Thursday, 14 December 2017
Sunday, 12 November 2017
ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد
ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد اور مٹی کیوں نہ ہو اسے صاف کیا جاسکتا ہے-
بس ہاتھ پھیرنا پڑتا ہے اور شیشے میں سے عکس نظر آنا شروع ہوجاتا ہے – - -
اور پھر ہر ہاتھ کے ساتھ عکس پہلے سے زیادہ صاف اور چمکدار ہوتا جاتا ہے ۔ ۔ اور وہ ہاتھ اس محبت کا ہوتا ہے جو ایمان سے ہوتی ہے۔۔
عمیرہ احمد کے ناول ۔ ایمان امید اور محبت سے اقتباس
اسے اللہ سے خوف آرہا تھا
اسے اللہ سے خوف آرہا تھا ۔ ۔بے پناہ خوف ----
وہ کس قدر طاقتور تھا کیا نہیں کر سکتا؟
وہ کس قدر مہربان تھا ۔ ۔ ۔ ۔کیا نہیں کرتا ۔ ۔ ۔انسان کو انسان رکھنا اسے آتا ہے- کبھی غضب سے کبھی احسان سے ۔ ۔وہ اسے دائرے میں رکھتا ہے“
پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم سے اقتباس
Jannat kay patay By Nimra Ahmad Episode # 20
Jannat kay patay
By Nimra Ahmad
Episode # 20
ایک پروفیسر کو مافیا کے بارے میں کیا معلوم ہو گا حیا جی
وہ کھساہت سے مسکرائے۔
یعنی کہ وہ واقعی مافیا کا بندہ ہے
اور آ پ کو معلوم بھی ہے مگر آ پ اعتراف نہیں کر نا چاہ رہے۔شاید ایک اور داود ابراہیم؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا اور وہ عین نشا نے پہ بیٹھا۔
داود ابراہیم ۔شاید انہوں نے سادگی سے ہتھیار ڈال دیے۔
وفعتا کیچن سے انجم باجی کی چیخ بلند ہوئی۔وہ جو کرسی کے کنارے پہ ٹکی تھی گبھرا اٹھی اور کیچن کی طرف لپکی۔
کیا ہوا
انجم باجی سرخ بھبھو کا چہرہ اور آنکھوں میں پانی لیے کھڑی تھی ۔ان کے ہاتھ میں خالی چمچہ تھا۔
مرچیں اتنی مرچیں حیا۔
نن نہیں یہ ترکی کی مرچیں پھیکی ہوتی ہیں ۔تو میں نے صرف چار چمیچے۔۔۔۔۔۔۔۔
چار چمیچے ان کی آنکھوں پھل گئی۔یہ ترکی کی نہیں خالص مبی کی مرچیں ہیں میں سارے مسالے وہیں سے لاتی ہوں ۔اوہ نہیں! اس نے بے اختیا دل پہ ہا تھ رکھا۔جبکہ ڈ ی جے ہنس ہنس کر دوہری ھو رہی تھی ۔سردی کا زور پہلے سے ذرا ٹوٹا تھا ۔اس صبح بھی سنہری سی دھوپ ٹا قسم اسکوائر پہ بکھری تھی ۔مجسمہ آزادی کے گردہر سو سونے کے ذرات چمک رہے تھے۔وہ دونوں سست روی سے سڑک کہ کنارےچل رہی تھی جب ڈی جے نے پوچھا ۔حیا '،،،یہ ٹاقسم نام کتنے مزے کا ہے اس کا مطلب کیا ہوابھلا؟ میں شہر کی مئیر ہوں جو مجھے پتا ھو گا؟ نہیں وہ میری گائیڈ بک میں لکھا تھا کہ ٹاقسم عربی کا لفظ ہےاور اس کا معنی شاید بانٹنے کے ہیں کیونکہ یہاں سےنہرین نکل کر سارے شہر میں بٹ جاتی تھیں ۔تمہیں عربی آ تی ہے اس لئیے پو چھ رہی ہوں ۔ عربی میں تو ٹاقسم نام کا کوئی لفظ نہیں، اور عربی میں بانٹنے کو تقسیم کہتے ہیں ۔وہ ایک دم رکی اور بےاختیارسر پہ ہاتھ مارا۔اوہ ٹاقسم یعنی تقسیم ۔اگر گوروں کی طرح منہ ٹیڑھا کر کے پڑھو تو تقسیم ٹاقسم بن جاتا ہے ۔ٹاقسم •••••!واو؛۔وہ دونوں اس بات پر خوب ہنستی ہوئی آ گے بڑھنے لگیں ۔وہ شاپنگ کے ارادے سے استقلال اسٹریٹ کی طرف آ ئ تھیں ۔استقلال جدیسی( اسٹریٹ )ٹاقسم کے قریب سے نکلنے والی ایک لمبی سی گلی تھی۔وہ گلی دونوں اطراف سے قدیم آ آرکیسٹیکچر والی اونچی عمارتوں سے گھری تھی۔گلی بے حد لمبی تھی وہاں انسانوں کا ایک رش ہمیشہ چلتا دکھائی دے رہا ہوتا۔بہت سے سامنے جا رہے ہوتے اور بہت سے آ پکی طرف آ رہے ہوتے۔ہر شخص اپنی دھن میں تیز تیز قدم اٹھا رہا ہوتا ۔گلی کے درمیان ایک پٹری بنی تھی جس پہ ایک تاریخی سرخ رنگ کو چھوٹا سا ٹرام چلتا تھا۔وہ پیدل انسان کی رفتار سے دگنیرفتار سے چلتا اور گلی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا دیتا ۔اس گلی کو ختم کرنے کے لیے بھی گھنٹہ تو چاہیے تھا ۔وہاں دونوں اطراف دکانوں کے چمکتے شیشے اور اوپر قمقمے لگے تھے ۔بازار نائٹ کلبز ریسٹورینٹس کافی شاپس ڈ یزائنر وئیر غرض ہر برانڈ کی دکان وہاں موجود تھی۔چند روز پہلے وہ ادھر آ ئیں تو صرف ونڈو شاپنگ میں ہی ڈ ھا ئی گھنٹے گزر گئے اور تب بھی وہ استقلال جدیسی کے درمیان پہنچی تھیں سو تھک کے واپس ہو لیں ۔حیا! تم نے دیکھا استقلال اسٹریٹ جیسے ماڈرن علاقے میں بھی ہر تھوڑی دور بعد پئیرہال ضرور ہے ۔بڑے نیک ہیں بھئ ترک! وہ قدرے طنزیہ ہنسی اور پھر متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی استقلال اسٹریٹ آ نے کا اصل مقصد جہان سے ملنا تھا اور وہ صرف اس لیے یہاں آ ئی تھی کہ بر گر کنگ جاے اور ؛میں یہاں سے گزر رہی تھی تو سو چا؛کہہ کر اس سے مل لے وہ دونوں ساتھ ساتھ تیز رفتاری سے چل رہی تھیں ۔وہاں ہوا تیز تھی اور حیا کہ کھو لے بال ا ڑ ا ڑ کہ اس کے چہرے پہ آ رہے تھے ۔
ﺣﯿﺎ ﺟﯽ؟ " ﻭﮦ ﮐﮭﺴﯿﺎﮨﭧ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ۔
" ﯾﻌﻨﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﺎﻓﯿﺎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﮯ۔ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﭼﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ۔
" ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ۔ " ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮯ۔
ﺩﻓﻌﺘًﺎ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺍﻧﺠﻢ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﺮﺳﯽ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮧ ﭨﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﯽ۔
" ﮐﯿﺎﮨﻮﺍ؟ "
ﺍﻧﺠﻢ ﺑﺎﺟﯽ ﺳﺮﺥ ﺑﮭﺒﺠﻮﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﺗﮭﺎ۔
" ﻣﺮﭼﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﺣﯿﺎ "!
" ﻧﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﭘﮭﯿﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﭼﺎﺭ ﭼﻤﭽﮯ۔۔۔۔ "
" ﭼﺎﺭ ﭼﻤﭽﮯ؟ " ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔ " ﯾﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺎﻟﺺ ﻣﻤﺒﺊ ﮐﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﺎﻟﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻻﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ "
" ﺍﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ۔ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﻝ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﮈﯼ ﺟﮯ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺩﻭﮨﺮﯼ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
••••••••••••••••••••••••••••••
ﺳﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﭨﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺻﺒﺢ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﺳﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﺍﺳﮑﻮﺍﺋﺮ ﭘﮧ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮨﺮ ﺳﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺕ ﭼﻤﮏ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺴﺖ ﺭﻭﯼ ﺳﮯ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﺐ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
" ﺣﯿﺎ ........ ﯾﮧ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻧﺎﻡ، ﮐﺘﻨﮯ ﻣﺰﮮ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﻼ؟ "
" ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﻣﯿﺌﺮ ﮨﻮﮞ، ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ "
" ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺎﺋﯿﮉ ﺑﮏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ۔ ﻋﺮﺑﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔
" ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ " ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺮ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭﺍ۔ " ﺍﻭﮦ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ۔ ﺍﮔﺮ ﮔﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ، ﺗﺎﻗﺴﻢ ﯾﺎ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ "
" ﭨﺎﻗﺴﻢ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! ﻭﺍﺅ۔ " ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺧﻮﺏ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺍﺳﭩﺮﯾﭧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺟﺪﯾﺴﯽ istiklal caddies ( ﺳﭩﺮﯾﭧ ) ﭨﺎﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﯽ ﮔﻠﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺍﮔﻠﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﺳﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭽﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﻋﻤﺎﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﺮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﻠﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺵ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰ ﺗﯿﺰ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﭘﭩﺮﯼ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﭨﺮﺍﻡ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﭘﯿﺪﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻗﻤﻘﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺎﺯﺍﺭ، ﻧﺎﺋﭧ ﮐﻠﺒﺰ، ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭩﺲ، ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺎﭘﺲ، ﮈﯾﺰﺍﺋﻨﺮﻭﺋﯿﺮ، ﻏﺮﺽ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻭﻧﮉﻭ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﺍﻭﺭ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺟﺪﯾﺴﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺳﻮ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﻟﯿﮟ۔
" ﺣﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺳﭩﺮﯾﭧ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﭘﺮﯾﺌﺮ ﮨﺎﻝ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﮯ۔ "
" ﺑﮍﮮ ﻧﯿﮏ ﮨﯿﮟ ﺑﮭﺌﯽ ﺗﺮﮎ "! ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﻨﺰﯾﮧ ﮨﻨﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺍﺳﭩﺮﯾﭧ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﺪ ﺟﮩﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﻨﮓ ﺟﺎﮰ ﺍﻭﺭ " ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺎ۔ " ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﮯ۔
ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﯿﺰ ﺭﻓﺘﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻮﺍ ﺗﯿﺰ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﮌ ﺍﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺟﯿﮑﭧ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺍﮌﺳﺘﯽ۔ ﺗﺐ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﻮﺭﮈ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮈﯼ ﺟﮯ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﮰ ﺑﻨﺎ ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭧ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮏ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺘﯽ، ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ۔ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﮐﯿﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﮐﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﭼﻠﺘﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﯾﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺑﮩﮧ ﮔﺌﯽ۔
ﺣﯿﺎ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﺁﺗﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﻮﭦ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺭﺥ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯﺑﺎﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺪ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﻮﭦ ﺍﺳﮑﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮﺥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ، ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻼ ﮨﻼ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﮌ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﺸﯿﺎﺋﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻤﺸﮑﻞ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻋﻘﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﭘﺎﺋﯽ۔
ﻟﮍﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﺗﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﺻﺎ ﺟﮭﻨﺠﻼﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﻮﺍﺑًﺎ ﺑﺤٽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﺮﮎ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ، ﻭﮦ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻟﻤﺒﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﻓﻘﺮﮮ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺗﺮﮎ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﺮﮎ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﺮﮮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﻓﻌﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﺎﺑﻘﮯ ﻻﺣﻘﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻟﻔﻆ ﺑﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻓﻘﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
" ﺟﮩﺎﮞ۔۔۔۔۔۔۔ ﺟﮩﺎﻥ۔۔۔۔۔ " ﻭﮦ ﺷﻮﺭ ﻭ ﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻦ ﺳﮑﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﮧ ﻭﮦ ﺭﮐﺎ۔ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻠﭩﮯ۔
" ﺟﮩﺎﻥ۔۔۔۔ " ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔
" ﮐﯿﺎ ﻣﺴﯿﻠﮧ ﮨﮯ؟ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ، ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﺮﻭ ﺍﭨﮭﺎﮰ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﺨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﻟﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﭘﮭﯿﮑﺎ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔
" ﻣﯿﮟ۔۔۔۔ﺣﯿﺎ۔۔۔۔۔۔ " ﻭﮦ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﮯ ﺷﮏ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ۔
" ﮨﺎﮞ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ؟ " ﻭﮦ ﺑﮭﻨﻮﯾﮟ ﺳﯿﮑﮍﮮ ﺑﻮﻻ۔
ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮﭦ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺣﯿﺎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﮭﺮ؟ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺷﺸﺪﺭ ﺳﯽ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ۔۔۔۔۔
جاری ہے
ناول جنت کے پتے تحریر نمره احمد قسط نمبر 19
ناول جنت کے پتے تحریر نمره احمد قسط نمبر 19اگے بڑںھی اور ناب گھما کر دروازہ کھولا۔باہر ںالکونی میں روشنی تھی۔جیسے ھی اس نے دروازہ کھولابالکونی تا ریک ھو گئی۔غالبا,,سیڑیوں کے اوپر لگا بلب بجھ گیا تھا۔کیا کوی واپس اکر پلٹ گیا تھا ۔اس نے گردن اگے کر کے راہداری کی دونوں سمت دیکھا ۔ہر سو خاموشی تھی۔بالکونی ویران تھی۔وھا سردی تھی اور اندر کمرہ گرم تھا۔وی چند ثا نیے وھا کھڑی رہی۔۔پھر دیھرے سے شانے اچکا کر پلٹنے ہی لگی تھی کے۔۔۔۔ ۔۔۔اوہ نہیں اس کے لبہوں سے ایک اوکتای ہوی کراہ نکلی۔چوکھٹ پر اس کے قد موں کے ساتھ سفید گلا بوں کا بئکے اور ایک بند لفا فں رکھا تھا۔وہ جھو کھی اور دونوں چیز یں اٹھایں اور جارھا نہ انداز میں لفا فے کا منہ پھا ڑا ۔اندر رکھا چوکور سفید کا غز نکا لا ور منہ کے سامنے کیا۔ ہیپی وہلنٹا ئہین ڈے۔۔۔۔۔فرام یور ویلنٹا ئن۔۔۔۔اس نے لب بینچ کرتنفر سےوی تحر یر پڑ ھی اور پھر بے حد غصے سے کا غز مروڑ کر گلد ستے سمیت پو ری قوت سے راہداری میں دے مارا۔. اوچ ۔وہ واپس مڑ نے ہی لگی تھی کے ۔ جب کسی کی بو کھلا ئی ہوی اواز سنی۔اس نے چو نک کر پیچھے دیکھا۔گلد ستہ اور کا غز سیدے ہاتھ والے کمرے سے نکلتے معتصم کو جا لگے۔اور اس سے ٹکرا کر اب اس کے قدموں میں پڑے تھے۔. یہ کیا ہے؟ وہ ہکا بکا کھڑا تھا۔. "ائی ایک سوری معتصن؛"وہ شد ید بے زاری سے بمشکل ضبط کر کے بولی۔معتصم کو و ضاحت دینے کا سوچ کر ہی اسے کو فت ہونے لگی تھی 'یہ میں نے تمیں نہیں دیے بلکہ کسی فضول انسان نے مجھے بیجھیے ہیں۔تم برا مت ما ننا اور ان کو ڈسٹ بن میں ڈال دینا۔"وہ ایک ھاتھ دروازے پر رکھے۔'دوسرے میں کا جل پکڑے زرا ر کھائی سے بو لی۔معتصم نے جھک کر وہ کا غز ا ٹھایا اور سیدھے ہوتےہھوےان کی شکنیں درست کرکے چہرے کے سامنے کیا۔حیا کوفت ہونے لگی۔"میں کہھ رہی ہونا سوری".اس نے قدرے اکتائے ہوئے انداز میں پھر معتصم کو پکارا۔وہ جو بھنویں سیکڑے کا غز کو دیکھ رہا تھا۔چونک کر اسے دیکھنے لگا۔"نہیں اٹس اوکے۔مگر یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں کوی سبا نجی میں تنگ کر رہا ہے۔؟.و ہ تحریرپہ نگا ہیں دوڑاتےتشو یش سےپوچھ رہا تھا۔یہ بات نہیں ہے۔یہ بہت پہلے سے میرے پیچھے پڑا ہے ۔لمبی کھانی ہے جانے دو".س کو کوڑے میں پھینک دینا۔گڈ نائیٹ"وہ مزید مروت کا مظاہرہ کیے بغیردروازے کا کواڑبند کر نے لگی تھی۔