس شادی پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر وہ بھی راضی ہو جائیں گے۔اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ تمہارا خاندان کیا ہے لیکن تمہارے گھر والوں کی مرضی کے بغیر وہ میری اور تمہاری شادی کو تسلیم نہیں کریں گے۔"جلال نے اس سے کہا۔
"اور آپ۔۔۔۔۔آپ کیا کہتے ہیں؟"
"امامہ ! میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔"جلال نے کچھ بےبسی کے عالم میں کہا۔
"جلال ! میرے پیرنٹس کبھی آپ سے میری شادی پر تیار نہیں ہوں گے ، بصورتِ دیگر ہماری پوری کمیونٹی ان کا بائیکاٹ کر دے گی اور وہ یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے اور پھر آپ اسجد سے میری منگنی کو کیوں بھول رہے ہیں۔"
"امامہ ! تم پھر بھی اپنے والدین سے بات تو کرو ، ہو سکتا ہے کوئی راستہ نکل آئے۔"
"میں کل بابا سے تھپڑ کھا چکی ہوں۔صرف یہ بتا کر کہ میں کسی دوسرے میں انٹرسٹڈ ہوں۔"امامہ کی آواز بھرانے لگی۔"اگر انہیں یہ پتا چل گیا کہ میں جسے پسند کرتی ہوں وہ ان کے مذہب کا نہیں ہے تو وہ مجھے مار ڈالیں گے۔پلیز آپ انکل سے بات کریں۔آپ انہیں میرا پرابلم بتائیں۔"اس نے ملتجیانہ لہجے میں کہا۔
"میں ابو سے کل دوبارہ بات کروں گا اور امی سے بھی۔۔۔۔۔پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ وہ کیا کہتے ہیں۔"جلال پریشان تھا۔
امامہ نے جس وقت اس سے بات کرنے کے بعد فون بند کیا وہ بےحد دل گرفتہ تھی۔اس کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ جلال کے والدین کو اس شادی پر اعتراض ہو گا۔
موبائل ہاتھ میں لیے وہ بہت دیر تک خالی الذہنی کے عالم میں بیٹھی رہی۔٭
"تمہارے ابو مجھ سے پہلے ہی اس سلسلے میں بات کر چکے ہیں اور جو وہ کہہ رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے۔تم کو اس طرح کے خطروں میں کودنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔"جلال کی امی نے قطعی لہجے میں اس سے کہا۔وہ امامہ کے کہنے پر ان سے بات کر رہا تھا۔
"مگر امی ! اس میں خطرے والی کیا بات ہے۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہو گا ، آپ خوامخواہ خوفزدہ ہو رہی ہیں۔"جلال نے کچھ احتجاجی انداز میں کہا۔
"تم حماقت کی حد تک بےوقوف ہو۔"اس کی امی نے اس کی بات پر اسے جھڑکا۔"امامہ کے خاندان اور اس کے والد کو تمہارے ابو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔تم کیا سمجھتے ہو کہ تمہارے ساتھ شادی ہونے کی صورت میں وہ تمہارا پیچھا چھوڑ دیں گے یا ہمیں کچھ نہیں کہیں گے۔"
"امی ! ہم اس شادی کو خفیہ رکھیں گے ، کسی کو بھی نہیں بتائیں گے۔میں اسپیشلائزیشن کے لئے باہر جانے کے کچھ عرصہ بعد اسے بھی وہاں بلوا لوں گا۔سب کچھ خفیہ ہی رہے گا کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا۔"
"ہم آخر ! امامہ کے لئے کیوں اتنا بڑا خطرہ مول لیں اور تمہیں ویسے بھی یہ پتا ہونا چاہئیے کہ ہمارے یہاں اپنی فیملی میں ہی شادی ہوتی ہے۔ہمیں امامہ یا کسی اور کی ضرورت نہیں ہے۔"امی نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
"مجھے اگر یہ اندازہ ہوتا کہ تم اس طرح اس لڑکی میں دلچسپی لینا شروع کر دو گے تو میں اس سے پہلے ہی تمہاری کہیں نسبت طے کر دیتی۔"اس کی امی نے قدرے ناراضی سے کہا۔
"امی ! میں امامہ کو پسند کرتا ہوں۔"
"اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم اسے پسند کرتے ہو یا نہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اس بارے میں ، میں اور تمہارے ابو کیا سوچتے ہیں۔۔۔۔۔اور ہم دونوں کو نہ تو وہ پسند ہے اور نہ ہی اس کا خاندان۔"امی نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"امی ! وہ بہت اچھی لڑکی ہے ، آپ اسے بہت اچھی طرح جانتی ہیں ، وہ یہاں آتی رہی ہے اور تب تو آپ اس کی بہت زیادہ تعریف کرتی تھیں۔"جلال نے انہیں یاد دلایا۔
"تعریف کرنے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ میں اسے اپنی بہو بنا لوں۔"وہ خفگی سے بولیں۔
"امی ! کم از کم آپ تو ابو جیسی باتیں نا کریں۔تھوڑا سا ہمدردی سے سوچیں۔"اس بار جلال نے لجاجت آمیز لہجے میں کہا۔
"جلال ! تمہیں احساس ہونا چاہئیے کہ تمہاری اس ضد اور فیصلے سے ہمارے پورے خاندان پر کس طرح کے اثرات مرتب ہوں گے۔ہمارا بھی خواب ہے کہ ہم تمہاری شادی کسی اچھے اور اونچے خاندان میں کریں۔تمہارے ابو اگر تمہیں اس شادی کی اجازت دے بھی دیں تو بھی میں کبھی نہیں دوں گی۔نہ ہی میں امامہ کو اپنی بہو کے طور پر قبول کروں گی۔"
" امی ! آپ اس کی صورتِ حال کو سمجھیں ، وہ کتنا بڑا قدم اٹھا رہی ہے۔اس وقت اسے مدد کی ضرورت ہے۔"
"اگر وہ اتنا بڑا قدم اٹھا رہی ہے تو پھر اسے کم از کم دوسرے کے لیے کوئی پریشانی کھڑی نہیں کرنی چاہئیے۔میں اسے برا نہیں کہہ رہی۔وہ بہت اچھا فیصلہ کر رہی ہے مگر ہم لوگوں کو اپنی کچھ مجبوریاں ہیں۔تم کچھ عقل سے کام لو۔تمہیں اسپیشلائزیشن کے لیے باہر جانا ہے۔اپنا ہاسپٹل بنانا ہے۔"اس کی امی نے قدرے نرم لجے میں کہا۔"بیٹا ! اچھے خاندان میں شادی ہو تو انسان کو آگے بڑھنے کے لیے بہت سے مواقع ملتے ہیں اور تمہارے لیے تو پہلے ہی بہت سے خاندانوں کی طرف سے پیغام آ رہے ہیں۔جب اسپیشلائزیشن کر لو گے تو کتنے اونچے خاندان میں تمہاری شادی ہو سکتی ہے۔تمہیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہے۔خود سوچو ، صرف امامہ سے شادی کر کے تمہیں کیا ملے گا۔۔۔۔۔خاندان اس کا بائیکاٹ کر چکا ہو گا۔۔۔۔۔۔معاشرے میں جو بدنامی ہو گی ، وہ الگ ہے۔۔۔۔۔اور تم سے شادی ہو بھی جائے تو کل کو تمہارے بچے تمہارے اور امامہ کے بارے میں کیا سوچیں گے۔۔۔۔۔یہ کوئی ایک دو دن کی بات نہیں ہے ساری عمر کی بات ہے۔"امی اسے سنجیدہ لہجے میں سمجھا رہی تھیں۔جلال کسی اعتراض یا احتجاج کے بغیر خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔
اس کے چہرے سے کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہ قائل ہوا ہے یا نہیں۔
امامہ نے اگلی رات جلال کو پھر فون کیا۔فون جلال نے ہی اٹھایا تھا۔
"امامہ ! میں نے امی سے بھی بات کی ہے۔وہ ابو سے زیادہ ناراض ہوئی ہیں میری بات پر۔"امامہ کا دل گویا مکمل ڈوب گیا۔
"وہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے ایک فضول معاملے میں خود انوالو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔"جلال نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔"میں نے انہیں تمہارے پرابلم کے بارے میں بھی بتایا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ یہ تمہارا پرابلم ہے ، ہمارا نہیں۔"
امامہ کو اس کے لفظوں سے شدید تکلیف ہوئی تھی۔
"میں نے انہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ رضامند نہیں ہیں اور نہ ہی ہوں گی۔"جلال کی آواز دھیمی ہو گئی تھی۔
"مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے جلال ! "اس نے ڈوبتے دل کے ساتھ کسی موہوم سی اُمید پر کہا۔
"میں جانتا ہوں امامہ ! مگر میں کچھ نہیں کر سکتا۔میرے والدین اس پرپوزل پر راضی نہیں ہیں۔"
"کیا تُم ان کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی نہیں کر سکتے؟"
"نہیں ، یہ میرے لیے ممکن نہیں ہے۔مجھے ان سے اتنی محبت ہے کہ میں انہیں ناراض کر کے تم سے شادی نہیں کر سکتا۔"
"پلیز جلال ! "وہ گڑگڑائی۔"تمہارے علاوہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔"
"میں اپنے والدین کی نافرمانی نہیں کر سکتا ، تم مجھے اس کے لیے مجبور نہ کرو۔"
"میں آپ کو نافرمانی کے لیے نہیں کہہ رہی ہوں۔میں تو آپ سے اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہوں۔"
اس کے اعصاب چٹخ رہے تھے۔اسے یاد نہیں تھا کہ اس نے زندگی میں کبھی کسی سے اتنے التجائیہ اور منت بھرے انداز میں بات کی ہو۔
"آپ مجھ سے صرف نکاح کر لیں ، اپنے والدین کو اس کے بارے میں نہ بتائیں۔بےشک آپ بعد میں ان کی مرضی سے بھی شادی کر لیں ، میں اعتراض نہیں کروں گی۔"
"تم اب بچوں جیسی باتیں کر رہی ہو۔خود سوچو اگر ایسے کسی نکاح کے بارے میں ابھی میرے والدین کو پتا چل جاتا ہے تو وہ کیا کریں گے۔۔۔۔۔وہ تو مجھے گھر سے نکال دیں گے۔۔۔۔۔اور پھر تم اور میں کیا کریں گے۔"
"ہم محنت کر لیں گے ، کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔"
"تمہارے اس کچھ نہ کچھ سے میں باہر پڑھنے جا سکوں گا؟"اس بار جلال کا لہجہ چبھتا ہوا تھا ، وہ بول نہیں سکی۔
"نہیں امامہ ! میرے اتنے خواب اور خواہشات ہیں کہ میں انہیں تمہارے لیے یا کسی کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا۔مجھے تم سے محبت ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر میں اس جذباتیت کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جس کا مظاہرہ تم کر رہی ہو۔تم دوبارہ مجھے فون مت کرنا کیونکہ میں اب اس سارے معاملے کو یہیں ختم کر دینا چاہتا ہوں ، مجھے تم سے ہمدردی ہے مگر تم اپنے اس مسئلے کا حل خود نکالو ، میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا ، خدا حافظ۔"
جلال نے فون بند کر دیا۔
رات دس بج کر پچاس منٹ پر اسے اپنے اردگرد کی پوری دنیا دھوئیں میں تحلیل ہوتی نظر آئی۔کسی چیز کے مٹھی میں ہونے اور پھر دور دور تک کہیں نہ ہونے کا فرق کوئی امامہ سے بہتر نہیں بتا سکتا تھا۔ماؤف ذہن اور شل ہوتے ہوئے اعصاب کے ساتھ وہ بہت دیر تک کسی بت کی طرح اپنے بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھی رہی۔
مجھے بتا دینا چاہئیے اب بابا کو سب کچھ۔۔۔۔۔اس کے سوا اب اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔۔۔۔۔شاید وہ خود ہی مجھے اپنے گھر سے نکال دیں۔۔۔۔۔کم از کم مجھے اس گھر سے تو رہائی مل جائے گی۔
جاری ہے


