اُردو ناول آن لائن

Monday, 23 October 2017

سسی پنوں کی کہانی پارٹ 1





سسی پنوں کی کہانی پارٹ 1وہ پیدائشی اندھا نہ تھا۔
پانچ سال پہلے اس کی آنکھوں میں موتیا اترا اور ہمیشہ کے لئے نابینا ہوگیا۔ وہ ذات کا برہمن تھا، ہندومذہب میں یہ سب سے اونچی اور قابل احترام ذات کہی جاتی ہے ۔وہ مذہبی تعلیم کا بڑا ماہر تھا۔ اگرچہ جوان تھا لیکن دور دور سے بڑے بڑے پنڈت اس سے گیتا کے نکتے سمجھنے آتے تھے۔ اس گیان دھیان اور اپنی بے پناہ دولت کی وجہ سے وہ زمین پر قدم نہ رکھتا تھا۔ بھمبور کے علاوہ ارد گرد کے بہت سے مندروں کا وہ گرو پنڈت تھا۔ ان مندروں میں جو نذرانے چڑھتے ان میں آدھا حصہ سورداس کا ہوتا تھا۔
یہ واقعہ اس کی عمر کے پچیسویں سال(25) کا ہے ۔اس وقت تک اس نے شادی نہ کی تھی۔ اور نہ اس کا کوئی ارادہ تھا لیکن نہ جانے اچانک اسے کیا ہوا کہ ایک دن صبح کے وقت جب کہ مندر میں بچاریوں کا ہجوم تھا، اس نے مسکراتے ہوئے اعلان کیا:
"میں بہت جلد شادی کررہا ہوں”
"کس سے؟” اس کے ایک ساتھی پنڈت نے پوچھا۔
"بس دیکھ لینا، پہلے سے نہیں بتاؤں گا۔” سور داس ٹال گیا۔
"کوئی بھی ہو مگر اس کی قسمت کھل جائے گی۔ سونے میں پیلی ہوجائے گی” ایک اور ساتھی نے تبصرہ کیا شام ہوتے ہوتے یہ بات پورے بھمبور میں پھیل گئی کہ بڑا پنڈت شادی کررہا ہے۔ کس سے کر رہا ہے اس کا علم کسی کو نہ تھا۔ مگر اس بارے میں ابھی ابھی گفتگو ضرور ہورہی تھی۔ لوگوں کو یہ تو معلوم تھا کہ سور داس آج کل مندر آنے والی ایک خوبصورت عورت سے خوب ہنس ہنس کے باتیں کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسی سے شادی کررہا ہو۔ مگر یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی تھی۔پھر ایک دن سور داس نے اپنی ہونے والی جیون ساتھی کا نام ظاہر کردیا۔ لوگ جس کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔ یہ وہی عورت تھی۔ اسے عورت تو نہیں کہہ سکتے کہ ابھی تک اس کی شادی نہ ہوئی تھی مگر بیس سال کی یہ دوشیزہ اس قدر سمجھ دار تھی کہ لوگ نہ صرف اس کی تعریف کرتے بلکہ عزت بھی کرتے تھے، وہ بھمبور کے بڑے مندر میں جہاں کا سورداس بڑا پنڈت تھا، نہ صرف روز آتی بلکہ وہاں گھنٹوں عبادت میں مصروف رہتی۔ اس کے بارے میں لوگوں کا عام خیال تھا کہ اس نے اپنی زندگی عبادت اور مندر کے لیے تج دی ہے اور یہ کہ وہ کبھی شادی نہ کرے گی۔
دوشیزہ بھی ایک پنڈت کی بیٹی تھی ۔ اس کا نام تو کسی کو معلوم نہ تھا مگر اپنی عبادت کی وجہ سے وہ لوگوں میں”دیوی” کے نام سے مشہور ہوگئی تھی۔ دیوی اور سورداس کو مندر میں آنے جانے والوں نے اکثر باتیں کرتے دیکھا تھا لیکن وہ ان پرشبہ نہ کرتے تھے بلکہ اسے بھی مذہبی گفتگو کانام دیتے تھے۔ پھر جب سورداس نے دیوی سے شادی کرنے کا اعلان کیا تو لوگوں کو کچھ زیادہ تعجب نہ ہوا بلکہ انہوں نے اسے سراہا۔
سورداس کی صحت قابل رشک تھی۔ وہ گوری رنگت،مضبوط ہاتھ پیر اور دراز قامت جوان تھا۔ یہ ضرور تھا کہ اس کے چہرے پر نرمی یا مسکراہٹ کے بجائے ایک طرح کی سختی اور کرختگی رہتی تھی۔ لوگ اسے مغرور سمجھتے مگر عزت بھی کرتے تھے۔ غرور کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہ لوگوں سے الگ تھلک رہنے کا عادی تھا مگر مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بہت پکا تھا اس کی عزت کی یہی وجہ تھی۔سور داس کی شادی کا اعلان ہوگیا۔ وہ خود کافی مالدار تھا، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہ تھی، لیکن بھمبور کے ہندو معززین اور مندر کے ساتھیوں نے اس کی شادی کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کردیا۔ سورداس نے اس پر کوئی تبصرہ نہ کیا اور تیاریاں شروع ہوگئیں۔ انتہائی مغرور اور خودسر ہونے کے باوجود لوگ سورداس کی علمیت کی وجہ سے اس کی قدر کرتے تھے اور اسے خوش کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔
مگر یہ سورداس کی قسمت تھی یا بد قسمتی کہ شادی سے صرف ایک ہفتہ پہلے اس کی دونوں آنکھوں میں "موتیا” کا ایک ساتھ حملہ ہوا اور تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ سور داس کی آنکھیں جاتی رہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے اندھا ہوگیا۔ لوگ کہتے تھے۔ یہ سیاہ موتیا کا حملہ تھا جس کا علاج اس دور میں قطعی ناممکن تھا۔ سورداس کے ساتھ ہی حسین دوشیزہ”دیوی” کی دنیا بھی اندھیر ہوگئی۔ شادی کی تاریخ یوں گزر گئی جیسے کسی کو کچھ پتہ ہی نہ تھا۔ اس کے تمام ساتھی اور مندر والے حکیموں کے پاس بھاگ رہے تھے۔ ایسے عالم میں کہاں کی شادی اور کس کی شادی مگر دیوی واقعی”دیوی” نکلی۔ اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔ جب سب لوگ سور داس کی آنکھوں کی طرف سے مایوس ہوگئے اور معالجوں نے صاف جواب دیدیا تو ایک دن "دیوی” سور داس کے پس پہنچی۔ اس وقت اور بہت سے لوگ سورداس کی ہمدردی اور مزاج پرسی کے لیے آئے ہوئے تھے۔ایسے موقع اور اس بھری محفل میں”دیوی” نے واضح الفاظ میں کہا:
"میں آپ سب کے سامنے کہہ رہی ہوں کہ عورت صرف ایک بار شادی کرتی ہے۔ میں نے بھگوان داس سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ اگرچہ ان کی آنکھیں نہ رہیں مگر میرا وعدہ اپنی جگہ قائم ہے۔ میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔اگر بھگوان داس انکار کریں گے تو میں عمر بھر شادی نہ کروں گی اور ایک ودھوا(بیوہ) کی طرح زندگی گزار دوں گی۔”
تمام حاضرین نے "دیوی” کے فیصلے پر پہلے تو تعجب کیا پھر اسے سراہا۔
"دیوی” واقعی دیوی ہے۔ ہم بھگوان داس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دیوی کے فیصلہ کو عملی جامعہ پہنائیں۔”
بھگوان داس کوکیا عذر ہوسکتا تھا۔ ان کے ارمانوں پر تو اوس پڑگئی تھی۔ دیوی کے اس فیصلے سے ان کے خزاں رسیدہ چمن میں جیسے بہار آگئی۔ پھر دوسرے ہی دن "دیوی "بھگوان داس سے شادی کرکے اندھے بھگوان داس کی لاٹھی بن گئی۔ بھگوان کا اصل نام یہی تھا مگر آنکھوں کے ضائع ہوجانے کی وجہ سے وہ "سور داس”پکارے جانے لگے تھے۔کہتے ہیں کہ شادی کے بعد "دیوی” اور "سورداس” کی زندگی بہت اچھی گزرنے لگی تھی۔ جو دیکھتا تھا حیران رہ جاتا تھا۔ "دیوی” اپنے شوہر کو اس کے اندھے پن کا احساس نہ ہونے دیتی تھی۔ وہ سایہ کی طرح سور داس کے ساتھ رہتی تھی۔ "دیوی ” خود بھی پڑھی لکھی تھی۔ اس لیے وہ سور داس کو کتابیں پڑھ کے سناتی تھی تاکہ سور داس کو لوگوں کے سوالات کے جواب دینے میں دقت نہ ہو۔
سورداس اور دیوی کے تین سال ہنسی خوشی گزرے پھر چوتھے سال ایک بڑی خوشی حاصل ہوئی۔ دیوی کا پاؤں بھاری ہوا اور ٹھیک نو ماہ بعد اس نے ایک چاند سی بچی کو جنم دیا۔ تمام مندوں میں خوشی منائی گئی، دیوی اور سورداس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ہندوؤں کے براہمن گھرانے میں پیدا ہونے والی بچی یا بچے کی جنم پتری بنانے کا عام رواج تھا۔ راجہ مہاراجہ کے یہاں تو اس پر سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔سورداس کوئی راجہ نہ تھا مگر اسے اپنے حلقوں میں راجہ جیسی عزت حاصل تھی۔ چنانچہ اس نے اپنی بچی کی جنم پتری بنانے کی خواہش کی۔ بچی کی پیدائش کے چھٹے دن بھمبور اور قرب وجوار کے تمام جوشتی سور داس کی بیٹی کی جنم پتری تیار کرنے کے لیے سرجوڑ کے بیٹھے۔
اس دن پورا مندر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ سور داس اور دیوی کی سب لوگ عزت کرتے تھے۔ اس لیے انہیں ان کی نومولود بچی کی جنم پتری سے بھی دلچسپی تھی۔ وہ بھی معلوم کرنا چاہتے تھے کہ اس بچی کو آئندہ زندگی میں کیا کیا واقعات پیش آئیں گے۔ یہی دیکھنے اور سننے کے لیے وہ آج مندر میں جمع ہوئے تھے۔
تمام جوتشی الگ الگ اپنے انداز اور طریقے سے جنم پتری تیار کررہے تھے۔ وہ ستاروں کی چالوں سے حساب لگا رہے تھے اور ہر دن اور ہر ماہ وسال کے نتیجے کو زائچے کے خانوں میں لکھتے جارہے تھے۔ بڑا گھمبیر ماحول تھا۔ ہر شخص زائچہ کا نتیجہ سننے کے لیے دم بخود تھا۔اور ہر ایک کی نظر زائچہ بنانے والے جوتشیوں پر لگی تھی۔
اس وقت ایک جوتشی گھبرا کر چیخ پڑا۔
"ارے یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔۔” اور اس نے بو کھلا کے دوسرے جوتشیوں کودیکھا۔سب جوتشی اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔
"کیا ہوا کوئی خاص بات معلوم ہوئی ہے تمہیں؟” ایک جوتشی نے اس سے پوچھا۔
"ہاں ہاں ایک بات۔ ایک بری خبر”جوتشی کہتے کہتے چپ ہوگیا۔
بری خبر کی آواز سورداس کے کانوں تک بھی پہنچی۔ اس کی دیوی نے سنا مگر خاموش رہی۔ سورداس بے چین ہوگیا۔ اس نے چیخ کے پوچھا:
"کیا بری خبر ہے میری بیٹی کے بارے میں؟”
پہلے جوتشی نے کچھ بتانے کے بجائے آہستہ سے کہا۔
"مہاراج سورداس جلدی نہ کیجئے ہمیں پورا حساب لگانے دیجیے”اس طرح وہ سور داس کو خاموش کراکے دوسرے جوتشیوں سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا۔ پھر اس نے اپنا حساب لگایا کاغذ دوسرے جوتشیوں کو دکھایا۔ ان لوگوں نے اپنے تیار کئے ہوئے زائچے اور حساب دیکھے اور بڑے بحث و مباحثہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ پہلے جوتشی کی تیار کی ہوئی”جنم پتری” درست ہے۔ اور اس کے حساب وکتاب میں کوئی گڑ بڑ نہیں۔ اس زائچہ کے مطابق سب نے اپنے اپنے زائچہ درست کئے پھر پہلے جوتشی سے کہا کہ وہ نومولود بچی کے اس واقعہ کو بیان کردے جس نے سب کو پریشان کردیا ہے۔
"سنئے سور داس اور دیوی جی!” پہلے جوتشی نے واضح الفاظ اور آواز میں کہا۔”اس نوزائیدہ بچی کی جنم پتری جس پر ہم سب جوتشیوں نے اتفاق کیا ہے وہ صاف صاف بتاتی ہے کہ برہمن ذات کی یہ ہندو بچی جوان ہونے پر ایک مسلمان سے شادی کرے گی۔”
اور اس کی آواز میں دوسری آوازیں ملتی چلی گئیں۔
"ہندو لڑکی کی مسلمان سے کیسے شادی ہوسکتی ہے۔”
"یہ ناممکن ہے”
اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔”
"یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے بڑے برہمن اور ایسی پاک باز دیوی کی شادی غیر ذات اور غیر مذہب میں ہو”
"اس سے ہمارا مذہب بھسم ہوجائے گا۔”
"ایسی لڑکی کو فوراًختم کردینا چاہیے۔”
"ہاں اس کا گلہ دبا دیا جائے۔”
"اسے دھرم پر قربان کردینا چاہیے۔”
یہ آواز تیز اور شور بڑھتا ہی گیا اور اس میں اس قدر تیزی آگئی کہ کوئی آواز صاف سنائی نہ دیتی تھی۔ سور داس اور نومولود بچی کی ماں”دیوی” بالکل خاموش تھے حالانکہ ان کے دل ودماغ میں ایک طوفان برپا تھا ۔سورداس کی آنکھیں تو خشک تھیں لیکن”دیوی” کی انکھوں میں آنسو گرنے کے لیے بے چین نظر آتے تھے۔
آخر سور داس کی گرجدار آواز بلند ہوئی اور ہر طرف سناٹا چھا گیا:
"جوتشی نے جو کہا وہ سب جوتشیوں کا متفقہ فیصلہ ہے ۔اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اس لیے کہ ہمارے جوتشی آسمانی دیوتاؤں کے ہم نشیں بلکہ ہمارے لیے دیوتاؤں کے مانند ہیں۔ یہ وہی کہتے ہیں جو بھگوان انہیں بتاتاہے۔ ان کی زبان بھگوان کی زبان ہے۔ جوتشیوں نے جنم پتری سے یہ بات نکالی ہے کہ جوان ہونے پر یہ بچی جس نے ایک برہمن کے گھر میں جنم لیا۔ اور ایک برہمن پارسادیوی کے شکم سے پیدا ہوئی۔وہ کسی مسلمان سے شادی کرے گی۔ یہ خبر نہ صرف میرے لیے بلکہ تمام ہندو قوم کے لیے باعث شرم ہے۔ دھرم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے اور یہ بچی دین دھرم کے لیے منحوس ہے۔”
سور داس کے ٹھہر کے سانس لی پھر بولنا شروع کیا:
"اس خبر کے سننے کے ساتھ ہی مجھے اس لڑکی سے جو محبت بحیثیت ایک باپ کے پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔ اور اس کی جگہ نفرت نے لے لی ہے مجھے یقین ہے کہ یہی کیفیت میری بیوی "دیوی” کی بھی ہوگی۔”
لوگوں کی تمام نظریں سمٹ کر فوراً دیوی پر جم گئیں۔ دیوی نے جو خود کو لوگوں کی نظروں کے گرداب میں پایا تو اشکبار آنکھوں کے ساتھ سرہلا کر اپنے شوہر کی بات کی تصدیق کی۔
اس وقت لوگوں کی آوازوں کا غلغلہ اٹھا :
"دیوی سور داس کی بات کی تصدیق کر رہی ہیں۔”
سور داس نے فوراً بات اگے بڑھائی:جاری ھے