جب وہ ہولےسے بولا۔ یہ گیلاکیوں ہے؟تم روئ ہو؟کچھ تھا اس کی اواز میں کہ وہ دروازہ بند کرتی حیا ٹھٹھک کے دیکھا۔پھر پٹ نیم وہ کیااور باہر بالکونی میں قدم رکھا۔"میں کیوں رووں گی۔"وہ کا غز دیکھ کر بولی۔معتصم کا غز کے نچلےدائیں طرف کے کنارے پر انگلی پھیر رہا.تھا۔"پھر یہ گںیلا کیوں ہے۔؟"شائید پھولوں پر پانی تھا۔حیا نے میکا نیکی اندازمیں نفی میں گردن ہلائ۔"نہیں یہ تو موٹے لفا فے میں مہر بند تھا".معتصم نے وہ نم حصہ ناک کے قریب جا کر انکھیں موندےسانس ا ندر کو کھینچی۔سٹرس؟لیموں؟لائم؟وہ متز بذب سا حیاکو دیکھنے لگا۔کیا کھ رہے ہیں،مجھے کچھ سمج نہیں ا رہا".کسی نے اس کے نچلے کنارے پہ لیموں لگایا ہے۔"پھر اس نے چونک کر حیا کو دیکھا۔"تمھارے پاس ماچس ہے"وہ جواب دیے بنا الٹے قدموں پیچھے ائ۔اوردروازہ پورا کھول کر ایک طرف ہوگئ۔معتصم قدرے جھجکا'پھر کاغز پکڑے اندر داخل ہوا۔حیانے اپنی اور ڈ ی جے کی میز کی کرسیاں کھینچ کر آ منے سامنے رکھیں اور پھر ٹالی کی میز پر چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی ۔کیا تم بھی بچپن میں لیموں کا رس اور آگ والا کھیل کھیلتے تھے ۔؟وہ اب میز کی دراز کھول کر کچھ ڈ ڈھونڈرہی تھی ۔معتصم دھیرے سے ہنسا۔بہت کھیل کھیلے ہیں اور ان میں سے اکثر آ گ والے ہوتے تھے ۔فلسطین میں بہت آگ ہے شاید تم نہ سمجھو۔چلو آج ان ترکوں کے کھیل اسرائیلی آگ سے کھیلتے ہیں۔ وہ دراز میں سے ایک سگریٹ لائٹر نکال کے اس کہ سامنے کرسی پہ آ بیٹھی اور لائٹر اس کی طرف بڑھایا ۔معتصم نے لائٹر کا پہیہ اپنے انگوٹھے سے گھمایا تو آگ کا نیلا زردساشعلہ جل اٹھا ۔احتیاط سے وہ بے اختیار کہہ اٹھی ۔معتصم نے جواب نہیں دیا ۔وہ خط کہ نم حصے کو جواب تک سوکھ چکا تھا ۔شعلے کے قریب لایا ۔ذرا سی تپش ملی اور الفاظ ابھرنے لگے۔بڑے بڑے کر کے انگریزی کے تین حروف "اے آر پی"۔وہ حروف عین " فرام یورویلنٹائن "کے نیچے لکھے تھے ۔وہ دونوں چند لمحے کاغذ کے تکرے پہ ابھرے بھورے حروف کو تکتے رہے پھر ایک ساتھ گردن اٹھا کہ ایک دوسرے کو دیکھا۔آرپ،،،،،، ایرپ؟ کیسا لفظ ہے یہ ؟حنا نے ممکنہ ادائیگی کےدونوں طریقوں سے حروف کو ملا کہ پڑھا ۔شاید کوئی نام !کیا آ رپ کوئی ترک نام ہے؟معلوم نہیں ۔معتصم نے شانے اچکا دیے۔حیا سوچتی نگاہوں سے کاغذ کو تکتی رہی۔کیا میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا ہوں ۔اس نے ایک نظر معتصم کو دیکھا پھر نرم سا مسکرائی تم کر چکے ہو ۔وہ ہولے سے مسکرا کر کھڑا ہوا اور کاغذ میز پر رکھا۔وہ جو بھی ہے شاید تمہیں اپنا نام بتانے کی کو شش کر رہا ہے ۔وہ کون ہو سکتا ہے یہ تم بہتر سمجھ سکتی ہوگی ۔مجھے اب چلنا چاہیے ۔؛ہوں؛ تھینک یو معتصم ۔معتصم نے ذرا سی سر کو جنبش دی اور باہر نکل گیا ۔دروازے کا کیچر سست روی سےواپس چو کھٹ تک جانے لگا۔حیا چند لمحے میز پر رکھے کنارے سے بھورے ہوئے کاغذ کو دیکھے گئ پھر بے اختیار کسی میکانکی عمل کہ تحت اس نے ہاتھ میں پکڑی کاجل کی سلائی کو سیدھا کیا اور بائیں ہتھیلی کی پشت پہ وہ تین حروف اتارتے ۔؛اے آر پی؛دروازہ چوکھٹ کے ساتھ لگنے ہی والا تھا۔ذرا سی دور سے باہر راہداری میں گرا گلدستہ دکھائی دے رہا تھا ۔ایک دو پل مزید گزرے اور دروازہ "ٹھاہ" کی آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا ۔وہ اپنی ہتھیلی کی پشت پہ سیاہ رنگ میں تین الفاظ دیکھ رہی تھی ۔"اے آر پی"*** اس نے اوپر بنے کیبنٹ کا دروازہ کھولا ۔چند ڈ بے الٹ پلٹ کیے۔نیچے خانے میں سرخ مرچوں کا ڈبا نہیں تھا ۔وہ ایڑیاں اٹھا کر ذرا سی اونچی ہوئی اور اوپر والے خانے میں جھانکا ۔وہاں سامنےایک پلاسٹک کے بے رنگ ڈبے میں سرخ پاؤڈر رکھا نظر آیا ۔اس نے ڈبہ نکا لا اور کاونٹر کی طرف آئی ۔وہاں ڈی جے کھڑی سلیپ پہ کٹنگ بورڈ کے اوپر پیاز رکھے کھٹا کھٹ کاٹ رہی تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے.بریانی کی مقدار زیادہ ہے چار چمچ سرخ مرچ کہ ڈال دیتی ہوں شاید ذرا سا ذائقہ آ جائے ۔ٹھیک ؟وہ خود کلامی کے انداز میں کہتی ٹوکری سےچھوٹا چمچ ڈھنڈنے لگی۔ہاں ٹھیک !ڈی جے نے بھیگی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے رندھی آواز میں کہا اور آستین سے آنکھیں رگڑیں۔حیا اب ڈبے سے چمچ بھر بھر کردھوئیں اڑاتے پتیلے میں ڈال رہی تھی ۔بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا اس کے پیچھے گردن پہ جھول رہا تھا۔سادہ شلوار قمیض پہ وہ ڈھیلا ڈھالا سا سبز سوئٹر پہنے ہوئے تھی ۔جس کی آستینیں اس نے کہنیوں تک موڑ رکھی تھیں۔دوپٹہ ایک طرف دروازے پہ لٹکا تھا ۔اور چند لٹیں جوڑے سے نکل کر چہرے کے اطراف لٹک رہی تھیں ۔گوشت میں چمچہ ہلاتی وہ بہت مصروف لگ رہی تھی ۔وہ دونوں اس وقت انجم باجی کے کچن میں موجود تھیں ۔صبح انجم باجی ڈی جے کو ڈائننگ ہال میں ملیں تو شام اپنے گھر کھانے کی دعوت دے ڈالی ،جو کہ ڈی جے نے یہ کہہ کر قبول کر لی کہ وہ اور حیا مل کر بریانی بنائیں گی۔اب سر شام ہی وہ دونوں ہالے کو لیے انجم باجی کے اپارٹمنٹ آ گئی تھیں ۔ایک بیڈروم لاؤنچ اور کچن پر مشتمل وہ چھوٹا مگر بے حد نفیس اور سلیقے سے سجا اپارٹمنٹ تھا ۔ہالے کو انہوں نے لاؤنچ میں انجم باجی کہ پاس بیٹھا رہنے دیا اور خود کچن میں آ کر مصروف ہو گئیں ۔یہ پنٹینگ جوید جی لائے تھے انڈیا سے۔اندر لاؤنچ میں انجم باجی کی ہا لے کو مطلع کرتی آواز آ رہی تھی ۔ڈی جے یہ جوید جی کیا ہے؟اس نے قدرے الجھ کر پوچھا ۔ان کا مطلب ہے جوید جی۔ان کے ہزبینڈ! ڈی جے نے سرگوشی کی تو وہ مسکراہٹ دباتی پلٹ کر ابلتے چاولوں کو دیکھنے لگی ۔جس وقت انجم باجی اور ہالے کچن میں داخل ہوئیں حیا پتیلے کا ڈھکن اخبار لگا کر احتیاط سے بند کر رہی تھی ۔آ ہٹ پہ پلٹی اور مسکرائی۔بس دم دے رہی ہوں ۔بہت خراب ہو تم دونوں مجھے اٹھنے ہی نہیں دیا ۔بس اب آ پ کو کھانے کے وقت ہی اٹھنا تھا ۔وہ جوید،،،،،، جاوید بھائی آگئے ۔؟وہ ہاتھ دھو کر تولیے سے صاف کرتی ڈی جے کے پاس آئی۔ڈی جے کا سلاد ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا ۔اب کہیں جا کہ وہ ٹماٹروں پہ پہنچی تھی۔بس آنے والے ہیں لاو یہ سلاد تو مجھے بنانے دو۔نہیں!میں کر لوں گی۔تھوڑا سا رہ گیا ہے۔ڈی جے نے بڑی بے فکری سے کہا تو حیا نے اسے جتا تی نظروں سے گھورا ۔آپ نے اس تھوڑے میں بھی صبح کر دینی ہے۔لاو مجھے دو اور پلیٹیں لگاو۔اس نے ٹماٹر اور چھری ڈی جے کے ہاتھ سے لے لی۔ہالے از خود نہایت پھر تی سے سارا پھیلاؤ سمیٹنے میں لگی تھی۔وہ میلے برتن اب سنک میں جمع کر رہی تھی ۔ڈی جے کیبنٹ سے پلیٹیں نکالنے لگی اور انجم باجی رائتہ بنانے لگیں۔حیا نے ٹماٹر کو کٹنگ بورڈ پہ بائیں ہاتھ سے پکڑکہ رکھا اور چھری رکھ کہ دبائی۔دو سرخ ٹکڑے الگ ہو گئے اور ذرا سا سرخ رنگ اس کی بائیں ہتھیلی کی پشت پہ بہہ گیا جہاں کاجل سے لکھے تین مٹے مٹے سے حروف تھے ۔اے،،،،،آر،،،،،پی۔وہ دو تین روز سے اسی ؛اے آر پی؛ کے متعلق سوچے جا رہی تھی اب بھی کچھ سوچ کر اس نے گردن اٹھائی ۔؛ انجم باجی؛دہی کو کانٹے سے پھینٹتیں انجم باجی نے ہاتھ روک ےلئیےآپنے کسی ایرپ کے متعلق سنا ہے۔ایرپ انجم باجی نے حیرت بھری الجھن سے دوہرایا۔جی ایرپ اے آرپی۔اس نےوضاحت کے لیے ہلجے کر کے بتایا۔اونائٹ اگین حیا۔ہالے جو سنک کے آگے کھڑی تھی ۔قدرے اکتا کر پلٹی۔اس کے ہاتھ میں جھاگ بھرا اسفخج تھاجسے وہ پلیٹ پہ مل رہی تھی ۔تم پھر وہی موضوع لے کر بٹھ گئئ ہو۔اس کے انداز میں خفگی بھرا احتجاج تھا۔مگر ہالے اب وہ الجھی تھی۔یہ ۔موضوع تو اس نے ابھی تک ہالے کے ساتھ ڈسیکس نہیں کیا تھا۔پھرمیں نے کہا تھا نا یہ سب بے کار باتیں ہیں ۔مگر میں نے پوچھا ہی کیا ہے۔اے آڑپی۔عبدالرحمان پاشا اور کون اس نے بتایا تھاکہ یہ گھریلو عورتوں کے فسانے سے ذیادہ کچھ نہیں ہے۔یہ استنبول ہے۔یہاں قانون کا راج ہے۔مافیا کا نہیں ۔اب اس کے بعد اس موضوع پہ کچھ نہیں سنوں گی۔ہالے اب پلٹ کر جھاگ سے بھری پلیٹ کو پانی سے کھنگال رہی تھی ۔اور وہ جو حیرتوں کے سمندر میں گھڑی کھڑی تھی ۔اے آرپی۔عبدالرحمان پاشا اور یہ خیال اسے پہلے کیوں نہیں آیا۔اوکے اوکے وہ سر جھکائے ٹماٹر کاٹنے لگی مگر اس کے ذہین میں جھٹ سے خیال گڈمڈ ہو رہے تھے۔ہالے اور جہان دونوں ایک جیسے تھے۔اور اپنے استنبول کے دفاع کے علاوہ وہ کبھی کچھ نہیں کہیں گے۔اسے یقین تھا۔مگر کسی کے پاس تو کچھ کہنے کے لئے ہو گا اور اسے اس کسی کو ڈھونڈنا تھا۔وہ میز لگا رہی تھی جب جاوید بھائی آگے۔وہ بھی پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔اور سبانجی میں پڑھاتے بھی تھے۔بے حد ملنسار سادہ اور خوش اخلاق سے دیسی مرد تھے۔اپنے پاکستانی ڈرموں کے شوقین اور پرستار۔ٹی وی کے ساتھ ریک میں ان کہی آرئیگاں دھوپ کنارے آنگن ٹیڑھا الف نون سمیت بہت سے کلاسک ڈراموں کی دی وی ڈیز قطار میں سجی تھیں ۔