qist 13

qist 13

Monday, 6 November 2017

پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 12

پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 12
جلال انصر سے ہونے والی چند ملاقاتوں کے بعد امامہ نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ دوبارہ کبھی اس کا سامنا نہ کرے، نہ اس کے بارے میں سوچے، نہ زینب کے گھر جائے۔ حتیٰ کہ اس نے زینب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی اپنی طرف سے بہت محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی ہر حفاظتی تدبیر برے طریقے سے ناکام ہوتی گئی۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ امامہ کی بے بسی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور پھر اس نے گھٹنے ٹیک دئیے تھے۔
"اس آدمی میں کوئی چیز ایسی ہے، جس کے سامنے میری ہر مزاحمت دم توڑ جاتی ہے۔" اور شاید اس کا یہ اعتراف ہی تھا جس نے اسے ایک بار پھر جلال کی طرف متوجہ کر دیا تھا۔ پہلے اس کے لئے اس کی بے اختیاری لاشعوری تھی پھر اس نے شعوری طور پر جلال کو اسجد کی جگہ دے دی۔
"آخر کیا برائی ہے اگر میں اس شخص کا ساتھ چاہوں جس کی آواز مجھے بار بار اپنے پیغمبر ﷺ کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتی رہی۔ میں کیوں اس شخص کے حصول کی خواہش نہ کروں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے مجھ سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہے۔ کیا مضائقہ ہے اگر میں اس شخص کو اپنا مقدر بنائے جانے کی دعا کروں، جس کے لئے میں انس رکھتی ہوں اور جس کے کردار سے میں واقف ہوں۔ کیا برا ہے اگر میں یہ چاہوں کہ میں جلال انصر کے نام سے شناخت پاؤں۔ اس واحد آدمی کے نام سے جسے سنتے، جیسے دیکھتے مجھے اس پر رشک آتا ہے۔" اس کے پاس ہر دلیل، ہر توجیہہ موجود تھی۔
بہت غیر محسوس طور پر وہ ہر اس جگہ جانے لگی جہاں جلال کے پائے جانے کا امکان ہوتا اور وہ اکثر وہاں پایا جاتا۔ وہ زینب کو اس وقت فون کرتی، جب جلال گھر پر ہوتا کیونکہ گھر پر ہوتے ہوئے فون ہمیشہ وہی ریسیو کرتا۔ دونوں کے درمیان چھوٹی موٹی گفتگو رفتہ رفتہ طویل ہونے لگی پھر وہ ملنے لگے۔
جویریہ ، رابعہ یا زینب تینوں کو امامہ اور جلال کے ان بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں پتا نہیں تھا۔ جلال اب ہاؤس جاب کر رہا تھا اور امامہ اکثر اس کے ہاسپٹل جانے لگی۔ باقاعدہ اظہار محبت نہ کرنے کے باوجود وہ دونوں اپنے لئے ایک دوسرے کے جذبات کے واقف تھے۔ جلال جانتا تھا کہ امامہ اسے پسند کرتی تھی اور یہ پسندیدگی عام نوعیت کی نہیں تھی۔ خود امامہ بھی یہ جان چکی تھی کہ جلال اس کے لئے کچھ خاص قسم کے جذبات محسوس کرنے لگا ہے۔
جلال اس قدر مذہبی تھا کہ اس نے کبھی اس کا بات کا تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو جائے گا، نہ صرف یہ کہ وہ محبت کرے گا بلکہ اس طرح اس سے ملا کرے گا۔۔۔۔۔ مگر یہ سب کچھ بہت غیر محسوس انداز میں ہوتا گیا۔ اس نے کبھی زینب سے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس کے اور امامہ کے درمیان کسی خاص نوعیت کا تعلق ہے۔ اگر وہ یہ انکشاف کر دیتا تو زینب اسے یقیناً امامہ کی اسجد کے ساتھ طے شدہ نسبت سے آگاہ کر دیتی۔ بہت شروع میں ہی وہ امامہ کی ایسی کسی نسبت کے بارے میں جان لیتا تو وہ امامہ کے بارے میں بہت محتاط ہو جاتا پھر کم از کم امامہ کے لئے اس حد تک انوالو ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس حد تک وہ ہو چکا تھا۔
ان کے درمیان ہونے والی ایسی ہی ایک ملاقات میں امامہ نے اسے پرپوز کیا تھا۔ اسے امامہ کی جرات پر کچھ حیرانی ہوئی تھی کیونکہ کم از کم وہ خود بہت چاہنے کے باوجود ابھی یہ بات نہیں کہہ سکا تھا۔
"آپ کا ہاؤس جاب کچھ عرصے میں مکمل ہو جائے گا، اس کے بعد آپ کیا کریں گے؟" امامہ نے اس دن اس سے پوچھا تھا۔
"اس کے بعد میں سپیشلائزیشن کے لئے باہر جاؤں گا۔" جلال نے بڑی سہولت سے کہا۔
"اس کے بعد؟"
"اس کے بعد واپس آؤں گا اور اپنا ہاسپٹل بناؤں گا۔"
"آپ نے اپنی شادی کے بارے میں سوچا ہے؟" اس نے اگلا سوال کیا تھا۔ جلال نے حیران مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا تھا۔
"امامہ! شادی کے بارے میں ہر ایک ہی سوچتا ہے۔"
"آپ کس سے کریں گے؟"
"یہ طے کرنا ابھی باقی ہے۔"
امامہ چند لمحے خاموش رہی۔" مجھ سے شادی کریں گے؟"
جلال دم بخود اسے دیکھنے لگا۔ اسے امامہ سے اس سوال کی توقع نہیں تھی۔" آپ کو میری بات بری لگی ہے؟"
امامہ نے اسے گم صم دیکھ کر پوچھا۔ وہ یک دم جیسے ہوش میں آ گیا۔
"نہیں، ایسا نہیں ہے۔" اس نے بے اختیار کہا۔" یہ سوال مجھے تم سے کرنا چاہئیے تھا۔ تم مجھ سے شادی کروگی؟"
"ہاں ۔" امامہ نے بڑی سہولت سے کہا۔
"اور آپ؟"
"میں۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ ہاں ، آف کورس۔ تمہارے علاوہ میں اور کس سے شادی کر سکتا ہوں۔" اس نے اپنے جملے پر امامہ کے چہرے پر ایک چمک آتے دیکھی۔
"میں ہاؤس جاب ختم ہونے کے بعد اپنے ماں باپ کو تمہارے ہاں بھجواؤں گا۔"
وہ اس بار جواب میں کچھ کہنے کے بجائے چپ سی ہو گئی۔"جلال! کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں آپ سے اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر شادی کر لوں؟"
جلال اس کی بات پر ہکا بکا رہ گیا۔" کیا مطلب؟"
"ہو سکتا ہے میرے پیرنٹس اس شادی پر تیار نہ ہوں۔"
"کیا تم نے اپنے پیرنٹس سے بات کی ہے؟"
"نہیں۔"
"تو پھر تم یہ بات کیسے کہہ سکتی ہو؟"
"کیونکہ میں اپنے پیرنٹس کو اچھی طرح جانتی ہوں۔" اس نے رسانیت سے کہا۔
جلال یک دم کچھ پریشان نظر آنے لگا۔" امامہ! میں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ تمہارے پیرنٹس کو ہم دونوں کی شادی پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا۔"
"مگر ایسا ہو سکتا ہے۔ آپ مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ اس صورت میں مجھ سے شادی کر لیں گے؟"
جلال کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔ امامہ اضطراب کے عالم میں اسے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد جلال نے اپنی خاموشی کو توڑا۔
"ہاں، میں تب بھی تم ہی سے شادی کروں گا۔ میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں اب کسی دوسری لڑکی سے شادی کر سکوں گا۔ میں کوشش کروں گا کہ تمہارے پیرنٹس اس شادی پر رضامند ہو جائیں لیکن اگر وہ نہیں ہوتے تو پھر ہمیں ان کی مرضی کے بغیر شادی کرنی ہو گی۔"
"کیا آپ کے پیرنٹس اس شادی پر رضامند ہو جائیں گے؟"
"ہاں ، میں انہیں منا لوں گا۔ وہ میری بات نہیں ٹالتے۔" جلال نے فخریہ انداز سے کہا۔
وہ ہیلو کی آواز پر پلٹی۔ اس سے چند قدم کے فاصلے پر سالار کھڑا تھا۔ وہ اپنے اسی بے ڈھنگے حلیے میں تھا۔ ٹی شرٹ کے سارے بٹن کھلے ہوئے تھے اور وہ خود جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔ ایک لمحہ کے لئے امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کس طرح کے ردِ عمل کا اظہار کرے۔
سالار کے ساتھ تیمور بھی تھا۔
"آؤ۔ اس لڑکی سے ملواتا ہوں تمہیں۔" سالار نے امامہ کو کتابوں کی دوکان پر دیکھا تو قریب چلا آیا۔
تیمور نے گردن موڑ کر دیکھا اور حیرانی سے کہا۔" اس چادر والی سے؟"
"ہاں۔" سالار نے قدم بڑھائے۔
"یہ کون ہے؟" تیمور نے پوچھا۔
"یہ وسیم کی بہن ہے۔" سالار نے کہا۔
"وسیم کی؟ مگر تم اس سے کیوں مل رہے ہو؟ وسیم اور اس کی فیملی تو خاصی کنزرویٹو ہے۔ اس سے مل کر کیا کرو گے؟" تیمور نے امامہ پر دور سے ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
"پہلی بار نہیں مل رہا ہوں، پہلے بھی مل چکا ہوں۔ بات کرنے میں کیا حرج ہے؟" سالار نے اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔
امامہ نے میگزین ہاتھ میں پکڑے پکڑے ایک نظر سالار کو اور ایک نظر اس کے ساتھ کھڑے لڑکے کو دیکھا جو تقریباً سالار جیسے حیلے میں ہی تھا۔
"ہاؤ آر یو؟" سالار نے اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر کہا۔
"فائن۔" امامہ نے میگزین بند کرتے ہوئے اسے دیکھا۔
"یہ تیمور ہے، وسیم سے اس کی بھی خاصی دوستی ہے۔" سالار نے تعارف کرایا۔
امامہ نے ایک نظر تیمور کو دیکھا پھر ہاتھ کے اشارے سے شاپنگ سنٹر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔" وسیم وہاں ہے۔"
سالار نے گردن موڑ کر اس طرف دیکھا جس طرف اس نے اشارہ کیا تھا اور پھر کہا۔
"مگر ہم وسیم سے ملنے تو نہیں آئے۔"
"تو؟" امامہ نے سنجیدگی سے کہا۔
"آپ سے بات کرنے آئے ہیں۔"
"مگر میں تو آپ کو نہیں جانتی، پھر آپ مجھ سے کیا بات کرنے آئے ہیں؟"
امامہ نے سردمہری سے کہا۔ اسے سالار کی آنکھوں سے وحشت ہونے لگی تھی۔ کاش یہ کسی سے نظریں جھکا کر بات کرنا سیکھ لیتا، خاص طور پر کسی لڑکی سے۔ اس نے میگزین دوبارہ کھول لیا۔
"آپ مجھے نہیں جانتیں؟" سالار مذاق اڑانے والے انداز میں ہنسا۔" آپ کے گھر کے ساتھ ہی میرا گھر ہے۔"
"یقیناً ہے مگر میں آپ کو"ذاتی" طور پر نہیں جانتی۔" اس نے اسی رکھائی سے میگزین پر نظریں جمائے ہوئے کہا۔
"چند ماہ پہلے آپ نے ایک رات میری جان بچائی تھی۔" سالار نے مذاق اڑانے والے انداز میں اسے یاد دلایا۔
"میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہونے کی حیثیت سے یہ میرا فرض تھا۔ میرے سامنے کوئی بھی مر رہا ہوتا، میں یہی کرتی۔ اب مجھے ایکسکیوز کریں، میں کچھ مصروف ہوں۔"
سالار اس کے کہنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوا۔ تیمور نے اس کے بازو کو ہولے سے کھینچ کر چلنے کا اشارہ کیا۔ شاید اسے وسیم کے حوالے سے امامہ کا لحاظ تھا مگر سالار نے اپنا بازو چھڑا لیا۔
"میں اس رات آپ کی مدد کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ حالانکہ آپ نے مجھے پروفیشنل طریقے سے ٹریٹمنٹ نہیں دیا تھا۔"