Monday, 9 October 2017

پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 10





پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 10
امامہ میڈیکل کالج میں چند روز ہوئے تھے جب ایک ویک اینڈ پر اسلام آباد آنے بعد اس نے رات کو زینب کے گھر لاہور فون کیا۔
"بیٹا! میں زینب کو بلاتی ہوں، تم ہولڈ رکھو۔" زینب کی امی فون رکھ کر چلی گئیں۔ وہ ریسیور کان سے لگائے انتظار کرنے لگی۔
کچھ نہیں مانگتا ہوں شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
مردانہ آواز میں فون پر سنائی دینے والی وہ نعت امامہ نے پہلے بھی سنی تھی مگراس وقت جو کوئی بھی اسے پڑھ رہا تھا وہ کمال جذب سے اسے پڑھ رہا تھا
پورے قد سے کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا
اسے اندازہ نہیں تھا کہ کسی مرد کی آواز اتنی خوب صورت ہوسکتی ہے۔ اس قدر خوب صورت کہ پوری دنیا اس آواز کی قید میں لگے۔ امامہ نے اپنا سانس روک لیا یا شاید وہ سانس لینا بھول گئی۔
لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا
میں کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا
انسان کی زندگی میں کچھ ساعتیں سعد ہوتی ہیں۔ شبِ قدر کی رات میں آنے والی اس سعد ساعت کی طرح جسے بہت سے لوگ گزر جانے دیتے ہیں، صرف چند اس ساعت کے انتظار میں ہاتھ اٹھائے اور جھولی پھیلائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس ساعت کے انتظار میں جو چلتے پانی کو روک دے اور رکے ہوئے پانی کو رواں کردے، جو دل سے نکلنے والی دعا کو لبوں تک آنے سے پہلے مقدر بنا دے۔
امامہ ہاشم کی زندگی میں وہ سعد ساعت شبِ قدر کی کسی رات کو نہیں آئی تھی۔ نہ اس نے اس سعد ساعت کے لئے ہاتھ اٹھائے تھے نہ جھولی پھیلائی تھی پھر بھی اس نے زمین و آسمان کی گردش کو کچھ دیر کے لئے تھمتے دیکھا تھا۔ پوری کائنات کو ایک گنبد ِبے در میں بدلتے دیکھا تھا جس کے اندر بس ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔
دست گیری میری تنہائی کی تو نے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
وہ اندھیروں سے بھی دزانہ گزر جاتے ہیں
جن کے ماتھے پہ چمکتا ہے ستارا تیرا
آواز بہت صاف اور واضح تھی۔ امامہ بت کی طرح ریسیور ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی۔
"ہیلو امامہ!" دوسری طرف زینب کی آواز گونجی اور وہ آواز میں گم ہوگئی۔ چند لمحوں کے لئے زمین کی رکی ہوئی گردش دوبارہ بحال ہوگئی۔
"ہیلو امامہ! آواز سن رہی ہو میری؟" وہ ایک جھٹکے سے ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔
"ہاں، میں سن رہی ہوں۔"
"میں نے سوچا لائن کٹ گئی۔" دوسری طرف سے زینب نے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔ امامہ اگلے چند منٹ اس سے بات کرتی رہی مگر اس کا دل و دماغ کہیں اور تھا۔
جلال الدین انصر زینب کا بڑا بھائی تھا اور امامہ غائبانہ طور پر اس سے واقف تھی۔ زینب اس کی کلاس فیلو تھی اور اس سے امامہ کا تعارف وہیں میڈیکل کالج میں ہواتھا۔ چند ماہ میں ہی یہ تعارف اچھی خاصی دوستی میں بدل گیا۔ اس تعارف میں اسے یہ پتا چلا کہ وہ لوگ چار بھائی بہن تھے۔ جلال سب سے بڑا تھا اور ہاؤس جاب کررہا تھا۔ زینب کے والد واپڈا میں انجینئر تھے اور ان کا گھرانہ کافی مذہبی تھا۔
اسلام آباد سے واپسی پر اس نے زینب سے نعت پڑھنے والے اس شخص کے بارے میں پوچھا۔
"زینب! اس رات میں نے تمہیں فون کیا تو کوئی نعت پڑھ رہا تھا، وہ کون تھا؟" اس نے اپنے لہجے کو حتی الامکان نارمل رکھتے ہوئے کہا۔
"وہ۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ جلال بھائی تھے۔۔۔۔۔ ایک مقابلہ میں حصہ لینے کے لئے وہ نعت یاد کررہے تھے۔ فون کوریڈور میں ہے اور ان کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اس لئے آواز تم تک پہنچ گئی۔" زینب نے تفصیل سے بتایا۔
"بہت اچھی آواز ہے ان کی۔"
"ہاں،آواز تو بہت اچھی ہے ان کی۔ قرات تو نعت سے بھی زیادہ خوبصورت کرتے ہیں۔ بہت سے مقابلوں میں انعام بھی لے چکے ہیں۔ ابھی بھی کالج میں ایک مقابلہ ہونے والا ہے تم اس میں انہیں سننا۔"
زینب تب یہ نہیں جانتی تھی کہ امامہ کس مذہب کی تھی، وہ جس طرح پردے کا خیال رکھتی تھی زینب کا خیال تھا کہ وہ کسی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ خود زینب بھی خاصے مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور چادر اوڑھا کرتی تھی۔
دو تین دن کے بعد امامہ جلال انصر کی نعت سننے کے لئے اپنی فرینڈز کو بتائے بغیر کلاسز بنک کرکے نعتوں کے اس مقابلے میں چلی گئی تھی۔
جلال انصر کو اس دن پہلی بار اس نے دیکھا تھا۔ کمپئیر نے جلال انصر کا نام پکارا اور امامہ نے تیز ہوتی ہوئی دھڑکنوں کے ساتھ زینب سے مشابہت رکھنے والے عام سی شکل و صورت اور داڑھی والے ایک چوبیس پچیس سالہ لڑکے کو اسٹیج پر چڑھتے دیکھا۔ اسٹیج پر سیڑھیاں چڑھنے سے لے کر روسٹرم کے پیچھے آکر کھڑے ہونے تک امامہ نے ایک بار بھی اپنی نظر جلال انصر کے چہرے سے نہیں ہٹائی۔ اس نے اسے سینے پر ہاتھ باندھتے اور آنکھیں بند کرتے دیکھا۔
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
امامہ کو اپنے پورے وجود میں ایک لہر سی دوڑتی محسوس ہوئی۔ ہال میں مکمل خاموشی تھی اور صرف اس کی خوبصورت آواز گونج رہی تھی۔ وہ کسی سحر زدہ معمول کی طرح بیٹھی اسے سنتی رہی۔ اس نے کب نعت ختم کی، کب وہ اسٹیج سے اتر کر واپس ہوا، مقابلے کا نتیجہ کیا نکلا، اس کے بعد کس کس نے نعت پڑھی، کس وقت سارے اسٹوڈنٹ وہاں سے گئے اور کس وقت ہال خالی ہوگیا امامہ کو پتا نہیں چلا۔
بہت دیر کے بعد اسے یکدم ہوش آیا تھا۔ اس وقت اپنے اردگرد دیکھنے پر اسے احساس ہوا کہ وہ ہال میں اکیلی بیٹھی تھی۔
"میں نے کل تمہارے بھائی کو نعت پڑھتے سنا۔" امامہ نے اگلے دن زینب کو بتایا۔
"اچھا۔۔۔۔۔ انہیں پہلا انعام ملا ہے۔" زینب نے اس کی بات پر مسکرا کر اسے دیکھا۔
"بہت خوبصورت نعت پڑھی تھی انہوں نے۔" کچھ دیر کی خاموشی کے بعد امامہ نے پھر اس موضوع پر بات کی۔
"ہاں! وہ بچپن سے نعتیں پڑھتے آرہے ہیں۔ اتنے قرات اور نعت کے مقابلے جیت چکے ہیں کہ اب تو انہیں خود بھی ان کی تعداد یاد نہیں ہوگی۔" زینب نے تفاخر سے کہا۔
"ان کی آواز بہت خوب صورت ہے۔" امامہ نے پھر کہا۔ "ہاں خوبصورت تو ہے مگر ساری بات اس محبت اور عقیدت کی ہے، جس کے ساتھ وہ نعت پڑھتے ہیں۔ انہیں حضورﷺ سے عشق ہے۔ اتنی محبت کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ قرات اور نعت کے علاوہ انہوں نے کبھی کوئی اور چیز نہیں پڑھی، حالانکہ اسکول اور کالج میں انہیں بہت مجبور کیا جاتا رہا مگر ان کا ایک ہی جواب ہوتا کہ میں جس زبان سے حضرت محمد ﷺ کا قصیدہ پڑھتا ہوں اس زبان سے کسی اور شخص کا قصیدہ نہیں پڑھ سکتا۔ محبت تو ہم بھی حضور ﷺ سے کرتے ہیں مگر جیسی بھائی کرتے ہیں ویسی محبت تو ہم میں سے کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ پچھلے دس سالوں میں ایک بار بھی انہوں نے نماز قضا نہیں کی۔ ہر ماہ ایک قرآن پاک پڑھتے ہیں۔ تم تو نعت کی تعریف کررہی ہواگر ان سے تلاوت سن لو تو۔"
وہ بڑے فخر سے بتا رہی تھی۔ امامہ چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے زینب سے اس کے بعد کچھ نہیں پوچھا۔
اگلے دن وہ صبح کالج جانے کے لئے تیار ہونے کی بجائے اپنے بستر میں گھسی رہی۔ جویریہ نے خاصی دیر کے بعد بھی اسے بستر سے برآمد نہ ہوتے دیکھ کرجھنجھوڑا۔
"اٹھ جاؤ امامہ! کالج نہیں جانا کیا۔ دیر ہورہی ہے۔"
"نہیں، آج مجھے کالج نہیں جانا۔" امامہ نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔
"کیوں؟" جویریہ کچھ حیران ہوئی۔
"میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔" امامہ نے کہا۔
"آنکھیں تو بہت سرخ ہورہی ہیں تمہار، رات کو سوئیں نہیں تم؟"
"نہیں، نیند نہیں آئی اور پلیز اب مجھے سونے دو۔" امامہ نے اس کے کسی اور سوال سے بچپن کے لئے کہا۔ جویریہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد اپنا بیگ اور فولڈر اٹھا کر باہر نکل گئی۔
اس کے جانے کے بعد امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ یہ بات ٹھیک تھی کہ وہ ساری رات سو نہیں سکی تھی اور اس کی وجہ جلال انصر کی آواز تھی۔ وہ اپنے ذہن کو اس آواز کے علاوہ اور کہیں بھی فوکس نہیں کر پارہی تھی۔
"جلال انصر!" اس نے زیر لب اس کا نام دہرایا۔ "آخر اس کی آواز کیوں مجھے اس قدر اچھی لگ رہی ہے کہ میں۔۔۔۔۔ میں اسے اپنے ذہن سے نکال نہیں پارہی؟" اس نے الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ بستر سے نکلتے ہوئے سوچا۔ وہ اپنے کمرے کی کھلی ہوئی کھڑکی میں آکر کھڑی ہوگئی۔
"میرے بھائی کی آواز میں ساری تاثیر حضرت محمدﷺ کے عشق کی وجہ سے ہے۔" اس کے کانوں میں زینب کی آواز گونجی۔
"آواز میں تاثیر۔۔۔۔۔ اور عشق؟" اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ "سوز،گداز، لوچ، مٹھاس۔۔۔۔۔ آخر کیا تھا اس آواز میں؟" وہ اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ "دنیا عشق اللہ سے شروع ہوتی ہے اور عشق رسول ﷺ پر ختم ہوجاتی ہے۔" اسے ایک اور جملہ یاد آیا۔
"عشق رسول ﷺ؟" اس نے حیرانی سے سوچا۔ "عشق رسول ﷺ یا عشق محمد ﷺ؟" یکدم اسے اپنے ایک عجیب سا سناٹا اترتا محسوس ہوا۔ اس نے اس سناٹے اور تاریکی کو کوجھنا شروع کیا۔ اپنے اندر سیڑھی درسیڑھی اترنا شروع کیا۔ اسے کہیں کوئی روشنی نظر نہیں آئی۔ "آخر وہ کیا چیز ہوتی ہے جو حضرت محمد ﷺ کا نام سننے پر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر درود لے آتی ہے۔ عقیدت، عشق، محبت۔۔۔۔۔ ان میں سے کیا ہے؟ مجھے کچھ کیوں محسوس نہیں ہوتا۔ میری آنکھوں میں آنسو کیوں نہیں آتے؟ میرے ہونٹوں پر درود کیوں نہیں آتا؟ میری آواز میں تاثیر۔۔۔۔۔" وہ لمحہ بھر کے لئے رکی اس نے زیر لب پڑھا۔
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقش کف پا تیرا
اسے اپنی آواز بھرائی ہوئی محسوس ہوئی۔ "شاید ابھی جاگی ہوں، اس لئے آواز ایسی ہے۔" اس نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے سوچا۔ اس نے ایک بار پھر پڑھنا شروع کیا۔
"کچھ نہیں مانگتا۔۔۔۔۔" وہ ایک بار پھر رک گئی۔ اس بار اس کی آواز میں لرزش تھی۔ اس نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔ "کچھ نہیں مانگتا ہوں شاہوں سے یہ شیدا تیرا۔" کھڑکی سے باہر نظریں مرکوز رکھتے ہوئے اس نے لرزتی بھرائی آواز اور کانپتے ہونٹوں کے ساتھ پہلا مصرع پڑھا پھر دوسرا مصرع پڑھنا شروع کیا اور رک گئی۔ کھڑکی سے باہر خلا میں گھورتے ہوئے وہ ایک بار پھر جلال انصر کی آواز اپنے کانوں میں اترتی محسوس کررہی تھی۔
بلند، صاف، واضح اور اذان کی طرح دل میں اتر جانے والی مقدس آواز۔۔۔۔۔ اسے اپنے گالوں پر نمی محسوس ہوئی۔
یکدم وہ اپنے ہوش و حواس میں آئی اور پتا چلا کہ وہ رو رہی تھی۔ کچھ دیر جیسے بے یقینی کے عالم میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دونوں آنکھوں پر رکھے دم بخود کھڑی رہی۔ اس نے اپنے آپ کو بے بسی کی انتہا پر پایا۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ آہستہ آہستہ گھٹنوں کے بل وہیں زمین پر بیٹھ گئی اور اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا۔
انسان کے لئے سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب اس کا دل کسی چیز کی گواہی دے رہا ہو مگر اس کی زبان خاموش ہو جب اس کا دماغ چلا چلا کر کسی چیز کی صداقت کا اقرار کررہا ہو مگر اس کے ہونٹ ساکت ہوں، امامہ ہاشم کی بھی اپنی زندگی اسی مرحلے پر آن پہنچی تھی، جو فیصلہ وہ پچھلے دو تین سالوں سے نہیں کر پارہی تھی وہ فیصلہ ایک آواز نے چند دنوں میں کروا دیا تھا۔ یہ جانے، یہ کھوجے، یہ پرکھے بغیر کہ آخر لوگ کیوں حضرت محمد ﷺ سے اتنی عقیدت رکھتے ہیں۔ آخر کیوں عشق رسول ﷺ کی بات کی جاتی ہے۔ اس نے اتنے سال اپنے نبی کے قصیدے سنے تھے، اس پر کبھی رقت طاری نہیں ہوئی تھی، کبھی اس کا وجود موم بن کر نہیں پگھلا تھا، کبھی اسے کسی پر رشک نہیں آیا تھا مگر ہر بار حضرت محمد ﷺ کا نام پڑھتے، دیکھتے اور سنتے ہوئے وہ عجیب سی کیفیات کا شکار ہوتی تھی۔ ہر بار، ہر دفعہ اس کا دل اس نام کی طرف کھنچتا چلا جاتا تھا اور صبیحہ کے پاس نہ جانے کے اس کے سارے ارادے بھاپ بن کر اڑ گئے تھے۔ جلال انصر کی آواز تاریکی میں نظر آنے والے جگنو کی طرح تھی جس کے تعاقب میں وہ بنا سوچے سمجھے چل پڑی تھی۔
میں تجھے عالمِ اشیا میں بھی پا لیتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ ہے عالم بالا تیرا
٭