ان دونوں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے لیے طرز تخاطب بہت دلچسپ تھا۔جوید جی اور انجو جی اسے بہت اہنسی آئی۔باقی تینوں کیچن میں تھے۔جب حیا پانی کا جگرکھنے میز پہ آئی جاوید بھائی کو تنہا بیٹھے پایا۔وہ کسی کتاب کی ورق کروانئ کر رہے تھے۔جوید۔۔۔۔۔جاوید بھائی گڑبڑ کر تصیع کرتی ان کے ساتھ کرسی کھنچ کر بیٹھی اور محتاط نگاہوں سے کیچن کے دروازے کو دیکھا۔ایک بات پوچھنی تھی آپ سے۔جی جی پوچیھے۔وہ فورا کتاب رکھ کر سیدھے ہو بیٹھے ۔استنبول میں ایک انڈین مسلم رہیتا ہے عبدالرحمان پاشا نام کا۔آپ اسے جانتے ہیں ۔وہ محتاط کرسی کے کنارے ٹکی بولتے ہوئے بار بار کیچن کے دروازے کو بھی دیکھ لیتی۔کون پاشا وہ بیوک اواولا۔اور حیا کو لگا اسے اس کے جواب ملنے والے ہیں ۔جی جی وہی وہ خاصا مشہور ہے۔ہاں سنا تو میں نے بھی ہے۔بیوک ادا میں اس کا کافی ہولڈ ہے۔وہ مال امپورٹ ایکسپورٹ کرتا ہے۔کیا وہ مافیا کا بندہ ہے اسلحہ اسمگل کرتا ہے۔ایک پروفیسر کو مافیا کے بارے میں کیا معلوم ہو گا حیا جیوہ کھساہت سے مسکرائے۔یعنی کہ وہ واقعی مافیا کا بندہ ہے اور آ پ کو معلوم بھی ہے مگر آ پ اعتراف نہیں کر نا چاہ رہے۔شاید ایک اور داود ابراہیم؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا اور وہ عین نشا نے پہ بیٹھا۔داود ابراہیم ۔شاید انہوں نے سادگی سے ہتھیار ڈال دیے۔جاری هے
Jannat Kay pattay By Nimra Ahmad Episode #18
Jannat Kay pattay
By Nimra Ahmad
Episode #18
صرف ہمیں ہی بلایا ھے یا یہ عرب اسرائیل دوستی کی زندہ مثال بھی موجود ھو گی ڈی جے کا اشارہ ٹالی کی طرف تھا ۔
پتا نہیں ۔ حیا نے شانے اچکا دیے ۔وہ الماری سے کپڑے نکالنے لگی
ہر موقع کی مناسبت سے ڈریسنگ کرنا اس کا جنون تھا ۔کپڑوں پہ ایک سلوٹ تک نہ ھو اور میک اپ کی ایک لکیر بھی اوپر نیچے نہ ھو ، وہ ہر بات کا خیال رکھتی تھی ۔ البتہ لڑکوں کی دعوت پہ جانے کی اجاذت پاکستان میں ابا یا تایا کبھی نہ دیتے ۔مگر وہ ادھر کون سا دیکھ رھے تھے ۔ یہ ترکی تھا اور یہاں سب چلتا تھا ۔
وہ تین لڑکے تھے ۔معتصم المرتضیٰ ، حسین اور مومن ، ان کے دو فلسطینی دوست محمد قادر اور نجیب اللہ دعوت کے شروع میں موجود رہے ۔ پھر اٹھ کر چلے گئے ، مگر ان تین میزبانوں نے احسن طریقے سے میزبانی نبھائی ۔وہ تینوں اسمارٹ اور گڈ لکنگ سے لڑکے ایک جیسے لگتے تھے ۔ معتصم ان میں ذرا لمبا تھا ۔ اس کا نام معتصم المرتضیٰ تھا ، مگر یہ ڈی جے نے بعد میں نوٹ کیا کہ وہ فیسبک پہ اپنا نام معتصم اینڈ مرتضیٰ لکھتا تھا ۔ وجہ انھیں کبھی سمجھ نہ آئی ۔ حسین اور معتصم ان دونوں کو بالکل اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح ٹریٹ کر رھے تھے ۔ البتہ اس بھائی چارے سے مومن متفق نہ تھا ۔ وی فلرٹیب، نظر باز سا لڑکا کچھ بھی تھا مگر مومن نہ تھا ۔
البتہ وہ دونوں اس کو اپنی موجودگی میں سیدھا کیے ھوئے تھے وہ دونوں اتنے ملنسار اور مہذب لڑکے تھے کہ حیا کو اپنے سارے کزن ان کے سامنے بےکار لگے ۔ البتہ جہان کی بات اور تھی ۔ اس نے فورًا اپنی رائے میں ترمیم کی ۔
اگلے ہفتے حسین کا برتھڈے ھے ،، حسین فون سننے باہر گیا تو مومن نے بتایا پھر تو ہمیں اسےٹریٹ دینی چاہیے ۔ڈی جے سوچ کر بولی ۔
اور گفٹ بھی ، حیا کو خیال آیا ۔
ہم دونوں اس کے لیے ایک گھڑی خریدنے کا سوچ رھے رہیں جو ہم نے جواہر میں دیکھی ھے ۔
130لیزار کی ھے معتصم نے چائے کا آخری گھونٹ پی کر کپ میز پر رکھا ۔
یعنی کہ پاکستانی روپوں میں ۔۔۔۔،، حیا نء سوچتے ھوئے پرس میں ہاتھ ڈالا تاکہ موبائل کےکے کیلکولیٹر سے حساب کر سکے ۔
سات ہزار ایک سو پانچ پاکستانی روپے ۔۔
معتصم جھک کر پیسٹریز کی پلیٹ سے ایک ٹکڑا اٹھاتے ھوئے بولا ۔ حیا کا پرس کھنگالتا ہاتھ رک گیا ۔اس نے حیرت و بے یقینی سے معتصم کو دیکھا ۔
تم نے اتنی جلدی حساب کیسے کیا ؟؟
میں میتھس کا سٹوڈنٹ ھوں ،،، وہ جھینپ کر مسکرا دیا ۔
اور معتصم کا ایک ہی خواب ھے کہ وہ میتھس میں نوبل پرائز لے ،، مومن حیا کے ہاتھوں کو دیکھتے ھوئے کہنے لگا ۔وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد معتصم سے آنکھ بچا کر حیا کے سراپے کا جائزہ لے لیتا تھا ۔ حیا قدرے رخ موڑ کر معتصم کی طرف متوجہ ھوئی ۔
تو میتھس کے سٹوڈنٹ جلدی بتاؤ اس مہنگی گھڑی کو خریدنے کے لیے اگر ہم چاروں پیسے تقسیم کریں تو ہر ایک کے حصے میں کتنے ۔۔
32 لیرا اور پچاس کرش ۔۔،،
اوکے ،،، حیا نے گہری سانس لی اور پرس کھولا انکو پیسے انھوں نے زبردستی تھمائے ۔ مومن کو تو کوئی اعتراض نہ تھا مگر معتصم ان سے رقم لینے میں متذبزب تھا مگر یہ ایک ان کہی بات تھی کہ بغیر کسی اسکالر شپ کے استنبول جیسے مہنگے شہر میں وہ سب اتنا ہی افورڈ کر سکتے تھے ۔
وہ تینوں جواہر کے لیے نکل رھے تھے معتصم نے کہا تھا کہ وہ حسین سے نظر بچا کر گھڑی خرید لائیں گے ان کو بھی ساتھ چلنے کی پیشکش کی اور ڈی جے ہاں کرنے ہی والی تھی کہ حیا نے اس کا پاؤں اپنے جوتے اے زور سے کچلتے ھوئے بظاہر مسکراتے ھوئے انکار کیا ۔
نہیں ۔۔ آپ لوگ جائیں ہم آج ہی ھو کر آئے ہیں وہ تینوں چلے گئے تو ڈی جے نے برا سا منہ بنا کر اسے دیکھا ۔
تم نے انکار کیوں کیا ؟؟؟
پاگل عورت ۔۔،، تم پاکستان سے آئی ھو یا نیو یارک سے ؟؟ ان کی دعوت قبول کر لی یہ ہی بہت ھے اب ان کے ساتھ سیر سپاٹوں پہ بھی نکل جائیں دماغ ٹھیک ھے ؟؟؟
مگر وہ تو ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں ۔۔ پیچھے ہمارے اصلی والے بھائیوں کو پتا چلا تو کل ہی واپس پاکستان بلوا لیں گے ۔ اس لیے اپنی اوقات میں واپس آؤ اور رات کے کھانے کی تیاری کرو موبائل کے ساتھ ننھی ہینڈز فری کانوں میں لگاتے ھوئے بولی ۔
زہر ملا کر دوں گی تمہیں ۔۔, ڈی جے بھناتی ھوئی پیر پٹخ کر اٹھی ۔ اور اگر تم چاولوں پہ آملیٹ ڈال کے لائی تو ساری ڈش تمہارے اوپر الٹ دوں گی ۔۔
وہ وہیں صوفے پر لمبی بیٹھی ۔ اب موبائل کے بٹن دبا رہی تھی ۔ دھیما میوزک اس کے کانوں میں بجنے لگا ۔ڈی جے غصے میں بہت کچھ کہتی گئ مگر اسے سنائی نہیں دے رہا تھا ۔ وہ آنکھیں موندے ھولے ھولے پاؤں جھلانے لگی ۔ ڈی جے پیر پٹخ کر باہر نکل گئی ۔۔
وہ رات ویلنٹائن کی رات تھی ۔ ڈی جے کامن روم میں منعقدہ اس آل گرلز پارٹی میں جا چکی تھی ۔ جو لڑکیوں نے مل کر دی تھی جبکہ حیا آئینے کے سامنے کھڑی اپنا کاجل درست کر رہی تھی اس کی تیاری مکمل تھی لیکن جب تک وہ اپنی آنکھوں کے کٹورے کاجل سے بھر نہ لیتی اسے تسلی نہیں ھوتی تھی ۔ ابھی وہ کاجل کی سلائی کی نوک آنکھ کے کنارے سے رگڑ رہی تھی کہ دروازہ بجا ۔
دھیمی سی دستک اور پھر خاموشی ۔
اس نے کاجل کی سلائی نیچے کی اور پلٹ کر دیکھا ۔ یہ انداز ڈی جے کا تو نہیں تھا ۔ وہ یوں ہی کاجل پکڑے........جاری هے
By Nimra Ahmad
Episode #18
صرف ہمیں ہی بلایا ھے یا یہ عرب اسرائیل دوستی کی زندہ مثال بھی موجود ھو گی ڈی جے کا اشارہ ٹالی کی طرف تھا ۔
پتا نہیں ۔ حیا نے شانے اچکا دیے ۔وہ الماری سے کپڑے نکالنے لگی
ہر موقع کی مناسبت سے ڈریسنگ کرنا اس کا جنون تھا ۔کپڑوں پہ ایک سلوٹ تک نہ ھو اور میک اپ کی ایک لکیر بھی اوپر نیچے نہ ھو ، وہ ہر بات کا خیال رکھتی تھی ۔ البتہ لڑکوں کی دعوت پہ جانے کی اجاذت پاکستان میں ابا یا تایا کبھی نہ دیتے ۔مگر وہ ادھر کون سا دیکھ رھے تھے ۔ یہ ترکی تھا اور یہاں سب چلتا تھا ۔
وہ تین لڑکے تھے ۔معتصم المرتضیٰ ، حسین اور مومن ، ان کے دو فلسطینی دوست محمد قادر اور نجیب اللہ دعوت کے شروع میں موجود رہے ۔ پھر اٹھ کر چلے گئے ، مگر ان تین میزبانوں نے احسن طریقے سے میزبانی نبھائی ۔وہ تینوں اسمارٹ اور گڈ لکنگ سے لڑکے ایک جیسے لگتے تھے ۔ معتصم ان میں ذرا لمبا تھا ۔ اس کا نام معتصم المرتضیٰ تھا ، مگر یہ ڈی جے نے بعد میں نوٹ کیا کہ وہ فیسبک پہ اپنا نام معتصم اینڈ مرتضیٰ لکھتا تھا ۔ وجہ انھیں کبھی سمجھ نہ آئی ۔ حسین اور معتصم ان دونوں کو بالکل اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح ٹریٹ کر رھے تھے ۔ البتہ اس بھائی چارے سے مومن متفق نہ تھا ۔ وی فلرٹیب، نظر باز سا لڑکا کچھ بھی تھا مگر مومن نہ تھا ۔
البتہ وہ دونوں اس کو اپنی موجودگی میں سیدھا کیے ھوئے تھے وہ دونوں اتنے ملنسار اور مہذب لڑکے تھے کہ حیا کو اپنے سارے کزن ان کے سامنے بےکار لگے ۔ البتہ جہان کی بات اور تھی ۔ اس نے فورًا اپنی رائے میں ترمیم کی ۔
اگلے ہفتے حسین کا برتھڈے ھے ،، حسین فون سننے باہر گیا تو مومن نے بتایا پھر تو ہمیں اسےٹریٹ دینی چاہیے ۔ڈی جے سوچ کر بولی ۔
اور گفٹ بھی ، حیا کو خیال آیا ۔
ہم دونوں اس کے لیے ایک گھڑی خریدنے کا سوچ رھے رہیں جو ہم نے جواہر میں دیکھی ھے ۔
130لیزار کی ھے معتصم نے چائے کا آخری گھونٹ پی کر کپ میز پر رکھا ۔
یعنی کہ پاکستانی روپوں میں ۔۔۔۔،، حیا نء سوچتے ھوئے پرس میں ہاتھ ڈالا تاکہ موبائل کےکے کیلکولیٹر سے حساب کر سکے ۔