اس بار سالار نے سنجیدگی سے کہا۔ امامہ نے اس کی بات پر میگزین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔
"آپ کا اشارہ اگر اس تھپڑ کی طرف ہے تو ہاں وہ بالکل پروفیشنل نہیں تھا اور میں اس کے لئے معذرت کرتی ہوں۔"
"میں نے اسے مائنڈ نہیں کیا۔ میرا اشارہ اس طرف نہیں تھا۔" سالار نے لاپرواہی سے کہا۔
"مجھے توقع تھی کہ آپ اس تھپڑ کو مائنڈ نہیں کریں گے۔"(کیونکہ اسی کے مستحق تھے اور ایک نہیں دس) اس نے جملے کا آدھا حصہ ضبط کر لیا۔
"ویسے آپ کا اشارہ کس طرف تھا؟"
"بے حد تھرڈ کلاس طریقے سے بینڈیج کی تھی آپ نے میری اور آپ کو پراپر طریقے سے بلڈ پریشر تک چیک کرنا نہیں آتا۔" سالار نے لاپرواہی سے کہتے ہوئے چیونگم کی ایک اسٹک اپنے منہ میں ڈالی۔ امامہ کے کان کی لوئیں سرخ ہو گئیں۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی۔
"افسوس ناک بات ہے کہ ایک ڈاکٹر کو ایسے معمولی کام نہ آتے ہوں، جو کسی بھی عام آدمی کو آتے ہیں۔"
اس بار اس کا انداز پھر مذاق اڑانے والا تھا۔
"میں ڈاکٹر نہیں ہوں، میڈیکل کے ابتدائی سالوں میں ہوں، پہلی بات اور جہاں تک unprofessional ہونے کا تعلق ہے تو اگلی بار سہی، آپ نے تو ابھی اس طرح کی کئی کوششیں کرنی ہیں۔ میں آہستہ آہستہ آ پ پر پریکٹس کر کے اپنا ہاتھ صاف کر لوں گی۔"
ایک لمحہ کے لئے وہ کچھ نہیں بول سکا پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔ یوں جیسے وہ اس کی بات پر محظوظ ہوا تھا مگر شرمندہ نہیں اور اس نے اس کا اظہار بھی کر دیا۔
"اگر آپ مجھے شرمندہ کرنے کی کوشش۔۔۔۔۔"
"کوشش کر رہی ہیں تو آپ اس میں ناکام ہوں گی۔ میں جانتی ہوں، آپ شرمندہ نہیں ہوتے، یہ صفت صرف انسانوں میں ہوتی ہے۔" امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
"آپ کے خیال میں، میں کیا ہو؟" سالار نے اسی انداز میں کہا۔
"پتا نہیں، ایک vet اس بارے میں آپ کو زیادہ بہتر گائیڈ کر سکے گا۔" وہ اس بار اس کی بات پر ہنسا۔
"دو پیروں پر چلنے والے جانور کو ہر میڈیکل ڈکشنری انسان کہتی ہے اور میں دو پیروں پر چلتا ہوں۔"
"ریچھ سے لے کر کتے تک ہر چار پیروں والا جانور دو پیروں پر چل سکتا ہے۔ اگر اسے ضرورت پڑے یا اس کا دل چاہے تو۔"
"مگر میرے چار پیر نہیں اور میں صرف ضرورت کے وقت نہیں، ہر وقت ہی دو پیروں پر چلتا ہوں۔" سالار نے عجیب سے انداز میں اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
"یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کے چار پیر نہیں ہیں، اسی لئے میں نے آپ کو vett سے ملنے کو کہا ہے۔ وہ آپ کو آپ کی خصوصیات کے بارے میں صحیح بتا سکے گا۔"
امامہ نے سرد آواز میں کہا۔ وہ اسے زچ کرنے میں واقعی کامیاب ہو چکا تھا۔
"ویسے جتنی اچھی طرح سے آپ جانوروں کے بارے میں جانتی ہیں، آپ ایک بہت اچھی vett ثابت ہو سکتی ہیں۔ آپ کے علم سے خاصا متاثر ہوا ہوں میں۔"امامہ کے چہرے کی سرخی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔"اگر آپ میری vet بن جاتی ہیں تو میں آپ کے بتائے ہوئے مشورے کے مطابق آپ ہی کے پاس آیا کروں گا تاکہ آپ میرے بارے میں ریسرچ کر کے مجھے بتا سکیں۔"
سالار نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ وہ اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکی، صرف اسے دیکھ کر رہ گئی۔ وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی منہ پھٹ تھا اور ایسے شخص کے ساتھ لمبی گفتگو کرنا آ بیل مجھے مار کہ مترادف تھا اور وہ یہ حماقت کر چکی تھی۔
"ویسے آپ کیا فیس چارج کریں گی؟" وہ بڑی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
"یہ وسیم آپ کو بتا دے گا۔" امامہ نے اس بار اسے دھمکانے کی کوشش کی۔
"چلیں ٹھیک ہے، یہ میں وسیم سے پوچھ لوں گا۔ اس طرح تو خاصی آسانی ہو جائے گی۔"
وہ اس کی دھمکی کو سمجھنے کے باوجود مرعوب نہیں ہوا اور اس نے امامہ کو یہ جتا بھی دیا۔ تیمور نے ایک بار پھر اس کا بازو پکڑ لیا۔
"آؤ سالار! چلتے ہیں، مجھے ایک ضروری کام یاد آ رہا ہے۔" اس نے عجلت کے عالم میں سالار کو اپنے ساتھ تقریباً گھسیٹنے کی کوشش کی مگر سالار نے توجہ نہیں دی۔
"چلتے ہیں یار! اس طرح کھینچو تو مت۔"وہ اس سے کہتے ہوئے ایک بار پھر امامہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔
"بہرحال یہ سب مذاق تھا، میں واقعی آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا۔ آپ نے اور وسیم نے کافی مدد کی میری، گڈ بائے۔"
وہ کہتے ہوئے واپس مڑ گیا۔ امامہ نے بے اختیار ایک سکون کا سانس لیا۔ وہ شخص واقعی کریک تھا۔ اسے حیرت ہو رہی تھی کہ وسیم جیسا شخص کیسے اس آدمی کے ساتھ دوستی رکھ سکتا ہے۔
وہ ایک بار پھر میگزین کے ورق الٹنے لگی۔" سالار آیا تھا تمہارے پاس؟" وسیم نے اس کے پاس آ کر پوچھا۔ دور سے سالار اور تیمور کو دیکھ لیا تھا۔
"ہاں۔" امامہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور ایک بار پھر میگزین دیکھنے لگی۔
"کیا کہہ رہا تھا؟" وسیم نے کچھ تجسس سے پوچھا۔
"مجھے حیرت ہوتی ہے کہ تم نے اس جیسے شخص کے ساتھ دوستی کیسے کر لی ہے۔ میں نے زندگی میں اس سے زیادہ بے ہودہ اور بدتمیز لڑکا نہیں دیکھا۔" امامہ نے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔"میرا شکریہ ادا کر رہا تھا اور ساتھ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ مجھے بینڈیج تک ٹھیک سے کرنی نہیں آتی، نہ میں بلڈ پریشر چیک کر سکتی ہوں۔"
وسیم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔" اس کو دفع کرو، یہ عقل سے پیدل ہے۔"
"میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ میں اسے دو ہاتھ اور لگاؤں، اس کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ منہ اٹھا کر اپنے دوست کو لے کر پہنچ گیا ہے یہاں۔ بھئی! کس نے کہا ہے تم سے شکریہ ادا کرنے کو اور مجھے تو وہ دوسرا لڑکا بھی خاصا برا لگا اور وہ کہہ رہا تھا کہ تمہاری اس کے ساتھ بھی دوستی ہے۔" امامہ کو اچانک یاد آیا۔
"دوستی تو نہیں، بس جان پہچان ہے۔" وسیم نے وضاحت پیش کی۔" تمہیں ایسے لڑکوں کے ساتھ جان پہچان رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ حلیہ دیکھا تھا تم نے ان دونوں کا۔ نہ انہیں بات کرنے کی تمیز تھی، نہ لباس پہننے کا سلیقہ اور منہ اٹھا کر شکریہ ادا کرنے آ گئے ہیں۔ بہرحال تم اس سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لو۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اس طرح کے لڑکوں سے جان پہچان کی بھی تمہیں۔"
امامہ نے میگزین رکھتے ہوئے ایک بار پھر اسے تنبیہ کی اور پھر باہر جانے کے لئے قدم بڑھا دئیے۔ وسیم بھی اس کے ساتھ چلنے لگا۔
"مگر میں ایک بات پر حیران ہوں یہ جس حالت میں تھا اسے کیسے یاد ہے کہ میں نے اس کی بینڈیج اچھی نہیں کی تھی یا بلڈپریشر لینے میں مجھے دقت ہو رہی تھی۔" امامہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
"میں یہ سمجھ رہی تھی کہ یہ ایسے ہی ہاتھ پاؤں جھٹک رہا ہے۔ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ اپنے اردگرد ہونے والی چیزوں کو بھی observe کر رہا ہے۔"
"ایسے بینڈیج واقعی خراب کی تھی تم نے اور اگر میں تمہاری مدد نہ کرتا تو بلڈپریشر کی ریڈنگ لینا بھی تمہیں لینا نہیں آتی۔ کم از کم اس بارے میں وہ جو بھی کہہ رہا تھا ٹھیک کہہ رہا تھا۔" وسیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"ہاں، مجھے پتا ہے۔" امامہ نے اعتراف کرنے والے انداز میں کہا۔"مگر میں اس وقت بہت نروس تھی۔ میں پہلی بار اس طرح کی صورت حال کا شکار ہوئی تھی پھر اس کے ہاتھ سے نکلنے والا خون مجھے اور خوف زدہ کر رہا تھا اور اوپر سے اس کا رویہ۔۔۔۔۔ کسی خود کشی کرنے والے انسان کو اس طرح کی حرکتیں کرتے نہیں دیکھا تھا میں نے۔"
"اور تم ڈاکٹر بننے جا رہی ہو، وہ بھی ایک قابل اور نامور ڈاکٹر، ناقابل یقین۔" وسیم نے تبصرہ کیا۔
"اب کم از کم تم اس طرح کی باتیں نہ کرو۔" امامہ نے احتجاج کیا۔" میں نے اس لئے تمہیں یہ سب نہیں بتایا کہ تم مذاق اڑاؤ۔" وہ لوگ پارکنگ ایریا میں پہنچ گئے تھے۔
کچھ دنوں سے وہ جلال اور زینب کے رویے میں عجیب سی تبدیلی دیکھ رہی تھی۔ وہ دونوں اس سے بہت اکھڑے اکھڑے رہنے لگے تھے۔ ایک عجیب سا تناؤ تھا، جو وہ اپنے اور ان کے درمیان محسوس کر رہی تھی۔
اس نے ایک دو بار جلال کو ہاسپٹل فون کیا، مگر ہر بار اسے یہی جواب ملتا کہ وہ مصروف ہے۔ وہ زینب کو اگر کالج سے لینے بھی آتا تو پہلے کی طرح اس سے نہیں ملتا تھا اور اگر ملتا بھی تو صرف رسمی سی علیک سلیک کے بعد واپس چلا جاتا۔ وہ شروع میں اس تبدیلی کو اپنا وہم سمجھتی رہی مگر پھر زیادہ پریشان ہونے پر وہ ایک دن جلال کے ہاسپٹل چلی آئی۔
جلال کا رویہ بے حد سرد تھا۔ امامہ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ تک نہیں آئی۔
"کافی دن ہو گئے تھے ہمیں ملے ہوئے، اس لئے میں خود چلی آ ئی۔" امامہ نے اپنے سارے اندیشوں کو جھٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
"میری تو شفٹ شروع ہو رہی ہے۔"
امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔"زینب بتا رہی تھی کہ اس وقت آپ کی شفٹ ختم ہوتی ہے، میں اسی لئے اس وقت آئی ہوں۔"
وہ ایک لمحہ کے لئے خاموش رہا پھر اس نے کہا۔" ہاں صحیح ہے، مگر آج میری کوئی اور مصروفیت ہے۔"
وہ اس کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔"جلال! آپ کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں؟" ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے کہا۔
"نہیں ، میں کسی سے ناراض نہیں ہوں۔" جلال نے اسی رکھائی سے کہا۔
"کیا آپ دس منٹ باہر آ کر میری بات سن سکتے ہیں؟"