امامہ کے لئے وہ ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔ وہ پہلے کی طرح باقاعدگی سے صبیحہ کے پاس جانے لگی۔ ان اجتماعات میں شرکت نے اسے اگر ایک طرف اپنے فیصلے پر استقامت بخشی تو دوسری طرف اس باقی ماندہ شبہات کو بھی دور کردیا۔
مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ امامہ کے لئے کوئی چھوٹا یا معمولی فیصلہ نہیں تھا، اس ایک فیصلے نے اس کی زندگی کے ہر معاملے کو متاثر کیا تھا۔ وہ اب اسجد سے شادی نہیں کرسکتی تھی کیونکہ وہ غیر مسلم تھا۔ اسے جلد یا بدیر اپنے گھر والوں سے علیحدگی بھی اختیار کرنی تھی کیونکہ وہ اب ایسے کسی ماحول میں رہنا نہیں چاہتی تھی جہاں اسلام شعائر اور عقائد میں اتنے دھڑلے سے تحریفات کی جاتی تھیں۔ وہ اس پیسے کے بارے میں بھی شکوک کا شکار ہونے لگی تھی جو اسے اپنی تعلیم اور دوسرے اخراجات کے لئے ہاشم مبین کی طرف سے ملتے تھے۔ چند سال پہلے تک پریوں کی کہانی نظر آنے والی زندگی یکدم ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوگئی تھی اور زندگی کے اس مشکل راستے کا انتخاب اس نے خود کیا تھا۔ اسے بعض دفعہ حیرت ہوتی کہ اس نے اتنا بڑا فیصلہ کس طرح کرلیا۔ اس نے اللہ سے استقامت ہی مانگی تھی اور اسے استقامت سے نوازا گیا تھا مگر وہ ابھی اتنی کم عمر تھی کہ خدشات اور اندیشوں سے مکمل پیچھا چھڑا لینا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔
"امامہ! تم فی الحال اپنے والدین کو مذہب کی تبدیلی کے بارے میں نہ بتاؤ۔ اپنے پیروں پر کھڑی ہوجاؤ۔ اس وقت نہ صرف تم آسانی سے اسجد سے شادی سے انکار کرسکتی ہو بلکہ انہیں اپنے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں بھی بتا سکتی ہو۔"
صبیحہ نے ایک بار اس کے خدشات سننے کے بعد اسے مشورہ دیا۔
"میں اس پیسے کو اپنے اوپر خرچ کرنا نہیں چاہتی جو میرے بابا مجھے دیتے ہیں، اب جبکہ میں جانتی ہوں کہ میرے والد ایک جھوٹے مذہب کی تبلیغ کررہے ہیں یہ جائز تو نہیں ہے کہ میں ایسے شخص سے اپنے اخراجات کے لئے رقم لوں؟"
"تم ٹھیک کہتی ہو مگر تمہارے پاس فی الحال کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ بہتر ہے تم اپنی تعلیم مکمل کرلو، اس کے بعد تمہیں اپنے والد سے بھی کچھ نہیں لینا پڑے گا۔" صبیحہ نے اسے سمجھایا۔ صبیحہ اگر اسے یہ راہ نہ دکھاتی تب بھی امامہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ اس میں فی الحال اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش چھوڑ دیت
اس وقت رات کے دس بجے تھے جب وہ سینما سے باہر نکل آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں اب بھی پاک کارن کا پیکٹ تھا اور وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا پاپ کارن کھاتے ہوئے سڑک پر چل رہا تھا۔
آدھا گھنٹہ تک سڑکیں ناپتے رہنے کے بعد اس نے ایک بہت بڑے بنگلے کی گھنٹی بجائی تھی۔
"صاحب کھانا لگاؤں؟" لاؤنج میں داخل ہونے پر ملازم نے اسے دیکھ کر پوچھا۔
"نہیں۔" اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
"دودھ؟"
"نہیں۔" وہ رکے بغیر وہاں سے گزرتا چلا گیا۔ اپنے کمرے میں داخل ہوکر اس نے دروازہ بند کرلیا۔ کمرے کی لائٹ آن کرکے وہ کچھ دیر بے مقصد ادھر اُدھر دیکھتا رہا پھر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔ شیونگ کٹ نکال کر اس کے اندر سے ایک ریزر بلیڈ نکال لیا اور اسے لے کر بیڈروم میں آگیا۔ اپنے بیڈ پر بیٹھ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا لیمپ جلا لیا اور بیڈروم کی ٹیوب لائٹ بند کردی۔ ریزر بلیڈ کے اوپر موجود ریپر کو اتار کر وہ کچھ دیر لیمپ کی روشنی میں اس کی تیز دھار کو دیکھتا رہا پھر اس نے بلیڈ کے ساتھ اپنے دائیں ہاتھ کی کلائی کی رگ کو ایک جھٹکے سے کاٹ دیا۔ اس کے منہ سے ایک سسکی نکلی اور پھر اس نے ہونٹ بھینچ لیے۔ وہ اپنی آنکھوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کی کلائی بیڈ سے نیچے لٹک رہی تھی اور خون کی دھار اب سیدھا کارپٹ پر گر کر اس میں جذب ہورہی تھی۔
اس کا ذہن جیسے کسی گہری کھائی میں جارہا تھا پھر اس نے کچھ دھماکے سنے۔ تاریکی میں جاتا ہوا ذہن ایک بار پھر جھماکے کے ساتھ روشنی میں آگیا۔ شور اب بڑھتا جارہا تھا۔ وہ فوری طور پر شور کی وجہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اپنی آنکھیں کھول دیں مگر وہ کسی چیز کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔
٭
وہ سورہی تھی جب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کوئی اس کا دروازہ بجا رہا تھا۔
"امامہ! امامہ!" وسیم دروازہ بجاتے ہوئے بلند آواز میں اس کا نام پکاررہا تھا۔
"کیا ہوا ہے؟ کیوں چلا رہے ہو؟" دروازہ کھولتے ہی اس نے کچھ حواس باختگی کے عالم میں وسیم سے پوچھا جس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔
"فرسٹ ایڈ باکس ہے تمہارے پاس؟" وسیم نے اسے دیکھتے ہی فوراً پوچھا۔
"ہاں، کیوں؟" وہ مزید پریشان ہوئی۔
"بس اسے لے کر میرے ساتھ آجاؤ۔" وسیم نے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
"کیا ہوا؟" اس کے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین کھسکنے لگی۔
"چوچو نے پھر خودکشی کی کوشش کی ہے۔ اپنی کلائی کاٹ لی ہے اس نے۔ ملازم آیا ہوا ہے نیچے اس کا، تم میرے ساتھ چلو۔" امامہ نے بے اختیار اطمینان بھرا سانس لیا۔
"تمہارے اس دوست کو مینٹل ہاسپٹل میں ہونا چاہئیے جس طرح کی یہ حرکتیں کرتا پھرتا ہے۔" امامہ نے ناگواری سے اپنے بیڈ پر پڑا ہوا دوپٹہ اوڑھتے ہوئے کہا۔
"میں تو اسے دیکھتے ہی بھاگ آیا ہوں، ابھی وہ ہوش میں تھا۔" اس نے مڑ کر امامہ کو بتایا۔ وہ دونوں اب آگے پیچھے سیڑھیاں اتر رہے تھے۔
"تم اسے ہاسپٹل لے جاتے۔" امامہ نے آخری سیڑھی پر پہنچ کر کہا۔
"وہ بھی لے جاؤں گا، پہلے تم اس کی کلائی وغیرہ تو باندھو، خون تو بند ہو۔"
"وسیم! میں اسے کوئی بہت اچھی قسم کی فرسٹ ایڈ نہیں دے سکتی۔ پتا نہیں اس نے کس چیز سے کلائی کاٹی ہے اور زخم کتنا گہرا ہے۔ اس کے اپنے گھر والے کہاں ہیں؟" بات کرتے کرتے امامہ کو خیال آیا۔
"اس کے گھر میں کوئی بھی نہیں ہے، صرف ملازم ہیں۔ وہ تو کوئی فون کال آئی تھی جس پر ملازم اسے بلانے کے لئے گیا اور جب اندر سے کوئی جواب نہیں آیا تو پریشان ہوکر دوسرے ملازموں کے ساتھ مل کر اس نے دروازہ توڑ دیا۔" وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اب اپنے گھر سے باہر نکل آئے۔
"تمہارا یہ دوست جو ہے نا۔۔۔۔۔" امامہ نے کچھ ناراضی کے عالم میں وسیم کے ساتھ چلتے ہوئے سالار کے بارے میں کچھ کہنا چاہا مگر وسیم نے غصے میں پلٹ کر اس کو جھڑک دیا۔
"فار گاڈ سیک۔ اپنی لعنت ملامت بند نہیں کرسکتیں تم۔ اس کی حالت سیریس ہے اور تم اس کی برائیوں میں مصروف ہو۔"
"ایسی حرکتیں کرنے والوں کے لئے میرے پاس کوئی ہمدردی نہیں ہے۔" وہ دونوں اب سالار کے لاؤنج میں پہنچ چکے تھے۔
چند قدم چلنے کے بعد وسیم ایک موڑ مڑا اور کمرے کے اندر داخل ہوگیا۔ امامہ اس کے پیچھے ہی تھی مگرپھر جیسے کرنٹ کھا کر رک گئی۔ کمرے کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سامنے قد آدم کھڑکیوں پر کچھ ماڈلز اور ایکٹریسز کی بڑی بڑی عریاں تصویریں اس طرح لگائی گئی تھیں کہ ایک لمحے کے لئے امامہ کو یوں لگا جیسے وہ تمام لڑکیاں حقیقی طور پر اس کمرے میں موجود ہیں۔ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ ایک طرف بیڈ پر پڑے ہوئے زخمی کے بارے میں اس کی رائے کچھ اور خراب ہوگئی۔ وہ تصویریں اس کے کردار کی پستی کا ایک اور ثبوت تھیں اور کمرے میں تین چار لوگوں کی موجودگی میں اس کے لئے وہ تصویریں خاصی خفت اور شرمندگی کا باعث بن رہی تھیں۔ ان تصویروں سے نظریں چراتے ہوئے وہ تیز رفتاری سے ڈبل بیڈ کی طرف آگئی جہاں سالار سکندر لیٹا ہوا تھا۔ وسیم اس کے پاس بیڈ پر بیٹھا فرسٹ ایڈ باکس کھول رہا تھا جبکہ امامہ کا بڑا بھائی سالار کی اس کلائی کو بیڈ شیٹ کے ایک لٹکے ہوئے کونے کے ساتھ دبا کر خون روکنے کی کوشش کررہا تھا جبکہ خود سالار نشے میں ڈوبے ہوئے کسی انسان کی طرح اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ وسیم اور وہاں ملازموں سے کچھ کہہ بھی رہا تھا۔
امامہ کے آگے بڑھتے ہی اس کے بڑے بھائی نے اس کرسی کو چھوڑ دیا، جس پر وہ بیٹھے ہوئے تھے۔
"اس کے زخم کو دیکھو، میں نے چادر سے خون روکنے کی کوشش کی ہے مگر میں کامیاب نہیں ہوا۔" انہوں نے اس کی کلائی امامہ کو تھماتے ہوئے کہا۔ امامہ نے کرسی پر بیٹھتے ہی اس کی کلائی کے گرد لپٹا ہوا کونہ ہٹایا۔ زخم بہت گہرا اور لمبا تھا۔ ایک نظر ڈالتے ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا۔
سالار نے پھر ایک جھٹکے کے ساتھ اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی مگر امامہ مضبوطی سے کلائی کے کچھ نیچے سے اس کا بازو پکڑے رہی۔
"وسیم! بس بینڈیج نکال دو۔ یہ زخم بہت گہرا ہے۔ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔ بینڈیج کرنے سے خون رک جائے گا پھر تم لوگ اسے ہاسپٹل لے جاؤ۔"اس نے ایک نظر نیچے کارپٹ پر جذب ہوتے خون پر ڈالی۔ وسیم تیزی سے فرسٹ ایڈ باکس میں سے بینڈیج نکالنے لگا۔
سالار نے بیڈ پر لیٹے لیٹے اپنے سر کو جھٹکا دیا اور آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اب دھندلاہٹ سی تھی مگر اس کے باوجود اس نے اپنے بیڈ سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ہوئی اس لڑکی اور اس کے ہاتھ میں موجود اپنے بازو کو دیکھا۔
کچھ مشتعل ہو کر اس نے ایک اور جھٹکے کے ساتھ اپنا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ سے آزاد کرانے کی کوشش کی۔ ہاتھ آزاد نہیں ہوا مگر درد کی ایک تیز لہر نے بے اختیار اسے کراہنے پر مجبور کیا تھا۔ اسے چند لمحوں کے لئے یہی محسوس ہوا تھا جیسے اس کی جان نکل گئی مگر اگلے ہی لمحے وہ ایک بار پھر ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔
"تم لوگ دفع ہو۔۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔۔ کہاں سے۔۔۔۔۔ آ گئے۔۔۔۔۔ ہو؟" اس نے کچھ مشتعل ہو کر لڑکھڑاتے لہجے میں کہا۔" یہ میرا۔۔۔۔۔ کمرہ ہے۔۔۔۔۔تم لوگوں۔۔۔۔۔ کو اندر۔۔۔۔۔آنے کی جرات کیسے۔۔۔۔۔ ہوئی۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔ وسیم تم۔۔۔۔۔دفع۔۔۔۔۔ ہو جاؤ۔۔۔۔۔ گیٹ لاسٹ۔۔۔۔۔جسٹ ۔۔۔۔۔ گیٹ لاسٹ۔۔۔۔۔بلڈی باسٹرڈ۔"
اس نے بلند آواز میں مگر لڑکھڑاتی زبان سے کہا۔امامہ نے اس کے منہ سے نکلنے والی گالی کو سنا۔ ایک لمحے کے لئے اس کے چہرے کا رنگ بدلا مگر وہ پھر اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے بیٹھی رہی۔ اس نے وسیم سے کاٹن لے کے کراہتے ہوئے سالار کی کلائی کے زخم پر رکھ دی جو ہاتھ کو کھینچنے اور ہلانے سے باز نہیں آ رہاتھا اور وسیم کے ہاتھ سے لے کر لپیٹنا شروع کر دیا۔ سالار نے دھندلائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اپنی کلائی کے گرد کسی چیز کی نرمی کو محسوس کیا۔
کچھ بے بسی اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں سالار نے اپنے بائیں ہاتھ کے زور سے اپنے دائیں ہاتھ کو چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ دھندلائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اس کا آگے بڑھنے والا بایاں ہاتھ لڑکی کے سر سے ٹکرایا تھا۔ اس کے سر سے نہ صرف دوپٹہ اترا تھا بلکہ اس کے بال بھی کھل گئے تھے۔
امامہ نے ہڑبڑا کر اسے دیکھا جو ایک بار پھر اپنا بایاں ہاتھ آگے لا رہا تھا۔ امامہ نے اپنے بائیں ہاتھ سے اس کی کلائی کو پکڑے رکھا جبکہ دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی بینڈیج چھوڑ کر اپنی پوری قوت سے اپنا دایاں ہاتھ اس کے دائیں گال پر سے مارا۔ تھپڑ اتنا زناٹے دار تھا کہ ایک لمحے کے لئے سالار کی آنکھوں کے سامنے چھائی ہوئی دھند چھٹ گئی۔ کھلے منہ اور آنکھوں کے ساتھ دم بخود اس نے اس لڑکی کو دیکھا تھا جو سرخ چہرے کے ساتھ بلند آواز میں اس سے کہہ رہی تھی۔
اب اگر تم ہلے تو میں تمہارا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دوں گی، سنا تم نے۔"
سالار نے اس لڑکی کے عقب میں وسیم کو کچھ کہتے سنا مگر وہ کچھ سمجھ نہیں پایا۔ اس کا ذہن مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب رہا تھا مگر اس نے پھر ایک آواز سنی، نسوانی آواز۔" اس کا بلڈ پریشر چیک کرو۔۔۔۔۔" سالار کو بے اختیار چند لمحے پہلے اپنے گال پر پڑنے والا تھپڑ یاد آیا۔ وہ چاہنے کے باوجود آنکھیں نہیں کھول سکا۔ وہی نسوانی آواز ایک بار پھر گونجی تھی مگر اس بار وہ اس آواز کو کوئی مفہوم نہیں پہنا سکا۔ اس کا ذہن مکمل طور پر تاریکی میں ڈوiب گیا تھا۔
جاری ہے


پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 9




پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 9
صبیحہ سے امامہ کی پہلی ملاقات اتفاقاً ہوئی تھی۔ جویریہ کی ایک کزن صبیحہ کی کلاس فیلو تھی اور اسی کے توسط سے امامہ کی اس سے شناسائی ہوئی۔ وہ ایک مذہبی جماعت کے اسٹوڈنٹ ونگ سے منسلک تھی اور ہفتے میں ایک بار وہ کلاس روم میں اسلام سے متعلق کسی نہ کسی ایک موضوع پر لیکچر دیا کرتی تھی۔ چالیس پچاس کے لگ بھگ لڑکیاں اس لیکچر کو اٹینڈ کیا کرتی تھیں۔
صبیحہ نے اس دن ان سے متعارف ہونے کے بعد انہیں بھی اس لیکچر کے لئے انوائٹ کیا ۔ وہ چاروں ہی وہاں موجود تھیں۔
"میں تو ضرور آؤں گی، کم از کم میری شرکت کے بارے میں آپ تسلی رکھیں۔" جویریہ نے صبیحہ کی دعوت کے جواب میں کہا۔
"میں کوشش کروں گی، وعدہ نہیں کرسکتی۔" رابعہ نے کچھ جھینپی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
"میرا آنا ذرا مشکل ہے کیونکہ میں اس دن کچھ مصروف رہوں گی۔" زینب نے معذرت کرتے ہوئے کہا۔
صبیحہ مسکراتے ہوئے امامہ کو دیکھنے لگی جو اب تک خاموش تھی۔ امامہ کا رنگ کچھ فق ہوگیا۔
"اور آپ؟ آپ آئیں گی؟" امامہ کی نظر جویریہ سے ملی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
"ویسے اس بار کس موضوع پر کریں گی آپ؟" اس سے پہلے کہ امامہ کچھ کہتی، جویریہ نے صبیحہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔ شاید ایسا اس نے دانستہ طور پر کیا تھا۔
"اس بار اسراف کے بارے میں بات ہوگی۔ اس ایک عادت کی وجہ سے ہمارا معاشرہ کتنی تیزی سے زوال پذیر ہورہا ہے اور اس کے سدباب کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے۔ اسی موضوع پر گفتگو ہوگی۔" صبیحہ نے جویریہ کو تفصیل سے بتایا۔
"آپ نے بتایا نہیں امامہ! آپ آرہی ہیں؟" جویریہ سے بات کرتے کرتے صبیحہ ایک بار پھر امامہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ امامہ کا رنگ ایک بار پھر بدلا۔ "میں۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ دیکھوں گی۔" اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔
"مجھے بہت خوشی ہوگی اگر جویریہ کے ساتھ آپ تینوں بھی آئیں۔ اپنے دین کی بنیادی تعلیمات کے بارے میں ہمیں روز نہیں تو کبھی کبھار کچھ علم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ صرف میں ہی لیکچر نہیں دیتی ہوں ہم جتنے لوگ بھی اکٹھے ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس موضوع پر گفتگو کرنے کے لئے آزاد ہوتا ہے جسے ہم نے منتخب کیا ہوتا ہے اور اگر آپ میں سے بھی کوئی کسی خاص موضوع کے حوالے سے بات کرنا یا کچھ بتانا چاہے تو ہم لوگ اسے بھی ارینج کرسکتے ہیں۔" صبیحہ بڑی سہولت سے بات کررہی تھی پھر کچھ دیر بعد جویریہ اور اس کی کزن کے ہمراہ ان کے کمرے سے باہر چلی گئی۔
کوریڈور میں صبیحہ نے جویریہ سے کہا۔ "آپ کم ازکم امامہ کو تو ساتھ لے آئیں۔ مجھے لگا ہے کہ وہ آنا چاہ رہی ہیں۔"
"اس کا عقیدہ بالکل الگ ہے، وہ کبھی بھی ایسی محفلوں میں شرکت نہیں کرے گی۔" جویریہ نے سنجیدگی سے اسے بتایا۔ صبیحہ کچھ حیران ہوئی۔
"آپ کو چاہیے کہ آپ انہیں اسلام کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیں۔ ہوسکتا ہے اس طرح وہ صحیح اور غلط کا فرق کرسکیں۔" صبیحہ نے چلتے ہوئے کہا۔
"میں ایک بار ایسی کوشش کرچکی ہوں۔ وہ بہت ناراض ہوگئی تھی اور میں نہیں چاہتی کہ ہم دونوں کی اتنی لمبی دوستی اس طرح ختم ہو۔" جویریہ نے کہا۔
"اچھے دوست وہی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو گمراہی سے بچائیں اور آپ پر بھی فرض ہے کہ آپ ایسا ہی کریں۔" صبیحہ نے کہا۔
"وہ ٹھیک ہے مگر کوئی بات سننے پر بھی تیار نہ ہو تو؟"
"تب بھی صحیح بات کہتے رہنا فرض ہے۔ ہوسکتا ہے کبھی دوسرا آپ کی بات پر غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔" صبیحہ اپنی جگہ درست تھی۔ اس لئے وہ صرف مسکرا کر رہ گئی۔
"تم جاؤ گی اس کا لیکچر سننے؟" صبیحہ کے نکلنے کے بعد زینب نے رابعہ سے پوچھا۔
"نہیں، میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں ایسے لیکچر ہضم نہیں کرسکتی۔" رابعہ نے اپنی کتابیں اٹھاتے ہوئے لاپروائی سے کہا۔ امامہ، زینب اور جویریہ کے برعکس وہ قدرے آزاد خیال تھی اور زیادہ مذہبی رجحان بھی نہیں رکھتی تھی۔
"ویسے میں نے صبیحہ کی خاصی تعریف سنی ہے۔" زینب نے رابعہ کی بات کے جواب میں کہا۔
"ضرور سنی ہوگی، بولتی تو واقعی اچھا ہے اور میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ اس کے والد بھی کسی مذہبی جماعت سے منسلک ہیں۔ ظاہر ہے پھر اثر تو ہوگا۔" رابعہ نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔
امامہ ان سے کچھ دور ایک کونے میں اپنی کتابیں لئے بیٹھی بظاہر ان کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھی مگر ان دونوں کی گفتگو بھی ان تک پہنچ رہی تھی۔ اس نے شکر کیا کہ ان دونوں نے اسے اس گفتگو میں گھسیٹنے کی کوشش نہیں کی۔
تین دن کے بعد امامہ مقررہ وقت پر ان لوگوں سے کوئی بہانہ بنا کر لیکچر اٹینڈ کرنے چلی گئی۔ رابعہ، جویریہ اور زینب تینوں ہی اس لیکچر میں نہیں گئیں پھر اس کا رادہ بدل گیا۔ امامہ نے ان لوگوں کو نہیں بتایا کہ وہ صبیحہ کا لیکچر اٹینڈ کرنے جارہی تھی۔
صبیحہ، امامہ کو دیکھ کر کچھ حیران ہوئی تھی۔
"مجھے بہت خوشی ہورہی ہے آپ کو یہاں دکھ کر۔ مجھے آپ کے آنے کی توقع نہیں تھی۔" صبیحہ نے اس سے گرم جوشی سے ملتے ہوئے کہا۔
یہ پہلا قدم تھا اسلام کی جانب جو امامہ نے اٹھایا تھا۔ اس سارے عرصے میں اسلام کے بارے میں اتنی کتابیں تفاسیر اور تراجم پڑھ چکی تھی کہ کم از کم وہ کسی بھی چیز سے ناواقف اور انجان نہیں تھی۔ اسراف کے بارے میں اسلامی اور قرآنی تعلیمات اور احکامات سے بھی وہ اچھی طرح واقف تھی مگر اس کے باوجود صبیحہ کی دعوت کو رد کرنے کے بجائے قبول کرلینے میں اس کی پیش نظر صرف ایک ہی چیز تھی۔ وہ اپنے مذہب سے اسلام تک کا وہ فاصلہ طے کرنا چاہتی تھی جو اسے بہت مشکل لگتا تھا۔
اور پھر وہ صرف پہلا اور آخری لیکچر نہیں تھا۔ یکے بعد دیگرے وہ اس کا ہر لیکچر اٹینڈ کرتی رہی۔ وہی چیزیں جنہیں وہ کتابوں میں پڑھتی رہی تھی اس کے منہ سے سن کر پراثر ہوجاتی تھیں۔ اس کی صبیحہ سے عقیدت میں اضافہ ہوتاجارہا تھا۔ صبیحہ نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ اس کے عقیدے کے بارے میں جانتی تھی مگر امامہ کو اس کے پاس آتے ہوئے دو ماہ ہوئے تھے جب صبیحہ نے ختم نبوت پر ایک لیکچر دیا۔
"قرآن پاک وہ کتاب ہے جو حضرت محمدﷺ پر نازل ہوئی۔" صبیحہ نے اپنے لیکچر کا آغاز کیا۔ "اور قرآن پاک میں ہی اللہ
نبوت کا سلسلہ حضرت محمد ﷺ پر ختم کردیتے ہیں۔ وہ کسی دوسرے نبی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھتے۔ اگر کسی نبی یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا دوبارہ نزول کا ذکر ہے بھی تو وہ بھی ایک نئے نبی کی شکل میں نہیں ہے بلکہ ایک ایسے نبی کا دوبارہ نزول ہے جن پر نبوت حضرت محمد ﷺ سے بہت پہلے نازل کردی گئی تھی اور جن کا دوبارہ نزول ان کی اپنی امت کے لئے نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ کی امت کے لئے ہی ہوگا اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہی رہیں گے۔ کسی بھی آنے والے دور میں یا کسی بھی گزر جانے والے دور میں یہ رتبہ اور فضیلت کسی اور کو نہیں دی گئی کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ ایک پیغمبر کو یہ ربتہ اور درجہ عطا کرتا اور پھر اسے اس سے چھین کر کسی دوسرے شخص کو دے دیتا ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بات میں اللہ سے بڑھ کر سچا کون ہے۔"
"تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی بات کو خود ہی رد کردیتا اور پھر اگر اللہ کی اس بات کی گواہی حضرت محمد ﷺ خود دیتے ہیں کہ ہاں وہ اللہ کے آخری رسول ﷺ ہیں اور ان کے بعد دوبارہ کوئی نبی نہیں آئے گا تو پھر کیا ہمارے لئے کسی بھی طور پر یہ جائز اور مناسب ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کے نبوت کے دعوے پر غور تک کریں؟ انسان اللہ کی مخلوقات میں سے وہ واحد مخلوق ہے جسے عقل جیسی نعمت سے نوازا گیا اور یہ ایسی مخلوق ہے جو اسی عقل کو استعمال کرکے سوچنے پر آئے تو خود اللہ کے وجود کے لئے ثبوت کی تلاش شروع کردیتی ہے پھر اس سلسلے کو یہیں پر محدود نہیں رکھتی، بلکہ اسے پیغمبروں کی ذات تک دراز کردیتی ہے۔ پہلے سے موجود پیغمبروں کی نبوت کے بارے میں سوال کرتی ہے پھر انہیں پیغمبر مان لیتی ہے اور اس کے بعد قرآن کے واضح احکامات کے باوجود زمین پر مزید پیغمبروں کی تلاش شروع کردیتی ہے اور اس تلاش میں یہ بات فراموش کردیتی ہے کہ نبی بنتا نہیں تھا، بنایا جاتا تھا، اسے مبعوث کیا جاتا تھا اور ہم انسانی evolution کی ان آخری دہائیوں میں کھڑے ہیں جہاں مزید نبیوں کی آمد کا سلسلہ اس لئے ختم کردیا گیا کیونکہ انسان کے لئے ایک دین اور ایک نبی کا انتخاب کرلیا گیا۔
اب کسی نئے عقیدے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف تقلید کی ہے، صرف تقلید یعنی پریکٹس۔۔۔۔۔ اس ایک، آخری اور مکمل دین کی جسے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ پر ختم کردیا گیا ہے اب وہ ہر شخص خسارے میں رہے گا، جو دین کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے بجائے تفرقے کی راہ اختیار کرے گا۔ اگر ہماری اعلیٰ تعلیم اور ہمارا شعور ہمیں دین کے بارے میں صحیح اور غلط کی تمیز تک نہیں دے سکتے تو پھر ہم میں اور اس جانور میں کوئی فرق نہیں، جو سبز تازہ گھاس کے ایک گٹھے کے پیچھے کہیں بھی جاسکتا ہے، اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ اس کا ریوڑ کہاں ہے۔"
چالیس منٹ کے اس لیکچر میں صبیحہ نے کسی اور غلط عقیدے یا فرقے کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔ اس نے جو کچھ کہا تھا بالواسطہ کہا تھا۔ صرف ایک چیز بلاواسطہ کہی تھی اور وہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار تھا۔ "اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ تھے جنہوں نے چودہ سو سال پہلے مدینہ میں وفات پائی۔ چودہ سو سال سے پہلے مسلمان ایک امت کے طور پر اسی ایک شخص کے سائے میں کھڑے ہیں۔ چودہ سو سال بعد بھی ہمارے لئے وہ ایک آخری نبی ﷺ ہیں جن کے بعد کوئی دوسرا نبی بھیجا گیا نہ بھیجا جائے گا اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص میں کسی دوسرے نبی کا عکس تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے ایک بار اپنے ایمان کا ازسر نو جائزہ لے لینا چاہیے۔ شاید یہ کوشش اسے اس عذاب سے بچا دے جس میں وہ اپنے آپ کو مبتلا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔"
امامہ ہر لیکچر کے بعد صبیحہ سے مل کر جایا کرتی تھی۔ اس لیکچر کے بعد وہ صبیحہ سے نہیں ملی۔ ایک لمحہ بعد وہاں رکے بغیر وہ وہاں سے چلی آئی۔ عجیب سے ذہنی انتشار میں مبتلا ہوکر وہ کالج سے باہر نکل کر پیدل چلتی رہی۔ کتنی دیر فٹ پاتھ پر چلتی رہی اور اس نے کتنی سڑکیں عبور کیں، اسے اندازہ نہیں ہوا۔ کسی معمول کی طرح چلتے ہوئے وہ فٹ پاتھ سے نیچے نہر کے کنارے بنی ہوئی ایک بنچ پر جاکر بیٹھ گئی۔ سورج غروب ہونے والا تھا اور اوپر سڑک پر گاڑیوں کے شور میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ چپ چاپ نہر کے بہتے ہوئے پانی کو دیکھتی رہی۔
ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے بڑبڑاتے ہوئے خود سے پوچھا۔
"آخر میں کر کیا رہی ہوں اپنے ساتھ کیوں اپنے آپ کو الجھا رہی ہوں، آخر کس یقین کی کھوج میں سرگرداں ہوں اور کیوں؟ میں اس سب کے لئے تو یہاں لاہور نہیں آئی۔ میں تو یہاں ڈاکٹر بننے آئی ہوں۔ مجھے آئی اسپیشلسٹ بننا ہے۔ پیغمبر۔۔۔۔۔ پیغمبر۔۔۔۔۔ پیغمبر۔۔۔۔۔ میرے لئے ہر چیز وہاں کیوں ختم ہوجاتی ہے۔"
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
"مجھے اس سب سے نجات حاصل کرنی ہے، میں اس طرح اپنی اسٹڈیز پر کبھی توجہ نہیں دے سکتی۔ مذہب اور عقیدہ میرا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ صحیح یا غلط جو میرے بڑوں نے دیا وہی ٹھیک ہے۔ میں اب صبیحہ کے پاس نہیں جاؤں گی۔ میں مذہب یا پیغمبر کے بارے میں کبھی نہیں سوچوں گی۔کبھی بھی نہیں۔" وہاں بیٹھے بیٹھے اس نے طے کیا تھا۔
رات کو آٹھ بجے وہ واپس آئی تو جویریہ اور رابعہ کچھ فکرمند سی تھیں۔
"بس ایسے ہی مارکیٹ چلی گئی تھی۔" اس نے ستے ہوئے چہرے کے ساتھ انہیں بتایا۔
"ارے امامہ! تم تو بہت عرصے بعد آئی ہو نا، آخر آنا کیوں چھوڑ دیا تم نے۔" بہت دنوں بعد ایک بار پھر صبیحہ کے پاس پہنچ گئی۔ صبیحہ کا لیکچر شروع ہونے والا تھا۔
"مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں، آپ اپنا لیکچر ختم کرلیں، میں باہر بیٹھ کر آپ کا انتظار کررہی ہوں۔" امامہ نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس سے کہا۔
ٹھیک پنتالیس منٹ کے بعد جب صبیحہ اپنا لیکچر ختم کرکے باہر نکلی تو اس نے امامہ کو باہر کوریڈور میں ٹہلتے پایا۔ وہ صبیحہ کے ساتھ دوبارہ اسی کمرے میں آن بیٹھی جو اب خالی تھا۔ صبیحہ خاموشی سے اس کی طرف سے بات شروع کرنے کا انتظار کرتی رہی۔
امامہ چند لمحے کسی سوچ میں ڈوبی رہی پھر اس نے صبیحہ سے کہا۔
"آپ کو پتا ہے میں کس مذہب سے ہوں؟"
"ہاں، میں جانتی ہوں، جویریہ نے مجھے بتایا تھا۔" صبیحہ نے پرسکون انداز میں کہا۔
"میں آپ کو بتا نہیں سکتی میں کس حد تک فرسٹریٹڈ ہوں۔ میرا دل چاہتا ہے میں دنیا چھوڑ کر کہیں بھاگ جاؤں۔" اس نے کچھ دیر کے بعد صبیحہ سے کہنا شروع کیا۔ "میں۔۔۔۔۔ میں۔" اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔ "مجھے پتہ ہے کہ۔۔۔۔۔" اس نے ایک بار پھر اپنی بات ادھوری چھوڑ دی پھر خاموشی۔ "مگر میں اپنا مذہب نہیں چھوڑ سکتی۔ میں تباہ ہوجاؤں گی، میرے ماں باپ مجھے مار ڈالیں گے۔ میرا کیرئیر، میرے خواب، سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ میں نے تو سرے سے عبادت کرنا تک چھوڑ دی ہے مگر پھر بھی پتا نہیں کیوں مجھے سکون نہیں مل رہا ہے۔ آپ میری صورت حال کو سمجھیں۔ مجھے لگ رہا ہے یہ سب کچھ غلط ہے اور صحیح کیا ہے، مجھے نہیں معلوم۔"
"امامہ! تم اسلام قبول کرلو۔" صبیحہ نے اس کی بات کے جواب میں صرف ایک جملہ کہا۔
"یہ میں نہیں کرسکتی، میں آپ کو بتا رہی ہوں۔ میں کتنے مسائل کا شکار ہوجاؤں گی۔"
"تو پھر میرے پاس کس لئے آئی ہو؟" صبیحہ اسی پرسکون انداز میں کہا۔ وہ اس کا منہ دیکھنے لگی پھر اس نے بے بسی سے کہا۔
"پتا نہیں میں آپ کے پاس کس لئے آئی ہوں؟"
"تم صرف یہی ایک جملہ سننے آئی ہو جو میں نے تم سے کہا ہے۔ میں تمہیں کوئی دلیل نہیں دوں گی، کیونکہ تمہیں کسی سوال کے جواب کی تلاش نہیں ہے۔ ہر سوال کا جواب تمہارے اندر موجود ہے۔ تم سب جانتی ہو، بس تمہیں اقرار کرنا ہے۔ ایسا ہی ہے نا۔"
امامہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ "مجھے لگ رہا ہے میرے پاؤں زمین سے اکھڑ چکے ہیں۔ میں جیسے خلا میں سفر کررہی ہوں۔" اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
صبیحہ نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ بسم اللہ پڑھ رہی تھی۔ امامہ گیلی آنکھوں کے ساتھ اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔
"کہیں کچھ بھی نظر نہیں آتا صبیحہ! کچھ بھی نہیں۔" اس نے اپنے ہاتھوں کی پشت سے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا۔
"لاالہ الا اللہ۔" صبیحہ کے لب آہستہ آہستہ ہلنے لگے۔ امامہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور وہ روتے ہوئے صبیحہ کے پیچھے کلمے کے الفاظ دہرا رہی تھی۔ "محمد رسول اللہ" امامہ نے اگلے الفاظ دہرائے۔ اس کی آواز بھرا گئی۔
امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا اسے اتنا رونا کیوں آرہا تھا۔ اسے کوئی پچھتاوا، کوئی افسوس نہیں تھا مگر پھر بھی اسے اپنے آنسوؤں پر قابو پانا مشکل ہورہا تھا۔ بہت دیر تک روتے رہنے کے بعد اس نے جب سر اٹھایا تو صبیحہ اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ امامہ گیلے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
رابعہ اور جویریہ ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہی تھیں اور امامہ اپنے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ فرش کو رگڑتے ہوئے کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
"تمہیں یہ سب کچھ ہمیں پہلے ہی بتا دینا چاہئے تھا۔" جویریہ نے ایک طویل وقفے کے بعد اس خاموشی کو توڑا۔ امامہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پرسکون انداز میں کہا۔
"اس سے کیا ہوتا؟"
"کم از کم ہم تمہارے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار تو نہ ہوتے اور تمہاری مدد کرسکتے تھے ہم دونوں۔"
امامہ سر جھٹکتے ہوئے عجیب سے انداز میں مسکرائی۔ "اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔"
"مجھے تو بہت خوشی ہے امامہ! کہ تم نے ایک صحیح راستے کا انتخاب کیا ہے۔ دیر سے سہی مگر تم غلط راستے سے ہٹ گئی ہو۔" جویریہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔ "تم اندازہ نہیں کرسکتیں کہ میں اس وقت تمہارے لئے اپنے دل میں کیا محسوس کررہی ہوں۔" امامہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
"تمہیں اگر ہم دونوں کی طرف سے کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو ہچکچانا مت، تمہاری مدد کرکے ہمیں خوشی ہوگی۔"
"مجھے واقعی تم لوگوں کی مدد کی بہت ضرورت ہے، بہت زیادہ ضرورت ہے۔" امامہ نے کہا۔
"میری وجہ سے اگر تم نے اپنے مذہب کی اصلیت جانچ کر اسے چھوڑ دیا ہے تو۔۔۔۔۔" جویریہ کہہ رہی تھی۔
"امامہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ "تمہاری وجہ سے؟" اس نے جویریہ کا چہرہ دیکھتے ہوئے سوچا۔ اس کا ذہن اسے کہیں اور لے جارہا تھا۔
دھند میں اب ایک اور چہرہ ابھر رہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہی، وہ چہرہ آہستہ آہستہ واضح ہورہا تھا، زیر آب ابھرنے والے کسی نقش کی طرح۔۔۔۔۔ چہرہ اب واضح ہوگیا تھا۔ امامہ مسکرائی وہ اس چہرے کو پہچان سکتی تھی۔ اس نے اس چہرے کے ہونٹوں کو ہلتے دیکھا۔ آہستہ آہستہ وہ آواز سن سکتی تھی۔ وہ آواز سن رہی تھی۔
قطرہ مانگے جو تو اسے دریا دے دے
مجھ کو کچھ اور نہ دے اپنی تمنا دے دے
"میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم لوگ کسی کو کچھ نہ بتاؤ، زینب کو بھی نہیں۔" اپنے سر کو جھٹکتے ہوئے اس نے جویریہ اور رابعہ سے کہا تھا۔ ان دونوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کف پا تیرا
پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا
لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا
وہ اس آواز کو پہچانتی تھی۔ یہ جلال انصر کی آواز تھی
جاری ہے


پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 8



پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم
قسط نمبر 8"
ہاشم مبین نے تنفر سے گردن کو جھٹکا۔ "مجھے صرف اپنی جماعت سے روپیہ ملتا ہے اور وہ بھی وہ روپیہ ہوتا ہے جو ہماری اپنی کمیونٹی اندرون ملک اور بیرون ملک سے اکٹھا کرتی ہے۔ ہمارے پاس اپنے روپے کی کیا کمی ہے۔ ہماری اپنی فیکٹریز نہیں ہیں کیا اور اگر مجھے غیر ملکی منشز اور این جی اوز سے روپیہ ملے بھی تو میں بڑی خوشی سے لوں گا، آخر اس میں برائی کیا ہے۔ دین کی خدمت کررہا ہوں اور جہاں تک اپنے مذہب کی ترویج و تبلیغ کی بات ہے تو اس میں بھی کیا برائی ہے۔ اگر اس ملک میں عیسائیت کی تبلیغ ہوسکتی ہے تو ہمارے فرقے کی کیوں نہیں۔ ہم تو ویسے بھی اسلام کا ایک فرقہ ہیں۔ لوگوں کو راہِ ہدایت پر لانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔" ہاشم مبین نے بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا۔
"مگر تم لوگوں سے اس معاملے پر بات مت کیا کرو۔ اس بحث مباحثے کا کوئی فائدہ ہنیں ہوتا۔ ابھی ہم لوگ اقلیت میں ہیں جب اکثریت میں ہوجائیں گے تو پھر اس طرح کے لوگ اتنی بے خوفی کے ساتھ اس طرح بڑھ بڑھ کر بات نہیں کرسکیں گے پھر وہ اس طرح ہماری تذلیل کرتے ہوئے ڈریں گے مگر فی الحال ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگنا چاہیے۔"
"بابا! آئین میں ہمیں اقلیت اور غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا ہے۔ جب ہم اسلام کا ایک فرقہ ہیں تو پھر انہوں نے ہمیں غیر مسلم کیوں ٹھہرایا ہے؟" امامہ کو تحریم کی کہی ہوئی ایک اور بات یاد آئی۔
"یہ سب مولویوں کی کارستانی تھی۔ اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے وہ سب ہمارے خلاف اکٹھے ہوگئے تھے۔ ہماری تعداد بھی زیادہ ہوجائے گی تو ہم پھر اپنی مرضی کے قوانین بنوائیں گے اور اس طرح کی تمام ترمیمات کو آئین میں سے ہٹا دیں گے۔" ہاشم مبین نے پرجوش انداز میں کہا۔ "اور تمہیں اس طرح بے وقوفوں کی طرح کمرے میں بند ہوکر رونے کی ضرورت نہیں ہے۔"
ہاشم مبین نے اس کے پاس اٹھتے ہوئے کہا، امامہ انہیں وہاں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
تحریم کے ساتھ وہ اس کی دوستی کا آخری دن تھا اور اس میں تحریم سے زیادہ خود اس کا رویہ وجہ تھا۔ وہ تحریم کی باتوں سے اس حد تک دل برداشتہ ہوئی تھی کہ اب تحریم کیساتھ د وبارہ پہلے جیسے تعلقات قائم رکھنا اس کے لئے مشکل ہوگیا تھا۔ خود تحریم نے بھی اس کی اس خاموشی کو پھلانگنے یا توڑنے کی کوشش نہیں کی۔
ہاشم مبین احمد احمدی جماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ ان کے بڑے بھائی، اعظم مبین احمد بھی جماعت کے اہم رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ ان کے پورے خاندان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی تمام افراد بہت سال پہلےاس وقت قادیانیت اختیار کرگئے تھے جب اعظم مبین احمد نے اس کام کا آغاز یا تھا جن لوگوں نے قادیانیت اختیار نہیں کی تھی وہ باقی لوگوں سے قطع تعلق کرچکے تھےاپنے بڑے بھائی اعظم مبین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہاشم مبین نے بھی یہ مذہب اختیار کرلیا۔ اعظم مبین ہی کی طرح انہوں نے اپنے مذہب کے فروغ اور تبلیغ کے لئے کام کرنا بھی شروع کردیا۔ دس پندرہ سالوں میں وہ دونوں بھائی اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ اس کی وجہ سے انہوں نے بے تحاشا پیسہ کمایا اور اس پیسے سے انہوں نے سرمایا کاری بھی کی مگر ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ تحریک کی تبلیغ کے لئے میسر ہونے والے فنڈز ہی تھے۔ ان کا شمار اسلام آباد کی ایلیٹ کلاس میں ہوتا تھا۔ بے تحاشا دولت ہونے کے باوجود ہاشم اور اعظم مبین کے گھر کا ماحول روایتی تھا۔ ان کی خواتین باقاعدہ پردہ کیا کرتی تھیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ان خواتین پر ناروا پابندیاں یا کسی قسم کا جبر روا رکھا گیا تھا۔ اس مذہب کی خواتین میں تعلیم کا تناسب پاکستان میں کسی بھی مذہب کے مقابلے میں ہمیشہ ہی زیادہ رہا ہے ان لوگوں نے اعلی تعلیم بھی معروف اداروں سے حاصل کی۔
امامہ بھی اسی قسم کے ماحول میں پلی بڑھی تھی۔ وہ یقینا ً ان لوگوں میں سے تھی جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں اور اس نے ہاشم مبین کو بھی کسی قسم کے مالی مسائل سے گزرتے نہیں دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے لئے تحریم کی یہ بات ناقابل یقین تھی کہ اس کے خاندان نے پیسہ حاصل کرنے کے لئے یہ مذہب اختیار کیا۔ غیر ملکی مشنز اور بیرون ملک سے ملنے والے فنڈز کا الزام بھی اس کے لئے ناقابلِ قبول تھا۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ ہاشم مبین اس مذہب کی تبلیغ اور ترویج کرتے ہیں اور تحریک کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک ہیں مگر یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی۔ وہ شروع سے ہی اس سلسلے میں اپنے تایا اور والد کی سرگرمیوں کو دیکھتی آرہی تھی۔ اس کے نزدیک یہ کام ایسا تھا جو وہ "اسلام" کی تبلیغ و ترویج کے لئے کررہے تھے۔
اپنے گھر والوں کے ساتھ وہ کئی بار مذہبی اجتماع میں بھی جاچکی تھی اور سرکردہ رہنماؤں کے لندن سے سیٹلائٹ کے ذریعے ہونے والے خطبات کو بھی باقاعدگی سے سنتی اور دیکھتی آرہی تھی۔ تحریم کے ساتھ ہونے والے جھگڑے سے پہلے اس نے کبھی اپنے مذہب کے بارے میں غور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے لئے اپنا فرقہ ایسا ہی تھا، جیسے اسلام کا کوئی دوسرا فرقہ۔۔۔۔۔ اس کی برین واشنگ بھی اسی طرح کی گئی تھی کہ وہ سمجھتی تھی کہ صرف وہی سیدھے راستے پر تھے بلکہ وہی جنت میں جائیں گے۔
اگرچہ گھر میں بہت شروع میں ہی اسے باقی بہن بھائیوں کے ساتھ یہ نصیحت کردی گئی تھی کہ وہ بلاوجہ لوگوں کو یہ نہ بتائیں کہ وہ دراصل کیا ہیں۔ اسکول میں تعلیم کے دوران ہی وہ یہ بھی جان گئی تھی کہ 1974ء میں انہیں پارلیمنٹ نے ایک غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا تھا وہ سمجھتی تھی کہ یہ مذہبی داؤ میں آ کر کیا جانے والا ایک سیاسی فیصلہ ہے، مگر تحریم کے ساتھ ہونےو الے جھگڑے نے اسے اپنے مذہب کے بارے میں غور کرنے اور سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔
تحریم سے ہونے والے جھگڑے کے بعد ایک تبدیلی جو اس میں آئی وہ اپنے مذہب کا مطالعہ تھا۔ تبلیغی مواد کے علاوہ ان کتابوں کے علاوہ جنہیں اس مذہب کے ماننے والے مقدس سمجھتے تھے اس نے اور بھی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کردیا اور بنیادی طور پر اسی زمانے میں اس کی الجھنوں کا آغاز ہوا مگر کچھ عرصہ مطالعہ کے بعد اس نے ایک بار پھر ان الجھنوں اور اضطراب کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا۔ میٹرک کے فوراً بعد اسجد سے اسکی منگنی ہوگئی وہ اعظم مبین کا بیٹا تھا۔ یہ اگرچہ کوئی محبت کی منگنی نہیں تھی مگر اسکے باوجود امامہ اور اسجد کی پسند اس رشتہ کا باعث بنی تھی۔ نسبت طے ہونے کے بعد اسجد کے لئے امامہ کے دل میں خاص جگہ بن گئی تھی۔
اپنی پسند کے شخص سے نسبت کے بعد اس کا دوسرا ٹارگٹ میڈیکل میں ایڈمیشن تھا اور اسے اس کے بارے میں زیادہ فکر نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے باپ کی پہنچ اتنی ہے کہ اگر وہ میرٹ پر نہ بھی ہوئی تب بھی وہ اسے میڈیکل کالج میں داخل کروا سکتے ہیں اور اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو بھی وہ بیرون ملک جاکر میڈیکل کی تعلیم حاصل کرسکتی تھی۔
"تم پچھلے کچھ دنوں سے بہت پریشان ہو، کوئی پرابلم ہے؟" وسیم نے اس رات امامہ سے پوچھا وہ پچھلے کچھ دن سے بہت زیادہ خاموش اور الجھی الجھی نظر آرہی تھی۔
"نہیں، ایسی تو کوئی بات نہیں ہے تمہارا وہم ہے۔" امامہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔
"خیر وہم تو نہیں، کوئی نہ کوئی بات ہے ضرور۔ تم بتانا نہیں چاہتیں تو اور بات ہے۔" وسیم نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔ وہ امامہ کے ڈبل بیڈ پر اس سے کچھ فاصلے پر لیٹا ہوا تھا اور وہ اپنی فائل میں رکھے نوٹس الٹ پلٹ رہی تھی۔ وسیم کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر اس نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔
"میں نے ٹھیک کہا نا، تم بتانا نہیں چاہتیں؟"
"ہاں میں فی الحال بتانا نہیں چاہتی۔" امامہ نے ایک گہرا سانس لے کر اعتراف کیا۔
"بتا دو، ہوسکتا ہے میں تمہاری مدد کرسکوں۔" وسیم نے اسے اکسایا۔
"وسیم! میں خود تمہیں بتا دوں گی مگر فی الحال نہیں اور اگر مجھے مدد کی ضرورت ہوگی تو میں خود تم سے کہوں گی۔" اس نے اپنی فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
"ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی، میں تو صرف تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا۔" وہ بیڈ سے اٹھ گیا۔
وسیم کا اندازہ بالکل ٹھیک تھا۔ وہ واقعی جویریہ کے ساتھ اس دن ہونے والے جھگڑے کے بعد سے پریشان تھی۔ اگرچہ جویریہ نے اگلے دن اس سے معذرت کرلی تھی مگر اس کی الجھن اور اضطراب میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ جویریہ کی باتوں نے اسے بہت پریشان کردیا تھا۔ ایک ڈیڑھ سال پہلے تحریم کے ساتھ ہونے والا جھگڑا اسے ایک بار پھر یاد آنے لگا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنے مذہب کے بارے میں ابھرنے والے سوالات اور الجھنیں بھی جو اس نے اپنے مذہب کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد اپنے ذہن میں محسوس کی تھیں۔ جویریہ نے کہا تھا۔ "میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ کاش تم مسلمان ہوتیں۔"
"مسلمان ہوتی؟" وہ عجیب سی بے یقینی میں مبتلا ہوگئی تھی۔ "کیا میں مسلمان نہیں ہوں؟ کیا میری بہترین دوست بھی مجھے مسلمان نہیں مانتی؟ کیا یہ سب کچھ صرف ایک پروپیگنڈہ کی وجہ سے ہے جو ہمارے بارے میں کیا جاتا ہے؟ آخر ہمارے ہی بارے میں کیوں یہ سب کچھ کہا جاتا ہے؟ کیا ہم لوگ واقعی کوئی غلط کام کررہے ہیں؟ کسی غلط عقیدے کو اختیار کر بیٹھے ہیں؟ مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے، آخر میرے گھر والے ایسا کیوں کریں گے اور پھر ہماری ساری کمیونٹی ایسا کیوں کرے گی؟ اور شاید یہ ان سوالوں سے نجات پانے کی ایک کوشش تھی کہ ایک ہفتے بعد اس نے ایک بہت بڑے عالم دین کی قرآن پاک کی تفسیر خریدی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ ان کے بارے میں دوسرے فریق کا موقف کیا ہے۔ قرآن پاک کا ترجمہ وہ اس سے پہلے بھی پڑھتی رہی تھی مگر وہ تحریف شدہ حالت میں تھا۔ اسے اس سے پہلے اس بات کا یقین نہیں تھا کہ جو قرآن پاک وہ پڑھتے ہیں اس میں کچھ جگہوں پر کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں مگر اس مشہور عالم دین کی تفسیر پڑھنے کے دوران اسے ان تبدیلیوں کے بارے میں معلوم ہوگیا جو ان کے اپنے قرآن میں موجود تھیں۔ اس نے یکے بعد دیگرے مختلف فرقوں کے اداروں سے شائع ہونے والے قرآن پاک کے نسخوں کو دیکھا۔ ان میں سے کسی میں بھی وہ تبدیلیاں نہیں تھی جو خود ان کے قرآن میں موجود تھیں جبکہ مختلف فرقوں کی تفاسیر میں بہت زیادہ فرق تھا جوں جوں وہ اپنے مذہب اور اسلام کا تقابلی مطالعہ کررہی تھی اس کی پریشانی میں اضافہ ہورہا تھا۔ ہر تفسیر آخری نبی پیغمبر اسلام ﷺ کو ہی ٹھہرایا گیا تھا۔ کہیں بھی کسی ظلیّ یا امتی نبی کا کوئی ڈھکا چھپا اشارہ بھی موجود نہیں تھا۔ مسیح موعود کی حقیقت بھی اس کے سامنے آگئی تھی۔ اپنے مذہبی رہنما کی جھوٹی پیش گوئیوں میں اور حقیقت میں ہونے والے واقعات کا تضاد اسے اور بھی زیادہ چبھنے لگا تھا۔ اس کے مذہبی رہنما نے نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے جن پیغمبر کے بارے میں سب سے زیادہ غیر مہذب زبان استعمال کی تھی وہ خود حضرت عیسٰی علیہ السلام ہی تھے اور بعد میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے سے پہلے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کا حلول اس کے اندر ہوگیا ہے اور اگر اس عوے کی سچائی کو مان بھی لیا جاتا تو حضرت عیسٰی علیہ السلام اپنے دوبارہ نزول کے بعد چالیس سال تک زندہ رہتے اور پھر جب ان کا انتقال ہوا تو اسلام پوری دنیا پر غلبہ پاچکا ہوتا مگر ان رہنما کی وفات کے وقت دنیا میں اسلام کا غلبہ تو ایک طرف خود ہندوستان میں مسلمان آزادی جیسی نعمت کے لئے ترس رہے تھے۔ امامہ کو اپنے مذہبی رہنما کے گفتگو کے اس انداز پر بھی تعجب ہوتا جو اس نے اپنی مختلف کتابوں میں اپنے مخالفین یا دوسرے انبیائے کرام کے لئے اختیار کیا تھا۔ کیا کوئی نبی اس طرح کی زبان استعمال کرسکتا تھا جس طرح کی اس نبوت کے دعویٰ کرنے والے نے کی تھی۔
بہت غیر محسوس انداز میں اس کا دل اپنے مذہبی لٹریچر اور مقدس کتابوں سے اچاٹ ہونے لگا تھا۔ پہلے جیسا اعتقاد اور یقین تو ایک طرف اسے سرے سے ان کی صداقت پر شبہ ہونے لگا تھا۔ اس نے جویریہ سے یہ ذکر نہیں کیا تھا کہ وہ اب اپنے مذہب سے ہٹ کر دوسری کتابوں کو پڑھنے لگی تھی۔ اس کے گھر میں بھی کسی کو یہ اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کس قسم کی کتابیں گھر لاکر پڑھ رہی تھی اس نے انہیں اپنے کمرے میں بہت حفاظت سے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ صرف ایک دن ایسا ہوا کہ وسیم اس کے کمرے میں آکر اس کی کتابوں میں سے کوئی کتاب ڈھونڈنے لگا۔ وسیم کے ہاتھ سب سے پہلے قرآن پاک کی وہی تفسیر لگی تھی اور وہ جیسے دم بخود رہ گیا تھا۔
"یہ کیا ہے امامہ؟" اس نے مڑ کر تعجب سے پوچھا۔ امامہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور دھک سے رہ گئی۔
"یہ۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔ یہ قرآن پاک کی تفسیر ہے۔" اس نے یکدم اپنی زبان میں ہونے والی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
"میں جانتا ہوں مگر یہ یہاں کیا کررہی ہے۔ کیا تم اسے خرید کر لائی ہو؟" وسیم نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ پوچھا
"ہاں، میں اسے خرید کر لائی ہوں۔ مگر تم اتنا پریشان کیوں ہورہے ہو؟"
"بابا کو پتا چلے گا تو وہ کتنا غصہ کریں گے، تمہیں اندازہ ہے؟"
"ہاں، مجھے اندازہ ہے، مگر مجھے یہ کوئی اتنی قابل اعتراض بات نظر نہیں آتی۔"
"آخر تمہیں اس کتاب کی ضرورت کیوں پڑی؟" وسیم نے کتاب وہیں رکھ دی۔
"کیونکہ میں جاننا چاہتی ہوں کہ دوسرے عقائد کے لوگ آخر قرآن پاک کی کیا تفسیر کررہے ہیں۔ ہمارے بارے میں، قرآن کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر کیا ہے۔" امامہ نے سنجیدگی سے کہا۔
وسیم پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتا رہا۔
"تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟"
"میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے" امامہ نے پرسکون انداز میں کہا۔ "کیا برائی ہے۔ اگر میں دوسرے مذاہب کے بارے میں جانوں اور ان کے قرآن پاک کی تفسیر پڑھوں۔"
"ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔" وسیم نے ناراضی سے کہا۔
"تمہیں ضرورت نہیں ہوگی، مجھے ضرورت ہے۔" امامہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔ "میں آنکھیں بند کرکے کسی بھی چیز پر یقین کی قائل نہیں ہوں۔" اس نے واضح الفاظ میں کہا۔
"تو یہ تفسیر پڑھ کر تمہارے شبہات دور ہوگئے ہیں؟" وسیم نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
امامہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ "پہلے مجھے اپنے اعتقاد کے بارے میں شبہ نہیں تھا، اب ہے۔"
وسیم اسکی بات پر بھڑک اٹھا۔ "دیکھا، اس طرح کی کتابیں پڑھنے سے یہی ہوتا ہے۔ میں اسی لئے تم سے کہہ رہا ہوں کہ تمہیں اس طرح کی کتابیں پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے لئے ہماری اپنی کتابیں کافی ہیں۔"
"میں نے اتنی تفاسیر دیکھی ہیں، قرآن پاک کے اتنے ترجمے دیکھے ہیں، حیرانی کی بات ہے وسیم! کہیں بھی ہمارے نبی کا ذکر نہیں ہے، ہر تفسیر میں احمد سے مراد محمد ﷺ کو ہی لیا جاتا ہے، ہمارے نبی کو نہیں اور اگر کہیں ہمارے نبی کا ذکر ہے بھی تو نبوت کے ایک جھوٹے دعوے دار کے طور پر۔" امامہ نے الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
"یہ لوگ ہمارے بارے میں ایسی باتیں نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔ ہمارے نبی کی نبوت کو مان لیں گے تو ہمارا اور ان کا تو اختلاف ہی ختم ہوجائے گا۔ یہ کبھی اپنی تفاسیر میں سچ نہیں شائع کریں گے۔" وسیم نے تلخی سے کہا۔
"اور جو ہماری تفسیر ہے، کیا ہم نے سچ لکھا ہے اس میں۔"
"کیا مطلب؟" وسیم ٹھٹکا۔
"ہمارے نبی دوسرے پیغمبروں کے بارے میں غلط زبان کیوں استعمال کرتے ہیں؟"
"وہ ان لوگوں کے بارے میں اپنی بات کرتے ہیں جو ان پر ایمان نہیں لائے۔" وسیم نے کہا۔
"جو ایمان نہ لائے کیا اسے گالیاں دینی چاہیں؟"
"ہاں غصہ کا اظہار تو کسی نہ کسی صورت میں ہوتا ہے۔" وسیم نے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا۔
"غصے کا اظہار یا بے بسی کا؟" امامہ کے جملے پر وہ دم بخود اسے دیکھنے لگا۔
"جب حضرت عیسیٰ علیہ اسلام پر لوگ ایمان نہیں لائے تو انہوں نے لوگوں کو گالیاں تو نہیں دی۔ حضرت محمد ﷺ پر لوگ ایمان نہیں لائے تھے تو انہوں نے بھی کسی کو گالیاں نہیں دیں۔ محمد ﷺ نے تو ان لوگوں کے لئے بھی دعا کی جنہوں نے انہیں پتھر مارے، جو وحی قرآن پاک کی صورت میں حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے اس میں کوئی گالی نہیں ملتی اور جس مجموعے کو ہمارے نبی اپنے اوپر نازل شدہ صحیفہ کہتے ہیں وہ گالیوں سے بھرا ہوا ہے۔"
"امامہ! ہر انسان کا مزاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، ہر انسان الگ طرح سے ری ایکٹ کرتا ہے۔" وسیم نے تیزی سے کہا۔ امامہ نے قائل نہ ہونے والے انداز میں سرہلایا۔
"میں ہر انسان کی بات نہیں کررہی ہوں۔ میں نبی کی بات کررہی ہوں جو شخص اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتا وہ نبوت کا دعوٰی کیسے کرسکتا ہے۔ جس شخص کی زبان سے گالیاں نکلتی ہوں اس کی زبان سے حق و صداقت کی بات نکل سکتی ہے؟ وسیم! مجھے اپنے مذہب اور عقیدے کے بارے میں الجھن سی ہے۔" وہ ایک لمحہ کے لئے رکی۔ "میں نے اتنی تفاسیر میں اگر کسی امتی نبی کا ذکر پایا ہے تو وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ہیں اور میں نہیں سمجھتی کہ ہمارے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا مسیح موعود ہیں۔"
"نہیں۔۔۔۔ یہ وہ نہیں ہیں، جن کے آنے کے بارے میں قرآن پاک میں ذکر ہے۔" اس بار اس نے اپنے الفاظ کی خود ہی پُرزور تردید کی۔
"تم اب اپنی بکواس بند کرلو تو بہتر ہے۔" وسیم نے ترش لہجے میں کہا۔ "کافی فضول باتیں کرچکی ہو تم۔"
"فضول باتیں؟" امامہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ "تم کہہ رہے ہو میں فضول باتیں کررہی ہوں۔ مسجد اقصیٰ اگر ہمارے شہر میں ہے تو پھر جو اتنے سینکڑوں سالوں سے فلسطین میں مسجد اقصیٰ ہے وہ کیا ہے۔ ایک نام کی دو مقدس جگہیں دنیا میں بنا کر خدا تو مسلمانوں کو کنفیوز نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کو چھوڑو، یہودی، عیسائی ساری دنیا اسی مسجد کو قبلہ اول تسلیم کرتی ہے۔ اگر کوئی نہیں کرتا تو ہم نہیں کرتے، یہ عجیب بات نہیں ہے؟"
"امامہ! میں ان معاملات پر تم سے بحث نہیں کرسکتا۔ بہتر ہے تم اس مسئلے کو بابا سے ڈسکس کرو۔" وسیم نے اکتا کر کہا۔ "ویسے تم غلطی کررہی ہو، اس طرح کی فضول بحث شروع کرکے۔ میں بابا کو تمہاری یہ ساری باتیں بتا دوں گا اور یہ بھی کہ تم آج کل کیا پڑھ رہی ہو۔" وسیم نے جاتے جاتے دھمکانے والے انداز میں کہا۔ وہ کچھ سوچ کر الجھے ہوئے انداز میں اپنے ہونٹ کاٹنے لگی۔ وسیم کچھ دیر ناراضی کا اظہار کرکے کمرے سے باہر چلا گیا۔ وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگی۔ وہ ہاشم مبین سے ڈرتی تھی اور جانتی تھی کہ وسیم ان سے اس بات کا ذکر ضرور کرے گا۔ وہ ان کے ردعمل سے خوفزدہ تھی۔
وسیم نے ہاشم مبین کو امامہ کے ساتھ ہونے والی بحث کے بارے میں بتا دیا تھا مگر اس نے بہت سی ایسی باتوں کو سنسر کردیا تھا جس پر ہاشم مبین کے بھڑک اٹھنے کا امکان تھا۔ اس کے باوجود ہاشم مبین دم بخود رہ گئے تھے۔ یوں جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔
"یہ سب تم سے امامہ نے کہا ہے؟" ایک لمبی خاموشی کے بعد انہوں نے وسیم سے پوچھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
"اسے بلا کر لاؤ۔" وسیم کچھ جھجکتے ہوئے ان کے کمرے سے نکل گیا۔ امامہ کو خود بلا کر لانے کی بجائے اس نے ملازم کے ہاتھ پیغام بھجوا دیا اور خود اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وہ امامہ اور ہاشم مبین کی گفتگو کے دوران موجود رہنا نہیں چاہتا تھا۔
ہاشم مبین کے کمرے کے دروازے پر دستک دیکر وہ اندر داخل ہوئی تواس وقت ہاشم اور ان کی بیگم بالکل خاموش بیٹھے تھے۔ ہاشم مبین نے اسے جن نظروں سے دیکھا تھا اس نے اس کے جسم کی لرزش میں کچھ اور اضافہ کردیا۔
"بابا۔۔۔۔۔ آپ نے۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ بلوایا تھا۔" کوشش کے باوجود وہ روانی سے بات نہیں کہہ سکی۔
"ہاں، میں نے بلوایا تھا۔ وسیم سے کیا بکواس کی ہے تم نے؟" ہاشم مبین نے بلاتمہید بلند آواز میں اس سے پوچھا۔ وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر رہ گئی۔ "کیا پوچھ رہا ہوں تم سے؟" وہ ایک بار پھر دھاڑے۔ "شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں، خود گناہ کرتی ہو اور اپنے ساتھ ہمیں بھی گناہگار بناتی ہو۔" امامہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "تمہیں اپنی اولاد کہتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے۔ کونسی کتابیں لائی ہو تم؟" وہ مشتعل ہوگئے تھے۔ "جہاں سے یہ کتابیں لے کر آئی ہو، کل تک وہیں دے آؤ۔ ورنہ میں انہیں اٹھا کر پھینک دوں گا باہر۔"
"جی بابا!۔" اس نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے صرف اتنا ہی کہا۔
"اور آج کے بعد اگر تم نے جویریہ کے ساتھ میل جول رکھا تو میں تمہارا کالج جانا بند کردوں گا۔"
"بابا۔۔۔۔۔ جویریہ نے مجھ سے کچھ نہیں کہا۔ اس کو تو کچھ پتا ہی نہیں ہے۔" اس بار امامہ نے قدرے مضبوط آواز میں احتجاج کیا۔
"تو پھر اور کون ہے جو تمہارے دماغ میں یہ خناس بھر رہا ہے؟" وہ بری طرح چلائے۔
"میں۔۔۔۔۔ خود۔۔۔۔۔ ہی۔" امامہ نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔
"ہوکیا تم، اپنی عمر دیکھو اور چلی ہو تم عقیدے جانچنے، اپنے نبی کی نبوت کو پرکھنے۔" ہاشم مبین کا پارہ پھر ہائی ہوگیا۔ "اپنے باپ کی شکل دیکھو جس نے ساری عمر تبلیغ میں گزار دی۔ کیا میں عقل کا اندھا ہوں یا پھر تم مجھ سے زیادہ عقل رکھتی ہو۔ جمعہ جمعہ چار دن ہوئے ہیں تمہیں پیدا ہوئےا ور تم چل پڑی ہو اپنے نبی کی نبوت کو ثابت کرنے۔" ہاشم مبین اب اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ "تم منہ میں سونے کا چمچ لے کر اسی نبی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو، جس کی نبوت کو آج تم جانچنے بیٹھ گئی ہو۔ وہ نہ ہوتا تو سڑک پر دھکے کھا رہا ہوتا ہمارا سارا خاندان اور تم اس قدر احسان فراموش اور بے ضمیر ہوچکی ہو کہ جس تھالی میں کھاتی ہو اسی میں چھید کررہی ہو۔"
ہاشم مبین کی آواز پھٹ رہی تھی۔ امامہ کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کی رفتار میں اور اضافہ ہوگیا۔
"بند کرو یہ لکھنا پڑھنا اور گھر بیٹھو تم! یہ تعلیم حاصل کررہی ہو جو تمہیں گمراہی کی طرف لے جارہی ہے۔"
ان کے اگلے جملے پر امامہ کی سٹی گم ہوگئی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسے گھر بٹھانے کی بات کریں گے۔
"بابا۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔" انکے ایک جملے نے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا۔
"مجھے تمہارے کسی ایکسکیوز کی ضرورت نہیں ہے۔ بس کہہ دیا کہ گھر بیٹھو، تو گھر بیٹھو۔"
"بابا۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ میرا۔۔۔۔۔ میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔ پتا نہیں وسیم۔۔۔۔۔ اس نے آپ سے کس طرح بات کی ہے۔" اس کے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے۔ "پھر بھی میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ میں آئندہ ایسا کچھ نہیں پڑھوں گی نہ ہی ایسی کوئی بات کروں گی۔ پلیز بابا!۔" اس نے منت کی۔
ان معذرتوں کا سلسلہ وہیں ختم نہیں ہوا تھا، اگلے کئی دن تک وہ ہاشم مبین سے معافی مانگتی رہی اور پھر تقریباً ایک ہفتے کے بعد وہ نرم پڑ گئے تھے اور انہوں نے اسے کالج جانے کی اجازت دے دی تھی مگر اس ایک ہفتے میں وہ اپنے پورے گھر کی لعنت ملامت کا شکار رہی تھی۔ ہاشم مبین نے اسے سخت قسم کی تنبیہ کے بعد کالج جانے کی اجازت دی تھی مگر اس ایک ہفتے کے دوران ان لوگوں کے رویے نے اسے اپنے عقیدے سے مزید متنفر کیا تھا۔ اس نے ان کتابوں کو پڑھنے کا سلسلہ روکا نہیں تھا۔ بس فرق یہ تھا کہ پہلے وہ انہیں گھر لے آتی تھی اور اب وہ انہیں کالج کی لائبریری میں پڑھ لیا کرتی تھی۔
ایف ایس سی میں میرٹ لسٹ پر آنے کے بعد اس نے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لے لیا تھا۔ جویریہ کو بھی اسی میڈیکل کالج میں ایڈمیشن مل گیا تھا، ان کی دوستی میں اب پہلے سے زیادہ مضبوطی آگئی تھی اور اس کی بنیادی وجہ امامہ کے ذہن میں آنے والی تبدیلی تھی۔
جاری ہے


