اُردو ناول آن لائن

Sunday, 8 December 2019

''پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا،اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری مت کرنا-''



اس نے دھڑکتے دل سے پڑھنا شروع کیا-
''پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا،اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری مت کرنا-''
آنسو اس کی رخساروں سے پھسل کر گردن پہ لڑھک رہے تھے، وہ کہنا چاہتی تھی کہ میں نے آپ کو خوشی میں یاد رکھا،آپ مجھے غم میں مت بھولیے گا،مگر لب کھل نہ پائے-
اس نے آگے پڑھا -
اے ایمان والو تم صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو،بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-''
ساتھ ہی حاشئیے میں پین سے چھوٹا چھوٹا کچھ لکھا تھا- اس نے قرآن قریب کر کے پڑھنا چاہا-وہ اس کے اپنے لکھے تفسیر نوٹس تھے-
''مصیبت میں صبر اور نماز وہ دو کنجیاں ہیں جو آپ کو اللہ تعالی کا ساتھ دلواتی ہیں-ان کے بغیر یہ ساتھ نہیں ملتا-اس لیے کوئی مصیبت آئے تو نماز میں زیادہ توجہ اور لگن ہونا چاہیئے- مصیبت میں خاموشی کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی ہوکر جو کچھ موجود ہے اس پر شکر کرنا اور اللہ سے آگے اچھی امید رکھنا صحیح معنی میں صبر ہے-''
یہ سب اس نے لکھا تھا؟وہ اپنے لکھے پہ حیرت زدہ سی رہ گئی-کلاس میں آگے بیٹھنا ٹیچر کی ہر ایک بات نوٹ کرنا،وہ سب اسے کتنا فائدہ دے گا اس نے تو کبھی تصور بھی نہ کیا تھا-

مصحف

وہ مجھ سے محبت کرتی ہے.





"ایک بات پوچهوں"؟ ایلی نے کہا"پوچهو." شام بولارادها میں وہ کون سی خوبی ہے جو تمہیں پسند آگئی؟وہ قہقہہ مار کر ہنسنے لگا. اور پهر اپنی مست آنکهیں ایلی کی آنکهوں میں ڈال کر کہنے لگا."صرف ایک. اور اس ایک خوبی پر ساری دنیا قربان کی جا سکتی ہے"وہ کیا؟وہ مجھ سے محبت کرتی ہے. عورت میں بس یہی ایک خوبی ہوتی ہے جس پر مرد مرتا ہے. تم تو نفسیات پڑهتے ہو تمہیں تو جاننا چاهئیے. باقی جو ناک نقشے اور رنگ کی بات ہے سب باتیں منہ ذبانی ہیں........... !!!!!!!!
(ممتاز مفتی)

Saturday, 7 December 2019

جو انسان اپنے اصل سے بھاگتا ہے ....




جو انسان اپنے اصل سے بھاگتا ہے، وہ پھر ساری زندگی بھاگتا ہی رہتا ہے- کیوں کہ اصل کبھی نہیں چھپتا، کبھی ختم نہیں ہوتا- اس پر لحاف ڈالیں،غلاف یا مٹی- یہ کہیں نہ کہیں سے پھر باہر نکل آتا ہے ہزار سروں والے اژدھے کی طرح جس کا ہزارواں سر کاٹتے کاٹتے پچھلے نو سو ننانوے پھر نکل آتے ہیں-
عمیرہ احمد کے ناول “من و سلویٰ” سے اقتباس