سات ہزار ایک سو پانچ پاکستانی روپے ۔۔
معتصم جھک کر پیسٹریز کی پلیٹ سے ایک ٹکڑا اٹھاتے ھوئے بولا ۔ حیا کا پرس کھنگالتا ہاتھ رک گیا ۔اس نے حیرت و بے یقینی سے معتصم کو دیکھا ۔
تم نے اتنی جلدی حساب کیسے کیا ؟؟
میں میتھس کا سٹوڈنٹ ھوں ،،، وہ جھینپ کر مسکرا دیا ۔
اور معتصم کا ایک ہی خواب ھے کہ وہ میتھس میں نوبل پرائز لے ،، مومن حیا کے ہاتھوں کو دیکھتے ھوئے کہنے لگا ۔وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد معتصم سے آنکھ بچا کر حیا کے سراپے کا جائزہ لے لیتا تھا ۔ حیا قدرے رخ موڑ کر معتصم کی طرف متوجہ ھوئی ۔
تو میتھس کے سٹوڈنٹ جلدی بتاؤ اس مہنگی گھڑی کو خریدنے کے لیے اگر ہم چاروں پیسے تقسیم کریں تو ہر ایک کے حصے میں کتنے ۔۔
32 لیرا اور پچاس کرش ۔۔،،
اوکے ،،، حیا نے گہری سانس لی اور پرس کھولا انکو پیسے انھوں نے زبردستی تھمائے ۔ مومن کو تو کوئی اعتراض نہ تھا مگر معتصم ان سے رقم لینے میں متذبزب تھا مگر یہ ایک ان کہی بات تھی کہ بغیر کسی اسکالر شپ کے استنبول جیسے مہنگے شہر میں وہ سب اتنا ہی افورڈ کر سکتے تھے ۔
وہ تینوں جواہر کے لیے نکل رھے تھے معتصم نے کہا تھا کہ وہ حسین سے نظر بچا کر گھڑی خرید لائیں گے ان کو بھی ساتھ چلنے کی پیشکش کی اور ڈی جے ہاں کرنے ہی والی تھی کہ حیا نے اس کا پاؤں اپنے جوتے اے زور سے کچلتے ھوئے بظاہر مسکراتے ھوئے انکار کیا ۔
نہیں ۔۔ آپ لوگ جائیں ہم آج ہی ھو کر آئے ہیں وہ تینوں چلے گئے تو ڈی جے نے برا سا منہ بنا کر اسے دیکھا ۔
تم نے انکار کیوں کیا ؟؟؟
پاگل عورت ۔۔،، تم پاکستان سے آئی ھو یا نیو یارک سے ؟؟ ان کی دعوت قبول کر لی یہ ہی بہت ھے اب ان کے ساتھ سیر سپاٹوں پہ بھی نکل جائیں دماغ ٹھیک ھے ؟؟؟
مگر وہ تو ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں ۔۔ پیچھے ہمارے اصلی والے بھائیوں کو پتا چلا تو کل ہی واپس پاکستان بلوا لیں گے ۔ اس لیے اپنی اوقات میں واپس آؤ اور رات کے کھانے کی تیاری کرو موبائل کے ساتھ ننھی ہینڈز فری کانوں میں لگاتے ھوئے بولی ۔
زہر ملا کر دوں گی تمہیں ۔۔, ڈی جے بھناتی ھوئی پیر پٹخ کر اٹھی ۔ اور اگر تم چاولوں پہ آملیٹ ڈال کے لائی تو ساری ڈش تمہارے اوپر الٹ دوں گی ۔۔
وہ وہیں صوفے پر لمبی بیٹھی ۔ اب موبائل کے بٹن دبا رہی تھی ۔ دھیما میوزک اس کے کانوں میں بجنے لگا ۔ڈی جے غصے میں بہت کچھ کہتی گئ مگر اسے سنائی نہیں دے رہا تھا ۔ وہ آنکھیں موندے ھولے ھولے پاؤں جھلانے لگی ۔ ڈی جے پیر پٹخ کر باہر نکل گئی ۔۔
وہ رات ویلنٹائن کی رات تھی ۔ ڈی جے کامن روم میں منعقدہ اس آل گرلز پارٹی میں جا چکی تھی ۔ جو لڑکیوں نے مل کر دی تھی جبکہ حیا آئینے کے سامنے کھڑی اپنا کاجل درست کر رہی تھی اس کی تیاری مکمل تھی لیکن جب تک وہ اپنی آنکھوں کے کٹورے کاجل سے بھر نہ لیتی اسے تسلی نہیں ھوتی تھی ۔ ابھی وہ کاجل کی سلائی کی نوک آنکھ کے کنارے سے رگڑ رہی تھی کہ دروازہ بجا ۔
دھیمی سی دستک اور پھر خاموشی ۔
اس نے کاجل کی سلائی نیچے کی اور پلٹ کر دیکھا ۔ یہ انداز ڈی جے کا تو نہیں تھا ۔ وہ یوں ہی کاجل پکڑے........جاری هے
Wednesday, 8 November 2017
پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم قسط نمبر 16
پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلمقسط نمبر 16۔۔۔۔۔۔۔حسن نے نکاح کے انتظامات بہت آسانی سے کر لیے تھے۔سالار نے اسے کچھ رقم دی تھی جس سے اس نے تین گواہوں کا انتظام کر لیا تھا۔چوتھے گواہ کے طور پر وہ خود موجود تھا۔نکاح خواہ کو اندازہ تھا کہ اس نکاح میں کوئی غیر معمولی کہانی تھی۔مگر اسے بھاری رقم کے ساتھ اتنی دھمکیاں بھی دے دی گئی تھیں کہ وہ خاموش ہو گیا۔حسن سہ پہر کے وقت اس نکاح خواں اور تینوں گواہوں کو لے آیا تھا۔وہ سب سالار کے کمرے میں چلے گئے تھے۔وہیں بیٹھ کر نکاح نامہ بھرا گیا تھا۔سالار امامہ کو اس بارے میں پہلے ہی انفارم کر چکا تھا۔مقررہ وقت پر فون پر نکاح خواں نے ان دونوں کا نکاح پڑھا دیا تھا۔سالار نے ملازمہ کے ذریعے امامہ کو پیپرز بھجوا دیے تھے۔امامہ نے پیپرز لیتے ہی برق رفتاری سے ان پر سائن کر کے ملازمہ کو واپس دے دئیے تھے۔ملازمہ ان پیپرز کو واپس سالار کے پاس لے آئی تھی ، مگر وہ بری طرح تجسس کا شکار تھی۔آخر وہ لوگ کون تھے جو سالار کے کمرے میں تھے اور یہ پیپرز کیسے تھے جن پر امامہ نے سائن کیا تھا۔اس کا ماتھا ٹھٹک رہا تھا اور اسے شبہ ہو رہا تھا کہ ہو نہ ہو وہ دونوں آپس میں شادی کر رہے تھے۔سالار کو پیپرز واپس دیتے ہوئے وہ پوچھے بغیر رہ نہیں سکی تھی۔"یہ کس چیز کے کاغذ ہیں سالار صاحب؟"اس نے بظاہر سادگی اور معصومیت سے پوچھا۔"تمہیں اس سے کیا۔۔۔۔۔جیسے بھی پیپرز ہوں۔۔۔۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو۔"سالار نے درشتی سے اسے جھڑک دیا۔"اور ایک بات تم کان کھول کر سن لو ، اس سارے معاملے کے بارے میں اگر تم اپنا منہ بند رکھو گی تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا بلکہ بہت بہتر ہو گا۔۔۔۔۔""مجھے کیا ضرورت ہے جی کسی سے بھی اس بارے میں بات کرنے کی۔میں نے تو ویسے ہی پوچھ لیا۔آپ اطمینان رکھیں صاحب جی ! میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔"ملازمہ فوراً گھبرا گئی تھی۔سالار ویسے بھی اتنا اکھڑ مزاج تھا کہ اسے اس سے بات کرتے ہوئے خوف آیا کرتا تھا۔سالار نے کچھ نخوت بھرے انداز میں سر کو جھٹکا۔اسے اس بات کا کوئی خوف نہیں تھا کہ ملازمہ یہ سب کسی کو بتا سکتی تھی۔اگر بتا بھی دیتی تو اسے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭"تم ایک بار پھر جلال سے ملو ، ایک بار پھر پلیز۔۔۔۔۔"وہ اس دن اس سے فون پر کہہ رہی تھی۔سالار اس بات پر چڑ گیا۔"وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا امامہ ! وہ کتنی بار کہہ چکا ہے۔آخر تم سمجھتی کیوں نہیں ہو کہ دوبارہ بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اس نے بتایا تھا کہ اس کے ماں باپ اس کی کوئی منگنی وغیرہ کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔۔""وہ جھوٹ بول رہا ہے۔"امامہ نے بےاختیار اس کی بات کاٹ دی۔"صرف اس لیے کہ میں اس سے دوبارہ کانٹیکٹ نہ کروں ، ورنہ اس کے پیرنٹس اتنی جلدی اس کی منگنی کر ہی نہیں سکتے۔""تو جب وہ نہیں چاہتا تم سے شادی کرنا اور کانٹیکٹ کرنا۔۔۔۔۔تو تم کیوں خوار ہو رہی ہو اس کے پیچھے۔""کیونکہ میری قسمت میں خواری ہے۔"اس نے دوسری طرف سے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔"اس کا کیا مطلب ہوا؟"وہ اُلجھا۔"کوئی مطلب نہیں ہے۔نہ تم سمجھ سکتے ہو۔۔۔۔۔تم بس اسے جا کر کہو کہ میری مدد کرے ، وہ حضرت محمد ﷺ سے اتنی محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔اس سے کہو کہ وہ آپ ﷺ کے لئے ہی مجھ سے شادی کر لے۔"وہ بات کرتے کرتے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔"یہ کیا بات ہوئی۔"وہ اس کے آنسوؤں سے متاثر ہوئے بغیر بولا۔"کیا یہ بات کہنے سے وہ تم سے شادی کر لے گا۔"امامہ نے جواب نہیں دیا ، وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔وہ بیزار ہو گیا۔"تم یا تو رو لو۔۔۔۔۔یا پھر مجھ سے بات کر لو۔"دوسری طرف سے فون بند کر دیا گیا۔سالار نے فوراً کال کی۔کال ریسیو نہیں کی گئی۔پندرہ بیس منٹ کے بعد امامہ نے اسے دوبارہ کال کی۔"اگر تم یہ وعدہ کرتی ہو کہ تم روؤ گی نہیں تو مجھ سے بات کرو ، ورنہ فون بند کر دو۔"سالار نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔"پھر تم لاہور جا رہے ہو۔"اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اس نے اس سے پوچھا۔سالار کو اس کی مستقل مزاجی پر حیرانی ہوئی۔وہ واقعی ڈھیٹ تھی۔وہ اب بھی اپنی ہی بات پر اٹکی ہوئی تھی۔"اچھا ، میں چلا جاؤں گا۔تم نے اپنے گھر والوں کو شادی کے بارے میں بتایا ہے۔"سالار نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔"نہیں ، ابھی نہیں بتایا۔"وہ اب خود پر قابو پا چکی تھی۔"کب بتاؤ گی؟"سالار کو جیسے ڈرامے کے اگلے سین کا انتظار تھا۔"پتا نہیں۔"وہ کچھ اُلجھی۔"تم کب لاہور جاؤ گے؟""بس جلد ہی چلا جاؤں گا۔ابھی یہاں مجھے کچھ کام ہے ورنہ فوراً ہی چلا جاتا۔"اس بار سالار نے جھوٹ بولا تھا۔نہ تو اسے کوئی کام تھا اور نہ ہی وہ اس بار لاہور جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔"جب تم بیلف کے ذریعے اپنے گھر سے نکل آؤ گی تو اس کے بعد تم کیا کرو گی۔۔۔۔۔آئی مین ! کہاں جاؤ گی؟"سالار نے ایک بار پھر اسے اس موضوع سے ہٹاتے ہوئے کہا۔"اس صورت میں جب جلال بھی تمہاری مدد کرنے پر تیار نہ ہوا تو۔۔۔۔۔""میں ابھی ایسا کچھ فرض نہیں کر رہی ، وہ ضرور میری مدد کرے گا۔"امامہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پُر زور انداز میں کہا۔سالار نے کندھے اُچکائے۔"