Thursday, 5 October 2017

پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 7



پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلمقسط نمبر 7
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"بتاؤ نا۔ آخر تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟" اس دن کالج میں امامہ نے جویریہ سے اصرار کیا۔جویریہ کچھ دیر ا سکا چہرہ دیکھتی رہی۔ "میری خواہش ہے کہ تم مسلمان ہوجاؤ۔"امامہ کو جیسے ایک کرنٹ سا لگا۔ اس نے شاک اور بے یقینی کے عالم میں جویریہ کو دیکھا۔ وہ دھیمے لہجے میں کہتی جارہی تھی۔"تم میری اتنی اچھی اور گہری دوست ہو کہ مجھے یہ سوچ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تم گمراہی کے راستے پر چل رہی ہو اور تمہیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔۔۔۔۔ نہ صرف تم بلکہ تمہاری پوری فیملی۔۔۔۔۔ میری خواہش ہے کہ نیک اعمال پر اگر اللہ مجھے جنت میں بھیجے تو تم میرے ساتھ ہو لیکن اس کے لئے مسلمان ہونا تو ضروری ہے۔"امامہ کے چہرے پر ایک کے بعد ایک رنگ آرہا تھا۔ بہت دیر بعد وہ کچھ بولنے کے قابل ہوسکی۔"میں توقع نہیں کرسکتی تھی جویریہ کہ تم مجھ سے تحریم جیسی باتیں کرو گی۔ تمہیں تو میں اپنا دوست سمجھتی تھی مگر تم بھی۔۔۔۔۔" جویریہ نے نرمی سے اس کی بات کاٹ دی۔"تحریم نے تم سے تب جو کچھ کہا تھا، ٹھیک کہا تھا۔" امامہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی، اسے جویریہ کی باتوں سے بہت تکلیف ہورہی تھی۔"اور صرف آج ہی نہیں، میں اس وقت بھی تحریم کو صحیح سمجھتی تھی مگر میری تمہارے ساتھ دوستی تھی اور میں چاہنے کے باوجود تم سے یہ نہیں کہہ سکی کہ میں تحریم کو حق بجانب سمجھتی ہوں۔ اگر وہ یہ کہتی تھی کہ تم مسلمان نہیں ہو تو یہ ٹھیک تھا۔ تم مسلمان نہیں ہو۔"امامہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کچھ بھی کہے بغیر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ جویریہ بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ امامہ کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے جانے کی کوشش کی مگر جویریہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔"تم میرا بازو چھوڑ دو۔۔۔۔۔ مجھے جانے دو، آئندہ کبھی تم مجھ سے بات تک مت کرنا۔" امامہ نے بھرائے ہوئے لہجے میں اس سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔"امامہ! میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔"امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ "تم نے کتنا ہرٹ کیا ہے مجھے۔ جویریہ مجھے کم از کم تم سے یہ امید نہیں تھی۔""میں تمہیں ہرٹ نہیں کررہی ہوں۔ حقیقت بتا رہی ہوں۔ رونے یا جذبات میں آنے کے بجائے تم ٹھنڈے دل و دماغ سے میری بات سوچو۔۔۔۔۔ میں آخر تم کو بے کار کسی بات پر ہرٹ کیوں کروں گی۔" جویریہ نے اس کا بازو نہیں چھوڑا۔"یہ تو تمہیں پتا ہی ہوگا کہ تم مجھے ہرٹ کیوں کررہی ہو، مگر مجھے آج یہ اندازہ ضرور ہو گیا ہے کہ تم میں اور تحریم میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ تم نے تو مجھے اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی ہے۔ اس سے میری دوستی اتنی پرانی نہیں تھی جتنی تمہارے ساتھ ہے۔" امامہ کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھےا ور وہ مسلسل اپنا بازو جویریہ کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کررہی تھی۔"یہ تمہارا اصرار تھا کہ میں تمہیں اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاؤں۔ میں اسی لئے تمہیں نہیں بتا رہی تھی اور میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کردیا تھا کہ تم میری بات پر بہت ناراض ہوگی مگر تم نے مجھے یقین دلایا تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔" جویریہ نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔"مجھے اگر یہ پتا ہوتا کہ تم میرے ساتھ اس طرح کی بات کرو گی تو میں کبھی تم سے تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش جاننے پر اصرار نہ کرتی۔" امامہ نے اس بار قدرے غصے سے کہا۔"اچھا میں دوبارہ اس معاملے پر تم سے بات نہیں کروں گی۔" جویریہ نے قدرے مدافعانہ انداز میں کہا۔"اس سے کیا ہوگا۔ مجھے یہ تو پتا چل گیا ہے کہ تم درحقیقت میرے بارے میں کیا سوچتی ہو۔۔۔۔۔ ہماری دوستی اب کبھی بھی پہلے جیسی نہیں ہوسکتی۔ آج تک میں نے کبھی تم پر اس طرح تنقید نہیں کی مگر تم مجھے اسلام کا ایک فرقہ سمجھنے کے بجائے غیر مسلم بنا رہی ہو۔" امامہ نے کہا۔"میں اگر ایسا کررہی ہوں تو غلط نہیں کررہی۔ اسلام کے تمام فرقے کم از کم یہ ایمان ضرور رکھتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وآل وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔" اس بار جویریہ کو بھی غصہ آگیا۔"مائنڈ یور لینگویج۔" امامہ بھی بھڑک اٹھی۔"میں تمہیں حقیقت بتا رہی ہوں امامہ ۔۔۔۔۔ اور میں ہی نہیں یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ تمہاری فیملی نے روپے کے حصول کے لئے مذہب بدلا ہے۔""امامہ! میری باتوں پر اتنا ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹھنڈے دل و دماغ سے۔۔۔۔۔"امامہ نے جویریہ کی بات کاٹ دی۔" مجھے ضرورت نہیں ہے تمہاری کسی بھی بات پر ٹھنڈے دل و دعاغ سے غور کرنے کی ۔میں جانتی ہوں حقیقت کیا ہے اور کیا نہیں۔۔۔۔۔""تم نہیں جانتیں اور یہی افسوس ناک بات ہے۔" جویریہ نے کہا امامہ نے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے اس بار بہت زور کے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑالیا اور تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے چل پڑی۔اس بار جویریہ نے اس کے پیچھے جانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ کچھ افسوس اور پریشانی سے اسے دور جاتے دیکھتی رہی۔ امامہ اس طرح ناراض نہیں ہوتی تھی جس طرح وہ آج ہوگئی تھی اور یہی بات جویریہ کو پریشان کررہی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭یہ سب کچھ اسکول میں ہونے والے ایک واقعے سے شروع ہوا تھا۔ امامہ اس وقت میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی اور تحریم اس کی اچھی دوستوں میں سے ایک تھی۔ وہ لوگ کئی سال سے اکٹھے تھے اور نہ صرف ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے بلکہ انکی فیملیز بھی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔ اپنی فرینڈز میں سے امامہ کی سب سے زیادہ دوستی تحریم اور جویریہ سے تھی مگر اسے حیرت ہوتی تھی کہ اتنی گہری دوستی کے باوجود بھی جویریہ اور تحریم اس کے گھر آنے سے کتراتی تھیں۔ امامہ ہر سال اپنی سالگرہ پر انہیں انوائیٹ کرتی اور اکثر وہ اپنے گھر پر ہونے والی دوسری تقریبات میں بھی انہیں مدعو کرتیں، وہ گھر سے اجازت نہ ملنے کا بہانہ بنا دیتیں۔ چند بار امامہ نے خود ان دونوں کے والدین سے اجازت لینے کے لئے بات کی، لیکن اس کے بے تحاشا اصرار کے باوجود ان دونوں کے والدین انہیں اس کے گھر آنے کی اجازت نہ دیتے۔ ان کے رویے پر کچھ شاکی ہوکر اس نے اپنے والدین سے شکایت کی۔"تمہاری یہ دونوں فرینڈز سید ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر ہمارے فرقہ کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لئے ان دونوں کے والدین انہیں ہمارے گھر آنے نہیں دیتے۔"ایک بار اس کی امی نے اس کی شکایت پر کہا۔"یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔ ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے۔" امامہ کو ان کی بات پر تعجب ہوا۔"اب یہ تو وہی لوگ بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔ یہ تو ہمیں غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔" اس کی امی نے کہا۔"کیوں غیر مسلم کہتے ہیں۔ ہم تو غیر مسلم نہیں ہیں۔" امامہ نے کچھ الجھ کر کہا۔"ہاں بالکل۔ ہم مسلمان ہیں۔۔۔۔۔ مگر یہ لوگ ہمارے نبی پر یقین نہیں رکھتے۔" اسکی امی نے کہا۔"کیوں؟""اب اس کیوں کا میں کیا جواب دے سکتی ہوں۔ اب یہ لوگ یقین نہیں رکھتے۔ کٹر ہیں بڑے، یہ تو انہیں قیامت کے دن ہی پتا چلے گا کہ کون سیدھے رستے پر تھا۔ ہم یا یہ۔۔۔۔۔۔""مگر امی مجھ سے تو انہوں نے کبھی مذہب پر بات نہیں کی۔ پھر مذہب مسئلہ کیسے بن گیا۔۔۔۔۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے پھر دوسرے کے گھر آنے جانے سے کیا ہوتا ہے۔" امامہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی۔"یہ بات انہیں کون سمجھائے۔۔۔۔۔ یہ لوگ ہمیں جھوٹا کہتے ہیں، حالانکہ خود انہیں ہمارے بارے میں کچھ پتا نہیں۔۔۔۔۔ بس مولویوں کے کہنے میں آکر ہم پر چڑھ دوڑتے ہیں، انہیں ہمارے بارے میں اور ہمارے نبی کی تعلیمات کے بارے میں کچھ پتا ہو تو یہ لوگ اس طرح نہ کریں۔ شاید پھر انہیں کچھ شعور آجائے۔۔۔۔۔ اور یہ لوگ بھی ہماری طرح راہ راست پر آجائیں۔ تمہاری فرینڈز اگر تمہارے گھر نہیں آتیں تو تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم بھی ان کے گھر مت جایا کرو۔""مگر امی! انکی غلط فہمیاں تو دور ہونا چاہیں میرے بارے میں۔" امامہ نے ایک بار پھر کہا۔"یہ کام تم نہیں کرسکتیں۔ ان لوگوں کے ماں باپ مسلسل اپنے بچوں کی ہمارے خلاف برین واشنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ہمارے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔""نہیں امی! وہ میری بیسٹ فرینڈز ہیں۔ ان کو میرے بارے میں اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں ان لوگوں کو اپنی کتابیں پڑھنے کے لئے دوں گی، تاکہ ان کے دل سے میرے بارے میں یہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں، پھر ہوسکتا ہے یہ ہمارے نبی کو بھی مان جائیں۔" امامہ نے کہا اس کی امی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔"آپ کو میری تجویز پسند نہیں آئی؟""ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم ضرور انہیں اپنی کتابیں دو۔۔۔۔۔ مگر اس طریقے سے نہیں کہ انہیں یہ لگے کہ تم اپنے فرقہ کی ترویج کے لئے انہیں یہ کتابیں دے رہی ہو۔ تم انہیں یہ کہہ کر کتابیں دینا کہ تم چاہتی ہو کہ وہ ہمارے بارے میں جانیں۔ ہم کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور ان سے یہ بھی کہنا کہ ان کتابوں کا ذکر وہ اپنے گھروالوں سے نہ کریں۔۔۔۔۔ ورنہ وہ لوگ زیادہ ناراض ہوجائیں گے۔" امامہ نے انکی بات پر سرہلادیا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اس کے چند دنوں بعد امامہ اسکول میں کچھ کتابیں لے گئی تھی۔ بریک کے دوران وہ جب گراؤنڈ میں آکر بیٹھیں تو امامہ اپنے ساتھ وہ کتابیں بھی لے آئی۔"میں تمہارے اور جویریہ کے لئے کچھ لے کر آئی ہوں۔"کیا لائی ہو دکھاؤ!۔" امامہ نے شاپر سے وہ کتابیں نکال لیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ وہ دونوں ان کتابوں پر نظر ڈالتے ہی کچھ چپ سی ہوگئیں۔ جویریہ نے امامہ سے کچھ نہیں کہا مگر تحریم یکدم کچھ اکھڑ گئی۔"یہ کیا ہے؟" اس نے سردمہری سے پوچھا۔"یہ کتابیں میں تمہارے لئے لائی ہوں۔" امامہ نے کہا۔"کیوں؟""تاکہ تم لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔""کس طرح کی غلط فہمیاں؟""وہی غلط فہمیاں جو تمہارے دل میں، ہمارے مذہب کے بارے میں ہیں۔" امامہ نے کہا۔"تم سے کس نے کہا کہ ہمیں تمہارے مذہب یا تمہارے نبی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں؟" تحریم نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔"میں خود اندازہ کرسکتی ہوں۔ صرف اسی وجہ سے تو تم لوگ ہمارے گھر نہیں آتے۔ تم لوگ شاید یہ سمجھتے ہو کہ ہم لوگ مسلمان نہیں ہیں یا ہم لوگ قرآن نہیں پڑھتے یا ہم لوگ محمد ﷺ کو پیغمبر نہیں مانتے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔ ہم لوگ ان سب چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد ہمارا بھی ایک نبی ہے اور وہ بھی اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح محمد ﷺ۔" امامہ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے کہا۔تحریم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں اسے واپس تھما دیں۔ "ہمیں تمہارے اور تمہارے مذہب کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔۔۔۔۔ ہم تمہارے مذہب کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لئے تم کو کوئی وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔" اس نے بڑے روکھے لہجے میں امامہ سے کہا۔ "اور جہاں تک ان کتابوں کا تعلق ہے تو میرے اور جویریہ کے پاس اتنا بے کار وقت نہیں ہے کہ ان احمقانہ دعوؤں، خوش فہمیوں اور گمراہی کے اس پلندے پر ضائع کریں جسے تم اپنی کتابیں کہہ رہی ہو۔" تحریم نے ایک جھٹکے کے ساتھ جویریہ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں کھینچ کر انہیں بھی امامہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ امامہ کا چہرہ خفت اور شرمندگی سے سرخ پڑ گیا۔ اسے تحریم سے اس طرح کے تبصرے کی توقع نہیں تھی اگر ہوتی تو وہ کبھی اسے وہ کتابیں دینے کی حماقت ہی نہ کرتی۔"اور جہاں تک اس احترام کا تعلق ہے تو اس نبی میں جس پر نبوت کا نزول ہوتا ہے اور اس نبی میں جو خودبخود نبی ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو اگر قرآن پر واقعی یقین ہوتا تو تمہیں اس کے ایک ایک حرف پر یقین ہوتا۔ نبی ہونے میں اور نبی بننے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔""تحریم! تم میری اور میرے فرقہ کی بے عزتی کررہی ہو۔" امامہ نے انکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ کہا۔"میں کسی کی بے عزتی نہیں کررہی۔ میں صرف حقیقت بیان کررہی ہوں، وہ اگر تمہیں بے عزتی لگتی ہے تو میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتی۔" تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔"روزہ رکھنے اور بھوکے رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ قرآن پڑھنے اور اس پر ایمان لانے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ بہت سارے عیسائی اور ہندو بھی اسلام کے بارے میں جاننے کے لئے قرآن پاک پڑھتے ہیں تو کیا انہیں مسلمان مان لیا جاتا ہے اور بہت سے مسلمان بھی دوسرے مذہب کے بارے میں جاننے کے لئے دوسری الہامی کتابیں پڑھتے ہیں تو کیا وہ غیر مسلم ہوجاتے ہیں اور تم لوگ اگر حضور ﷺ کو پیغمبر مانتے ہو تو کوئی احسان نہیں کرتے۔ تم ان کی نبوت کو جھٹلاؤ گے تو اور کیا جھٹلاؤ گے، پھر تو انجیل کو بھی جھٹلانا پڑے گا۔ جس میں حضور ﷺ کی نبوت کی خوش خبری دی گئی ہے۔ پھر تو توریت کو بھی جھٹلانا پڑے گاجس میں ان کی نبوت کی بات کی گئی ہے، پھر قرآن پاک کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو محمد ﷺ کو آخری نبی قرار دیتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر تمہارا نبی محمد ﷺ کی نبوت کو جھٹلاتا ہے تو وہ ان مناظروں کی کیا توجیہہ پیش کرتا جو وہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کئی سال عیسائی پادریوں سے محمد ﷺ کی نبوت اور اسلام کے آخری دین ہونے پر کرتا رہاتھا۔ اس لئے امامہ ہاشم! تم ان چیزوں کے بارے میں بحث کرنے کی کوشش مت کرو جن کے بارے میں تمہیں سرے سے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ تمہیں نہ اس مذہب کے بارے میں پتا ہے جس پر تم چل رہی ہو اور نہ اس کے بارے میں جس پر تم بات کررہی ہو۔"تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔"اور میں ایک چیز بتادوں تمہیں۔۔۔۔۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ تم لوگ محمد ﷺ کی نبوت کے ختم ہونے کا انکار کرتے ہو تو ہمارے پیغمبر ﷺ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔""مگر ہم محمد ﷺ کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔" امامہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔"تو پھر ہم بھی انجیل پر یقین رکھتے ہیں، اسے الہامی کتاب مانتے ہیں، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا ہم کرسچن ہیں؟ اور ہم تو حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی نبوت پر بھی یقین رکھتے ہیں تو کیا پھر ہم یہودی ہیں؟" تحریم نے کچھ تمسخر سے کہا۔ "لیکن ہمارا دین اسلام ہے، کیونکہ ہم محمد ﷺ کے پیروکار ہیں اور ہم ان پیغمبروں پر یقین رکھنے کے باوجود نہ عیسائیت کا حصہ ہیں نہ یہودیت کا، بالکل اسی طرح تم لوگوں کا نبی ہے کیونکہ تم اس کے پیروکار ہو۔ ویسے تم لوگ تو ہمیں بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔ ابھی تم اصرار کررہی ہو کہ تم اسلام کا ایک فرقہ ہو۔۔۔۔۔ جبکہ تمہارے نبی اور اس کے بعد آنے والے تمہاری جماعت کے تمام لیڈرز کا دعویٰ ہے کہ جو مرزا کی نبوت پر یقین نہیں رکھتا وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔ تو اسلام سے تو تم لوگ تمام مسلمانوں کو پہلے ہی خارج کرچکے ہو۔""ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں نے ایسا کب کہا ہے؟" امامہ نے قدرے لڑکھڑائے ہوئے لہجے میں کہا۔"تو پھر تم اپنے والد سے ذرا اس معاملے کو ڈسکس کرو۔۔۔۔۔ وہ تمہیں خاصی اپ ٹو ڈیٹ انفارمیشن دیں گے اس بارے میں۔۔۔۔۔ تمہارے مذہب کے خاصے سرکردہ رہنما ہیں وہ۔۔۔۔۔" تحریم نے کہا۔ "اور یہ جو کتابیں تم ہمیں پیش کررہی ہو۔۔۔۔۔ انہیں خود پڑھا ہے تم نے۔۔۔۔۔ نہیں پڑھا ہوگا۔۔۔۔۔ ورنہ تمہیں پتا ہوتا ان سرکردہ رہنماؤں کے بارے میں۔"جویریہ تحریم کی اس ساری گفتگو کے دوران خاموش رہی تھی، وہ صرف کن اکھیوں سے امامہ کو دیکھتی رہی تھی۔ "اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمد ﷺ اس کے آخری نبی ہیں اور میرے پیغمبر ﷺ اس پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اور میری کتاب مجھ تک یہ دونوں باتیں بہت صاف واضح اور دوٹوک انداز میں پہنچا دیتی ہے تو پھر مجھے کسی اور شخص کے ثبوت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ سمجھیں۔"تحریم نے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔"بہتر ہے تم اپنے مذہب کو یا ہمارے مذہب کو زیر بحث لانے کی کوشش نہ کرو۔ اتنے سالوں سے دوستی چل رہی ہے، چلنے دو۔۔۔۔۔""جہاں تک تمہارے گھر نہ آنے کا تعلق ہے تو ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ میرے والدین کو تمہارے گھر آنا پسند نہیں ۔ یہاں اسکول میں تم سے دوستی اور بات ہے۔ بہت سے لوگوں سے دوستی ہوتی ہے ہماری اور دوستی میں عام طور پر مذہب آڑے نہیں آتا لیکن گھر میں آنا جانا۔۔۔۔۔ کچھ مختلف چیز ہے۔۔۔۔۔ انہیں شاید میری کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو دوست کے گھر جانے پر اعتراض نہ ہولیکن تمہارے گھر جانے پر ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہیں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے جس مذہب سے تعلق ہوتا ہے وہی بتاتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنا تم لوگوں کو ناپسند کیا جاتا ہے اتنا ان لوگوں کو نہیں کیا جاتا کیونکہ تم لوگ صرف پیسے کے حصول اور اچھے مستقبل کے لئے یہ نیا مذہب اختیار کرکے ہمارے دین میں گھسنے کی کوشش کررہے ہو، مگر کرسچن، ہندو یا یہودی ایسا نہیں کرتے۔"امامہ نے بے اختیار اسے ٹوکا۔ "کس پیسے کی بات کررہی ہو تم؟ تم ہماری فیملی کو جانتی ہو۔۔۔۔۔ ہم لوگ شروع سے ہی بہت امیر ہیں۔ ہمیں کونسا روپیہ مل رہا ہے اس مذہب پر رہنے کے لئے۔""ہاں تم لوگ اب بڑے خوشحال ہو، مگر شروع سے تو ایسے نہیں تھے۔ تمہارے دادا مسلمان تھے مگر غریب آدمی تھے۔ وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے اور ایک چھوٹے کاشتکار تھے۔ ربوہ سے کچھ فاصلے پر ان کی تھوڑی بہت زمین تھی پھر تمہارے تایا نے اپنے کسی دوست کے توسط سے وہاں جانا شروع کردیا اور یہ مذہب اختیار کرلیا اور بے تحاشا امیر ہوگئے کیونکہ انہیں وہاں سے بہت زیادہ پیسہ ملا پھر آہستہ آہستہ تمہارے والد اور تمہارے چچا نے بھی اپنا مذہب بدل لیا پھر تم لوگوں کا خاندان اس ملک کے متمول ترین خاندانوں میں شمار ہونے لگا اور یہ کام کرنے والے تم لوگ واحد نہیں ہو زیادہ تر اسی طریقے سے لوگوں کو اس مذہب کا پیروکار بنایا جارہا ہے۔"امامہ نے کچھ بھڑکتے ہوئے اس کی بات کو کاٹا "تم جھوٹ بول رہی ہو۔""تمہیں یقین نہیں آرہا تو تم اپنے گھر والوں سے پوچھ لینا کہ اس قدر دولت کس طرح آئی ان کے پاس۔۔۔۔۔ اور ابھی بھی کس طرح آرہی ہے۔ تمہارے والد اس مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں ڈالرز آتے ہیں، انہیں غیر ملکی مشنز اور این جی اوز سے۔۔۔۔۔" تحریم نے کچھ تحقیر آمیز انداز میں کہا۔"یہ جھوٹ ہے، سفید جھوٹ۔" امامہ نے بے اختیار کہا۔ "میرے بابا کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے۔ وہ اگر اس فرقہ کے لئے کام کرتے ہیں، تو غلط کیا ہے۔ کیا دوسرے فرقوں کے لئے کام نہیں کیا جاتا۔ دوسرے فرقوں کے بھی تو علماء ہوتے ہیں یا ایسے لوگ جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔""دوسرے فرقوں کو یورپی مشنز سے روپیہ نہیں ملتا۔""میرے بابا کو کہیں سے کچھ نہیں ملتا۔" امامہ نے ایک بار پھر کہا۔ تحریم نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔امامہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر گردن موڑ کر اپنے پاس بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا۔"کیا تم بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہو؟""تحریم نے غصہ میں آکر تم سے یہ سب کچھ کہا ہے۔ تم اس کی باتوں کا برا مت مانو۔" جویریہ نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔"تم ان سب باتوں کو چھوڑو۔۔۔۔۔ آؤ کلاس میں چلتے ہیں۔ بریک ختم ہونے والی ہے۔" جویریہ نے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭اس دن وہ گھر واپس آکر اپنے کمرے میں بند ہوکر روتی رہی۔ تحریم کی باتوں نے اسے واقعی بہت دل برداشتہ اور مایوس کیا تھا۔ہاشم مبین احمد اس دن شام کو ہی آفس سے گھر واپس آگئے ۔ واپس آنے پر انہیں سلمیٰ سے پتا چلا کہ امامہ کی طبیعت خراب ہے وہ اس کا حال احوال پوچھنےا س کے کمرے میں چلے آئے۔ امامہ کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ ہاشم مبین حیران رہ گئے۔"کیا بات ہے امامہ؟" انہوں نے امامہ کے قریب آکر پوچھاوہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور کچھ بہانہ کرنے کی بجائے بے اختیار رونے لگی۔ ہاشم کچھ پریشان ہوکر اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گئے۔"کیا ہوا۔۔۔۔۔ امامہ؟""تحریم نے آج اسکول میں مجھ سے بہت بدتمیز کی ہے۔" اس نے روتے ہوئے کہا۔ہاشم مبین نے بے اختیار ایک اطمینان بھری سانس لی۔ "پھر کوئی جھگڑا ہوا ہے تم لوگوں میں؟""بابا! آپ کو نہیں پتا اس نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟" امامہ نے باپ کو مطمئن ہوتے دیکھ کر کہا۔"بابا! اس نے۔۔۔۔۔" وہ باپ کو تحریم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو بتاتی گئی۔ ہاشم مبین کے چہرے کی رنگت بدلنے لگی۔"تم سے کس نے کہاتھا۔ تم اسکول کتابیں لے کر جاؤ، انہیں پڑھانے کے لئے؟" انہوں نے امامہ کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔"میں ان کی غلط فہمیاں دور کرنا چاہتی تھی۔" امامہ نے قدرے کمزور لہجے میں کہا۔"تمہیں ضرورت ہی کیا تھی کسی کی غلط فہمیاں دور کرنے کی۔ وہ ہمارے گھر نہیں آتیں تو نہ آئیں۔ ہمیں برا سمجھتی ہیں تو سمجھتی رہیں، ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔" ہاشم مبین نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔"مگر اب تمہاری اس حرکت سے پتا نہیں وہ کیا سمجھے گی۔ کس کس کو بتائے گی کہ تم نے اسے وہ کتابیں دینے کی کوشش کی۔ خود اس کے گھر والے بھی ناراض ہوں گے۔ امامہ! ہر ایک کو یہ بتاتے نہیں پھرتے کہ تم کیا ہو۔ نہ ہی اپنے فرقہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں اگر کوئی بحث کرنے کی کوشش بھی کرے تو ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں ورنہ لوگ خوامخواہ فضول طرح کی باتیں کرتے ہیں اور فضول طرح کے شبہات میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔" انہوں نے سمجھایا۔"مگر بابا! آپ بھی تو بہت سارے لوگوں کو تبلیغ کرتے ہیں؟" امامہ نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔ "پھر مجھے کیوں منع کررہے ہیں؟""میری بات اور ہے میں صرف ان ہی لوگوں سے مذہب کی بات کرتا ہوں جن سے میری بہت بے تکلفی ہوچکی ہوتی ہے اور جن کے بارے میں مجھے یہ محسوس ہو کہ ان پر میری ترغیب اور تبلیغ کا اثر ہوسکتا ہے۔ میں دوچار دن کی ملاقات میں کسی کو کتابیں بانٹنا شروع نہیں ہوجاتا۔" ہاشم مبین نے کہا۔"بابا ان سے میری دوستی دوچار دن کی نہیں ہے۔ ہم کئی سالوں سے دوست ہیں۔" امامہ نے اعتراض کیا۔"ہاں مگر وہ دونوں سید ہیں اور دونوں کے گھرانے بہت مذہبی ہیں۔ تمہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے تھی۔""میں نے تو صرف انہیں اپنے فرقے کے بارے میں بتانے کی کوشش کی تھی تاکہ ہمیں وہ غیر مسلم تو نہ سمجھیں۔" امامہ نے کہا۔"اگر وہ ہمیں غیر مسلم سمجھتے ہیں تو ہمیں بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ وہ خود غیر مسلم ہیں۔" ہاشم مبین نے بڑی عقیدت سے کہا۔ "وہ تو خود گمراہی کے راستے پر ہیں۔""بابا وہ کہہ رہی تھی کہ آپ کو غیر ملکی مشنز سے روپیہ ملتا ہے۔ این جی اوز سے روپیہ ملتا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ہمارے فرقہ کا پیروکار بنائیں۔"
جاری ہے