Thursday, 14 December 2017

صابر چوہدری کی کتاب۔۔۔ماہرنفسیات کی ڈائری سے



سوال۔۔۔ایک لڑکے نے پوچھا ہے سر۔۔۔"وہ کہتی ہے کہ میں نے اُسے دھوکہ دیا ہے۔ہمارے خاندان میں خاندان سے باہرشادی نہیں کرتے۔اس میں میرا کیا قصور ہے۔میں چاہ کر بھی اُس سےشادی نہیں کر سکتا۔بے قصور ہونے کےباوجودمجھے ساری رات نیندکیوں نہیں آتی؟"
جواب۔۔۔حیرت ہےآپ کے خاندان میں خاندان سے باہر محبت کر سکتے ہیں شادی نہیں۔
ایسے نہ کہیں کہ آپ کا کوئی قصور نہیں۔ایسے حالات میں جہاں اندازہ ہو کہ خاندان سے باہر شادی ممکن نہیں ہے ۔تو وہاں جذبات اپنے پاس ہی رکھتے ہیں۔خاندان سے باہرکسی کو خواب نہیں دکھاتے۔
یاد رکھیں یہ دنیا"قدرت کےقانون"سے چلتی ہے ۔آپ کے کہنےاور چاہنے سے نہیں۔اسی لئے آپ ڈسٹرب ہیں۔
صابر چوہدری کی کتاب۔۔۔ماہرنفسیات کی ڈائری سے۔۔۔


Sunday, 12 November 2017

ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد



ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد اور مٹی کیوں نہ ہو اسے صاف کیا جاسکتا ہے-
بس ہاتھ پھیرنا پڑتا ہے اور شیشے میں سے عکس نظر آنا شروع ہوجاتا ہے – - -
اور پھر ہر ہاتھ کے ساتھ عکس پہلے سے زیادہ صاف اور چمکدار ہوتا جاتا ہے ۔ ۔ اور وہ ہاتھ اس محبت کا ہوتا ہے جو ایمان سے ہوتی ہے۔۔
عمیرہ احمد کے ناول ۔ ایمان امید اور محبت سے اقتباس

اسے اللہ سے خوف آرہا تھا



اسے اللہ سے خوف آرہا تھا ۔ ۔بے پناہ خوف ----
وہ کس قدر طاقتور تھا کیا نہیں کر سکتا؟
وہ کس قدر مہربان تھا ۔ ۔ ۔ ۔کیا نہیں کرتا ۔ ۔ ۔انسان کو انسان رکھنا اسے آتا ہے- کبھی غضب سے کبھی احسان سے ۔ ۔وہ اسے دائرے میں رکھتا ہے“
پیر کامل صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم سے اقتباس