تم کچھ بھی فرض کرنے کو تیار نہیں ہو ، ورنہ میں تم سے ضرور کہتا کہ شاید وہ نہ ہو جو تم چاہتی ہو پھر تم کیا کرو گی۔۔۔۔۔تمہیں دوبارہ اپنے پیرنٹس کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔۔۔۔۔تو زیادہ بہتر یہی ہے کہ تم ابھی یہاں سے نہ جانے کا سوچو۔۔۔۔۔نہ ہی بیلف اور کورٹ کی مدد لو۔بعد میں بھی تو تمہیں یہاں ہی آنا پڑے گا۔""میں دوبارہ کبھی یہاں نہیں آؤں گی ، کسی صورت میں نہیں۔""یہ جذباتیت ہے۔"سالار نے تبصرہ کیا۔"تم ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے۔"امامہ نے ہمیشہ کی طرح اپنا مخصوص جملہ دُہرایا۔سالار کچھ جزبز ہوا۔"اوکے۔۔۔۔۔کرو جو کرنا چاہتی ہو۔"اس نے لاپرواہی سے کہہ کر فون بند کر دیا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭"کل شام کو ہم لوگ اسجد کے ساتھ تمہارا نکاح کر رہے ہیں۔تمہاری رخصتی بھی ساتھ ہی کر دیں گے۔"ہاشم مبین نے رات کو اس کے کمرے میں آ کر اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔"بابا ! میں انکار کر دوں گی۔۔۔۔۔آپ کے لئے بہتر ہے آپ اس طرح زبردستی میری شادی نہ کریں۔""تم انکار کرو گی تو میں تمہیں اسی وقت شوٹ کر دوں گا ، یہ بات تم یاد رکھنا۔"وہ سر اٹھائے انہیں دیکھتی رہی۔"بابا ! میں شادی کر چکی ہوں۔"ہاشم مبین کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔"میں اس لیے اس شادی سے انکار کر رہی تھی۔""تم جھوٹ بول رہی ہو۔""نہیں ، میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں۔میں چھے ماہ پہلے شادی کر چکی ہوں۔""کس کے ساتھ۔""میں یہ آپ کو نہیں بتا سکتی۔"ہاشم مبین کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس اولاد کے ہاتھوں ا تنا خوار ہوں گے۔آگ بگولہ ہو کر وہ امامہ پر لپکے اور انہوں نے یکے بعد دیگرے اس کے چہرے پر تھپڑ مارنے شروع کر دئیے۔وہ چہرے کے سامنے دونوں ہاتھ کرتے ہوئے خود کو بچانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ اس میں بری طرح ناکام رہی۔کمرے میں ہونے والا شور سن کر وسیم سب سے پہلے وہاں آیا تھا اور اسی نے ہاشم مبین کو پکڑ کر زبردستی امامہ سے دور کیا۔وہ دیوار کے ساتھ پشت ٹکائے روتی رہی۔"بابا ! آپ کیا کر رہے ہیں ، سارا معاملہ آرام سے حل کیا جا سکتا ہے۔"وسیم کے پیچھے گھر کے باقی لوگ بھی اندر چلے آئے تھے۔"اس نے۔۔۔۔۔اس نے شادی کر لی ہے کسی سے۔"ہاشم مبین نے غم و غصہ کے عالم میں کہا۔"بابا ! جھوٹ بول رہی ہے ، شادی کیسے کر سکتی ہے۔ایک بار بھی گھر سے نہیں نکلی۔"یہ وسیم تھا۔"چھے ماہ پہلے شادی کر لی ہے اس نے۔"امامہ نے سر نہیں اٹھایا۔"نہیں ، میں نہیں مانتا۔ایسا نہیں ہو سکتا ، یہ ایسا کر ہی نہیں سکتی۔"وسیم اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔امامہ نے دھندلائی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھا اور کہا۔"ایسا ہو چکا ہے۔""کیا ثبوت ہے۔۔۔۔۔نکاح نامہ ہے تمہارے پاس؟"وسیم نے اکھڑ لہجے میں کہا۔"یہاں نہیں ہے ، لاہور میں ہے ، میرے سامان میں۔""بابا ! میں کل لاہور سے اس کا سامان لے آتا ہوں۔دیکھ لیتے ہیں۔"وسیم نے ہاشم مبین سے کہا۔امامہ بےاختیار پچھتائی۔سامان سے کیا مل سکتا تھا۔"شادی کر بھی لی ہے تو کوئی بات نہیں ، طلاق دلوا کر تمہاری شادی اسجد سے کرواؤں گا اور اس آدمی نے طلاق نہ دی تو پھر اسے قتل کروا دوں گا۔"ہاشم مبین نے سرخ چہرے کے ساتھ وہاں سے جاتے ہوئے کہا۔کمرہ آہستہ آہستہ خالی ہو گیا۔وہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔اسے پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ جال میں پھنسنے کے بعد کے احساسات کیا ہوتے ہیں۔یہ ایک اتفاق تھا کہ نکاح نامے کی کاپی سالار نے اس کو نہیں بھجوائی تھی۔اگر اس کے پاس ہوتی بھی تو تب بھی وہ اسے ہاشم مبین کو نہیں دے سکتی تھی ورنہ سالار سکندر کا نام نکاح نامے پر دیکھنے کے بعد ان کے لئے اس تک پہنچنا اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنا منٹوں کا کام تھا اور اس کے سامان سے نکاح نامہ نہیں ملے گا تو اس کے اس بیان پر کسی کو یقین نہ آ سکتا کہ وہ نکاح کر چکی تھی۔اس نے کمرے کے دروازے کو لاک کر دیا اور موبائل پر سالار کو کال کرنے لگی۔اس نے اسے ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا تھا۔"تم ایک بار پھر لاہور جاؤ اور جلال کو میرے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔۔میں اب اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔مجھے یہاں سے نکلنا ہے اور اس کے علاوہ میں کہیں نہیں جا سکتی۔تم میرے لئے ایک وکیل کو ہائر کرو اور اس سے کہو کہ وہ میرے پیرنٹس کو میرے شوہر کی طرف سے مجھے حبس بےجا میں رکھنے کے خلاف ایک کورٹ نوٹس بھجوائے۔""تمہارے شوہر ، یعنی میری طرف سے۔""تم وکیل کو اپنا نام مت بتانا بلکہ یہ بہتر ہے کہ اپنے کسی دوست کے ذریعے وکیل کو ہائر کرو اور میرے شوہر کا کوئی بھی فرضی نام دے سکتے ہو۔تمہارا نام وکیل کے ذریعے انہیں پتا چلے گا تو وہ تم تک پہنچ جائیں گے اور میں یہ نہیں چاہتی۔"امامہ نے اسے یہ نہیں بتایا کہ اسے کیا خدشہ ہے اور نہ ہی سالار نے اندازہ لگانے کی کوشش کی۔اس سے بات کرنے کے بعد امامہ نے فون بند کر دیا۔اگلے روز دس گیارہ بجے کے قریب کسی وکیل نے فون کر کے ہاشم مبین سے امامہ کے سلسلے میں بات کی اور انہیں امامہ کو زبردستی اپنے گھر رکھنے کے بارے میں اس کے شوہر کی طرف سے کئے جانے والے کیس کے بارے میں بتایا۔ہاشم مبین کو مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہی تھی۔وہ غصے میں پھنکارتے ہوئے اس کے کمرے میں گئے اور اسے بری طرح مارا۔"تم دیکھنا امامہ ! تم کس طرح برباد ہو گی۔۔۔۔۔ایک ایک شے کے لیے ترسو گی تم۔۔۔۔۔جو لڑکیاں تمہاری طرح اپنے ماں باپ کی عزت کو نیلام کرتی ہیں ان کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔تم ہمیں کورٹ تک لے گئی ہو۔۔۔۔۔۔تم نے وہ سارے احسان فراموش کر دئیے ، جو ہم نے تم پر کئے۔تمہارے جیسی بیٹیوں کو واقعی پیدا ہوتے ہی دفن کر دینا چاہئیے۔"وہ بڑی خاموشی سے پٹتی رہی۔اپنے باپ کی کیفیات کو سمجھ سکتی تھی مگر وہ اپنی کیفیات اور اپنے احساسات انہیں نہیں سمجھا سکتی تھی۔"تم نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ، کسی کو نہیں۔ہمیں زندہ درگور کر دیا ہے تم نے۔"سلمیٰ اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی تھیں مگر انہوں نے ہاشم مبین کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔وہ خود بھی بری طرح مشتعل تھیں ، وہ جانتی تھیں کہ امامہ کا یہ قدم کس طرح ان کے پورے خاندان کو متاثر کرنے والا تھا اور خاص طور پر ان کے شوہر کو۔"تم نے ہمارے اعتماد کا خون کیا ہے۔کاش تم میری اولاد نہ ہوتیں۔کبھی میرے خاندان میں پیدا نہ ہوئی ہوتیں۔پیدا ہو ہی گئی تھی تو تب ہی مر جاتی۔۔۔۔۔یا میں ہی تمہیں مار دیتا۔"امامہ آج ان کی باتوں اور پٹائی پر نہیں روئی تھی۔اس نے مدافعت کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔وہ صرف خاموشی کے ساتھ پٹتی رہی پھر ہاشم مبین احمد جیسے تھک سے گئے اور اسے مارتے مارتے رک گئے۔ان کا سانس پھول گیا تھا۔وہ بالکل خاموشی سے ان کے سامنے دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔"تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے ، سب کچھ چھوڑ دو۔اس لڑکے سے طلاق لے لو اور اسجد سے شادی کر لو۔ہم اس سب کو معاف کر دیں گے ، بھلا دیں گے۔"اس بار سلمیٰ نے تیز لہجے میں اس سے کہا۔"نہیں ، واپس آنے کے لئے اسلام قبول نہیں کیا ،مجھے واپس نہیں آنا۔"امامہ نے مدھم مگر مستحکم آواز میں کہا۔"آپ مجھے اس گھر سے چلے جانے دیں ، مجھے آزاد کر دیں۔""اس گھر سے نکل جاؤ گی تو دنیا تمہیں بہت ٹھوکریں مارے گی۔۔۔۔۔تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ باہر کی دنیا میں کیسے مگرمچھ تمہیں ہڑپ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔جس لڑکے سے شادی کر کے تم نے ہمیں ذلیل کیا ہے وہ تمہیں بہت خوار کرے گا۔ہمارے خاندان کو دیکھ کر اس نے تمہارے ساتھ اس طرح چوری چھپے رشتہ جوڑا ہے ، جب ہم تمہیں اپنے خاندان سے نکال دیں گے اور تم پائی پائی کی محتاج ہو جاؤ گی تو وہ بھی تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائے گا ، تمہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی ، کوئی ٹھکانہ نہیں ملے گا۔"سلمیٰ اب اسے ڈرا رہی تھیں۔"ابھی بھی وقت ہے امامہ ! تمہارے پاس ابھی بھی وقت ہے۔""نہیں امی ! میرے پاس کوئی وقت نہیں ہے ، میں سب کچھ طے کر چکی ہوں۔میں اپنا فیصلہ آپ کو بتا چکی ہوں۔مجھے یہ سب قبول نہیں۔آپ مجھے جانے دیں ، اپنے خاندان سے الگ کرنا چاہتے ہیں ، کر دیں۔جائیداد سے محروم کرنا چاہتے ہیں ، کر دیں۔میں کوئی اعتراض نہیں کروں گی مگر میں کروں گی وہی جو میں آپ کو بتا رہی ہوں۔