Wednesday, 4 October 2017

(ہم تم اور محبت) (مکمل ناول)



(ہم تم اور محبت)(مکمل ناول)Sssیہ کینٹین کہاں ہے جی .....؟وہ یونیورسٹی کے خوبصورت سبز گھاس پہ ایک کتاب لیے بیٹها تها اس کی پوری توجہ اس کتاب پر تهی..لیکن اچانک سنائی دینے والی خوبصورت نسوانی آواز نے اس کی توجہ کا تسلسل توڑ دیا...اس نے گردن موڑ کر دیکها اور پلک جھپکنا بهول گیا.....اس کے بالکل قریب ایک سبز آنکھوں والی لڑکی کهڑی تهی. اس نے ماسیوں کے انداز میں پورے تن پہ سیاہ چادر اوڑھ رکهی تهی..نگاہیں جهکی ہوئیں تهیں.وہ شکل سے ہی کسی دیہات کی لگ رہی تھی .وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی. ......جی.....؟جی وہ کینٹین کہاں ہے. ..؟ اس نے پهر سے اپنا سوال دہرایا....آپ کو نہیں معلوم. ..؟ اس نے اس لڑکی کے چہرے کی طرف دیکهتے ہوئے الٹا سوال کیا...جی میں یہاں آج ہی آئی ہوں.....وہ سامنے......اس نے انگلی کے اشارے سے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک میلہ لگا ہوا تها......اس نے محسوس کیا وہ لڑکی تهوڑی گهبرا گئی. ..جی وہاں...وہ...وہاں تو بہت رش ہے. ...اس کی زبان لڑکهڑائی....ہاں تو کیا ہوا ....؟ اس نے عام انداز میں کہا....جی وہاں تو بہت لڑکے کهڑے ہیں میں کیسے جاوں....اس نے اپنا مسئلہ بتایا.....میں بهی تو لڑکا ہوں میرے پاس آتے ہوئے ڈر نہیں لگا....اس نے دیکها اس لڑکی کی نگاہیں مزید جهک گیئں. .وہ جانے کے لیے واپس پلٹی جب اس نے اس لڑکی کو آواز دی. ....سنو......جی...؟کیا لانا ہے مجھے بتائیں میں لا کر دے دیتا ہوں. ..ایک بسکٹ اور ایک جوس ...اس لڑکی نے اپنی مطلوبہ چیزوں کے نام بتائے........اور اگلے لمحے وہ اس لڑکی کی چیزیں لیے واپس آ رہا تھا. ..وہ اب بھی نظریں جهکا ئے کهڑی زمین پہ گهاس کو دیکھ رہی تھی....یہ لیں. ..اس نے جوس اور بسکٹ اس لڑکی کو تهما دیں...جی شکریہ. .کتنے پیسے ہیں. ...؟کوئی بات نہیں. ...نہیں بتائیں پلیز. ...میری دادی کہتی ہیں کهبی کسی لڑکی سے پیسے نہیں لینے چاہیے. ...اس نے ادائے بے نیازی سے جواب دیا. ....اور میری دادی کہتی ہیں کسی اجنبی سے کهبی ادهار نہیں لینا چاہیے. ....وہ پیسے اس کی کتاب پہ رکھ کر وہاں سے چلی گئی. .....اور وہ اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تها...دادی نے یہ سکھایا اپنی لاڈلی پوتی کو کہ کسی اجنبی سے پیسے نہیں لینے چاہیے لیکن یہ نہیں سکھایا کہ کسی اجنبی سے مدد بھی نہیں لینی چاہیے.....وہ زیر لب مسکرایا..وہ واپس گهاس پر بیٹھ گیا مگر اب اس کی توجہ کتاب پہ بالکل نہیں تهی.اس کا دماغ کہیں اور تها اس کی سوچ کا مرکز کہیں اور تها..کہاں..؟ یہ اسے خود بھی نہیں معلوم تها. ........**********Sssاگلے دن وہ یونیورسٹی کی خوبصورتی سیڑھیوں پر بیٹها تها. اور سامنے مختلف لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنی اپنی کلاسز میں جاتا دیکھ رہا تها. ..کیوں دیکھ رہا تھا اسے خود بھی نہیں پتا. .اور واقعی دیکھ بھی رہا تھا یا نہیں. ......جی اسلام و علیکم. ....اس کے پاس سے ایک مانوس آواز ابهری....وعلیکم. .....اس کا جواب ادهورا رہ گیا. .سامنے وہی لڑکی کهڑی تهی اس کے لب شاید ہلنا بهول گئے. .اس کے چہرے پہ آج بھی وہی معصومیت اور وہی سادگی تهی. .....جی میں اپنا رجسٹر گهر بهول آئی ہوں..کیا آپ کے پاس کوئی اضافی رجسٹر ہے.....اس لڑکی نے خیریت دریافت کرنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کیا.سیدها اپنا مدعا بیان کیا. ..وہ اس لڑکی کی بے تکلفی پہ حیران رہ گیا. پورے یونیورسٹی میں وہ صرف اس پہ حق جمانے آ گئی. .اور اسے یہ بے تکلفی اچھی لگ رہی تھی. .کیوں. کس لیے اس نہیں معلوم. ...وہ لڑکی اب بھی اس کے جواب کی منتظر کهڑی تهی. .اور اس نے اپنے بیگ میں سے اپنا قیمتی رجسٹر نکال کر اس لڑکی کے ہاتھوں میں تهما دی. حالانکہ یہ رجسٹر اس کے خود کے لیے بھی بہت اہم تهی . لیکن اسے رجسٹر دینے سے وہ خود کو روک نہیں سکا.وہ اس لڑکی کو انکار نہیں کر پایا.......شکریہ جی. .میں لیکچر نوٹ کرنے کے بعد آپ کو واپس کر دوں گی....اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا شاید اس کے سماعت سننے سے انکاری ہو گئے تھے. .بس اس وقت اس کی جسم کے صرف دو حصے ہی کام کر رہے تھے. ..دل اور آنکھیں. .....اس کے خیالوں کا مرکز وہ دیہاتی سادہ لڑکی تهی.وہ وہاں سے کب کی جا چکی تھی مگر اس کا ذہن ابهی بهی وہیں تها...وہ زندگی میں پہلی بار اس طرح کی لڑکی سے ملا.اس نے ہمیشہ فیشن زدہ میک اپ سے بهر پور لڑکیوں کو اپنے ارد گرد پایا..جو نئے نئے فیشن جدید کپڑے پہن کر مختلف ادائیں دکها تی ہیں.مگر یہ لڑکی ان سب سے منفرد تهی سب سے الگ.آج کے دور میں اتنے بڑے شہر کے اتنے بڑے یونیورسٹی میں اس طرح کی سادہ لڑکی واقعی اسے حیرت میں مبتلا کر رہی تھی. ..اور وہ روحل ابراہیم جس نے آج تک کسی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچا جس کی کسی لڑکی تو کیا کسی لڑکے سے بھی کوئی خاص دوستی نہ تهی وہ زندگی میں پہلی بار ایک دیہاتی سادہ لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا..وہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور خوبصورتی سے نا واقف نہ تھا. وہ جانتا تھا وہ کتنی لڑکیوں کی سوچوں کا مرکز ہے. اور کتنی لڑکیاں اس کے بارے میں باتیں کرتی ہیں. .اسے معلوم تھا کہ وہ جہاں سے گزرتا ہے وہاں کهڑی لڑکیوں کے دلوں کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگتی ہے. مگر اس سب کے باوجود اس نے کهبی کسی لڑکی کو آنکھ اٹها کر نہ دیکها.......اور یہ یہاں آکر اسے کیا ہو رہا تها......**********@shomiوہ اس لڑکی سے اس کی آخری ملاقات نہیں تهی..اس دن کے بعد بهی اس نے اس لڑکی کو کئی بار دیکها تها..کهبی گهاس پہ بیٹهے کوئی کتاب پڑهتے ہوئے تو کهبی بس کا انتظار کرتے ہوئے..کئی بار اس کا دل چاہا جاکر اس لڑکی سے بات کرے مگر کهبی خود میں اتنی ہمت ہی نہیں پیدا کر پایا .اسے نہیں معلوم اس کے اندر یہ خواہش کیوں پیدا ہو رہی ہے مگر اس کا اپنے دل پہ زور نہیں رہا..اس کا دل دن بہ دن بے قابو ہوتا جا رہا تها..اسے ایک ایسے موقعے کی تلاش تھی جب وہ اس لڑکی سے بات کر سکے.اور ایک دن اسے وہ موقع مل گیا......اس دن جب گرمی اپنے عروج پر تھی. سورج آگ برسا رہا تھا وہ اپنی سیاہ اے سی والی کار لیے یونیورسٹی کے بڑے گیٹ سے باہر نکل کر اپنے گهر کی طرف روانہ تها..تهوڑے ہی فاصلے پہ اسے وہ لڑکی دکھائی دی. .وہ وہاں کهڑی شاید بس کے انتظار میں کهڑی تهی.اس کا چاند سا چہرہ سورج کی روشنی میں مزید چمک رہا تها..اسے اتنی شدید گرمی میں دهوپ میں کهڑی اس لڑکی پہ بہت ترس آیا...وہ اپنے کار سے باہر نکلا..سورج واقعی آگ برسانے میں مصروف تها یہ احساس اسے کار سے نکلنے پہ ہوا.وہ لڑکی بیچاری کب سے وہاں کهڑی دهوپ میں جل رہی تھی. .اس کے دل کو کچھ ہونے لگا...بے اختیار اس کے قدم اس لڑکی کی طرف بڑھ رہے تھے وہ اپنے قدموں پہ بھی اختیار کهو چکا تھا. .....اسلام وعلیکم. ...اس کے پاس پہنچ کر ماتهے سے پسینہ پونچھتے ہوئے اس نے اس لڑکی کو سلام کیا. .وعلیکم السلام. ..ایک نظر اس لڑکے کو دیکھ کر اس نے منہ دوسری طرف پهیر کر جواب دیا...آپ یہاں بس کا انتظار کر رہی ہیں. ..؟ سوال احمقانہ تها مگر وہ پوچهے بنا نہیں رہ سکا....جی....اس نے سادہ جواب دیا...وہ جو اس سے ایک غصے بهری نگاہ اور طنزیہ جواب کا منتظر تها ایک پل کے لیے حیران ہو گیا.....آئیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں .....نہیں شکریہ میں چلی جاوں گی....پتا نہیں بس کب آئے گا چلیں آپ .....بس ابهی آنے ہی والا ہو گا...اس نے ایک نظر ہاتھ میں بندهی گهڑی کو دیکها ....آپ کو مجھ سے ڈر لگ رہا ہے یا پھر آپ کی دادی نے منع کیا ہے کہ کسی اجنبی سے لفٹ نہیں لینی چاہیے. ..اس نے ' دادی ' کو قصداً کهینچ کر ادا کیا....اور وہ اتنی نادان اور نا سمجھ نہیں تهی جو اس کے طنز کو ہی نہ سمجھ پاتی..اس نے ایک نظر ادھر ادھر سڑک پہ دوڑائی جب بس آتا نظر نہیں آیا تو وہ اس کے ساتھ چلنے لگی.......وہ جا کر کار میں بیٹھ گیا اور اس کے بیٹهنے کا انتظار کر رہا تھا. ......جی مجھے کار کا دروازہ کهولنا نہیں آتا. .اس نے اپنی آنکھوں سے سن گلاسز اتار کر اس لڑکی کو غور سے دیکها..یہ لڑکی اسے حیران کر رہی تھی. ..اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے اس نے اسے کار کا دروازہ کهول دیا........
آپ کہاں رہتی ہیں. ...؟ جب گاڑی اپنے سفر پہ رواں تها تو روحل نے بات شروع کرنا چاہی.اسے یہ بھی معلوم تها کہ یہ لڑکی کهبی خود دے کوئی بات شروع نہیں کرے گی.....ہاسٹل میں. ....گود پہ نگاہیں جمائے اس نے جواب دیا.....اچها آپ کا نام کیا ہے....؟ دوسرا سوال کیا گیا . حالانکہ یہ اس کا پہلا سوال ہونا چاہیے تھا ..حور...حور سبحان. ....جواب اسی سادگی سے دیا گیا. ..حور سبحان. ..اس نے نام زیر لب دہرایا اور مسکرا دیا .واقعی اس لڑکی کا نام حور ہی ہونا چاہیے تھا.اس نے سوچا. ......آپ کا گهر کہاں ہے. ...؟ وہ اتنی جلدی باتوں کا سلسلہ ختم نہیں کرنا چاہتا تھا. ...مظفر گڑھ کے ایک چهوٹے سے گاؤں. ...وہ لڑکی صرف انہی سوالوں کے جواب دے رہی تھی جو اس سے پوچھے جا رہے تھے وہ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی. ...اچها آپ کا ہوسٹل کس طرف ہے....؟یہاں سے سیدھے جا کر بائیں طرف سڑک مڑتی ہے اور وہاں ایک بہت بڑے حلوائی کی دکان ہے اس کے سامنے تاجو بوا کا گهر ہے ..بس تاجو بوا کے گهر سے دو گهر چهوڑ کر میرا ہاسٹل ہے.اس نے اسی معصومیت سے جواب دیا. ..
اس نے ایسا نقشہ کھینچا کہ وہ بے اختیار قہقہہ لگانے پہ مجبور ہو گیا.کیا ہوا جی ..؟کچھ نہیں. .اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے جواب دیا....اس لڑکی کی سادگی اسے دن بہ دن متاثر کر رہی تھی. وہ اپنے جاننے والوں میں سے کم از کم اس لڑکی پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا..اسے یہ لڑکی اچهی لگ رہی تھی اس نے کوئی میک اپ نہیں کیا ہوا تھا. سادہ سے لون کے کپڑوں میں ملبوس وہ اس وقت بہت حسین لگ رہی تھی ان لڑکیوں کے مقابلے میں جو دس ہزار کے کپڑے پہن کر چہرے پہ مصنوعی میک اپ کا نقاب اوڑھ لیتی ہیں. ...اسے اس کے ہاسٹل ڈراپ کر کے اس نے اپنی گاڑی گهر کی طرف گهما دی....گهر آ کر بھی اس کی سوچوں کا تسلسل برقرار رہا.........**********Sssاور یہ اس سے اگلے دن کی بات ہے وہ اسی طرح یونیورسٹی سے کار نکال کر اپنے گھر کی طرف جا رہا تها جب اس کی نظر سڑک پہ چلتے ہوئی لڑکی پر پڑی. ..پاس جانے پہ پتا چلا وہ حور تهی. .اس نے کار اس کے قریب روک دی وہ بھی اچانک چلتے چلتے رک گئی. روحل کار کا دروازہ کھول کر باہر آ گیا..اس نے دیکها وہ لڑکی اپنے آنسو پونچھ رہی ہے....کیا ہوا کہاں جا رہی ہیں آپ.....؟میں وہ میں ہاسٹل جا رہی ہوں. ...اس نے نظریں چرائیں. ...کیسے جا رہی ہیں. .پیدل....؟جی....اسے اس سے اس جواب کی توقع ہر گز نہ تھی. .واٹ...؟ ہاسٹل اور پیدل....آر یو او کے. ...؟بس ویسے واک بھی ہو جائے گا. .اس کی زبان لڑکهڑائی. ..وہ واک کرنے والی لڑکی ہر گز نہ تھی ضرور وہ کچھ چهپا رہی تھی. ....واک...؟ وہ مزید حیران ہوا..بس نہیں ملی کیا. ..؟ملی تھی مگر.. ...اس نے نگاہیں نیچی کر لیں....تو آپ بس میں کیوں نہیں گیئں. ...؟جواب دینے کی بجائے چہرے پہ ہاتھ رکھ کر وہ پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی..اور وہ ایک دم بوکھلا گیا. اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کرے.اس نے زندگی میں پہلی بار اپنے سامنے کسی لڑکی کو روتے ہوئے دیکها.....کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہیں. ..؟ اس نے اس کا چہرہ اپنی آنکھوں کے سامنے کیا....وہ ....و..وہ....میرے پاس کرایا نہیں تھا جو پیسے لائی تهی ان سے نوٹس خریدے تھے. .اس نے ہچکیوں کے درمیان اپنی بات مکمل کی.اور پهر سے رونا شروع کر دیا. ...کیا...؟ لیکن تم...اس طرح. .مطلب. .مجھ.سے....اس کی سمجھ میں نہیں آیا کیا کہے..پهر اس نے کار کا دروازہ کھول کر اسے اندر بیٹھایا. .اور خود بھی کار میں بیٹھ کر کار سٹارٹ کر دی..اس کی حیرت ابهی بهی ختم نہیں ہو رہی تهی. ..اچها اب رو مت یہ ٹشو لیں..اس نے اس کی طرف ٹشو بڑهائے..اسے اس کی آنسو سے حقیقتاً بہت تکلیف ہو رہی تهی..باقی کا راستہ خاموشی کی نذر ہو گیا.....************Sssاس دن سورج اپنی تپش دکهانے میں نا کام تها . کیونکہ سورج کے راستے میں گہرے سیاہ بادل حائل تهے..موسم حد سے زیادہ خوشگوار تها.....ایسے موسم میں اسے کسی کی شدت سے یاد آ رہی تھی. .مگر جس کی یاد آ رہی تھی وہ وہاں نہیں تهی وہ اسے پورے یونیورسٹی میں تلاش کر رہا تھا جیسے اس کی کوئی قیمتی شے اچانک گم ہو گئی ہو.......اس وقت جب وہ تهک ہار کر یونیورسٹی کے خوبصورت گارڈن میں آ گیا تب اسے وہ نظر آ گئی دور ایک درخت کے نیچے بیٹھے کچھ لکهتے ہوئے.....اس کے ہونٹوں پہ مسکان پھیل گئی دل کی دھڑکن ترتیب سے ہٹ گئی. .اور قدم ایک بار پھر بے اختیار ہو چکے تھے. ...وہ اس طرف بڑھ رہے تھے جہاں وہ ..وہ بیٹهی تهی.....اتنے خوبصورت موسم میں آپ یہاں بیٹهی کیا لکھ رہی ہیں محترمہ. .....وہ اس کی اچانک آمد پہ چونک گئی اور شرما کر نگاہیں نیچی کر لیں. .اسے اس کی یہ شرمیلی ادا بها گئی..چلو کہیں وزٹ پہ چلیں. ..جی...؟ اس کے اس' جی ' میں سوال زیادہ تها یا جواب وہ نہیں سمجھ سکا..مگر اس کی کسی بھی مزاحمت کو خاطر نہ لاتے ہوئے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور جواب میں اسے بھی زبردستی یا خوشی سے مگر اٹهنا ہی پڑی......تهوڑی ہی دیر میں اس کی کار شہر کے بڑے سڑکوں کو ناپتے ہوئے ایک بہت بڑے عالیشان ہوٹل کے سامنے کهڑی تهی. .....آئیں باہر. ...وہ کار پارک کر کے باہر نکلا اور اس کے انتظار میں کهڑا تها جبکہ وہ آرام سے گود پہ نگاہیں جمائے بیٹهی تهی. ..تب اس نے ہی جا کر کار کا دروازہ کهولا. .تب اسے مجبوراً باہر آنا ہی پڑا........وہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی ہوٹل کے اندر داخل ہوئی. وہ کافی جهجک رہی تهی. .اور اسے اچانک اس کے جهجک کی وجہ بھی سمجھ آ گئی. .اس وقت اس میں اور اس لڑکی میں زمین اور آسمان کا فرق تها..وہ کافی مہنگے کپڑوں میں اور اس کے ساتھ چلنے والی وہ لڑکی ایک سادہ سے لون کے سوٹ میں ملبوس تهی....آس پاس بیٹهے ہوئے لوگوں کی حیران کن نگاہیں وہ اچهے سے سمجھ رہا تها..مگر اس نے کهبی اپنی زاتی زندگی میں دوسروں کی دخل اندازی پہ توجہ نہ دی.......آپ کیا لیں گی ...وہ آس پاس لوگوں کو دیکھ رہی تھی جب اسے ہاتھ ہلا کر اسے مخاطب کرنا پڑا. ..جو آپ کو پسند ہو جی....وہ بے اختیار مسکرا دیا کیونکہ یہ سوال پوچھنے سے پہلے وہ اس سے اسی جواب کی توقع کیے بیٹها تها. .....کهانے کے بعد اس نے حور کو ہوسٹل ڈراپ کیا اور خود بھی گهر واپس آ گیا.......**********Shomi S Salmanکچھ دنوں سے وہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی کو محسوس کرنے لگا تها.اسے نہیں پتا یہ تبدیلی کیسی تهی کیوں تهی..جب سوچنے پہ پتا چلا تو وہ مزید حیران ہو گیا. یہ کیسا انکشاف تها اس کا خود پہ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا اسے یقین نہیں آ رہا تھا اس بات پہ جو اس کا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا. وہ اتنے دنوں تک دل کی باتوں کو نظر انداز کرتا رہا مگر وہ مزید ایسا نہیں کر سکا..کیونکہ اس کا دل بہت بڑا انکشاف کر چکا تھا. .اور اس عجیب انکشاف پہ سب سے زیادہ وہ خود حیران ہوا....ایسا کیسے ہو سکتا ہے اسے ..اسے..