Jannat kay patay By Nimra Ahmad Episode # 20




Jannat kay patay
By Nimra Ahmad
Episode # 20
ایک پروفیسر کو مافیا کے بارے میں کیا معلوم ہو گا حیا جی
وہ کھساہت سے مسکرائے۔
یعنی کہ وہ واقعی مافیا کا بندہ ہے
اور آ پ کو معلوم بھی ہے مگر آ پ اعتراف نہیں کر نا چاہ رہے۔شاید ایک اور داود ابراہیم؟اس نے اندھیرے میں تیر چلایا اور وہ عین نشا نے پہ بیٹھا۔
داود ابراہیم ۔شاید انہوں نے سادگی سے ہتھیار ڈال دیے۔
وفعتا کیچن سے انجم باجی کی چیخ بلند ہوئی۔وہ جو کرسی کے کنارے پہ ٹکی تھی گبھرا اٹھی اور کیچن کی طرف لپکی۔
کیا ہوا
انجم باجی سرخ بھبھو کا چہرہ اور آنکھوں میں پانی لیے کھڑی تھی ۔ان کے ہاتھ میں خالی چمچہ تھا۔
مرچیں اتنی مرچیں حیا۔
نن نہیں یہ ترکی کی مرچیں پھیکی ہوتی ہیں ۔تو میں نے صرف چار چمیچے۔۔۔۔۔۔۔۔
چار چمیچے ان کی آنکھوں پھل گئی۔یہ ترکی کی نہیں خالص مبی کی مرچیں ہیں میں سارے مسالے وہیں سے لاتی ہوں ۔اوہ نہیں! اس نے بے اختیا دل پہ ہا تھ رکھا۔جبکہ ڈ ی جے ہنس ہنس کر دوہری ھو رہی تھی ۔سردی کا زور پہلے سے ذرا ٹوٹا تھا ۔اس صبح بھی سنہری سی دھوپ ٹا قسم اسکوائر پہ بکھری تھی ۔مجسمہ آزادی کے گردہر سو سونے کے ذرات چمک رہے تھے۔وہ دونوں سست روی سے سڑک کہ کنارےچل رہی تھی جب ڈی جے نے پوچھا ۔حیا '،،،یہ ٹاقسم نام کتنے مزے کا ہے اس کا مطلب کیا ہوابھلا؟ میں شہر کی مئیر ہوں جو مجھے پتا ھو گا؟ نہیں وہ میری گائیڈ بک میں لکھا تھا کہ ٹاقسم عربی کا لفظ ہےاور اس کا معنی شاید بانٹنے کے ہیں کیونکہ یہاں سےنہرین نکل کر سارے شہر میں بٹ جاتی تھیں ۔تمہیں عربی آ تی ہے اس لئیے پو چھ رہی ہوں ۔ عربی میں تو ٹاقسم نام کا کوئی لفظ نہیں، اور عربی میں بانٹنے کو تقسیم کہتے ہیں ۔وہ ایک دم رکی اور بےاختیارسر پہ ہاتھ مارا۔اوہ ٹاقسم یعنی تقسیم ۔اگر گوروں کی طرح منہ ٹیڑھا کر کے پڑھو تو تقسیم ٹاقسم بن جاتا ہے ۔ٹاقسم •••••!واو؛۔وہ دونوں اس بات پر خوب ہنستی ہوئی آ گے بڑھنے لگیں ۔وہ شاپنگ کے ارادے سے استقلال اسٹریٹ کی طرف آ ئ تھیں ۔استقلال جدیسی( اسٹریٹ )ٹاقسم کے قریب سے نکلنے والی ایک لمبی سی گلی تھی۔وہ گلی دونوں اطراف سے قدیم آ آرکیسٹیکچر والی اونچی عمارتوں سے گھری تھی۔گلی بے حد لمبی تھی وہاں انسانوں کا ایک رش ہمیشہ چلتا دکھائی دے رہا ہوتا۔بہت سے سامنے جا رہے ہوتے اور بہت سے آ پکی طرف آ رہے ہوتے۔ہر شخص اپنی دھن میں تیز تیز قدم اٹھا رہا ہوتا ۔گلی کے درمیان ایک پٹری بنی تھی جس پہ ایک تاریخی سرخ رنگ کو چھوٹا سا ٹرام چلتا تھا۔وہ پیدل انسان کی رفتار سے دگنیرفتار سے چلتا اور گلی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا دیتا ۔اس گلی کو ختم کرنے کے لیے بھی گھنٹہ تو چاہیے تھا ۔وہاں دونوں اطراف دکانوں کے چمکتے شیشے اور اوپر قمقمے لگے تھے ۔بازار نائٹ کلبز ریسٹورینٹس کافی شاپس ڈ یزائنر وئیر غرض ہر برانڈ کی دکان وہاں موجود تھی۔چند روز پہلے وہ ادھر آ ئیں تو صرف ونڈو شاپنگ میں ہی ڈ ھا ئی گھنٹے گزر گئے اور تب بھی وہ استقلال جدیسی کے درمیان پہنچی تھیں سو تھک کے واپس ہو لیں ۔حیا! تم نے دیکھا استقلال اسٹریٹ جیسے ماڈرن علاقے میں بھی ہر تھوڑی دور بعد پئیرہال ضرور ہے ۔بڑے نیک ہیں بھئ ترک! وہ قدرے طنزیہ ہنسی اور پھر متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی استقلال اسٹریٹ آ نے کا اصل مقصد جہان سے ملنا تھا اور وہ صرف اس لیے یہاں آ ئی تھی کہ بر گر کنگ جاے اور ؛میں یہاں سے گزر رہی تھی تو سو چا؛کہہ کر اس سے مل لے وہ دونوں ساتھ ساتھ تیز رفتاری سے چل رہی تھیں ۔وہاں ہوا تیز تھی اور حیا کہ کھو لے بال ا ڑ ا ڑ کہ اس کے چہرے پہ آ رہے تھے ۔
ﺣﯿﺎ ﺟﯽ؟ " ﻭﮦ ﮐﮭﺴﯿﺎﮨﭧ ﺳﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮰ۔
" ﯾﻌﻨﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﺎﻓﯿﺎ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﮯ۔ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﭼﻼﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ۔
" ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ۔ " ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﮨﺘﮭﯿﺎﺭ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﮯ۔
ﺩﻓﻌﺘًﺎ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺍﻧﺠﻢ ﺑﺎﺟﯽ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﺮﺳﯽ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮧ ﭨﮑﯽ ﺗﮭﯽ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﯽ۔
" ﮐﯿﺎﮨﻮﺍ؟ "
ﺍﻧﺠﻢ ﺑﺎﺟﯽ ﺳﺮﺥ ﺑﮭﺒﺠﻮﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﺗﮭﺎ۔
" ﻣﺮﭼﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﺣﯿﺎ "!
" ﻧﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﭘﮭﯿﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﭼﺎﺭ ﭼﻤﭽﮯ۔۔۔۔ "
" ﭼﺎﺭ ﭼﻤﭽﮯ؟ " ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯿﮟ۔ " ﯾﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺎﻟﺺ ﻣﻤﺒﺊ ﮐﯽ ﻣﺮﭼﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﺎﻟﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻻﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ "
" ﺍﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ۔ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﻝ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﮈﯼ ﺟﮯ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺩﻭﮨﺮﯼ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
••••••••••••••••••••••••••••••
ﺳﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺫﺭﺍ ﭨﻮﭨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺻﺒﺢ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﺳﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﺍﺳﮑﻮﺍﺋﺮ ﭘﮧ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮨﺮ ﺳﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺕ ﭼﻤﮏ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺴﺖ ﺭﻭﯼ ﺳﮯ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﺐ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
" ﺣﯿﺎ ........ ﯾﮧ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻧﺎﻡ، ﮐﺘﻨﮯ ﻣﺰﮮ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﻼ؟ "
" ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﻣﯿﺌﺮ ﮨﻮﮞ، ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ "
" ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﺎﺋﯿﮉ ﺑﮏ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ۔ ﻋﺮﺑﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔
" ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ " ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺭﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺳﺮ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭﺍ۔ " ﺍﻭﮦ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ۔ ﺍﮔﺮ ﮔﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ، ﺗﺎﻗﺴﻢ ﯾﺎ ﭨﺎﻗﺴﻢ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ "
" ﭨﺎﻗﺴﻢ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! ﻭﺍﺅ۔ " ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺧﻮﺏ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺍﺳﭩﺮﯾﭧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺟﺪﯾﺴﯽ istiklal caddies ‏( ﺳﭩﺮﯾﭧ ‏) ﭨﺎﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﯽ ﮔﻠﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺍﮔﻠﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﺳﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭽﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﻋﻤﺎﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﺮﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﻠﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻟﻤﺒﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺵ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰ ﺗﯿﺰ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﭘﭩﺮﯼ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺳﺮﺥ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﭨﺮﺍﻡ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﭘﯿﺪﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﺷﯿﺸﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻗﻤﻘﻤﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺎﺯﺍﺭ، ﻧﺎﺋﭧ ﮐﻠﺒﺰ، ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭩﺲ، ﮐﺎﻓﯽ ﺷﺎﭘﺲ، ﮈﯾﺰﺍﺋﻨﺮﻭﺋﯿﺮ، ﻏﺮﺽ ﮨﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻧﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻭﻧﮉﻭ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﺍﻭﺭ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺟﺪﯾﺴﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺳﻮ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﻟﯿﮟ۔
" ﺣﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺳﭩﺮﯾﭧ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﭘﺮﯾﺌﺮ ﮨﺎﻝ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﮯ۔ "
" ﺑﮍﮮ ﻧﯿﮏ ﮨﯿﮟ ﺑﮭﺌﯽ ﺗﺮﮎ "! ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﻨﺰﯾﮧ ﮨﻨﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺳﺘﻘﻼﻝ ﺍﺳﭩﺮﯾﭧ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﺪ ﺟﮩﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﻨﮓ ﺟﺎﮰ ﺍﻭﺭ " ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺎ۔ " ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﮯ۔
ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﯿﺰ ﺭﻓﺘﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻭﮨﺎﮞ ﮨﻮﺍ ﺗﯿﺰ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﮌ ﺍﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺟﯿﮑﭧ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺍﮌﺳﺘﯽ۔ ﺗﺐ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺮﮔﺮ ﮐﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﻮﺭﮈ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮈﯼ ﺟﮯ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﮰ ﺑﻨﺎ ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭧ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮏ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺘﯽ، ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ۔ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻭﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﮐﯿﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﮈﯼ ﺟﮯ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺭﮐﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﭼﻠﺘﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﯾﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺑﮩﮧ ﮔﺌﯽ۔
ﺣﯿﺎ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﺁﺗﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﻮﭦ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺭﺥ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯﺑﺎﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺪ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﻮﭦ ﺍﺳﮑﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮﺥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ، ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻼ ﮨﻼ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﮌ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺰ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﯾﺸﯿﺎﺋﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻤﺸﮑﻞ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻋﻘﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﭘﺎﺋﯽ۔
ﻟﮍﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﺗﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﺻﺎ ﺟﮭﻨﺠﻼﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﻮﺍﺑًﺎ ﺑﺤٽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﺮﮎ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ، ﻭﮦ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﯽ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻟﻤﺒﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﻓﻘﺮﮮ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺗﺮﮎ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﺮﮎ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﺮﮮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﻓﻌﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﺎﺑﻘﮯ ﻻﺣﻘﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻟﻔﻆ ﺑﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻓﻘﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
" ﺟﮩﺎﮞ۔۔۔۔۔۔۔ ﺟﮩﺎﻥ۔۔۔۔۔ " ﻭﮦ ﺷﻮﺭ ﻭ ﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻦ ﺳﮑﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﮧ ﻭﮦ ﺭﮐﺎ۔ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻠﭩﮯ۔
" ﺟﮩﺎﻥ۔۔۔۔ " ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻠﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ۔
" ﮐﯿﺎ ﻣﺴﯿﻠﮧ ﮨﮯ؟ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ، ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺍﮐﮭﮍﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﺮﻭ ﺍﭨﮭﺎﮰ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﺨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﻟﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﭘﮭﯿﮑﺎ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔
" ﻣﯿﮟ۔۔۔۔ﺣﯿﺎ۔۔۔۔۔۔ " ﻭﮦ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﭘﻠﮏ ﺟﮭﭙﮑﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﮯ ﺷﮏ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﭽﺎﻧﺎ۔
" ﮨﺎﮞ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ؟ " ﻭﮦ ﺑﮭﻨﻮﯾﮟ ﺳﯿﮑﮍﮮ ﺑﻮﻻ۔
ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮﭦ ﮐﯽ ﺟﯿﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺣﯿﺎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﮭﺮ؟ ﺣﯿﺎ ﻧﮯ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺷﺸﺪﺭ ﺳﯽ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ۔۔۔۔۔
جاری ہے




 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Hot Sonakshi Sinha, Car Price in India