میں اپنی زندگی کے راستے کا انتخاب کر چکی ہوں۔آپ یا کوئی بھی اسے بدل نہیں سکتا۔""ایسی بات ہے تو تم اس گھر سے نکل کر دکھاؤ ، میں تمہیں جان سے مار دوں گا لیکن اس گھر سے تمہیں جانے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔اور اس وکیل کو تو میں اچھی طرح دیکھ لوں گا۔تمہیں اگر یہ خوش فہمی ہے کہ کوئی کورٹ یا عدالت تمہیں میری تحویل سے نکال سکتی ہے تو یہ تمہاری بھول ہے ، میں تمہیں کبھی بھی کہیں بھی جانے نہیں دوں گا۔میں بیلف کے آنے سے پہلے اس گھر سے کہیں اور منتقل کر دوں گا پھر میں دیکھوں گا کہ تم کس طرح اپنے فیصلے کو تبدیل نہیں کرتیں اور مجھے اگر وہ لڑکا نہ ملا جس سے تم نے شادی کی ہے تو پھر میں اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ تمہارا نکاح ہو چکا ہے اسجد سے تمہاری شادی کر دوں گا۔میں اس شادی کو سرے سے ماننے سے انکار کرتا ہوں۔تمہاری شادی صرف وہ ہو گی جو میری مرضی سے ہو گی ، اس کے علاوہ نہیں۔"وہ مشتعل انداز میں کہتے ہوئے سلمیٰ کے ساتھ باہر نکل گئے۔وہ وہیں دیوار کے ساتھ کھڑی خوفزدہ اور پریشان نظروں سے دروازے کو دیکھتی رہی۔اس نے جس مقصد کے لیے شادی کی تھی اس کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ہاشم مبین احمد اپنی بات پر چٹان کی طرح اڑے ہوئے تھے۔
"بےچاری امامہ بی بی ! " ناصرہ نے سالار کے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے اچانک بلند آواز میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔سالار نے مڑ کر اسے دیکھا۔وہ اپنی اسٹڈی ٹیبل پر پڑی ہوئی کتابوں کو سمیٹ رہا تھا۔ناصرہ اسے متوجہ دیکھ کر تیزی سے بولی۔"بڑی مار پڑی ہے جی کل رات کو۔""کس کو مار پڑی ہے؟"سالار نے کتابیں ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔"امامہ بی بی کو جی ! اور کسے۔"وہ کتابیں ایک طرف کرتے کرتے رک گیا اور ناصرہ کو دیکھا جو کمرے میں موجود ایک شیلف کی جھاڑ پونچھ کر رہی تھی۔"ہاشم مبین نے کل بہت مارا ہے اسے۔"سالار بےحد محفوظ ہوا۔"واقعی؟""ہاں جی ، بہت زیادہ پٹائی کی ہے ، میری بیٹی بتا رہی تھی۔"ناصرہ نے کہا۔"ویری نائس۔"سالار نے بےاختیار تبصرہ کیا۔"جی۔۔۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں؟"ناصرہ نے اس سے پوچھا۔اس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ ناصرہ کو بڑی عجب لگی۔اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس خبر پر مسکرائے گا۔اس کے ذاتی "قیافوں " اور "اندازوں" کے مطابق ان دونوں کے درمیان جیسے تعلقات تھے اس پر سالار کو بہت زیادہ افسردہ ہونا چاہئیے تھا مگر یہاں صورت ِحال بالکل برعکس تھی۔"بےچاری امامہ بی بی کو پتا چل جائے کہ سالار صاحب اس خبر پر مسکرا رہے تھے تو وہ تو صدمے سے ہی مر جائیں۔"ناصرہ نے دل میں سوچا۔"کس بات پر مارنا ہے جی ! سنا ہے وہ اسجد صاحب سے شادی پر تیار نہیں ہیں کسی اور "لڑکے" سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔"ناصرہ نے لڑکے پر زور دیتے ہوئے معنی خیز انداز میں سالار کو دیکھا۔"بس اس بات پر۔"سالار نے لاپرواہی سے کہا۔"یہ کوئی چھوٹی بات تھوڑی ہے جی ، ان کے پورے گھر میں طوفان مچا ہوا ہے۔شادی کی تاریخ طے ہو چکی ہے ، کارڈ آ چکے ہیں اور اب امامہ بی بی بضد ہیں کہ وہ اسجد صاحب سے شادی نہیں کریں گی۔بس اسی بات پر ہاشم صاحب نے ان کی پٹائی کی۔""یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اس پر کسی کو مارا جائے۔"وہ اپنی کتابوں میں مصروف تھا۔"یہ تو آپ کہہ رہے ہیں نا۔۔۔۔۔ان لوگوں کے لیے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔"ناصرہ نے اسی طرح صفائی کرتے ہوئے تبصرہ کیا۔"میں تو بڑی دکھی ہوں ! امامہ بی بی کے لیے۔بڑی اچھی ہیں ، ادب لحاظ والی۔۔۔۔۔اور اب دیکھیں۔۔۔۔۔کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے ان پر۔ہاشم صاحب نے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔میری بیٹی روز ان کا کمرہ صاف کرتی ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ بتاتی ہے کہ ان کا تو چہرہ ہی اُتر کر رہ گیا ہے۔"ناصرہ اسی طرح بول رہی تھی۔شاید وہ شعوری طور پر یہ کوشش کر رہی تھی کہ سالار اسے اپنا اور امامہ کا حمایتی اور طرف دار سمجھتے ہوئے کوئی راز کہہ دے مگر سالار احمق نہیں تھا اور اسے ناصرہ کی اس نام نہاد ہمدردی سے کوئی دلچسپی تھی بھی نہیں۔اگر امامہ کی پٹائی ہو رہی تھی اور اسے کچھ تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو اس سے اس کا کیا تعلق تھا ، مگر اسے اس صورت ِحال پر ہنسی ضرور آ رہی تھی۔کیا اس دور میں بھی کوئی اس عمر کی اولاد پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے اور وہ بھی ہاشم مبین احمد جیسے امیر طبقے کا آدمی ۔۔۔۔۔حیرانی کی بات تھی۔۔۔۔۔"سوچ کی ایک ہی رُو میں بہت سے متضاد خیالات بہ رہے تھے۔ناصرہ کچھ دیر اسی طرح بولتی اپنا کام کرتی رہی مگر پھر جب اس نے دیکھا کہ سالار اس کی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا اور اپنے کام میں مصروف ہو چکا ہے تو وہ قدرے مایوس ہو کر خاموش ہو گئی۔"یہ پہلے محبت کرنے والے تھے ، جن کا رویہ بےحد عجیب تھا۔۔۔۔۔کوئی اضطراب۔۔۔۔۔ بےچینی اور پریشانی تو ان دونوں کے درمیان نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔۔ایک دوسرے کی تکلیف کا بھی سن کر ۔۔۔۔۔شاید امامہ بی بی بھی ان کے بارے میں اس طرح کی کوئی بات سن کر اسی طرح مسکرائیں ، کون جانتا ہے۔"ناصرہ نے شیلف پر پڑی ایک تصویر اٹھا کر صاف کی۔
گھر چھوڑ دینے کا فیصلہ اس کی زندگی کے سب سے مشکل اور تکلیف دہ فیصلوں میں سے ایک تھا مگر اس کے علاوہ اس کے پاس اب دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔ہاشم مبین احمد اسے کہاں لے جاتے اور پھر کس طرح اسے طلاق دلوا کر اس کی شادی اسجد سے کرتے ، وہ نہیں جانتی تھی۔واحد چیز جو وہ جانتی تھی وہ یہ حقیقت تھی کہ ایک بار وہ اسے کہیں اور لے گئے تو پھر اس کے پاس رہائی اور فرار کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اسے جان سے کبھی نہیں ماریں گے مگر زندہ رہ کر اس طرح کی زندگی گزارنا زیادہ مشکل ہو جاتا ، جیسی زندگی کی وہ اس وقت توقع اور تصور کر رہی تھی۔ہاشم مبین احمد کے چلے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک بیٹھ کر روتی رہی اور پھر اس نے پہلی بار اپنے حالات پر غور کرنا شروع کیا۔اسے گھر سے صبح ہونے سے پہلے پہلے نکلنا تھا اور نکل کر کسی محفوظ جگہ پر جا کر پہنچنا تھا۔محفوظ جگہ۔۔۔۔۔؟اس کے ذہن میں ایک بار پھر جلال انصر کا خیال آیا ، اس وقت صرف وہی شخص تھا جو اسے صحیح معنوں میں تحفظ دے سکتا تھا۔ہو سکتا ہے مجھے اپنے سامنے دیکھ کر اس کا فیصلہ اور رویہ بدل جائے ، وہ اپنے فیصلے پر غور کرنے پر مجبور ہو جائے ، ہو سکتا ہے وہ مجھے سہارا اور تحفظ دینے پر تیار ہو جائے ، اس کے والدین کو مجھ پر ترس آ جائے۔ایک موہوم سی اُمید اس کے دل میں اُبھر رہی تھی۔وہ مدد نہیں بھی کرتے تب بھی کم از کم میں آزاد تو ہوں گی۔اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزار تو سکوں گی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں یہاں سے کیسے نکلوں گی اور جاؤں گی کہاں۔۔۔۔۔؟وہ بہت دیر تک پریشانی کے عالم میں بیٹھی رہی ، اسے ایک بار پھر سالار کا خیال آیا۔"اگر میں کسی طرح اس کے گھر پہنچ جاؤں تو وہ میری مدد کر سکتا ہے۔"اس نے سالار کے موبائل پر اس کا نمبر ملایا۔موبائل آف تھا ، کئی بار کال ملائی لیکن اس سے رابطہ نہ ہو سکا۔امامہ نے موبائل بند کر دیا۔اس نے ایک بیگ میں اپنے چند جوڑے ، کپڑے اور دوسری چیزیں رکھ لیں۔اس کے پاس کچھ زیورات اور رقم بھی تھی ، اس نے انہیں بھی اپنے بیگ میں رکھ لیا پھر جتنی بھی قیمتی چیزیں اس کے پاس تھیں ، جنہیں وہ آسانی سے ساتھ لے جا سکتی تھی اور بعد میں بیچ کر پیسے حاصل کر سکتی تھی وہ انہیں اپنے بیگ میں رکھتی گئی۔بیگ بند کرنے کے بعد اس نے اپنے کپڑے تبدیل کیے اور پھر دو نفل ادا کیے۔اس کا دل بےحد بوجھل ہو رہا تھا۔بےسکونی اور اضطراب نے اس کے پورے وجود کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔آنسو بہا کر بھی اس کے دل کا بوجھ کم نہیں ہوا تھا۔نوافل ادا کرنے کے بعد جتنی آیات اور سورتیں اسے زبانی یاد تھیں اس نے وہ ساری پڑھ لیں۔بیگ لے کر اپنے کمرے کی لائٹ بند کر کے وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔لاؤنج کی ایک لائٹ کے علاوہ ساری لائٹیں آف تھیں۔وہاں زیادہ روشنی نہیں تھی۔وہ محتاط انداز میں چلتے ہوئے سیڑھیاں اُتر کر نیچے آ گئی اور پھر کچن کی طرف چلی گئی۔کچن تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ محتاط انداز میں چیزوں کو ٹٹولتے ہوئے کچن کے اس دروازے کی طرف بڑھ گئی جو باہر لان میں کھلتا تھا۔عقبی لان کے اس حصے میں کچھ سبزیاں لگائی گئی تھیں اور اس گھر میں کچن کا وہ دروازہ واحد دروازہ تھا جسے لاک نہیں کیا جاتا تھا ، صرف چٹخنی لگا دی جاتی تھی۔دروازہ اس رات بھی لاک نہیں تھا۔وہ آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔کچھ فاصلے پر سرونٹ کوارٹرز تھے ، وہ بےحد محتاط انداز میں چلتے ہوئے لان عبور کر کے اپنے اور سالار کے گھر کی درمیانی دیوار تک پہنچ گئی۔دیوار بہت زیادہ بلند نہیں تھی ، اس نے آہستگی سے بیگ دوسری طرف پھینک دیا اور پھر کچھ جدوجہد کے بعد خود بھی دیوار پھلانگنے میں کامیاب ہو گئی۔