جلال کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اس نے اپنا اوور آل اپنے بازو پر ڈال لیا اور کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر نکل آیا۔
باہر جاتے ہی جلال نے اپنی رسٹ واچ پر ایک نظر ڈوڑائی۔ یہ شاید اس کے لئے بات شروع کرنے کا اشارہ تھا۔"آپ میرے ساتھ اس طرح مس بی ہیو کیوں کر رہے ہیں؟"
"کیا مس بی ہیو کر رہا ہوں؟" جلال نے اکھڑ انداز میں کہا۔
"آپ بہت دنوں سے مجھے اگنور کر رہے ہیں۔"
"ہاں، کر رہا ہوں۔"
امامہ کو توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی صفائی سے اس بات کا اعتراف کر لے گا۔
"کیونکہ میں تم سے ملنا نہیں چاہتا۔" وہ کچھ لمحوں کے لئے کچھ نہیں بول سکی۔"کیوں؟"
"یہ بتانا ضروری نہیں۔" اس نے اسی طرح اکھڑ انداز میں کہا۔
"میں جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کا رویہ یک دم کیوں تبدیل ہو گیا ہے۔ کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی اس کی۔" امامہ نے کہا۔
"ہاں وجہ ہے مگر میں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح تم بہت سی باتیں مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھتیں۔"
"میں؟" وہ اس کا منہ دیکھنے لگی۔"میں نے کون سی باتیں آپ کو نہیں بتائیں؟"
"یہ کہ تم مسلمان نہیں ہو۔"جلال نے بڑے تلخ لہجے میں کہا۔ امامہ سانس تک نہیں لے سکی۔
"کیا تم نے یہ بات مجھ سے چھپائی نہیں؟"
"جلال! میں بتانا چاہتی تھی۔" امامہ نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔
"چاہتی تھی۔۔۔۔۔ مگر تم نے بتایا تو نہیں۔۔۔۔۔ دھوکا دینے کی کوشش کی تم نے۔"
"جلال! میں نے آپ کو دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔" امامہ نے جیسے احتجاج کیا۔" میں آپ کو کیوں دھوکا دوں گی؟"
"مگر تم نے کیا یہی ہے۔" جلال نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
"جلال میں۔۔۔۔۔" جلال نے اس کی بات کاٹ دی۔
"تم نے جان بوجھ کر مجھے ٹریپ کیا۔" امامہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"ٹریپ کیا؟" اس نے زیرلب جلال کے لفظوں کو دہرایا۔
"تم جانتی تھیں کہ میں اپنے پیغمبر ﷺ سے عشق کرتا ہوں۔"
وہ شکست خوردہ انداز میں اسے دیکھتی رہی۔
"شادی تو دور کی بات ہے۔ اب جب میں تمہارے بارے میں سب کچھ جان گیا ہوں تو میں تم سے کوئی تعلق رکھنا نہیں چاہتا۔ تم دوبارہ مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا۔" جلال نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"جلال! میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔"امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
"اوہ کم آن۔" جلال نے تحقیر آمیز انداز میں اپنا ہاتھ جھٹکا۔" یہاں کھڑے کھڑے تم نے میرے لئے اسلام قبول کر لیا۔" اس بار وہ مذاق اڑانے والے انداز میں ہنسا۔
"جلال! میں آپ کے لئے مسلم نہیں ہوئی۔ آپ میرے لئے ایک ذریعہ ضرور بنے ہیں، مجھے کئی ماہ ہو گئے ہیں اسلام قبول کیے اور اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں ہے تو میں آپ کو ثبوت دے سکتی ہوں۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔"
اس بار جلال کچھ الجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
"میں مانتی ہوں میں نے آپ کی طرف پیش قدمی خود کی۔ آپ کے بقول میں نے آپ کو ٹریپ کیا۔ میں نے ٹریپ نہیں کیا۔ میں صرف بے بس تھی۔ آپ کے معاملے میں مجھے خود پر قابو نہیں رہتا تھا۔ آپ کی آواز کی وجہ سے، آپ جانتے ہیں میں نے آپ کو بتایا تھا میں نے پہلی بار آپ کو نعت پڑھتے سنا تو میں نے کیا محسوس کیا تھا۔ آپ کو اگر میرے بارے میں پہلے ہی یہ سب کچھ پتا چل جاتا تو آپ میرے ساتھ یہی سلوک کرتے جو اب کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے صرف اس بات کا اندیشہ تھا جس کی وجہ سے میں نے آپ سے بہت کچھ چھپائے رکھا۔ بعض باتوں میں انسان کو اپنے اوپر اختیار نہیں ہوتا۔ مجھے بھی آپ کے معاملے میں خود پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔"
اس نے رنجیدگی سے کہا۔
"تمہارے گھر والوں کو اس بات کا پتا ہے؟"
"نہیں، میں انہیں نہیں بتا سکتی۔ میری منگنی ہو چکی ہے۔ میں نے آپ کو اس بارے میں بھی نہیں بتایا۔۔۔۔۔" وہ ایک لمحہ کے لئے رکی۔"مگر میں وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں آ پ سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں صرف اپنی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار کر رہی ہوں۔ تب میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاؤں گی اور پھر میں آپ سے شادی کروں گی۔"
"چار پانچ سال بعد جب میں ڈاکٹر بن جاؤں گی تو شاید میرے پیرنٹس آپ سے میری شادی پر اس طرح اعتراض نہ کریں جس طرح وہ اب کریں گے۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہو کہ وہ میری تعلیم ختم کروا کر میری شادی اسجد سے کر دیں گے تو شاید میں انہیں ابھی اس بات کے بارے میں بتا دیتی کہ میں اسلام قبول کر چکی ہوں مگر میں ابھی پوری طرح ان پر ڈپینڈنٹ ہوں۔ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ آپ وہ واحد راستہ تھے جو مجھے نظر آیا۔ مجھے واقعی آپ سے محبت ہے پھر میں آپ کو شادی کی پیشکش نہ کرتی تو اور کیا کرتی۔ آپ اس صورت حال کا اندازہ نہیں کر سکتے جس کا سامنا میں کر رہی ہوں۔۔۔۔۔ میری جگہ پر ہوتے تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ میں جھوٹ بولنے کے لئے کتنی مجبور ہو گئی تھی۔"
جلال کچھ کہے بغیر پاس موجود لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا وہ اب پریشان نظر آرہا تھا۔ امامہ نے اپنی آنکھیں پونچھ لیں۔
"کیا آپ کے دل میں میرے لئے کچھ بھی نہیں ہے؟ صرف اس لئے میرے ساتھ انوالو ہیں، کیونکہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں؟"
جلال نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے کہا۔
"امامہ ! بیٹھ جاؤ۔۔ پورا پینڈورا باکس کھل گیا ہے میرے سامنے۔۔۔۔ اگر میں تمہاری صورت حال کا اندازہ نہیں کر سکتا تو تم بھی میری پوزیشن کو نہیں سمجھ سکتی۔"
امامہ اس سے کچھ فاصلے پر رکھی بینچ پر بیٹھ گئی۔
"میرے والدین کبھی غیر مسلم لڑکی سے میری شادی نہیں کریں گے۔ قطع نظر اس کے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں یا نہیں۔"
"جلال! میں غیر مسلم نہیں ہوں۔"
"تم اب نہیں ہو مگر پہلے تو تھیں اور پھر تمہارا خاندان۔۔۔۔۔"
"میں ان دونوں چیزوں کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتی۔" امامہ نے بے بسی سے کہا۔
جلال نے جواب میں کچھ نہیں کہا کچھ دیر وہ دونوں خاموش رہے۔
"کیا آپ اپنے پیرنٹس کی مرضی کے بغیر مجھ سے شادی نہیں کر سکتے؟" کچھ دیر بعد امامہ نے کہا۔
"یہ بہت بڑا قدم ہو گا۔" جلال نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔" اور بالفرض میں یہ کام کرنے کا سوچ لوں تو بھی نہیں ہو سکتا۔ تمہاری طرح میں بھی اپنے پیرنٹس پر ڈیپنڈنٹ ہوں۔" جلال نے اپنی مجبوری بتائی۔
"مگر آپ ہاؤس جاب کر رہے ہیں اور چند سالوں میں اسٹیبلش ہو جائیں گے۔" امامہ نے کہا۔
"میں ہاؤس جاب کے بعد اسپیشلائزیشن کے لئے باہر جانا چاہتا ہوں اور یہ میرے پیرنٹس کی مالی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اسپیشلائزیشن کے بعد ہی میں واپس آ کر اپنی پریکٹس اسٹیبلش کر سکتا ہوں تین چار سال اپنی اسٹڈیز ختم کرنے میں بھی لگ جائیں گے۔"
جلال نے اسے یاد دلایا۔
"پھر؟" امامہ نے اسے مایوسی سے دیکھا۔
"پھر یہ کہ مجھے سوچنے کا وقت دو۔ شاید میں کوئی رستہ نکال سکوں، میں تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتا مگر میں اپنا کیرئیر بھی خراب نہیں کر سکتا۔ میرا پرابلم صرف یہ ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ ہے ماں باپ کا ہے اور وہ اپنی ساری جمع پونجی مجھ پر خرچ کر رہے ہیں یہ سوچ کر کہ میں کل کو ان کے لئے کچھ کروں گا۔"
وہ بات کرتے کرتے رکا۔"کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمہارے والدین اپنی مرضی سے تمہاری شادی مجھ سے کر دیں۔ اس صورت میں کم از کم میرے والدین کو یہ اعتراض تو نہیں ہو گا کہ تم نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف انہیں بتائے بغیر مجھ سے شادی کی؟"
وہ جلال کا چہرہ دیکھنے لگی۔" میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتی۔ وہ میری بات مانیں گے یا نہیں۔ میں۔۔۔۔۔" امامہ نے کچھ مایوسی کے عالم میں بات ادھوری چھوڑ دی۔ جلال بات مکمل ہونے کا انتظار کرتا رہا۔
"میری فیملی میں آج تک کسی لڑکی نے اپنی مرضی سے باہر کسی لڑکے سے شادی نہیں کی۔ اس لئے میں یہ نہیں بتا سکتی کہ ان کا ردِعمل کیا ہو گا مگر میں یہ ضرور بتا سکتی ہوں کہ ان کا ردِعمل بہت برا ہو گا۔ بہت برا۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن مجھے یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ میں اتنا بڑا قدم اٹھاؤں۔ آپ کو اندازہ ہونا چاہئیے کہ میرے بابا کو کتنی شرمندگی اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صرف میرے لئے تو وہ سب کچھ نہیں بدل دیں گے۔"
"اگر مجھے اپنی فیملی سے مدد کی توقع ہوتی تو میں گھر سے باہر سہاروں کی تلاش میں ہوتی نہ ہی آپ سے اس طرح مدد مانگ رہی ہوتی۔"
دھیمے لہجے میں اپنے آواز کی لرزش پر قابو پاتے ہوئے اس نے جلال سے کہا۔
"امامہ! میں تمہاری مدد کروں گا۔۔۔۔۔ میرے پیرنٹس میری بات نہیں ٹالیں گے۔ سمجھانے میں کچھ وقت لگے گا مگر میں تمہاری مدد کروں گا۔ میں انہیں منا لوں گا۔ تم ٹھیک کہتی ہو کہ مجھے تمہاری مدد کرنی چاہئیے۔"
وہ پرسوچ مگر الجھے ہوئے انداز میں اس سے کہہ رہا تھا۔ امامہ کو عجیب سی ڈھارس ہوئی۔ اسے جلال سے یہی توقع تھی۔
امامہ نے سوچا۔" میرا انتخاب غلط نہیں ہے۔"
جاری ہے


پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 11


پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 11

اگلی بار جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک پرائیویٹ کلینک میں موجود تھا۔ آنکھیں کھول کر اس نے ایک بار پھر اپنے اردگرد دیکھنے کی کوشش کی۔ کمرے میں اس وقت ایک نرس موجود تھی جو اس کے پاس کھڑی ڈرپ کو صحیح کرنے میں مصروف تھی۔ سالار نے اسے مسکراتے دیکھا تھا وہ اس سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر اس کا ذہن ایک بار پھر تاریکی میں ڈوب گیا۔
دوسری بار اسے کب ہوش آیا، اسے اندازہ نہیں ہوا مگر دوسری بار آنکھیں کھولنے پر اس نے اس کمرے میں کچھ شناسا چہرے دیکھے تھے۔ اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ممی اس کی طرف بڑھ آئی تھیں۔
"کیسا محسوس کر رہے ہو تم؟" انہوں نے اس پر جھکتے ہوئے بے تابی سے کہا۔
"جسٹ فائن۔" سالار نے دور کھڑے سکندر عثمان کو دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔ اس سے پہلے کہ اس کی ممی کچھ اور کہتیں کمرے میں موجود ایک ڈاکٹر آگے آ گیا تھا۔ وہ اس کی نبض چیک کرنے لگا تھا۔
ڈاکٹر نے انجکشن لگانے کے بعد ایک بار پھر اسے ڈرپ لگائی۔ سالار نے کچھ بیزاری کے ساتھ یہ کاروائیاں دیکھیں۔ ڈرپ لگانے کے بعد وہ سکندر عثمان اور اس کی بیوی سے باتیں کرنے لگا۔ سالار اس گفتگو کے دوران چھت کو گھورتا رہا پھر کچھ دیر بعد ڈاکٹر کمرے سے نکل گیا۔
کمرے میں اب بالکل خاموشی تھی۔ سکندر عثمان اور اس کی بیگم اپنا سر پکڑے بیٹھے تھے۔ ان کی تمام کوششوں اور احتیاط کے باوجود یہ سالار سکندر کی خود کشی کی چوتھی کوشش تھی اور اس بار وہ واقعی مرتے مرتے بچا تھا۔ ڈاکٹرزکے مطابق اگر چند منٹو ں کی تاخیر ہوجاتی تو وہ اسے نہیں بچا سکتے تھے۔
سکندر اور ان کی بیوی کو ملازم نے رات کے دو بجے سالار کی خودکشی کی اس کوشش کے بارے میں بتایا تھا اور وہ دونوں میاں بیوی پوری رات سو نہیں سکے تھے۔ سکندر عثمان نے صبح فلائٹ ملنے تک تقریباً ڈیڑھ سو سگریٹ پھونک ڈالے تھے، مگر اس کے باوجود ان کی بے چینی اور اضطراب میں کمی نہیں ہو پار رہی تھی۔
"میری سمجھ میں نہیں آتا یہ آخر اس طرح کی حرکتیں کیوں کرتا ہے۔ آخر اس پر ہماری نصیحتوں اور ہمارے سمجھانے کا اثر کیوں نہیں ہوا۔" سکندر عثما ن نے دوران سفر کہا۔"میرا تو دماغ پھٹنے لگتا ہے جب میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں۔ کیا نہیں کیا میں نے اس کے لئے۔ ہر سہولت، بہترین تعلیم حتیٰ کہ بڑے سے بڑے سائیکاٹرسٹ کو دکھا چکا ہوں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔۔۔۔۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ہے جو مجھے یہ سزا مل رہی ہے۔ جاننے والوں کے درمیان مذاق بن گیا ہوں میں اس کی وجہ سے۔" سکندر عثمان بہت پریشان تھے۔" ہر وقت میرا دم حلق میں اٹکا رہتا ہے کہ پتا نہیں وہ کس وقت کیا کر گزرے۔ اتنی احتیاط برتنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک بار ہم غافل ہوئے اور وہ پھر وہی حرکت کر گزرا ہے۔" طیبہ نے اپنی آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کو ٹشو کے ساتھ صاف کیا۔ وہ دونوں اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے کراچی سے اسلام آباد آئے تھے مگر سالار کے سامنے آ کر دونوں کو چپ لگ گئی تھی۔ ان دونوں ہی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس حالت میں اس سے کیا کہیں۔
سالار کو ان کی دلی اور ذہنی کیفیات کا اچھی طرح اندازہ تھا اور ان کی خاموشی کو وہ غنیمت جان رہا تھا۔ انہوں نے اس دن اس سے کچھ نہیں کہا تھا۔ اگلے دن بھی وہ دونوں خاموش ہی رہے تھے۔
مگر تیسرے دن ان دونوں نے اپنی خاموشی توڑ دی تھی۔
"مجھے صرف یہ بتاؤ کہ آخر تم یہ سب کیوں کر رہے ہو؟"سکندر نے اس رات بڑی تحمل مزاجی سے اس کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا تھا۔" آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے۔ میں نے اسی وعدے پر تمہیں اسپورٹس کار بھی لے کر دی تھی۔ ہر بات مان رہے ہیں ہم لوگ تمہاری، پھر بھی تمہیں قطعاً احساس نہیں ہے ہم لوگوں کا، نہ خاندان کی عزت کا۔" سالار اسی طرح چپ بیٹھا رہا۔
"کسی اور کا نہیں تو تم ہم دونوں کا ہی خیال کرو۔ تمہاری وجہ سے ہماری راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔" طیبہ نے کہا۔" "تمہیں کوئی پریشانی، کوئی پرابلم ہے، تو ہم سے ڈسکس کرو، ہم سے کہو۔۔۔۔۔ مگر اس طرح مرنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔۔ تم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر تم ان کوششوں میں کامیاب ہو جاتے تو ہمارا کیا ہوتا۔" سالار خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔ ان کی باتوں میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ خود کشی کی ہر کوشش کے بعد وہ ان سے اسی طرح کی باتیں سنتا تھا۔
"کچھ بولو، چپ کیوں ہو؟ کچھ سمجھ میں آ رہا ہے تمہیں؟" طیبہ نے جھنجھلا کر کہا۔ وہ انہیں دیکھنے لگا۔" ماں باپ کو اس طرح ذلیل کر کے بڑی خوشی ملتی ہے تمہیں۔"
"اس قدر شاندار مستقبل ہے تمہارا اور تم اپنی احمقانہ حرکتوں سے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ لوگ ترستے ہیں اس طرح کے اکیڈمک ریکارڈ کے لئے۔" سکندر عثمان نے اسے اس کا اکیڈمک ریکارڈ یاد دلانے کی کوشش کی۔سالار نے بے اختیار ایک جماہی لی۔ وہ جانتا تھا اب وہ اس کے بچپن سے لے کر اس کی اب تک کی کامیابیوں کو دہرانا شروع کریں گے۔ ایسا ہی ہوا تھا۔ اگلے پندرہ منٹ اس موضوع پر بولنے کے بعد انہوں نے تھک کر پوچھا۔
"آخر تم کچھ بول کیوں نہیں رہے ، بولو"
"میں کیا بولوں، سب کچھ تو آپ دونوں نے کہہ دیا۔" سالارنے کچھ اکتائے ہوئے انداز میں کہا۔" میری زندگی میرا پرسنل معاملہ ہے پھر بھی میں نے آپ کو بتایا ہے کہ دراصل میں مرنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔" سکندر نے اس کی بات کاٹی۔
"تم جو بھی کر رہے تھے، وہ مت کرو، ہم پر کچھ رحم کھاؤ۔" سالار نے ناراضی سے باپ کو دیکھا۔
"تم آخر یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ تم آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گے۔ فضول میں بحث کیوں کرتے جا رہے ہو؟" اس بار طیبہ نے اس سے کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے، نہیں کروں گا، ایسی کوئی بھی حرکت۔" سالار نے بے زاری سے جیسے ان دونوں سے جان چھڑانے کے لئے کہا۔ سکندر نے ایک گہری سانس لی۔ وہ اس کے وعدے پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ نہ وہ۔۔۔۔۔ نہ ان کی بیوی۔۔۔۔۔ مگر ایسے وعدے لینے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ بچپن سے اپنے اس بیٹے پر فخر کرتے آ رہے تھے، مگر پچھلے کچھ سالوں سے ان کا وہ فخر ختم ہو گیا تھا۔ جتنا پریشان انہیں سالار نے کیا تھا اتنا ان کے باقی بچوں نے مل کے بھی نہیں کیا تھا۔
"اب کیسا ہے تمہارا دوست؟ گئے تھے تم اس کی خیریت دریافت کرنے؟" امامہ وسیم کے ساتھ مارکیٹ جا رہی تھی کہ اچانک اسے سالار کا خیال آیا۔
"پہلے سے تو حالت کافی بہتر ہے اس کی۔ شاید کل پرسوں تک ڈسچارج ہو جائے۔" وسیم نے اسے سالار کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔" تم چلو گی واپسی پر اس کو دیکھنے؟" وسیم کو اچانک خیال آیا۔
"میں؟" امامہ حیران ہوئی۔" میں کیا کروں گی جا کر۔۔۔۔۔"
"خیریت دریافت کرنا اور کیا کرنا ہے تمہیں۔" وسیم نے سنجیدگی سے کہا۔
"اچھا۔" امامہ نے کچھ تامل سے کہا۔
"چلو ٹھیک ہے، چلیں گے۔ حالانکہ اس طرح کے مریض کی عیادت کرنا فضول ہے۔" اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
"ایسے مجھے توقع تھی کہ ا س کے پیرنٹس ہمارے گھر آئیں گے، شکریہ وغیرہ ادا کرنے کہ ہم نے ان کے بیٹے کی جان بچا لی۔ کس قدر بروقت مدد کی تھی ہم نے، مگر انہوں نے تو بھولے سے ہمارے گھر کا رخ نہیں کیا۔" امامہ نے تبصرہ کیا۔
"تم ان بیچاروں کی کنڈیشن کا اندازہ ہی نہیں کر سکتیں۔ کس منہ سے وہ شکریہ ادا کرنے آئیں اور پھر اگر کوئی یہ پوچھ بیٹھے کہ آپ کے بیٹے نے ایسی حرکت کیوں کی تو وہ دونوں کیا جواب دیں گے۔۔۔۔۔ وہ بیچارے عجیب مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں۔"
وسیم نے قدرے افسوس کرنے والے انداز میں کہا۔" ویسے اس کے پیرنٹس نے میرا بہت شکریہ ادا کیا ہے اور امی اور بابا پرسوں جب اس کی خیریت دریافت کرنے گئے تھے تو انہوں نے وہاں بھی ان دونوں کا بہت شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ تو امی اور بابا کی سمجھداری تھی کہ انہوں نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا سالار کے بارے میں، ورنہ تو ادھر بھی خاصی خفت کا سامنا کرنا پڑتا انہیں۔" وسیم نے گاڑی موڑتے ہوئے کہا۔