محبت کیسے ہو سکتی ہے. ہر انسان کو محبت ہو سکتی ہے لیکن اسے روحل ابراہیم کو کهبی محبت نہیں ہو سکتی. اور وہ بھی اس لڑکی سے جسے کار کا دروازہ تک کهولنا نہیں آتا وہ دیہاتی سادہ لڑکی. ....کتنے پل وہ حیران آئینے کے سامنے بیٹها رہا.وہ اپنے اندر کئی دنوں سے ایک غیر معمولی تبدیلی کو نوٹ کر رہا تھا اور آج اس کے دل نے اس تبدیلی کو ایک نام دے دیا...محبت. ..وہ جو ساری رات جاگ کر اس لڑکی کے بارے میں سوچتا تها وہ محبت ہی تهی..وہ جو اسے دیکھ کر دهڑکن کی ترتیب بدل جاتی تھی وہ محبت ہی تهی...اسے محبت کیسے ہو گئی اور وہ بھی اس سادہ لڑکی سے.وہ سادہ لڑکی جو اپنی زندگی میں کهبی کار میں نہیں بیٹهی وہ اپنے سامنے ان ہزاروں میک اپ زدہ لڑکیوں کو مات دیے کهڑی تهی. وہ نہ تو دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تهی اور نہ ہی سب سے مختلف. ..مگر اس میں کچھ تو تها کچھ ایسا جو اسے سب سے منفرد بنا رہا تها.......وہ جو کهبی آنکھ اٹها کر کسی لڑکی کو نہیں دیکهتا تها. جسے بہت غرور تها خود پہ کہ کهبی بهی کوئی بھی لڑکی اسے محبت کی جال میں نہیں پهنسا سکتی....آج وہ معمولی سی سادہ لڑکی اسے کے ہر دعوے ہر غرور کو ایک پل میں ہی توڑ چکی تھی. ...وہ اپنے دل کے سامنے ہار چکا تھا اس لڑکی کے سامنے ہار چکا تھا. ...'محبت صرف وقت کا ضیاع ہے یہ محبت صرف فلموں کہانیوں میں اچهی لگتی ہے 'ایک بار اس نے اپنے ایک دوست کے سامنے محبت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا. ....اور آج وہی جملہ اس پر قہقہے لگا لگا کے ہنس رہا تھا. .اس کی کہی اور بات ہر لفظ اس وقت بالکل کهوکهلا ہو چکا تھا. ...اس نے آہستہ سے دل کے دروازے پہ دستک دی. ..دل = کون...؟وہ = روحل ابراہیم. ...دل = کام....؟وہ = محبت. ....دل = .ہاہاہاہاہاہا....وہ = میں مذاق نہیں کر رہا..دل = واپس لوٹ جا....وہ = میری تمنا پوری کرو.....دل = یہ ناممکن ہے. ...وہ = کیوں. .؟ سب آپ کے ہاتھ میں ہے. ..دل = تم نے گناہ کیا ہے...؟وہ = میں نے کیا کیا....؟دل = محبت. ...وہ = اور محبت گناہ کب سے ہوگیا.....؟دل = صدیوں سے. ..وہ = معافی نہیں مل سکتی.....؟دل = کهبی نہیں. ....وہ = مگر کیوں. ...؟دل = کیونکہ تم لوگ میرے مجرم ہوتے ہو...وہ = سب آپ کرتے ہیں اور بدنام ہم ہوتے ہیں. ..دل = سارا قصور آنکھوں کا ہے.اور الزام مجھ پہ لگتا ہے. ...وہ = مجھے یہاں سے باہر جانا ہے. ...دل = یہاں آتے بھی لوگ میری مرضی سے ہیں اور جاتے بھی میری مرضی سے ہیں. .....وہ = پلیز مجھے یہاں سے رہائی دے دو....دل = تم اس وقت دل کے دربار میں کهڑے ہو اور یہاں میری مرضی چلتی ہے....وہ = میں آپ کے فیصلے ماننے کا پابند نہیں ہوں...دل = اور ہم تمہیں عمر قید کی سزا سناتے ہیں.. تمام گواہوں اور ثبوتوں کے کے بنا پر ہم دل روحل ابراہیم کو دل کی دنیا میں عمر قید کی سزا سناتے ہیں. .......ہر طرف تالیوں کی گونج سنائی دی. __ اور اس نے _ اس نے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن سب لا حاصل تها..وہ شاید دل کی دنیا سے اب کهبی باہر نہیں جا سکتا تھا. اس نے اپنے آپ کو بے بس پایا . وہ دل کا قیدی بن چکا تها. اتنا ہمت والا اتنا ہوشیار اور اتنا توانا آدمی زندگی میں پہلی بار اپنے دل سے ہار چکا تھا.وہ جو زندگی میں کهبی نہیں ہارا.اور اس وقت اس نے نظر اٹها کر دل کو دیکها وہ قہقہے لگا لگا کے ہنس رہا تھا اس پہ اس کی بے بسی پہ اس کی مجبوری پہ _ ...*********Sssاگلے دن اس نے اس لڑکی کو یونیورسٹی کے خوبصورت سبزے پہ بیٹهے کوئی کتاب پڑهتے دیکها.اس کے قدم اس لڑکی کی طرف بڑهنے لگے....Hi...?اس لڑکی نے کتاب سے نظر اٹها کر اس کی طرف دیکها اور محض گردن ہلانے پہ اکتفا کیا. ..کیسی ہیں یا کیا ہو رہا اسے ایسے رسمی جملوں سے ہمیشہ سے ہی شدید چڑ تهی..اب نظر آ رہا ہے کہ سامنے والی کیا کر رہی ہے تو یہ کیا ہو رہا پوچهنے کا کوئی تک ہی نہیں بنتا. ....وہ بھی اس کے پاس خوبصورت سبز گھاس پر بیٹھ گیا. ...اچها آپ کا نمبر بتائیں. ...کل اسے ہوسٹل ڈراپ کرنے کے بعد اس نے خود کو خوب سرزد کیا کم از کم اسے اس لڑکی کا نمبر تو لے لینا چاہیے تھا. ..جی میرے پاس مبیل (موبائل) نہیں ہے. ..میں نہیں مانتا ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی لڑکی کے پاس موبائل ہی نہ ہو..آپ جهوٹ بول رہی ہیں. ..اس نے بے یقینی سے اس لڑکی کی طرف دیکها.میں جهوٹ کهبی نہیں بولتی..اس نے سادگی سے جواب دیا...اور وہ مزید حیران ہوا تب اسے لگا واقعی وہ لڑکی جهوٹ نہیں بول رہی.وہ لڑکی اسے ہر قدم پہ حیرت میں ڈال رہی تھی.___ میں آپ کو موبائل دوں.....؟جی...اس کے اس جی میں اقرار زیادہ تها یا انکار وہ نہیں سمجھ سکا مگراگلے دن وہ اس کے لیے موبائل لیے ایک بار پھر سے اس کے سامنے کهڑا تها. ..بہت ہی زیادہ بحث و تکرار کے بعد بہرحال اس نے وہ موبائل روحل کے ہاتھوں سے لے ہی لیا......********Sssاور یہ صرف ایک موبائل نہیں تھا یہ ان دونوں کے درمیان رابطہ رکهنے کا وہ خوبصورت ذریعہ تها جو ان دونوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر رہا تھا. .اس لڑکی کی محبت اسے دن بہ دن اپنے سحر میں مبتلا کر رہا تھا. اور وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا یہ کهیل دیکھ رہا تھا. ..دن رات کام یونیورسٹی پڑھائی یہ سب اب اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے.سارے کام اچانک غیر اہم ہو گئے. . اگر اس کے لیے کوئی ضروری تها کوئی اہم تهی تو صرف وہ...اس کے آگے کهبی وہ کچھ سوچ ہی نہیں پاتا تھا.وہ کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا. . مگر ہزار کوشش کے باوجود بھی کهبی وہ اپنی محبت کا اظہار اس سے نہیں کر پا رہا تھا.اسے محبت میں سب سے مشکل مرحلہ محبت کا اظہار کرنا لگ رہا تھا. .فون پہ دونوں جہاں کی باتیں کرنے والا وہ لڑکا اس لڑکی سے صرف اپنے دل کی بات کہنے میں جهجک رہا تها.ہر پل ہر بات کہنے والا روحل ابراہیم صرف یہی ایک بات ہی نہیں کر پا رہا تھا. .. اور وہ... وہ کیا اتنی نادان اتنی نا سمجھ تهی جو اس کے دل میں موجود محبت کا پیغام بھی نہیں پڑھ سکتی تھی. .........*********Sssاور وہ بہت خوبصورت صبح تهی کم از کم اس کی سوچ کے مطابق. لیکن انسان کا اپنی سوچوں اور اپنی قسمت پہ اختیار کب ہوتا ہے. ...یونیورسٹی کے وسیع و عریض احاطے میں ہر طرف خاموشی تهی...اتنی خاموشی کہ اسے اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تهی. .....اس کے سامنے وہ لڑکی کهڑی تهی جسے دیکھ کر کسی کا بھی دل دهڑکنا بهول جائے اور یہی حال اس وقت اس کا تها . دهڑکن اپنی عام رفتار سے کہیں زیادہ تیز دهڑک رہا تها..اسے لگا اس کی دهڑکن حلق تک آ جائے گا........بہرحال آج اس نے اپنے دل کی بات اس لڑکی تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا تها...میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں. ...لرزتے ہوئے اس نے اپنا جملہ مکمل کیا..وہ لڑکی اسی کی طرف متوجہ تهی.اور اس کے اگلے جملے کی منتظر تهی..یہ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سوچ رہا تها..اسے لگا اس کے جسم سے سارا خون ایک پل میں ہی خشک ہو گیا. کیا ہر محبت کرنے والا اظہار کرتے وقت اسی خطرناک مرحلے سے گزرتا ہے. ....میں ..میں. ....میں. ...اسے سمجھ نہیں آیا کیا کہے...وہ اب بھی سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی. ...آئی لو یو حور......جلدی جلدی اس نے اپنا فقرہ مکمل کیا .ماحول میں یک دم خاموشی چها گئی.وہ لڑکی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ...اچانک ایک زور دار تھپڑ کی آواز پورے فضا میں گونجی...اور وہ اپنے گالوں پہ ہاتھ رکھ کر حیرت سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا. ...بد تمیز بے شرم....سمجھتے کیا ہو تم لوگ اپنے آپ کو...؟ کیا سمجھ کر آپ نے یہ بات کی مجھ سے ..؟...اس کے پاوں کے نیچے سے جیسے زمین کھسک گئی. .تم لوگ سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو کیا ہم لڑکیاں اتنی بے وقوف ہوتی ہیں جو تم لوگوں کی پیار بهری باتوں سے تم لوگوں کی بنائی محبت کی جال میں پھنس جائیں گی. .......وہ ساکت کهڑا تها. .اچانک جیسے پورا آسمان اس کے سر پہ آ گرا ہو......میں تم جیسے آوارہ لڑکوں کو اچهے سے جانتی ہوں. جانے اس سے پہلے یہ محبت کا اظہار کتنی لڑکیوں سے کر چکے ہو گے.. اب دوبارہ کهبی میرے سامنے مت آنا ..سمجهے....؟حو..ر......اس کے منہ سے ادهورا لفظ نکلا..حور سبحان نہیں ارنسہ علی . روحل...اس نے اپنے جسم سے وہ لمبی سیاہ چادر اتاری. ..اور وہ حیرت سے کهڑا اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا..جس نے تنگ جینز کے اوپر تنگ گلابی ٹی شرٹ پہنی تھی. .بال کهلے ہوئے تھے. .وہ کسی بھی اینگل سے دیہاتی نہیں لگتی تھی. اس نے اپنے جسم سے معصومیت اور سادگی کا وہ ڈھونگ ہٹا دیا تها.جس نے اسے دیوانہ بنایا تها..ایک پل میں ہی اس معصوم لڑکی نے ایک بهیانک روپ دھار لیا.ایسا روپ جسے دیکھ کر وہ خشک پتے کی مانند کانپ گیا..اور وہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس لڑکی کو پہچان گیا......ارنسہ.... علی.....؟ اس کی زبان لڑکهڑائی. ..ہاں میں. .یاد ہے ایک سال پہلے جب میں نے اپنی محبت کا اظہار تم سے کیا تها تو تم نے کیا کیا تها میرے ساتھ. ..آج جس جگہ پہ تم کهڑے ہو ایک سال قبل میں کهڑی تهی. آج جو درد تم محسوس کر رہے ہو وہ ایک سال قبل میں نے محسوس کیا ہے...اب سمجھ آیا مسٹر روحل ابراہیم محبت کیا ہوتی ہے اور محبت انسان کو کتنا مجبور کر دیتا ہے. ..اس کے لہجے میں کتنی نفرت کتنا غصہ تها وہ اچهے سے محسوس کر رہا تھا. ....اپنی بات مکمل کر کے وہ جا رہی تھی...اور وہ ساکت اور حیرت سے گنگ کهڑا اس لڑکی کو دور جاتا دیکھ رہا تها .اس کے سیاہ لمبے خوبصورت بال اس کی پشت پہ بڑی خوبصورتی سے لہرا رہے تھے......بے وفائی اور دهوکے کی سب سے پہلی سیڑھی پہ کهڑی یہ لڑکی وہ تهی جس سے اس نے سب سے زیادہ محبت کی ہے...اس کا دماغ اسے کہیں پیچھے لے گیا بہت پیچھے ایک سال پیچھے. .....وہ کوئی کتاب لیے یونیورسٹی کی سیڑھیاں اتر رہا تھا جب اس نے اپنے پیچھے کسی لڑکی کی آواز سنی.....Hi Rohil.....اس نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکها..اور اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھنے لگا مگر وہ لڑکی اس کے سامنے آ گئی. .
یہ کیا بدتمیزی ہے ہٹو سامنے سے...اس نے غصے سے کہا. ..میرا نام ارنسہ علی ہے..میں آپ سے پیار کرتی ہوں.اس نے صاف گوئی سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا. ..بد تمیز بے شرم....سمجھتی کیا ہو تم لوگ اپنے آپ کو...؟ کیا سمجھ کر آپ نے یہ بات کی مجھ سے ..؟اس کا ایسی لڑکیوں سے تقریباً روز سامنا ہوتا تھا .اور وہ نفرت کرتا تها ایسی لڑکیوں سے جو ادائیں دکها دکها کر مردوں کو اپنے جهانسے میں لے لیتی ہیں....تم لوگ سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو کیا ہم مرد اتنے بے وقوف ہوتے ہیں جو تم لوگوں کی پیار بهری باتوں سے تم لوگوں کی بنائی محبت کی جال میں پھنس جائیں گے. ..اس کے دل میں ایسی لڑکیوں کے بارے میں جتنی نفرت اس دن وہ سب واضح کر دینا چاہتا تھا.....نہیں ارنسہ علی یہ آپ لوگوں کی غلط فہمی ہے سب سے بڑی غلط فہمی...
میں تم جیسی آوارہ لڑکیوں کو اچهے سے جانتا ہوں. جانے اس سے پہلے یہ سب کتنوں مردوں سے کہا ہو گا تم نے... اب دوبارہ کهبی میرے سامنے مت آنا ..سمجهی.وہ اپنی بات مکمل کر کے آگے بڑھ گیا بنا اس کے چہرے کے تاثرات دیکهے..اس کی اپنی ہی آواز پوری یونیورسٹی میں گونج رہی تھی.........اسے نہیں پتا وہ لڑکی اس دن کہاں چلی گئی تهی مگر اس نے دوبارہ کهبی اسے یونیورسٹی میں نہیں دیکها.اور نہ کوئی یہ ایسا غیر معمولی واقعہ تها جسے وہ دماغ پر سوار کر لیتا..اس نے نہیں سوچا کهبی نہیں سوچا جس لڑکی سے وہ زندگی میں صرف ایک بار ملا وہ اس کی زندگی کا اتنا اہم حصہ بن جائے گا. وہ معمولی واقعہ وہ عام انداز میں کہے جانے والے الفاظ آج اچانک اس کے لیے کتنے اہم اور کتنے تکلیف دہ ہو گئے...نفرت سے محبت کا سفر اور محبت سے نفرت تک کا سفر دونوں ہی امتحان دہ ہوتے ہیں. .....دهوکہ...فراڈ ..بے وفائی. ..مزاق. ...بدلہ. مکاری فریب..یہ کیا ہوا تھا اس کے ساتھ. .بے بسی سے اس نے اپنا سر تهام لیا اس کا حال ایسا تها جیسے اسے کسی نے زندہ قبر میں دفن کر دیا ہو....وہ کهبی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ وہ لڑکی ہے .وہ اتنی پرانی بات بهول بهی چکا تها..اور وہ لڑکی اتنی پرانی بات نہ صرف یاد رکهے ہوئے تهی بلکہ اس نے دوگنا کر کے اپنا قرض وصول بهی کر لیا تها..اس پہ پہلی بار انکشاف ہوا کہ وہ لڑکیوں کو کهبی نہیں سمجھ سکتا. اور صرف وہی نہیں دنیا کا کوئی بھی مرد کسی بھی لڑکی کے باطن میں نہیں جهانک سکتا. .... ..' وہاں تو بہت لڑکے کهڑے ہیں میں کیسے جاوں ''''' میرے پاس کرایا نہیں تھا '''''''' میں جهوٹ کهبی نہیں بولتی '''''
اس کی ساری تعلیم ساری ڈگریاں دهری کی دهری رہ گئیں .کسی وقت میں وہ خود کو بہت چہرہ شناس اور دانا تجربے کار سمجهتا تھا..مگر یہ لڑکی اس کے ہر تجربے ہر دعوے کو اپنے پیروں تلے روند کر سامنے قہقہے لگا لگا کے اس پہ ہنس رہی تھی. ...کیا اب وہ زندگی میں کهبی کسی پہ بهروسہ کر سکے گا کیا وہ محبت پہ بهروسہ کر سکے گا کهبی. یا پھر کهبی وہ یہ دعویٰ کر سکے گا کہ وہ بہت چہرہ شناس ہے.یا پهر روحل ابراہیم کهبی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ لڑکیوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے. .......وہ کیسے مان لے کہ جس سے اس نے محبت کی تهی وہ وہ نہیں وہ کوئی اور تهی. اس سے بہت مختلف. .کیسے یقین کرے کہ اس لڑکی کی کہی ہر بات ہر ادا ہر آنسو جهوٹ تها..اس نے جو کیا ایک دکهاوا تها ایک سازش تھی..
یقین 'اعتماد ' بهروسہ 'یہ لفظ اچانک اس کی زندگی سے غائب ہو گئے. .وہ ایسا منہ کے بل گرا کی دوبارہ کهبی کهڑے ہونے کے قابل ہی نہ رہا...دنیا کا کوئی بھی انسان اس کے ساتھ یہ کرتا مگر وہ...وہ..اسے نہیں کرنا چاہیے تھا اس کے ساتھ ایسا.......بڑی شان اور تکبر سے کهڑی اس کے دل کی عمارت ایک پل میں ہی کسی نے بڑی بے دردی سے زمین بوس کر دیا .......اور وہ کهلے آسمان تلے بے بس مجبور لاچار کهڑا تها. اس کی آنکھوں میں آنسو تهے. ..'' یہ کیسا قرض تها تمارا _ اس قرض کے بدلے میں تم نے میری زندگی ہی چهین لی '''اس وقت غصے میں اس نے نہیں سوچا مگر آج وہ سوچ رہا تها واقعی وہ لڑکی اس سے بہت محبت کرتی تهی ...اور اس دن اسے بھی اتنی ہی تکلیف ہوئی ہو گی.....اس کا دل کہہ رہا تھا اس لڑکی نے جو اس کے ساتھ کیا وہ کسی دهوکے یا بدلے کی غرض سے نہیں بلکہ اسے احساس دلانے کے لیے. ...اسے معلوم تھا اب اسے کیا کرنا ہے. .کیسے اس لڑکی کو اس کا کهویا ہوا مان اور اس کی محبت لوٹانی ہے.وہ جانتا تھا محبت وہ جذبہ ہے جو کهبی نہیں مرتی. اس لڑکی کے دل میں آج بھی اس کے لیے محبت زندہ ہو گی..صرف اس وہ محبت حاصل کرنا ہے......روحل ابراہیم ایک بار پھر ارنسہ علی سے ملنا چاہتا ہے. ......************نہیں لوٹ سکتے اگر تم کهبی....تو لوٹا دو مجھ کو محبت میری .....وہ ساون کی راتیں وہ چاہت سبهی.....وہ خوبواں کے دن وہ نیندیں میری...وہ ساون کے موسم کی لمبی سی راتیں. ...وہ چاہت کا موسم وہ پیاری سی باتیں. ...میرا دل میرا پیار وہ سانسیں میری....لوٹا گی کیسے وہ قرضے سبهی. ....نہیں لوٹ سکتے اگر تم کهبی. .....تو لوٹا دو مجھ کو محبت میری
(ختم شدہ)


 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India