جاری ہے
"بےچاری امامہ بی بی ! " ناصرہ نے سالار کے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے اچانک بلند آواز میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔سالار نے مڑ کر اسے دیکھا۔وہ اپنی اسٹڈی ٹیبل پر پڑی ہوئی کتابوں کو سمیٹ رہا تھا۔ناصرہ اسے متوجہ دیکھ کر تیزی سے بولی۔"بڑی مار پڑی ہے جی کل رات کو۔""کس کو مار پڑی ہے؟"سالار نے کتابیں ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔"امامہ بی بی کو جی ! اور کسے۔"وہ کتابیں ایک طرف کرتے کرتے رک گیا اور ناصرہ کو دیکھا جو کمرے میں موجود ایک شیلف کی جھاڑ پونچھ کر رہی تھی۔"ہاشم مبین نے کل بہت مارا ہے اسے۔"سالار بےحد محفوظ ہوا۔"واقعی؟""ہاں جی ، بہت زیادہ پٹائی کی ہے ، میری بیٹی بتا رہی تھی۔"ناصرہ نے کہا۔"ویری نائس۔"سالار نے بےاختیار تبصرہ کیا۔"جی۔۔۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں؟"ناصرہ نے اس سے پوچھا۔اس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ ناصرہ کو بڑی عجب لگی۔اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس خبر پر مسکرائے گا۔اس کے ذاتی "قیافوں " اور "اندازوں" کے مطابق ان دونوں کے درمیان جیسے تعلقات تھے اس پر سالار کو بہت زیادہ افسردہ ہونا چاہئیے تھا مگر یہاں صورت ِحال بالکل برعکس تھی۔"بےچاری امامہ بی بی کو پتا چل جائے کہ سالار صاحب اس خبر پر مسکرا رہے تھے تو وہ تو صدمے سے ہی مر جائیں۔"ناصرہ نے دل میں سوچا۔"کس بات پر مارنا ہے جی ! سنا ہے وہ اسجد صاحب سے شادی پر تیار نہیں ہیں کسی اور "لڑکے" سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔"ناصرہ نے لڑکے پر زور دیتے ہوئے معنی خیز انداز میں سالار کو دیکھا۔"بس اس بات پر۔"سالار نے لاپرواہی سے کہا۔"یہ کوئی چھوٹی بات تھوڑی ہے جی ، ان کے پورے گھر میں طوفان مچا ہوا ہے۔شادی کی تاریخ طے ہو چکی ہے ، کارڈ آ چکے ہیں اور اب امامہ بی بی بضد ہیں کہ وہ اسجد صاحب سے شادی نہیں کریں گی۔بس اسی بات پر ہاشم صاحب نے ان کی پٹائی کی۔""یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اس پر کسی کو مارا جائے۔"وہ اپنی کتابوں میں مصروف تھا۔"یہ تو آپ کہہ رہے ہیں نا۔۔۔۔۔ان لوگوں کے لیے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔"ناصرہ نے اسی طرح صفائی کرتے ہوئے تبصرہ کیا۔"میں تو بڑی دکھی ہوں ! امامہ بی بی کے لیے۔بڑی اچھی ہیں ، ادب لحاظ والی۔۔۔۔۔اور اب دیکھیں۔۔۔۔۔کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے ان پر۔ہاشم صاحب نے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔میری بیٹی روز ان کا کمرہ صاف کرتی ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ بتاتی ہے کہ ان کا تو چہرہ ہی اُتر کر رہ گیا ہے۔"ناصرہ اسی طرح بول رہی تھی۔شاید وہ شعوری طور پر یہ کوشش کر رہی تھی کہ سالار اسے اپنا اور امامہ کا حمایتی اور طرف دار سمجھتے ہوئے کوئی راز کہہ دے مگر سالار احمق نہیں تھا اور اسے ناصرہ کی اس نام نہاد ہمدردی سے کوئی دلچسپی تھی بھی نہیں۔اگر امامہ کی پٹائی ہو رہی تھی اور اسے کچھ تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تو اس سے اس کا کیا تعلق تھا ، مگر اسے اس صورت ِحال پر ہنسی ضرور آ رہی تھی۔کیا اس دور میں بھی کوئی اس عمر کی اولاد پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے اور وہ بھی ہاشم مبین احمد جیسے امیر طبقے کا آدمی ۔۔۔۔۔حیرانی کی بات تھی۔۔۔۔۔"سوچ کی ایک ہی رُو میں بہت سے متضاد خیالات بہ رہے تھے۔ناصرہ کچھ دیر اسی طرح بولتی اپنا کام کرتی رہی مگر پھر جب اس نے دیکھا کہ سالار اس کی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا اور اپنے کام میں مصروف ہو چکا ہے تو وہ قدرے مایوس ہو کر خاموش ہو گئی۔"یہ پہلے محبت کرنے والے تھے ، جن کا رویہ بےحد عجیب تھا۔۔۔۔۔کوئی اضطراب۔۔۔۔۔ بےچینی اور پریشانی تو ان دونوں کے درمیان نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔۔ایک دوسرے کی تکلیف کا بھی سن کر ۔۔۔۔۔شاید امامہ بی بی بھی ان کے بارے میں اس طرح کی کوئی بات سن کر اسی طرح مسکرائیں ، کون جانتا ہے۔"ناصرہ نے شیلف پر پڑی ایک تصویر اٹھا کر صاف کی۔
گھر چھوڑ دینے کا فیصلہ اس کی زندگی کے سب سے مشکل اور تکلیف دہ فیصلوں میں سے ایک تھا مگر اس کے علاوہ اس کے پاس اب دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔ہاشم مبین احمد اسے کہاں لے جاتے اور پھر کس طرح اسے طلاق دلوا کر اس کی شادی اسجد سے کرتے ، وہ نہیں جانتی تھی۔واحد چیز جو وہ جانتی تھی وہ یہ حقیقت تھی کہ ایک بار وہ اسے کہیں اور لے گئے تو پھر اس کے پاس رہائی اور فرار کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اسے جان سے کبھی نہیں ماریں گے مگر زندہ رہ کر اس طرح کی زندگی گزارنا زیادہ مشکل ہو جاتا ، جیسی زندگی کی وہ اس وقت توقع اور تصور کر رہی تھی۔ہاشم مبین احمد کے چلے جانے کے بعد وہ بہت دیر تک بیٹھ کر روتی رہی اور پھر اس نے پہلی بار اپنے حالات پر غور کرنا شروع کیا۔اسے گھر سے صبح ہونے سے پہلے پہلے نکلنا تھا اور نکل کر کسی محفوظ جگہ پر جا کر پہنچنا تھا۔محفوظ جگہ۔۔۔۔۔؟اس کے ذہن میں ایک بار پھر جلال انصر کا خیال آیا ، اس وقت صرف وہی شخص تھا جو اسے صحیح معنوں میں تحفظ دے سکتا تھا۔ہو سکتا ہے مجھے اپنے سامنے دیکھ کر اس کا فیصلہ اور رویہ بدل جائے ، وہ اپنے فیصلے پر غور کرنے پر مجبور ہو جائے ، ہو سکتا ہے وہ مجھے سہارا اور تحفظ دینے پر تیار ہو جائے ، اس کے والدین کو مجھ پر ترس آ جائے۔ایک موہوم سی اُمید اس کے دل میں اُبھر رہی تھی۔وہ مدد نہیں بھی کرتے تب بھی کم از کم میں آزاد تو ہوں گی۔اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزار تو سکوں گی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں یہاں سے کیسے نکلوں گی اور جاؤں گی کہاں۔۔۔۔۔؟وہ بہت دیر تک پریشانی کے عالم میں بیٹھی رہی ، اسے ایک بار پھر سالار کا خیال آیا۔"اگر میں کسی طرح اس کے گھر پہنچ جاؤں تو وہ میری مدد کر سکتا ہے۔"اس نے سالار کے موبائل پر اس کا نمبر ملایا۔موبائل آف تھا ، کئی بار کال ملائی لیکن اس سے رابطہ نہ ہو سکا۔امامہ نے موبائل بند کر دیا۔اس نے ایک بیگ میں اپنے چند جوڑے ، کپڑے اور دوسری چیزیں رکھ لیں۔اس کے پاس کچھ زیورات اور رقم بھی تھی ، اس نے انہیں بھی اپنے بیگ میں رکھ لیا پھر جتنی بھی قیمتی چیزیں اس کے پاس تھیں ، جنہیں وہ آسانی سے ساتھ لے جا سکتی تھی اور بعد میں بیچ کر پیسے حاصل کر سکتی تھی وہ انہیں اپنے بیگ میں رکھتی گئی۔بیگ بند کرنے کے بعد اس نے اپنے کپڑے تبدیل کیے اور پھر دو نفل ادا کیے۔اس کا دل بےحد بوجھل ہو رہا تھا۔بےسکونی اور اضطراب نے اس کے پورے وجود کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔آنسو بہا کر بھی اس کے دل کا بوجھ کم نہیں ہوا تھا۔نوافل ادا کرنے کے بعد جتنی آیات اور سورتیں اسے زبانی یاد تھیں اس نے وہ ساری پڑھ لیں۔بیگ لے کر اپنے کمرے کی لائٹ بند کر کے وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔لاؤنج کی ایک لائٹ کے علاوہ ساری لائٹیں آف تھیں۔وہاں زیادہ روشنی نہیں تھی۔وہ محتاط انداز میں چلتے ہوئے سیڑھیاں اُتر کر نیچے آ گئی اور پھر کچن کی طرف چلی گئی۔کچن تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔وہ محتاط انداز میں چیزوں کو ٹٹولتے ہوئے کچن کے اس دروازے کی طرف بڑھ گئی جو باہر لان میں کھلتا تھا۔عقبی لان کے اس حصے میں کچھ سبزیاں لگائی گئی تھیں اور اس گھر میں کچن کا وہ دروازہ واحد دروازہ تھا جسے لاک نہیں کیا جاتا تھا ، صرف چٹخنی لگا دی جاتی تھی۔دروازہ اس رات بھی لاک نہیں تھا۔وہ آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔کچھ فاصلے پر سرونٹ کوارٹرز تھے ، وہ بےحد محتاط انداز میں چلتے ہوئے لان عبور کر کے اپنے اور سالار کے گھر کی درمیانی دیوار تک پہنچ گئی۔دیوار بہت زیادہ بلند نہیں تھی ، اس نے آہستگی سے بیگ دوسری طرف پھینک دیا اور پھر کچھ جدوجہد کے بعد خود بھی دیوار پھلانگنے میں کامیاب ہو گئی۔
جاری ہے


December 14, 2017
message