"مگر آخر تمہارے اس دوست کا مسئلہ کیا ہے، کیوں بیٹھے بٹھائے اس طرح کی احمقانہ حرکتیں کرنے لگتا ہے؟" امامہ نے پوچھا۔
"تم مجھ سے اس طرح پوچھ رہی ہو جیسے وہ مجھے سب کچھ بتا کر یہ سب کچھ کرتا ہو گا۔ مجھے کیاپتا وہ کس لئے یہ سب کرتا ہے یا کیوں کرتا ہے۔"
"تمہارا اتنا گہرا دوست ہے، تم پوچھتے کیوں نہیں اس سے؟"
"اتنا گہرا بھی نہیں ہے کہ ایسی باتوں کے بارے میں بھی مجھے بتانے لگے اور ویسے بھی میں کیوں کریدوں، ہو گا اس کا کوئی مسئلہ۔"
"تو پھر بہتر نہیں ہے کہ تم ایسے دستوں سے کچھ فاصلے پر رہو، ایسے لوگوں سے دوستی اچھی نہیں ہوتی۔ اگر کل کو تم نے بھی اس طرح کی حرکتیں شروع کر دیں تو۔۔۔۔۔؟"
"ویسے تم نے اس دن جو حرکت کی تھی وہ اگر اسے یاد رہی تو ہماری دوستی میں خود ہی خاصا فرق آ جائے گا۔" وسیم نے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
"میں نہیں سمجھتی کہ ا سے وہ تھپڑ یاد ہو گا۔ وہ صحیح طور پر ہوش میں تو نہیں تھا۔ تم سے ذکر کیا اس نے اس بارے میں؟" امامہ نے پوچھا۔
"نہیں مجھ سے کہا تو نہیں مگر ہو سکتا ہے کہ اسے یاد ہو۔ تم نے اچھا نہیں کیا تھا۔"
"اس نے حرکت ہی ایسی کی تھی۔ ایک تو اپنا ہاتھ کھینچ رہا تھا دوسرے گالیاں دے رہا تھا اوپر سے میرا دوپٹہ بھی کھینچ لیا۔"
"اس نے دوپٹہ نہیں کھینچا تھا، اس کا ہاتھ لگا تھا۔" وسیم نے سالار کا دفاع کرتے ہوئے کہا۔
"جو بھی تھا، اس وقت تو مجھے بہت غصہ آیا تھا مگر بعد میں مجھے بھی افسوس ہوا تھا اور میں نے تو اللہ کا بہت شکر ادا کیا کہ وہ بچ گیا۔ اگر کہیں وہ مر جاتا تو مجھے تو بہت ہی پچھتاوا ہوتا اپنے اس تھپڑ کا۔" امامہ نے قدرے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
"چلو تم آج جا رہی ہو تو معذرت کر لینا۔" وسیم نے مشورہ دیا۔
"کیوں ایکسکیوز کروں، ہو سکتا ہے اسے کچھ یاد ہی نہ ہو پھر میں خواہ مخواہ گڑے مردے اکھاڑوں۔ اسے یاد دلاؤں کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیاتھا۔" امامہ نے فوراً کہا۔
"اور فرض کرو اسے سب کچھ یاد ہوا تو۔۔۔۔۔؟"
"تو۔۔۔۔۔ تو کیا ہو گا۔۔۔۔۔ وہ کون سا ہمارا رشتہ دار ہے کہ اس سے تعلقات خراب ہو جائیں گے یا میل جول میں فرق پڑے گا۔" امامہ نے لاپرواہی سے کہا۔
شاپنگ کرنے کے بعد سالار اسے کلینک لے آیا جہاں سالار زیر علاج تھا۔
وہ دونوں جس وقت اس کمرے میں داخل ہوئے اس وقت وہ سوپ پینے میں مصروف تھا۔
سالار نے وسیم کے ساتھ آنے والی لڑکی کو دیکھا اور فوراً پہچان لیا تھا۔ اگرچہ اس رات اس حالت میں وہ اسے شناخت نہیں کر سکا مگر اس وقت اسے دیکھتے ہی وہ اسے پہچان گیا تھا۔ اپنی ممی سے یہ بات وہ پہلے ہی جان چکا تھا کہ وسیم کی بہن نے اسے فرسٹ ایڈ دی تھی مگر اسے وہ فرسٹ ایڈ یاد نہیں تھی، بس وہ زناٹے دار تھپڑ یاد تھا جو اس رات اسے پڑا تھا۔ اس لئے امامہ کو دیکھتے ہی وہ سوپ پیتے پیتے رک گیا۔
اس کی چبھتی ہوئی نظروں سے امامہ کو اندازہ ہو گیا کہ اسے یقیناً اس رات ہونے والے واقعات کسی نہ کسی حد تک یاد تھے۔
رسمی علیک سلیک کے بعد اس کی ممی امامہ کا شکریہ ادا کرنے لگیں، جبکہ سالار نے سوپ پیتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ وسیم سے اس کی دوستی کو کئی سال گزر چکے تھے اور اس نے وسیم کے گھر میں امامہ کو بھی کئی بار دیکھا تھا مگر اس نے پہلے کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ اس دن پہلی بار وہ اس پر قدرے تنقیدی انداز میں غور کر رہا تھا۔ اس کے دل میں امامہ کے لئے تشکر یا احسان مندی کے لئے کوئی جذبات نہیں تھے۔ اس کی وجہ سے اس کے سارے پلان کا بیڑہ غرق ہو گیا تھا۔
امامہ اس کی ممی سے گفتگو میں مصروف تھی مگر وہ وقتاً فوقتاً اپنے اوپر پڑنے والی اس کی نظروں سے بھی واقف تھی۔ زندگی میں پہلی بار اسے کسی کی نظریں اتنی بری لگی تھیں۔
ایک لمحے کے لئے اس کا دل چاہا وہ اٹھ کر وہاں سے بھاگ جائے۔سالار کے بارے میں اس کی رائے اور بھی خراب ہو گئی تھی۔ وہ اپنے اس تھپڑ کے لئے معذرت کے ارادے سے وہاں آئی تھی مگر اس وقت اس کا دل چاہا اسے دو چار اور تھپڑ لگا دے۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد فوراً ہی وہ واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور واپس جاتے ہوئے اس نے سالار کے ساتھ علیک سلیک کا تکلف بھی نہیں کیا تھا۔ وہ صرف اس کی ممی کے ساتھ دعا سلام کے بعد سالار کی طرف دیکھے بغیر باہر نکل آئی تھی اور باہر آ کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔
"اس طرح کے دوست بنائے ہوئے ہیں تم نے؟" اس نے باہر نکلتے ہی وسیم سے کہا جس نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔
"کیوں ، اب کیا ہوا ہے؟"
"اسے دیکھنے تک کی تمیز نہیں ہے۔ اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ میں اس کے دوست کی بہن ہوں اور اس کے دوست کے ساتھ اس کے کمرے میں موجود ہوں۔"
وسیم اس کی بات پر کچھ خفیف سا ہو گیا۔
"یہ آدمی اس قابل نہیں کہ اس کی عیادت کے لئے جایا جائے اور تم اس کے ساتھ میل جول بند کرو۔"
"اچھا ٹھیک ہے میں محتاط رہوں گا۔ اب تم بار بار اس بات کو نہ دہراؤ۔" وسیم نے موضوع گفتگو بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔ امامہ دانستہ طور پر خاموش ہو گئی مگر سالار اس کے ناپسندیدہ افراد کی لسٹ میں شامل ہو چکا تھا۔
یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ وہ ان دنوں کچھ چھیاں گزارنے اسلام آباد آئی ہوئی تھی ورنہ شاید سالار سے اس کا اتنا قریبی اور اتنا ناپسندیدہ تعارف اور تعلق کبھی پیدا نہ ہوتا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے پہلی بار جلال انصر کو تب قریب سے دیکھا جب ایک دن وہ چاروں کالج کے لان میں بیٹھی گفتگو میں مصروف تھیں، وہ وہاں کسی کام سے آیا تھا۔ رسمی سی علیک سلیک کے بعد وہ زینب کے ساتھ چند قدم دور جا کھڑا ہوا تھا۔ امامہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکی۔ ایک عجیب سی مسرت اور سر خوشی کا احساس اسے گھیرے میں لے رہا تھا۔
وہ چند منٹ زینب سے بات کرنے کے بعد وہیں سے چلا گیا۔ امامہ اس کی پشت پر نظریں جمائے اس وقت تک اسی دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔ اس کے اردگرد بیٹھی اس کی فرینڈز کیا باتیں کر رہی تھیں، اسے اس وقت اس کا کوئی احساس نہیں تھا جب وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوا تو یکدم جیسے دوبارہ اپنے ماحول میں واپس آ گئی۔
جلال انصر سے اس کی دوسری ملاقات زینب کے گھر پر ہوئی تھی۔ اس دن وہ کالج سے واپسی پر زینب کے ساتھ اس کے گھر آئی تھی۔ زینب کچھ دنوں سے ان سب کو اپنے ہاں آنے کے لئے کہہ رہی تھی۔ باقی سب نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیا تھا، مگر امامہ اس دن اس کے ساتھ اس کے گھر چلی آئی تھی۔ اس کے گھر آ کر اسے عجیب سے سکون کا احساس ہوا تھا۔ شاید اس احساس کی وجہ جلال انصر سے اس گھر کی نسبت تھی۔
وہ ڈرائینگ روم میں بیٹھی ہوئی تھی اور زینب چائے تیار کرنے کے لئے کچن میں گئی تھی۔ جب جلال ڈرائینگ روم میں داخل ہوا۔ امامہ کو وہاں دیکھ کر کچھ چونک گیا۔ شاید اسے امامہ کو وہاں دیکھنے کی توقع نہیں تھی۔
"السلام علیکم! کیا حال ہے آپ کا؟" جلال نے شاید اس طرح بے دھڑک اندر داخل ہونے پر اپنی جھینپ مٹانے کے لئےکہا۔ امامہ نے رنگ بدلتے چہرے کے ساتھ اس کا جواب دیا۔
"زینب کے ساتھ آئی ہیں آپ؟" اس نے پوچھا۔
"جی۔"
"زینب کہاں ہے۔ میں دراصل اس کو ڈھونڈتے ہوئے یہاں آ گیا۔ مجھے پتا نہیں تھا کہ اس کی کوئی دوست یہاں موجود ہے۔" کچھ معذرت خواہانہ انداز میں کہتے ہوئے وہ پلٹ گیا۔
"آپ بہت اچھی نعت پڑھتے ہیں۔" امامہ نے بے ساختہ کہا۔ وہ ٹھٹک گیا۔
"شکریہ۔" وہ کچھ حیران نظر آیا۔" آپ نے کہاں سنی ہے؟"
"ایک دن میں نے زینب کو فون کیا تھا جب تک فون ہولڈ رہا مجھے آپ کی آواز آتی رہی، پھر زینب سے آپ کے بارے میں پتا چلا۔ میں اس نعتیہ مقابلے میں بھی گئی تھی جہاں آپ نےوہ نعت پڑھی تھی۔"
وہ بے اختیار کہتی چلی گئی۔ جلال انصر کی سمجھ میں نہیں آیا وہ حیران ہو یا خوش۔
"بہت اچھی تو نہیں، بس پڑھ لیتا ہوں۔ اللہ کا کرم ہے۔" اس نے حیرت کے اس جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے سفید چادر میں لپٹی اس دبلی پتلی دراز قامت لڑکی کو دیکھا جس کی گہری سیاہ آنکھیں کوئی بہت عجیب سا تاثر لئے ہوئے تھیں۔ اپنی آواز کی تعریف وہ بہت سوں سے سن چکا تھا مگر اس وقت اس لڑکی کی تعریف اس کے لئے قدرے غیر معمولی تھی اور جس انداز میں اس نے یہ کہا تھا وہ اس سے بھی زیادہ عجیب۔
وہ پلٹ کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا۔ وہ ویسے بھی لڑکیوں سے گفتگو میں مہارت نہیں رکھتا تھا اور پھر ایک ایسی لڑکی سے گفتگو جس سے وہ صرف چہرے کی حد تک واقف تھا۔
امامہ ایک عجیب سی مسرت کے عالم میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس نے جلال انصر سے بات کی تھی۔ اپنے سامنے۔۔۔۔۔ خود سے اتنے قریب۔۔۔۔۔ وہ ڈرائنگ روم کے دروازے سے کچھ آگے کارپٹ پر اس جگہ کو دیکھتی رہی جہاں وہ کچھ دیر پہلے کھڑا تھا۔ تصور کی آنکھ سے وہ اسے ابھی بھی وہیں دیکھ رہی تھی۔
ان کی اگلی ملاقات ہاسپٹل میں ہوئی۔ پچھلی دفعہ اگر امامہ دانستہ طور پر زینب کے گھر گئی تھی تو اس بار یہ ایک اتفاق تھا۔ امامہ، رابعہ کے ساتھ وہاں آئی تھی جسے وہاں اپنی کسی دوست سے ملنا تھا۔ ہاسپٹل کے ایک کوریڈور میں فائنل سٹوڈنٹس کے ایک گروپ میں اس نے جلال انصر کو دیکھا۔ اس کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔ کوریڈور میں اتنا رش تھا کہ وہ اس کے پاس نہیں جا سکتی تھی اور اس وقت پہلی بار امامہ کو احسا س ہوا کہ اسے سامنے دیکھ کر اس کے لئے رک جانا کتنا مشکل کام تھا۔ رابعہ کی دوست کے ساتھ بیٹھے ہوئے بھی اس کا دھیان مکمل طور پر باہر ہی تھا۔
ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ رابعہ کے ساتھ اس کی دوست کے کمرے سے باہر آئی تھی۔ اب وہاں فائنل ائیر کے اسٹوڈنٹس کا وہ گروپ نہیں تھا۔ امامہ کو بے اختیار مایوسی ہوئی۔ رابعہ اس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے باہر نکل رہی تھی جب سیڑھیوں پر ان دونوں کا آمنا سامنا جلال سے ہو گیا۔ امامہ کے جسم سے جیسے ایک کرنٹ سا گزر گیا تھا۔
"السلام علیکم۔ جلال بھائی! کیسے ہیں آپ؟" رابعہ نے پہل کی تھی۔
"اللہ کا شکر ہے۔"
اس نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
"آپ لوگ یہاں کیسے آ گئے؟" اس بار جلال نے امامہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"میں اپنی ایک فرینڈ سے ملنے آئی تھی اور امامہ میرے ساتھ آئی تھی۔" رابعہ مسکراتے ہوئے بتا رہی تھی جبکہ امامہ خاموشی سے اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔
دستگیری میری تنہائی کی تو نے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
اس کی آواز سنتے ہوئے وہ ایک بار پھر ٹرانس میں آ رہی تھی۔ اس نے بہت کم لوگوں کو اتنے شستہ لہجے میں اردو بولتے ہوئے سنا تھا، جس لہجے میں وہ بات کر رہا تھا۔ پتا نہیں کیوں ہر بار اس کی آواز سنتے ہی اس کے کانوں میں اس کی پڑھی ہوئی وہ نعت گونجنے لگتی تھی۔ اسے عجیب سا رشک آ رہا تھا اسے دیکھتے ہوئے۔
جلال نے رابعہ سے بات کرتے ہوئے شاید اس کی محویت کو محسوس کیا تھا، اسی لئے بات کرتے کرتے اس نے امامہ کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ امامہ نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں۔ بے اختیار اس کا دل چاہا تھا وہ اس شخص کے اور قریب چلی جائے۔ جلال سے نظریں ہٹا کر اردگرد گزرتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے اس نے تین بار لاحول پڑھی۔"شاید اس وقت شیطان میرے دل میں آ کر مجھے اس کی طرف راغب کر رہا ہے۔" اس نے سوچا مگر لاحول پڑھنے کے بعد بھی اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ اب بھی جلال کے لئے ویسی ہی کشش محسوس کر رہی تھی۔
اسجد سے اتنے سالوں کی منگنی کے بعد بھی کبھی اس نے اپنے آپ کو اس کے لئے اس طرح بےاختیار ہوتے نہیں دیکھا تھا جس طرح وہ اس وقت ہو رہی تھی۔ وہاں کھڑے اسے پہلی بار جلال سے بہت زیادہ خوف آیا۔ میں کیا کروں گی اگر میرا دل اس آدمی کو دیکھ کر اسی طرح بے اختیار ہوتا رہا، آخر اسے دیکھ کر مجھے۔۔۔۔۔ اس نے جیسے بے بسی کے عالم میں سوچا۔ میں اتنی کمزور تو کبھی بھی نہیں تھی کہ اس جیسے آدمی کو دیکھ کر اس طرح۔۔۔۔۔ اس نے اپنے وجود کو موم کا پایا۔
"بھائی! آپ فارغ ہیں؟" اس رات زینب دروازے پر دستک دے کر جلال کے کمرے میں داخل ہوئی۔
"ہاں ، آ جاؤ۔" اس نے اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے گردن موڑ کر زینب کو دیکھا۔
"آپ سے ایک کام ہے۔" زینب اس کے پاس آتے ہوئے بولی۔
"کیا کام ہے؟"
"آپ ایک کیسٹ میں اپنی آواز میں کچھ نعتیں ریکارڈ کر دیں۔" زینب نے کہا۔ جلا ل نے حیرت سے اس کی فرمائش سنی۔
"کس لئے؟"
"وہ میری دوست ہے امامہ اس کو آپ کی آواز بہت پسند ہے اس لئے۔۔۔۔۔ اس نے مجھ سے فرمائش کی اور میں نے ہامی بھر لی۔" زینب نے تفصیل بتائی۔
جلال اس فرمائش پر مسکرایا۔ امامہ سے کچھ دن پہلی ہونے والی ملاقات اسے یاد آ گئی۔
"یہ وہی لڑکی ہے جو اس دن یہاں آئی تھی؟" جلال نے سرسری انداز میں پوچھا۔
"ہاں وہی لڑکی ہے، اسلام آباد سے یہاں آئی ہے۔"
"اسلام آباد سے؟ ہاسٹل میں رہ رہی ہے؟" جلال نے کچھ دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔
"جی ہاسٹل میں رہ رہی ہے، کافی اچھا خاندان ہے اس کا، بہت بڑے انڈسٹریلسٹ ہیں اس کے فادر۔۔۔۔۔ مگر امامہ سے مل کے ذرا محسوس نہیں ہوتا۔" زینب نے بے اختیار امامہ کی تعریف کی۔
"کافی مذہبی لگتی ہے۔ میں نے اسے ایک دو بار تمہارے ساتھ کالج میں بھی دیکھا ہے۔ کالج میں بھی چادر اوڑھی ہوتی ہے اس نے۔ یہاں کالج کی"آب و ہوا" کا ابھی تک اثر نہیں ہوا اس پر۔" جلال نے کہا۔
"بھائی! اس کی فیملی بھی خاصی مذہبی ہے کیونکہ وہ جب سے یہاں آئی ہے اسی طرح ہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کافی کنزرویٹو لوگ ہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کی فیملی خاصی تعلیم یافتہ ہے۔ نہ صرف بھائی بلکہ بہنیں بھی۔ یہ گھر میں سب سے چھوٹی ہے۔" زینب نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔" تو پھر آپ کب ریکارڈ کر کے دیں گے؟" زینب نے پوچھا۔
"تم کل لے لینا۔ میں ریکارڈ کر دوں گا۔" جلال نے کہا۔ وہ سر ہلاتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ جال کچھ دیر کسی سوچ میں ڈوبا رہا پھر دوبارہ اس کتاب کی طرف متوجہ ہو گیا جسے وہ پڑھ رہا تھا۔
ان کی اگلی ملاقات لائبریری میں ہوئی تھی۔ اس بار امامہ اسے وہاں موجود دیکھ کر بے اختیار اس کی طرف چلی گئی تھی۔ رسمی علیک سلیک کے بعد امامہ نے کہا۔
"میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔"
جلال نے حیرانی سے اسے دیکھا۔" کس لئے؟"
"اس کیسٹ کے لئے، جو آپ نے ریکارڈ کر کے بھجوائی تھی۔" جلال مسکرایا۔
"نہیں ، اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کبھی کوئی مجھ سے ایسی فرمائش کر سکتا ہے۔"
"آپ بہت خوش قسمت ہیں۔" امامہ نے مدھم آواز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں۔۔۔۔۔ کس حوالے سے؟" جلال نے ایک بار پھر حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
"ہر حوالے سے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس سب کچھ ہے۔"
"آپ کے پاس بھی تو بہت کچھ ہے۔"
وہ جلال کی بات پر عجیب سے انداز میں مسکرائی۔ جلال کو شبہ ہوا کہ اس کی آنکھوں میں کچھ نمی نمودار ہوئی تھی مگر وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ اب نظریں جھکائے ہوئے تھی۔
"پہلے کچھ بھی نہیں تھا، اب واقعی سب کچھ ہے۔" جلال نے مدھم آواز میں اسے کہتے سنا وہ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
"آپ اتنی محبت سے رسوال ﷺ کا نام لیتے ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ۔۔۔۔۔" اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ جلال خاموشی سے اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کرتا رہا۔
"مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔" چند لمحے بعد وہ آہستہ سے بولی۔
"سب لوگوں کو تو اس طرح کی محبت نہیں ہوتی جیسی محبت آپ کو حضرت محمد ﷺ سے ہے۔ ہو بھی جائے تو ہر کوئی اس طرح اس محبت کا اظہار نہیں کر سکتا کہ دوسرے بھی رسول ﷺ کی محبت میں گرفتار ہونے لگیں۔ محمد ﷺ کو بھی آپ سے بڑی محبت ہو گی۔" اس نے نظریں اٹھائیں ۔ اس کی آنکھوں میں کوئی نمی نہیں تھی۔
"شاید مجھے وہم ہوا تھا۔" جلال نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا۔
"یہ میں نہیں جانتا، اگر ایسا ہو تو میں واقعی بہت خوش قسمت انسان ہوں۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ مجھے واقعی حضور اکرم ﷺ سے بڑی محبت ہے۔ مجھ جیسے لوگوں کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ ہر ایک کو اللہ اس محبت سے نہیں نوازتا۔"
وہ بڑی رسانیت سے کہہ رہا تھا۔ امامہ اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکی۔ اسے کبھی کسی شخص کے سامنے اس طرح کا احساس کمتری نہیں ہوا تھا، جس طرح کا احساس کمتری وہ جلال انصر کے سامنے محسوس کرتی تھی۔
"شاید میں بھی نعت پڑھ لوں۔ شاید میں بھی بہت اچھی طرح اسے پڑھ لوں مگر میں۔۔۔۔۔ میں جلال انصر کبھی نہیں ہو سکتی۔ کبھی بن ہی نہیں سکتی۔ کبھی میری آواز سن کر کسی کا وہ حال نہیں ہو سکتا جو جلال انصر کی آواز سن کر ہوتا ہے۔" وہ لائبریری سے نکلتے ہوئے مسلسل مایوسی کے عالم میں سوچ رہی
جاری ہے


Saturday, 4 November 2017

محمد بن قاسم

محمد بن قاسم 

محمد بن قاسم کی پیدائش 77ھ میں ہوئی۔ آپ کے والد قاسم بن یوسف بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ والدہ نے تعلیم وتربیت کی ذمہ داری اٹھائی۔ محمد بن قاسم نہایت سمجھدار، بہادر، مستقل مزاج اور صالح جوان تھے۔ اس نوجوان نے سندھ کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم و سکندر سے بڑھ کر ثابت کیا تو دوسری طرف وہ نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل اور رعایا پرور ظاہر ہوا۔ اس نوجوان فتح مند سردار نے سلیمان کے خلاف قطعاً کوئی گستاخی نہیں کی تھی مگر خلیفہ سلیمان بن ملک کی کینہ دوزی اور حسد نے محمد بن قاسم کے خلاف انتقامی کارروائی کی اور آپ کو ابن ابی کبشہ نے خلیفہ سلیمان بن ملک کے حکم سے گرفتار کر کے دمشق کی جانب روانہ کر دیا۔ وہاں انھیں خلیفہ سلیمان بن ملک کے حکم سے واسط کے جیل خانے میں قید کر دیا گیا اور صالح بن عبدالرحمن کو ان پر مسلط کر دیا گیا۔ جس نے انھیں جیل خانے میں انواع و اقسام کی تکلیفیں دے کر مار ہی ڈالا۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر صرف 22 سال تھی


طارق بن زیادؒ



طارق بن زیادؒ
فاتح اسپین طارق بن زیاد طنجہ کے گورنر تھے۔ گورنر افریقہ موسیٰ بن نصیر کے حکم سے انھوں نے اسپین پر چڑھائی کی۔ یہ اپنا7 ہزار لشکر کشتیوں میں سوار کر کے آبنائے جبل الطارق کے پار اسپین کے جنوبی راس پر جا اترے۔ ان کی فوج میں زیادہ تر بربری نومسلم اور کم تر عربی لوگ تھے۔ مغیث الرومی نامی ایک مشہور فوجی افسر بھی اس فوج میں شامل تھا جو طارق بن زیاد کا نائب سمجھا جاتا تھا۔ طارق بن زیاد جس مقام پر اترے اس کا نام لائنز راک (قلتہ الاسد) تھا۔ اس کے بعد سے اس کا نام جبل الطارق مشہور ہوا اور آج تک جبل الطارق یا جبرالٹر ہی کہلاتا ہے۔ طارق بن زیاد نے اسپین کے ساحل پر اتر کر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جن جہازوں میں سوار ہو کر آئے تھے ان کو آگ لگا کر سمندر میں غرق کر دیا۔ طارق کی یہ حرکت بہت ہی عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ذرا غور و تامل کی نگاہ سے دیکھا جائے تو طارق کی انتہائی بہادری اور قابلیت سپہ سالاری کی ایک زبردست دلیل ہے۔ طارق بن زیاد اس بات سے واقف تھے کہ مٹھی بھر فوج ایک عظیم الشان سلطنت کی افواج گراں کے مقابلے میں بے حقیقت نظر آئے گی۔ ممکن ہے بربری نو مسلموں کو گھر یاد آنے لگے اور ماتحت فوجی افسر اس بات پر زور دینے لگیں کہ جب تک بڑی اور زبردست فوجیں نہ آئیں اس وقت تک لڑائی کا چھیڑنا مناسب نہیں ہے اور بہتر یہی ہے کہ طنجہ کو واپس چلیں۔ ایسی حالت میں پہلی مہم ناکام رہے گی۔ اس لیے طارق بن زیاد نے جہازوں کو آگ لگا کر سمندر میں غرق کر کے اپنے ہمراہیوں کو بتا دیا کہ واپس جانے کا اب کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ ہمارے پیچھے سمندر اور آگے دشمن کا وسیع ملک ہے۔ بجز اس کے اور کوئی صورت نجات کی باقی نہیں رہی کہ ہم دشمن کے ملک پر قبضہ کر کے اور اس کی فوجوں کو پیچھے ڈھکیلتے چلے جائیں۔ اس کام میں ہم جس قدر زیادہ چُستی اور ہمت سے کام لیں گے ہمارے لیے بہتر ہو گا۔ سستی، پست ہمتی اور تن آسانی کا نتیجہ ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔

شہر شدونہ کے متصل لاجنڈا کی جھیل کے قریب ایک چھوٹی سی ندی کے کنارے 28 رمضان المبارک 92ھ میں اسپین کی فوج سے پہلی جنگ ہوئی اور 5 شوال 92ھ کواسپینی فوج کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد طارق بن زیاد نے قرطبہ اور طیطلہ کی طرف پیش قدمی کر کے انھیں بھی فتح کیا۔ خلیفہ سلیمان بن ملک نے موسیٰ بن نصیر کو معزول کر کے قید کر دیا۔ طارق بن زیاد جو موسیٰ ہی کے تربیت اور آزاد کردہ غلام تھے۔ انھیں اسپین سے بلاکر ایک معقول پینشن دے کر ملک شام کے کسی شہر میں قیام پذیر ہونے کا حکم دیا۔ اسطرح طارق بن زیاد کے آخری ایام گمنامی میں بسر ہوئے۔

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India